تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ بعض لوگ کفار سے جہاد کی اہمیت کم کرنے کے لیے ایک روایت بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تبوک سے واپسی پر فرمایا: [رَجَعْنَا مِنَ الْجِهَادِ الْأَصْغَرِ إِلَی الْجِهَادِ الْأَكْبَرِ] ”ہم چھوٹے جہاد سے بڑے جہاد کی طرف واپس آئے ہیں۔“ گویا کفار سے لڑائی چھوٹا جہاد ہے، حالانکہ یہ روایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہر گز ثابت نہیں۔ شیخ البانی رحمہ اللہ نے [سلسلة الأحاديث الضعيفة والموضوعة ۲۴۶۰] میں اس پر مفصل بحث کی ہے اور اسے منکر قرار دیا ہے۔ اسی سلسلے میں انھوں نے مجموع الفتاویٰ (۱۱؍۱۹۷) سے شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کا کلام نقل کیا ہے، وہ فرماتے ہیں: ”اس کی کوئی اصل نہیں اور نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال و افعال کا علم رکھنے والوں میں سے کسی نے اسے روایت کیا ہے۔ کفار سے جہاد سب سے زیادہ عظمت والے اعمال میں سے ہے، بلکہ انسان اپنی خوشی سے جو عمل کرتا ہے ان سب سے افضل ہے۔“ پھر کچھ آیات و احادیث نقل فرمائیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ جہاد افضل اعمال میں سے ہے۔
➌ { هُوَ اجْتَبٰىكُمْ:} اس خطاب کے اولین مخاطب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ہیں، یعنی اللہ تعالیٰ نے تمھیں اپنا دین قبول کرنے، اسے پھیلانے اور اسے نہ ماننے والوں کے ساتھ جہاد کے لیے چن لیا ہے۔ اور یہ حقیقت سب جانتے ہیں کہ یہ صحابہ ہی تھے جنھوں نے دعوت و جہاد کے ساتھ چند سالوںمیں مشرق ومغرب تک اسلام پہنچا دیا۔ پھر ان کے بعد جو لوگ بھی ان کے نقش قدم پر چل کر دعوت و جہاد کے ساتھ کفر کو مغلوب اور اسلام کو غالب کرتے رہے وہ بھی اس کے مخاطب ہیں۔ یہ آیت صحابہ اور ان کے پیروکاروں کی فضیلت کی زبردست دلیل ہے۔ وہ لوگ بہت بڑی غلطی پر ہیں جو اللہ کے ان چنے ہوئے پیاروں سے بغض رکھتے ہیں اور ان پر زبان طعن دراز کرتے ہیں۔ یا پوری امت اس کی مخاطب ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمھیں تمام امتوں میں سے چن لیا ہے۔ دونوں صورتوں میں اس آیت کا اور {” كُنْتُمْ خَيْرَ اُمَّةٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ “} کا مفہوم ایک ہی ہے۔ دیکھیے سورۂ آل عمران (۱۱۰) کی تفسیر۔
➍ { وَ مَا جَعَلَ عَلَيْكُمْ فِي الدِّيْنِ مِنْ حَرَجٍ:} امت کے چنیدہ ہونے کے ساتھ ہی اس کی افضلیت کی وجہ بھی بیان فرما دی کہ اس دین میں کوئی تنگی نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [إِنَّ الدِّيْنَ يُسْرٌ] [بخاري، الإیمان، باب الدین یسر: ۳۹، عن أبي ھریرۃ رضی اللہ عنہ] ”یہ دین آسان ہے۔“ اور فرمایا: [أَحَبُّ الدِّيْنِ إِلَی اللّٰهِ الْحَنِيْفِيَّةُ السَّمْحَةُ] [بخاري، قبل ح: ۳۹] ”تمام دینوں میں سے اللہ کو سب سے پسند ابراہیم حنیف کی ملت ہے جو سادہ اور آسان ہے۔