تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
اس سے معلوم ہوا کہ بعض لوگ جو اس حج کو حج اکبر کہتے ہیں جو جمعہ کے دن آئے ان کی بات درست نہیں۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہی سے ایک روایت میں مزید اضافہ ہے کہ پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو بکر رضی اللہ عنہ کو یہ اعلان دے کر بھیجا، پھر آپ نے ان کے بعد علی رضی اللہ عنہ کو بھیجا کہ وہ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے) یہ اعلان کریں، چنانچہ ابو بکر رضی اللہ عنہ، جو امیر حج تھے، ان کے حکم پر میں نے، میرے ساتھیوں نے اور علی رضی اللہ عنہ نے منیٰ میں یہ اعلان کیا۔ [بخاری، التفسیر، باب قولہ: «و أذان من اللہ …» : ۴۶۵۶] مسند احمد میں ہے کہ چار ماہ کی مہلت دینے، ننگے کو طواف کی اجازت ختم کرنے اور آئندہ سال کسی مشرک کے حج نہ کرنے کے اعلان کے ساتھ ایک اعلان یہ بھی کرتے تھے کہ جنت میں ایمان والوں کے سوا کوئی داخل نہیں ہو گا۔ [أحمد:299/2، ح: ۷۹۹۶]
➋ { وَ اِنْ تَوَلَّيْتُمْ فَاعْلَمُوْۤا …:} یہ اعلان تاکید کے لیے دوبارہ کیا گیا، تا کہ کافر اپنے آپ کو اللہ کی پکڑ سے کسی طرح بھی بچ نکلنے والے نہ سمجھیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اور اگر تم نے نہ مانا اپنی ضلالت پر قائم رہے تو تم نہ اب اللہ تعالی کے قبضے سے باہر ہو نہ آئندہ کسی وقت اللہ کو دبا سکتے ہو وہ تم پر قادر ہے تمہاری چوٹیاں اس کے ہاتھ میں ہیں وہ کافروں کو دنیا میں بھی سزا کرے گا اور آخرت میں بھی عذاب کرے گا۔
صحیح بخاری میں ہے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ " مجھے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے قربانی والے دن ان لوگوں میں جو اعلان کے لیے بھیجے گئے تھے بھیجا۔ ہم نے منادی کر دی کہ اس سال کے بعد کوئی مشرک حج کو نہ آئے اور بیت اللہ شریف کا طواف کوئی شخص ننگا ہو کر نہ کرے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو بھیجا کہ سورۃ براۃ کا اعلان کر دیں پس آپ نے بھی منٰی میں ہمارے ساتھ عید کے دن انہیں احکام کی منادی کی "۔ ۱؎ [صحیح بخاری:369]
حج اکبر کا دن بقر عید کا دن ہے۔ کیونکہ لوگ حج اصغر بولا کرتے تھے۔ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے اعلان کے بعد حجتہ الوداع میں ایک بھی مشرک حج کو نہیں آیا تھا۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3177]
عمرہ جعرانہ والے سال امیر حج سیدنا عتاب بن اسید رضی اللہ عنہ تھے سیدنا ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ تو سنہ ٩ ھ میں امیر حج تھے۔
مسند کی روایت میں ہے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: " اس سال سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ میں تھا۔ ہم نے پکار پکار کر منادی کر دی کہ جنت میں صرف ایماندار ہی جائیں گے بیت اللہ کا طواف آئندہ سے کوئی شخص عریانی کی حالت میں نہیں کر سکے گا۔ جن کے ساتھ ہمارے عہد و پیمان ہیں ان کی مدت آج سے چار ماہ کی ہے اس مدت کے گزر جانے کے بعد اللہ تعالی اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم مشرکوں سے بری الذمہ ہیں اس سال کے بعد کسی کافر کو بیت اللہ کے حج کی اجازت نہیں۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں یہ منادی کرتے کرتے مرا گلا پڑ گیا "۔ ۱؎ [مسند احمد:299/2:حسن]
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی آواز بیٹھ جانے کے بعد میں نے منادی شروع کر دی تھی۔ ایک روایت میں ہے جس سے عہد ہے اس کی مدت وہی ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:16382]
امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: " مجھے تو ڈر ہے کہ یہ جملہ کسی راوی کے وہم کی وجہ سے نہ ہو۔ کیونکہ مدت کے بارے میں اس کے خلاف بہت سی روایتیں ہیں۔ "
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سورۃ برات کی دس آیتیں جب اتریں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بلا کر فرمایا: ”انہیں لے جاؤ اور اہل مکہ کو سناؤ۔“ پھر مجھے یاد فرمایا اور ارشاد ہوا کہ ”تم جاؤ ابوبکر سے ملو جہاں وہ ملیں ان سے کتاب لے لینا اور مکہ والوں کے پاس جا کر انہیں پڑھ سنانا“، میں چلا جحفہ میں جا کر ملاقات ہوئی۔ میں نے ان سے کتاب لے لی۔ آپ رضی اللہ عنہ واپس لوٹے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ " کیا میرے بارے میں کوئی آیتیں نازل ہوئی ہیں؟ " آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں جبرائیل میرے پاس آئے اور فرمایا کہ یا تو یہ پیغام خود آپ پہنچائیں یا اور کوئی شخص جو آپ میں سے ہو۔“ ۱؎ [مسند احمد:151/1:ضعیف]
