حجر بن عدیؒ اور مستدرک حاکم کی تیرہ روایات: روایت نمبر 1 تا 7 کا جائزہ

فونٹ سائز:
یہ اقتباس مرزا محمد علی انجینئر کے اعتراضات و اشکالات کا تحقیقی جائزہ سے ماخوذ ہے جسے ہارون بن شبیر احمد حفظہ اللہ نے تالیف کیا ہے اور نظرِ ثانی فضیلۃ الشیخ مولانا محمد رفیق طاہر حفظہ اللہ نے کی ہے۔
مضمون کے اہم نکات

المستدرک للحاکم کی تیرہ روایات کا جائزہ:

روایت نمبر:1

زیاد کے غلام کا بیان ہے کہ:
أَرْسَلَنِي زِيَادٌ إِلَى حُجْرِ بْنِ عَدِيٍّ وَيُقَالُ فِيهِ: ابْنُ الْأَدْبَرِ فَأَبَى أَنْ يَأْتِيَهُ، ثُمَّ أَعَادَنِي الثَّانِيَةَ فَأَبَى أَنْ يَأْتِيَهُ قَالَ: فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ إِنِّي أُحَذِّرُكَ أَنْ تَرْكَبَ أَعْجَازَ أُمُورٍ هَلَكَ مَنْ رَكِبَ صُدُورَهَا۔
”مجھے زیاد نے جناب حجر بن عدی کی جانب ان کو بلانے کے لئے بھیجا، انہیں ”ابن ادبر“ کہا جاتا تھا۔ تو آپ نے آنے سے انکار کر دیا۔ اس نے مجھے دوبارہ بھیجا لیکن انہوں نے اس بار بھی آنے سے انکار کر دیا۔ پھر اس نے یہ کہہ کر ان کی طرف پیغام بھیجا کہ: میں تمہیں ایسے امور کے پیچھے پڑنے کے متعلق خبردار کرتا ہوں جن امور کے سینوں پر سوار ہونے والے بھی ہلاک ہو گئے۔“ (مستدرک للحاکم:5972)
خیر سے بسم اللہ کرتے ہوئے پہلی روایت ہی ضعیف ہے، اس کی سند میں ایک راوی ”محمد بن زبیر الحنظلی“ ہے جو کہ سخت مجروح ہے، اسے امام ابن معین، ابو حاتم الرازی، بخاری، نسائی، ابن عدی، ابن حبان وغیرہم نے ضعیف قرار دیا۔ (تہذیب التہذیب:167/9)
اور اس میں انجینئر صاحب کے مدعے کے مطابق کچھ بھی نہیں۔

روایت نمبر:2

عَنْ زِيَادِ بْنِ عُلَاثَةَ قَالَ: رَأَيْتُ حُجْرَ بْنَ الْأَدْبَرِ حِينَ أَخْرَجَ بِهِ زِيَادٌ إِلَى مُعَاوِيَةَ، وَرِجْلَاهُ مِنْ جَانِبٍ وَهُوَ عَلَى بَعِيرٍ۔
”زیاد بن علاثہ نے بیان کیا: میں نے حضرت حجر بن ادبر کو دیکھا، جب زیاد نے انہیں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی جانب بھیجا۔ وہ ایک اونٹ پر سوار تھے اور ان کے دونوں پاؤں ایک جانب تھے۔“ (مستدرک للحاکم:5973)
اس میں اعمش مدلس ہیں اور روایت عن سے بیان کر رہے ہیں۔ اور مرزا صاحب فرمایا کرتے ہیں کہ مدلس کی عن والی روایت بالاجماع ضعیف ہوتی ہے، اور یہ محدثین کا متفقہ اصول ہے۔ لیکن چونکہ اب جناب معاویہ رضی اللہ عنہ پر اعتراضات کی باری ہے تو انہیں اس سند میں اعمش نظر نہیں آیا، اور نہ ہی تدلیس کے متعلق کوئی اصول یاد ہے۔ کیونکہ اصول تو ہے ہی ایک کہ جو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے خلاف ہے وہ سب صحیح، اور جو کچھ ان کے فضائل میں اور ان کے حق میں مروی ہے وہ سب ضعیف اور من گھڑت ہے۔

روایت نمبر:3

مصعب بن عبداللہ زبیری کہتے ہیں:
حُجْرُ بْنُ عَدِيٍّ الْكِنْدِيُّ يُكَنَّى أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، كَانَ قَدْ وَفَدَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَشَهِدَ الْقَادِسِيَّةَ، وَشَهِدَ الْجَمَلَ، وَصِفِّينَ مَعَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَتَلَهُ مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ بِمَرْجِ عَذْرَاءَ، وَكَانَ لَهُ ابْنَانِ: عَبْدُ اللهِ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ قَتَلَهُمَا مُصْعَبُ بْنُ الزُّبَيْرِ صَبْرًا، وَقُتِلَ حُجْرٌ سَنَةَ ثَلَاثٍ وَخَمْسِينَ۔
”جناب حجر بن عدی کندی کی کنیت ”ابو عبدالرحمٰن“ ہے۔ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس وفد کی صورت میں آئے تھے، آپ جنگ قادسیہ، جنگ جمل اور صفین میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ہمراہ شریک ہوئے تھے۔ حضرت معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہ نے ان کو ”مرج عذراء“ مقام پر شہید کیا، ان کے دو بیٹے عبداللہ اور عبدالرحمٰن تھے، جنہیں مصعب بن زبیر نے باندھ کر قتل کیا تھا۔ حجر بن عدی 53 ہجری میں قتل کیے گئے۔“ (مستدرک للحاکم:5974)