“ بخاری رحمہ اللہ نے پہلی حدیث سند کے ساتھ اور دوسری معلق بیان فرمائی ہے اور اللہ تعالیٰ نے بھی فرمایا: «يُرِيْدُ اللّٰهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَ لَا يُرِيْدُ بِكُمُ الْعُسْرَ» [البقرۃ: ۱۸۵] ”اللہ تمھارے ساتھ آسانی کا ارادہ رکھتا ہے اور تمھارے ساتھ تنگی کا ارادہ نہیں رکھتا۔“ {” وَ جَاهِدُوْا فِي اللّٰهِ حَقَّ جِهَادِهٖ “} سے اس جملے کا تعلق یہ ہے کہ اگر تم میں جہاد کی طاقت نہیں تو تمھیں رخصت ہے، فرمایا: «لَيْسَ عَلَى الْاَعْمٰى حَرَجٌ وَّ لَا عَلَى الْاَعْرَجِ حَرَجٌ وَّ لَا عَلَى الْمَرِيْضِ حَرَجٌ» [الفتح: ۱۷] ”نہیں ہے اندھے پر کوئی تنگی اور نہ لنگڑے پر کوئی تنگی اور نہ مریض پر کوئی تنگی۔“ اسی طرح عورتوں بوڑھوں، کمزوروں اور نادانوں کو جہاد معاف کر دیا ہے۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ توبہ (۹۱ تا ۹۳)۔
دین میں کسی مشکل کے نہ ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ انسان جو جی میں آئے کرتا پھرے، بلکہ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دین کے احکام ایسے رکھے ہیں جو انسانی طاقت کے اندر ہیں، اسی لیے فرمایا: «لَا يُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا» [البقرۃ: ۲۸۶] ”اللہ کسی جان کو تکلیف نہیں دیتا مگر اس کی گنجائش کے مطابق۔“ پھر کمزوری یا بڑھاپے یا کسی اور عذر کی بنا پر انجام نہ دے سکنے کی صورت میں رخصت اور تخفیف کا قاعدہ مقرر کیا ہے (جیسے سفر میں قصر نماز، سفر اور بیماری میں روزہ افطار کرنے کی اجازت، پانی نہ ملنے کی صورت میں تیمم کی اجازت، ساری زمین میں جہاں وقت ہو جائے نماز کی اجازت وغیرہ) پھر گناہوں کے ارتکاب کی صورت میں توبہ کا دروازہ کھلا رکھا جسے پچھلی امتوں کے فقیہوں نے اپنی موشگافیوں سے ختم کر ڈالا تھا۔ اسی طرح پہلی امتوں کے بعض سخت احکام منسوخ کر دیے اور وہ رسوم و رواج بھی ختم کر دیے جو لوگوں نے خود یا ان کے فقیہوں نے ان پر لازم کر رکھے تھے۔ دیکھیے سورۂ اعراف (۱۵۷)۔
➎ { مِلَّةَ اَبِيْكُمْ اِبْرٰهِيْمَ: ”أَيْ مُتَّبِعِيْنَ مِلَّةَ أَبِيْكُمْ إِبْرَاهِيْمَ“} یعنی اس حال میں کہ تم اپنے باپ ابراہیم کی پیروی کرنے والے ہو۔ {” اَبِيْكُمْ “ } سے اگر مخاطب عرب سمجھے جائیں تو ابراہیم علیہ السلام کو ان کا باپ اس لیے فرمایا کہ وہ اکثر ابراہیم علیہ السلام کی اولاد سے تھے اور اگر پوری امت مسلمہ مخاطب ہو تو ابراہیم علیہ السلام پوری امتِ مسلمہ کے اس لیے باپ ہیں کہ وہ اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے باپ ہیں۔