اس سند میں ضعف ہے اور اس سے یہ مراد بھی نہیں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اس وقت لوٹ آئے نہیں بلکہ آپ نے اپنی سرداری میں وہ حج کرایا حج سے فارغ ہو کر پھر واپس آئے۔
جیسے کہ اور روایتوں میں صراحتاً مروی ہے اور حدیث میں ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پیغام رسانی کا ذکر کیا تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے عذر پیش کیا کہ " میں عمر کے لحاظ سے اور تقریر کے لحاظ سے اپنے میں کمی پاتا ہوں۔ " آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لیکن ضرورت اس کی ہے کہ اسے یا تو میں آپ پہنچاؤں یا تو پہنچائے۔“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر یہی ہے تو لیجئے میں جاتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جاؤ اللہ تیری زبان کو ثابت رکھے اور تیرے دل کو ہدایت دے۔پھر اپناہاتھ ان کے منہ پر رکھا۔“ ۱؎ [عبد اللہ فی المسند:1289:ضعیف]
مسند احمد وغیرہ میں یہ روایت کسی طریق سے آئی ہے۔ اس میں لفظ یہ ہیں کہ جن سے معاہدہ ہے وہ جس مدت تک ہے اسی تک رہے گا۔
اور حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے لوگوں نے کہا کہ " آپ صلی اللہ علیہ وسلم حج میں سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کو بھیج چکے ہیں کاش کہ یہ پیغام بھی انہیں پہنچا دیتے۔ " آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " اسے تو کوئ میرے گھر والا ہی پہنچاۓ گا۔ " اس میں ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی غضبأ نامی اونٹنی پر سوار ہو کر تشریف لے گے تھے انہیں راستے میں دیکھ کر سیدنا صدیق رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ " سردار ہو یا ماتحت؟ " فرمایا: " نہیں میں تو ماتحت ہوں۔ " وہاں جا کر آپ نے تو حج کا انتظام کیا اور عید والے دن سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ احکام پہنچائے۔ پھر یہ دونوں آپ کے پاس آئے۔ پس مشرکین میں سے جن سے عام عہد تھا ان کے لیے تو چار ماہ کی مدت ہو گئی۔ باقی جس سے جتنا عہد تھا وہ بدستور رہا۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:16391:ضعیف]
اور روایت میں ہے کہ ابوبکر صدیق کو تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے امیر حج بنا کر بھیجا تھا اور مجھے ان کے پاس چالیس آیتیں سورۃ برات کی دے کر بھیجا تھا۔ آپ نے عرفات کے میدان میں عرفہ کے دن لوگوں کو خطبہ دیا۔ پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: " اُٹھئے اور سرکار رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام لوگوں کو سنا دیجئیے۔ " پس سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر ان چالیس آیتوں کی تلاوت فرمائی۔ پھر لوٹ کر منٰی میں آ کر جمرہ پر کنکریاں پھینکیں۔ اونٹ نحر کیا سر منڈوایا۔ پھر مجھے معلوم ہوا کہ سب حاجی اس خطبے کے وقت موجود نہ تھے۔ اس لیے میں نے ڈیروں میں اور خیموں میں اور پڑاؤ میں جا جا کر منادی شروع کر دی میرا خیال ہے کہ شاید اس وجہ سے لوگوں کو یہ گمان ہو گیا یہ دسویں تاریخ کا ذکر ہے حالانکہ اصل پیغام نویں کو عرفہ کے دن پہنچا دیا گیا تھا۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:16392:ضعیف]
راوی کہتا ہے: ”میں نے اپنے باپ کے بعد حج کیا۔ مدینے پہنچا اور پوچھا کہ یہاں آج کل سب سے افضل کون ہیں؟“ لوگوں نے کہا: ”سعید بن مسیب رحمہ اللہ ہیں۔“ میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا کہ ”میں نے مدینے والوں سے پوچھا کہ یہاں آج کل سب سے افضل کون ہیں؟ تو انہوں نے آپ کا نام لیا تو میں آپ کے پاس آیا ہوں یہ فرمائیے کہ عرفہ کے دن کے روزے کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں؟“ آپ نے فرمایا: ”لو میں تمہیں اپنے سے ایک سو درجے بہتر شخص کو بتاؤں وہ سیدنا عمر یا ابن عمر رضی اللہ عنہما ہیں وہ اس روزے سے منع فرماتے تھے اور اسی دن کو حج اکبر فرماتے تھے۔“ [ابن ابی حاتم وغیرہ]