➏ {هُوَ سَمّٰىكُمُ الْمُسْلِمِيْنَ مِنْ قَبْلُ وَ فِيْ هٰذَا: ”أَيْ مِنْ قَبْلِ الْقُرْآنِ وَ فِيْ هٰذَا الْقُرْآنِ“} عام طور اس کی تفسیر یہ کی جاتی ہے کہ اس نے یعنی ابراہیم علیہ السلام نے قرآن سے پہلے اور اس قرآن میں تمھارا نام مسلمین رکھا۔ مگر امام طبری نے دو صحیح سندوں کے ساتھ نقل فرمایا ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنھما نے {” هُوَ سَمّٰىكُمْ “} کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے (تمھارا نام مسلم رکھا ہے)۔ یعنی یہ نام ابراہیم علیہ السلام نے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے رکھا ہے۔ابن کثیر نے فرمایا کہ مجاہد، قتادہ، ضحاک، سدی اور مقاتل بن حیان نے بھی یہی فرمایا۔ اس کے بعد ابن کثیر نے طبری سے عبد الرحمان بن زید بن اسلم کا قول نقل فرمایا کہ ابراہیم علیہ السلام نے تمھارا نام مسلمین رکھا اور اس پر ابن جریر کا تبصرہ نقل فرمایا کہ یہ کسی طرح صحیح نہیں، کیونکہ معلوم ہے کہ ابراہیم علیہ السلام نے قرآن میں اس امت کا نام مسلمین نہیں رکھا، جب کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس نے تمھارا نام اس سے پہلے اور اس میں مسلمین رکھا۔ مجاہد نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تمھارا نام مسلمین رکھا، اس سے پہلے گزشتہ کتابوںمیں اور اس ذکر (قرآن) میں بھی۔ مجاہد کے علاوہ بھی کئی مفسرین نے یہی فرمایا ہے۔ ابن کثیر کہتے ہیں کہ یہی بات درست ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے پہلے فرمایا: «هُوَ اجْتَبٰىكُمْ» یعنی اس (اللہ) نے تمھیں چنا۔ پھر انھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے دین کی ترغیب یہ کہہ کر دلائی کہ یہ تمھارے باپ ابراہیم کی ملت ہے، پھر اس امت پر احسان جتلایا کہ اس نے پہلی تمام کتابوں میں اور اس قرآن میں تمھارا نام مسلمین رکھا ہے۔ آئندہ فائدے میں ایک حدیث آ رہی ہے جس میں صراحت ہے کہ ہمارا نام اللہ تعالیٰ نے مسلمین، مومنین اور عباد اللہ رکھا ہے۔ قرآن میں مسلمین نام کے لیے دیکھیے سورۂ آل عمران (۶۴) اور سورۂ زمر (۱۲)۔
➐ کچھ سال پہلے ایک صاحب نے کہا کہ جو شخص ”مسلم“ کے سوا کوئی اور نام اختیار کرے وہ کافر ہے، خارج از اسلام ہے۔ اگرچہ ان کے فوت ہونے کے بعد وہ زور نہیں رہا مگر اب بھی ان کے کئی متاثرین کافر گری کا یہ شغل جاری رکھے ہوئے ہیں، اگرچہ وہ خود بھی کئی گروہوں میں بٹ کر ایک دوسرے پر فتوے لگا رہے ہیں۔ حالانکہ کوئی مسلم اگر اسلام کی کسی صفت کو بطور نام استعمال کرلے تو وہ ملت اسلام سے کیسے خارج ہو گیا؟ خود اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «اِنَّ الْمُسْلِمِيْنَ وَ الْمُسْلِمٰتِ وَ الْمُؤْمِنِيْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ وَ الْقٰنِتِيْنَ وَ الْقٰنِتٰتِ وَ الصّٰدِقِيْنَ وَ الصّٰدِقٰتِ وَ الصّٰبِرِيْنَ وَ الصّٰبِرٰتِ وَ الْخٰشِعِيْنَ وَ الْخٰشِعٰتِ وَ الْمُتَصَدِّقِيْنَ وَ الْمُتَصَدِّقٰتِ وَ الصَّآىِٕمِيْنَ وَ الصّٰٓىِٕمٰتِ وَ الْحٰفِظِيْنَ فُرُوْجَهُمْ وَ الْحٰفِظٰتِ وَ الذّٰكِرِيْنَ اللّٰهَ كَثِيْرًا وَّ الذّٰكِرٰتِ اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ مَّغْفِرَةً وَّ اَجْرًا عَظِيْمًا» [الأحزاب: ۳۵] ”بے شک مسلم مرد اور مسلم عورتیں اور مومن مرد اورمومن عورتیں اور فرماں بردار مرد اور فرماں بردار عورتیں اور سچے مرد اور سچی عورتیں اور صبر کرنے والے مرد اور صبر کرنے والی عورتیں اور عاجزی کرنے والے مرد اور عاجزی کرنے والی عورتیں اور صدقہ دینے والے مرد اور صدقہ دینے والی عورتیں اور روزہ رکھنے والے مرد اور روزہ رکھنے والی عورتیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والے مرداور حفاظت کرنے والی عورتیں اور اللہ کا بہت ذکر کرنے والے مرد اور ذکر کرنے والی عورتیں، ان کے لیے اللہ نے بڑی بخشش اور بہت بڑا اجر تیار کر رکھا ہے۔“ اور حارث اشعری رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [مَنِ ادَّعٰی دَعْوَی الْجَاهِلِيَّةِ فَهُوَ جُثَا جَهَنَّمَ فَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! وَإِنْ صَلّٰی وَصَامَ فَقَالَ وَإِنْ صَلّٰی وَصَامَ فَادْعُوْا بِدَعْوَی اللّٰهِ الَّذِيْ سَمَّاكُمُ الْمُسْلِمِيْنَ الْمُؤْمِنِيْنَ عِبَادَ اللّٰهِ] [ترمذي الأدب، باب ماجاء في مثل الصلاۃ…: ۲۸۶۳۔ مسند أحمد: 344/5، ح: ۲۲۹۷۶] ”جو شخص جاہلیت کی دعوت کی آواز دے وہ جہنم کی ڈھیریوں میں سے ہے۔“ ایک آدمی نے کہا: ”یارسول اللہ! خواہ وہ نماز پڑھے اور روزے رکھے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” خواہ وہ نماز پڑھے اور روزے رکھے۔ سو تم اللہ کی دعوت کی طرف بلاؤ جس نے تمھارا نام ”مسلمین“، ”مومنین“ اور ”عباد اللہ“ رکھا ہے۔“ اس حدیث سے بھی معلوم ہوا کہ مسلمین کے علاوہ صفاتی نام (مثلاً مومنین، عباد اللہ) لینے میں کوئی حرج نہیں۔
➑ { لِيَكُوْنَ الرَّسُوْلُ شَهِيْدًا:} اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ بقرہ (۱۴۳) یہاں رسول کا ذکر پہلے ہے اور سورۂ بقرہ میں امت کا پہلے ہے۔ کیونکہ وہاں امت کی تعریف ہو رہی ہے جبکہ یہاں ملت ابراہیم کی پیروی کی تاکید ہے، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لے کر آئے ہیں، اس لیے یہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر پہلے ہے۔ (ابن عاشور)
➒ { فَاَقِيْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ:} یہ {” هُوَ اجْتَبٰىكُمْ “} اور {” هُوَ سَمّٰىكُمُ الْمُسْلِمِيْنَ “} پر عطف ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے تم پر اتنے انعام کیے ہیں تو تم اس کا شکر ادا کرنے کے لیے ہمیشہ نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو۔ ان دو اعمال کی تاکید اس لیے فرمائی کہ کسی اسلام لانے والے کے ایمان کا ثبوت اقرار کے بعد ان دونوں عملوں سے ملتا ہے۔ دیکھیے سورۂ توبہ (۵، ۱۱)۔