اور بھی بہت سے بزرگوں نے یہی فرمایا ہے کہ حج اکبر سے مراد عرفے کا دن ہے ایک مرسل حدیث میں بھی ہے آپ نے اپنے عرفے کے خطبے میں فرمایا یہی حج اکبر کا دن ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:16407]
دوسرا قول یہ ہے کہ اس سے مراد بقرہ عید کا دن۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ یہی فرماتے ہیں۔ ایک مرتبہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ بقر عید والے دن اپنے سفید خچر پر سوار جا رہے تھے کہ ایک شخص نے ان کی لگام تھام لی اور یہی پوچھا آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا حج اکبر کا دن آج ہی کا دن ہے لگام چھوڑ دے۔ عبداللہ بن ابی اوفی کا قول بھی یہی ہے۔
صحیح بخاری کے حوالے سے پہلے حدیث گذر چکی ہے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے منادی کرنے والوں کو منٰی میں عید کے دن بھیجا تھا۔ ابن جریر میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حجتہ الوداع میں جمروں کے پاس دسویں تاریخ ذی الحجہ کو ٹھہرے اور فرمایا: ”یہی دن حج اکبر کا دن ہے۔“ ۱؎ [صحیح بخاری تعلیقا:1742]
اور روایت میں ہے کہ آپ کی اونٹنی سرخرنگ کی تھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے پوچھا کہ ”جانتے بھی ہو آج کیا دن ہے؟“ لوگوں نے کہا: ”قربانی کا دن ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سچ ہے یہی دن حج اکبر کا ہے۔“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:16462]
اور روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اونٹنی پر سوار تھے لوگ اس کی نکیل تھامے ہوئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم سے پوچھا کہ ”یہ دن کون سا ہے جانتے ہو؟“ ہم اس خیال سے خاموش ہو گئے کہ شاید آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کا کوئی اور ہی نام بتلائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا یہ حج اکبر کا دن نہیں؟“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:16460] اور روایت میں ہے کہ لوگوں نے آپ کے سوال پر جواب دیا کہ ”یہ حج اکبر کا دن ہے۔“ ۱؎ [سنن ترمذي:2159،قال الشيخ الألباني:صحیح]
سعید بن مسیب فرماتے ہیں کہ ”عید کے بعد کا دن ہے۔“ مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں: ”حج کے سب دنوں کا یہی نام ہے۔“ سفیان رحمہ اللہ بھی یہی کہتے ہیں کہ ”جیسے یوم جمل، یوم صفین ان لڑائیوں کے تمام دنوں کا نام ہے ایسے ہی یہ بھی ہے۔“
حسن بصری رحمہ اللہ سے جب یہ سوال ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہیں اس سے کیا حاصل یہ تو اس سال تھا جس سال حج کے امیر سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ تھے۔“ ابن سیرین رحمہ اللہ اسی سوال کے جواب میں فرماتے ہیں: ”یہی وہ دن تھا جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اور عام لوگوں کا حج ہوا۔“
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
هذا ما وعد الله به المؤمنين من نصر دينه وإعلاء كلمته وخذلان أعدائهم من المشركين الذين أخرجوا الرسول ومَنْ معه من مكة من بيت الله الحرام وأجلَوْهم مما لهم التسلُّط عليه من أرض الحجاز؛ نصر اللهُ رسولَه والمؤمنين حتى افتتح مكة وأذلَّ المشركين وصار للمؤمنين الحكمُ والغَلَبَةُ على تلك الديار، فأمر النبيُّ - صلى الله عليه وسلم - مؤذِّنه أن يؤذِّن يوم الحج الأكبر، وهو يوم النحر، وقت اجتماع الناس مسلمهم وكافرهم من جميع جزيرة العرب: أن يؤذِّن بأنَّ الله بريءٌ ورسوله من المشركين؛ فليس لهم عنده عهدٌ وميثاقٌ؛ فأينما وُجِدوا قُتِلوا، وقيل لهم: لا تقربوا المسجد الحرام بعد عامكم هذا! وكان ذلك سنة تسع من الهجرة، وحجَّ بالناس أبو بكر الصديق رضي الله عنه، وأذَّن ببراءة يوم النحر ابنُ عمِّ رسول الله - صلى الله عليه وسلم - علي بن أبي طالب رضي الله عنه.
ثم رغَّب تعالى المشركين بالتوبة ورهَّبهم من الاستمرار على الشرك، فقال: {فإن تُبْتُم فهو خيرٌ لكم وإن تولَّيْتم فاعلموا أنَّكم غير معجزي الله}؛ أي: فائتيه، بل أنتم في قبضته، قادر أن يسلط عليكم عباده المؤمنين. {وبشر الذين كفروا بعذاب أليم}؛ أي: مؤلم مفظع في الدنيا بالقتل والأسر والجلاء وفي الآخرة بالنار وبئس القرار.