➓ { وَ اعْتَصِمُوْا بِاللّٰهِ:} اور اللہ تعالیٰ کو مضبوطی سے تھام لو، یعنی اس کے تمام احکام کو مضبوطی سے تھام لو، اسی طرح ہر مشکل اور مصیبت بلکہ اپنے ہر کام میں اسی کے سہارے کو مضبوطی سے تھامے رکھو اور کسی غیر کی طرف نظر مت اٹھاؤ۔
⓫ {هُوَ مَوْلٰىكُمْ:} یہ اللہ کو مضبوطی سے تھامنے کی وجہ بیان ہوئی ہے کہ تمھارا مالک اور تمھارے تمام کاموں کا ذمہ اٹھانے والا وہی ہے۔
⓬ {فَنِعْمَ الْمَوْلٰى وَ نِعْمَ النَّصِيْرُ:} وہ اچھا مالک اور اچھا مددگار ہے، کیونکہ وہ کسی کا ذمہ اٹھا لے تو اسے ہر فکر سے کافی ہو جاتا ہے اور جب کسی کی مدد کر دے تو اسے اس کے تمام دشمنوں پر غالب کر دیتا ہے۔ دعائے قنوت میں ہے: [إِنَّهُ لَا يَذِلُّ مَنْ وَّالَيْتَ وَلَا يَعِزُّ مَنْ عَادَيْتَ] [أبوداوٗد، الوتر، باب القنوت في الوتر: ۱۴۲۵] ”حقیقت یہ ہے کہ جس کا تو دوست بن جائے وہ کبھی ذلیل نہیں ہوتا اور جس کا تو دشمن ہو جائے وہ کبھی عزت نہیں پاتا۔“
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
1۔ آپ کو یہودی، عیسائی، مسلمان حتیٰ کہ صابی بھی اپنا پیشوا تسلیم کرتے ہیں اور آپ سب کے ہاں یکساں محترم ہیں۔
2۔ اہل عرب میں سے اکثر قبائل آپ کی ہی اولاد تھے اور آپ ان کے جد اعلیٰ ہیں۔
3۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمام مسلمانوں کے روحانی باپ ہیں اور حضرت ابراہیمؑ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جد امجد تھے۔ لہٰذا حضرت ابراہیمؑ تمام مسلمانوں کے باپ ہوئے۔ واضح رہے کہ دین کے بجائے ملت کا لفظ آیا ہے۔ اور یہ دونوں مترادف الفاظ ہیں۔ اور دونوں میں فرق یہ ہے کہ دین صرف ان احکام و فرامین کا نام ہے جو کتاب و سنت یا کسی الہامی کتاب میں مذکور ہوتے ہیں۔ انہی احکام و فرامین کو جب عملی شکل دے کر رائج کر دیا جائے تو ایسے نظام کا نام ملت ہے۔ یعنی دین کی عملی شکل جو حضرت ابراہیمؑ نے پیش فرمائی تھی وہی اللہ کو سب سے زیادہ محبوب ہے لہٰذا ہمیں انہی کی ملت کی اتباع کا حکم دیا گیا ہے۔
[111] مسلم کے لغوی معنی ہیں اللہ کے احکام کے سامنے سر تسلیم ختم کر دینے والا۔ اس لحاظ سے ہر نبی پر ایمان لانے والی قوم مسلم ہی تھی۔ ابراہیمی یا نوحی، یا موسوی، یا عیسوی، وغیرہ ناموں سے وہ لوگ نہیں پکارے جاتے تھے۔ اور نہ ہی اللہ تعالیٰ نے ان کے یہ نام رکھے تھے۔ ان کے یہ نام ان کے خود ساختہ تھے یا دوسروں کے تجویز کردہ تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کا نام بھی مسلمان ہی رکھا تھا اور تمہارا نام بھی مسلمان ہی ہے۔
[112] اس آیت کی تشریح کے لئے دیکھئے سورۃ بقرہ کی آیت نمبر 14 کا حاشیہ
[113] یعنی تمہیں ہر قسم کے احکام و قوانین خواہ یہ درون خانہ سے تعلق رکھتے ہوں یا تمہاری معیشت و معاش سے یا معاشرت و تمدن سے یا داخلی و خارجی پالیسی سے اللہ کے دین سے لینے چاہئیں اور انہی پر پوری طرح عمل پیرا ہونا چاہئے۔ لہٰذا تم اپنے نام کی لاج رکھو اور جس ہدایت عامہ کے لئے تمہیں پیدا کیا گیا ہے اس کی تکمیل کے لئے سب سے پہلے اپنے آپ کو نمونہ بناؤ۔ بدنی اور مالی عبادات میں بھی کوتاہی نہ ہونے پائے۔ ہر کام میں شریعت سے روشنی حاصل کرو اور جادہ حق سے ادھر ادھر نہ جاؤ۔ اس کے فضل اور رحمت پر اعتماد رکھو اور تمام کمزور سہارے چھوڑ دو۔ صرف اللہ کو ہی اپنا مالک اور مولیٰ سمجھو۔ اس سے بہتر مالک اور مددگار تمہیں اور کون مل سکتا ہے؟
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اسلام کے بعد سب سے اعلیٰ اور سب سے زیادہ تاکید والا، رکن نماز ہے۔ اسے دیکھئیے گھر میں آرام سے بیٹھے ہوئے ہوں تو چار رکعت فرض اور پھر اگر سفر ہو تو وہ بھی دو ہی رہ جائیں۔ اور خوف میں تو حدیث کے مطابق صرف ایک ہی رکعت وہ بھی سواری پر ہو تو اور پیدل ہو تو، روبہ قلبہ ہو تو اور دوسری طرف توجہ ہو تو، اسی طرح یہی حکم سفر کی نفل نماز کا ہے کہ جس طرف سواری کا منہ ہو پڑھ سکتے ہیں۔
اسی لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے { میں یک طرفہ اور بالکل آسانی والا دین دے کر بھیجا گیا ہوں }۔ ۱؎ [مسند احمد:266/5:اسنادہ ضعیف]
جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ اور ابوموسیٰ رضی اللہ عنہم کو یمن کا امیر بنا کر بھیجا تو فرمایا تھا { تو خوشخبری سنانا، نفرت نہ دلانا، آسانی کرنا، سختی نہ کرنا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3038] اور بھی اس مضمون کی بہت سی حدیثیں ہیں۔
ابن عباس رضی اللہ عنہما اس آیت کی تفسیر کرتے ہیں کہ ’ تمہارے دین میں کوئی تنگی و سختی نہیں ‘۔ ابن جریر رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں «مِلَّة» کا نصب بہ نزع خفض ہے گویا اصل میں ( «كَمِلَّةِ أَبِيكُمْ» ) تھا۔ اور ہوسکتا ہے کہ «الْزَمُوا» کو محذوف مانا جائے اور «مِّلَّةَ» کو اس کا مفعول قرار دیا جائے۔ اس صورت میں یہ اسی آیت کی طرح ہو جائے گا «دِينًا قِيَمًا» الخ، ’ اس نے تمہارا نام مسلم رکھا ہے ‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے، ابراہیم علیہ السلام سے پہلے۔ کیونکہ ان کی دعا تھی کہ ”ہم دونوں باپ بیٹوں کو اور ہماری اولاد میں سے بھی ایک گروہ کو مسلمان بنا دے۔“
لیکن امام ابن جریر رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں یہ قول کچھ جچتا نہیں کہ پہلے سے مراد ابراہیم علیہ السلام کے پہلے سے ہو اس لیے کہ یہ تو ظاہر ہے کہ ابراہیم علیہ السلام نے اس امت کا نام اس قرآن میں مسلم نہیں رکھا۔
”پہلے سے“ کے لفظ کے معنی یہ ہیں کہ پہلی کتابوں میں ذکر میں اور اس پاک اور آخری کتاب میں۔ یہی قول مجاہد رحمتہ اللہ علیہ وغیرہ کا ہے اور یہی درست ہے۔ کیونکہ اس سے پہلے اس امت کی بزرگی اور فضیلت کا بیان ہے ان کے دین کے آسان ہونے کا ذکر ہے۔
نسائی میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ { جو شخص جاہلیت کے دعوے اب بھی کرے (یعنی باپ دادوں پر حسب نسب پر فخر کرے دوسرے مسلمانوں کو کمینہ اور ہلکا خیال کرے) وہ جہنم کا ایندھن ہے }۔ کسی نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگرچہ وہ روزے رکھتا ہو؟ اور نمازیں بھی پڑھتا ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا { ہاں ہاں اگرچہ وہ روزے دار اور نمازی ہو }۔ یعنی مسلمین، مومنین اور عباد اللہ }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2873،قال الشيخ الألباني:صحیح]
سورۃ البقرہ کی آیت «يَا أَيُّهَا النَّاسُ اعْبُدُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ وَالَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ» ۱؎ [2-البقرة:21] کی تفسیر میں ہم اس حدیث کو بیان کر چکے ہیں۔
تمام اگلی امتیں امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بزرگی اور فضیلت کا اقرار کریں گی۔ کہ اس امت کو اور تمام امتوں پر سرداری حاصل ہے اس لیے ان کی گواہی اس پر معتبر مانی جائے گی۔ اس بارے میں کہ اس کے رسولوں نے اللہ کا پیغام انہیں پہنچایا ہے، وہ تبلیغ کا فرض ادا کر چکے ہیں اور خود رسول صلی اللہ علیہ وسلم امت پر شہادت دیں گے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دین پہنچا دیا اور حق رسالت ادا کر دیا۔
اس بابت جتنی حدیثیں ہیں اور اس بارے کی جتنی تفسیر ہے وہ ہم سب کی سب سورۃ البقرہ کے سترھویں رکوع کی آیت «وَكَذٰلِكَ جَعَلْنٰكُمْ اُمَّةً وَّسَطًا لِّتَكُوْنُوْا شُهَدَاءَ عَلَي النَّاسِ وَيَكُـوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَيْكُمْ شَهِيْدًا» ۱؎ [2-البقرة:143] کی تفسیر میں لکھ آئے ہیں۔ اس لیے یہاں اسے دوبارہ بیان کرنے کی ضرورت نہیں وہیں دیکھ لی جائے۔ وہیں نوح علیہ السلام اور ان کی امت کا واقعہ بھی بیان کر دیا ہے۔
پس نماز جو خالص رب کی ہے اور زکوٰۃ جس میں رب کی عبادت کے علاوہ مخلوق کے ساتھ احسان بھی ہے کہ امیر لوگ اپنے مال کا ایک حصہ فقیروں کو خوشی خوشی دیتے ہیں، ان کا کام چلتا ہے دل خوش ہو جاتا ہے۔ اس میں بھی ہے کہ اللہ کی طرف سے بہت آسانی ہے حصہ کم بھی ہے اور سال بھر میں ایک ہی مرتبہ۔
زکوٰۃ کے کل احکام سورۃ التوبہ کی آیت زکوٰ «اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسٰكِيْنِ وَالْعٰمِلِيْنَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوْبُهُمْ وَفِي الرِّقَابِ وَالْغٰرِمِيْنَ وَفِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَابْنِ السَّبِيْلِ فَرِيْضَةً مِّنَ اللّٰهِ وَاللّٰهُ عَلِيْمٌ حَكِيْمٌ» ۱؎ [9-التوبہ:60] کی تفسیر میں ہم نے بیان کر دئے ہیں وہیں دیکھ لیے جائیں۔
ابن ابی حاتم میں وہیب بن ورد سے مروی ہے کہ ”اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتا ہے ’ اے ابن آدم اپنے غصے کے وقت تو مجھے یاد کر لیا کر۔ میں بھی اپنے غضب کے وقت تجھے معافی فرما دیا کروں گا، اور جن پر میرا عذاب نازل ہو گا میں تجھے ان میں سے بچا لونگا۔ برباد ہونے والوں کے ساتھ تجھے برباد نہ کروں گا۔ اے ابن آدم جب تجھ پر ظلم کیا جائے تو صبروضبط سے کام لے، مجھ پر نگاہیں رکھ، میری مدد پر بھروسہ رکھ میری امداد پر راضی رہ، یاد رکھ میں تیری مدد کروں یہ اس سے بہت بہتر ہے کہ تو آپ اپنی مدد کرے ‘۔
(اللہ تعالیٰ ہمیں بھلائیوں کی توفیق دے اپنی امداد نصیب فرمائے آمین) «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{وجاهدوا في الله حقَّ جهاده}: والجهاد بذلُ الوسع في حصول الغرض المطلوب؛ فالجهادُ في الله حقَّ جهادِهِ هو القيامُ التامُّ بأمر الله، ودعوةُ الخلق إلى سبيله بكلِّ طريق موصل إلى ذلك؛ من نصيحةٍ وتعليم وقتال وأدبٍ وزجرٍ ووعظٍ وغير ذلك. {هو اجتباكُم}؛ أي: اختاركم يا معشر المسلمين من بين الناس، واختار لكم الدين، ورضِيَه لكم، واختار لكم أفضلَ الكتب وأفضلَ الرسل؛ فقابِلوا هذه المنحة العظيمة بالقيام بالجهاد فيه حقَّ القيام. ولما كان قولُهُ. {وجاهدوا في الله حقَّ جهادِهِ}؛ ربما تَوَهَّمَ متوهِّمٌ أنَّ هذا من باب تكليف ما لا يُطاق أو تكليف ما يشقُّ؛ احترزَ منه بقوله: {وما جَعَلَ عليكم في الدِّينِ من حَرَج}؛ أي: مشقَّةٍ وعسرٍ، بل يسَّره غاية التيسير، وسهَّله بغاية السهولة؛ فأولاً: ما أمرَ وألزمَ إلاَّ بما هو سهل على النفوس لا يُثْقِلها ولا يَؤودُها، ثم إذا عَرَضَ بعضُ الأسباب الموجبة للتَّخفيف؛ خفَّف ما أمر به: إما بإسقاطِهِ، أو إسقاطِ بعضِهِ.
ويؤخذ من هذه الآية قاعدةٌ شرعيةٌ، وهي أن «المشقَّة تجلب التَّيسير» و «الضرورات تبيح المَحْظورات»، فيدخُلُ في ذلك من الأحكام الفروعيَّة شيء كثيرٌ معروفٌ في كتب الأحكام.
{ملةَ أبيكم إبراهيم}؛ أي: هذه الملة المذكورة والأوامر المزبورة ملَّةُ أبيكم إبراهيم، التي ما زال عليها؛ فالزموها واستمسكوا بها. {هو سمَّاكُم المسلمينَ من قبلُ}؛ أي: في الكتب السابقة مذكورونَ ومشهورونَ، {وفي هذا}؛ أي: هذا الكتاب وهذا الشرع؛ أي: ما زال هذا الاسم لكم قديماً وحديثاً؛ {ليكونَ الرسولُ شهيداً عليكم}: بأعمالكم خيرِها وشرِّها، {وتكونوا شهداءَ على الناس}: لكونِكُم خيرَ أمَّةٍ أخرِجَت للناس، أمَّة وسطاً عدلاً خياراً، تشهدونَ للرسل أنَّهم بَلَّغوا أمَمَهم، وتشهدون على الأمم أنَّ رُسُلَهم بلَّغَتْهم بما أخبركم الله به في كتابه.
{فأقيموا الصلاةَ}: بأركانِها وشروطِها وحدودِها وجميع لوازمها، {وآتوا الزَّكاة}: المفروضة لمستحقِّيها؛ شكراً لله على ما أولاكم. {واعتصموا بالله}؛ أي: امتنعوا به، وتوكَّلوا عليه في ذلك، ولا تتَّكِلوا على حولكم وقوَّتِكم. {هُوَ مولاكم}: الذي يتولَّى أمورَكم، فيدبِّرُكم بحسن تدبيرِهِ، ويصرِّفُكم على أحسن تقديره. {فنعم المولى ونعم النصيرُ}؛ أي: نعم المولى لمن تولاَّه فحصَلَ له مطلوبُهُ، ونعم النصيرُ لمن استنصرَهُ فدفع عنه المكروه.