روایت نمبر:4

عَنْ نَافِعٍ قَالَ: لَمَّا كَانَ لَيَالِي بَعْثِ حُجْرٍ إِلَى مُعَاوِيَةَ جَعَلَ النَّاسُ يَتَحَيَّرُونَ وَيَقُولُونَ: مَا فَعَلَ حُجْرٌ؟ فَأَتَى خَبَرُهُ ابْنَ عُمَرَ وَهُوَ مُخْتَبِئٌ فِي السُّوقِ، فَأَطْلَقَ حَبْوَتَهُ وَوَثَبَ، وَانْطَلَقَ فَجَعَلْتُ أَسْمَعُ نَحِيبَهُ، وَهُوَ مُوَلٍّ۔
”حضرت نافع فرماتے ہیں: جس رات حجر بن عدی کو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی جانب بھیجا جا رہا تھا، لوگ حیران ہو کر پوچھتے تھے کہ حجر کا کیا معاملہ بنا؟ جب ان کی خبر حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما تک پہنچی، وہ اس وقت بازار میں کسی جگہ روپوش تھے، آپ نے روپوشی ختم کی اور لوگوں کے درمیان آ گئے۔ جب وہ واپس جا رہے تھے تو میں نے ان کی پھوٹ پھوٹ کر رونے کی آواز سنی۔“ (مستدرک للحاکم:5975)
یہ روایت صحیح ہے، لیکن اس میں مرزا صاحب کے دعوے کے مطابق کچھ بھی نہیں۔ اور جناب عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے رونے کو بنیاد بنا کر کہنا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اسے قتلِ ناحق جانا، تو یہ درست نہیں ہے۔ صرف ان کے رونے سے ایسا کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا جا سکتا، کیوں کہ کسی انتہائی قریبی اور عزیز کے قتل پر رونا ایک فطرتی عمل ہے، چاہے وہ کسی جرم کی وجہ ہی سے قتل ہو۔ لیکن اگر تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے نزدیک یہ قتلِ ناحق تھا تو آپ رضی اللہ عنہ نے ناحق کے خلاف آواز کیوں نہ اٹھائی؟ اگر یہ ظلم تھا تو اس کی مذمت کیوں نہ فرمائی؟ کم از کم دو بول ہی مخالفت کے بول دیے ہوتے! چلیں یہ بھی نہیں تو دل میں ہی برا جانا ہوتا، تو لائیں ثابت کریں کہ آپ رضی اللہ عنہ نے اسے غلط کہا ہو۔ ایسا کچھ ثابت ہی نہیں، اگر ہوتا تو آپ لوگ اسے بیان کرنے سے ہرگز پیچھے نہ رہتے۔ چلیں ایک منٹ کے لیے آپ کی یہ فضول کہانی بھی مان لیتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما passive مزاج آدمی تھے اور حکمرانوں کے خلاف خروج کرنے یا ان کی مخالفت کرنے سے بہت بچنے والے تھے، اور اس کے مقابلے میں پھر آپ فرماتے ہیں کہ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ (active) مزاج تھے، وہ بالکل بھی کمپرومائز نہ کرتے، اور انہوں نے یزید جیسے ظالم حکمران کے خلاف آوازِ حق بلند کی اور اس کے خلاف خروج کیا۔ تو پھر بتائیں کہ کیا جناب حسین رضی اللہ عنہ نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے خلاف خروج کیا؟ ان کے اس عمل کی مذمت کی؟ بالکل نہیں!
اور اگر یہ بھی مان لیا جائے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اسے ناحق قتل سمجھا، تو یہ ان کا فہم ہے، لیکن دوسری طرف جنابِ معاویہ رضی اللہ عنہ حاکمِ وقت اور مجتہد ہیں، آپ نے یہ قتل کسی ایسی وجہ سے بالکل بھی نہیں کروایا کہ جو مرزا صاحب بیان کر رہے ہیں۔ اور انہوں نے مکمل سوچ بچار اور باقاعدہ مشاورت کے بعد یہ قدم اٹھایا تھا جیسا کہ آگے آ رہا ہے۔

روایت نمبر:5

عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ: رَأَيْتُ حُجْرَ بْنَ عَدِيٍّ وَهُوَ يَقُولُ: أَلَا إِنِّي عَلَى بَيْعَتِي لَا أُقِيلُهَا، وَلَا أَسْتَقِيلُهَا سَمَاعَ اللهِ وَالنَّاسِ۔
”ابو اسحاق کہتے ہیں کہ میں نے حضرت حجر بن عدی کو دیکھا اور وہ کہہ رہے تھے: خبردار! میں اپنی بیعت پر قائم ہوں، نہ میں نے اسے توڑا ہے اور نہ ہی توڑنے کی خواہش رکھتا ہوں، یہ بات انہوں نے اللہ تعالیٰ اور لوگوں کو گواہ بناتے ہوئے کہی۔“ (مستدرک للحاکم: 5976)
اس میں سفیان ثوری مدلس ہیں، بلکہ مرزا صاحب تو فرمایا کرتے ہیں کہ اعمش اور سفیان ثوری امام المدلسین ہیں۔ اور اس بنا پر بہت سی روایات کو ضعیف قرار دیا ہے، لیکن مرزا صاحب جو اصول بیان کرتے ہیں وہ صرف بیان کرنے کی حد تک ہی ہوتے ہیں۔

روایت نمبر:6

عَنْ بِشْرِ بْنِ عَبْدِ الْحَضْرَمِيِّ، قَالَ: لَمَّا بَعَثَ زِيَادٌ بِحُجْرِ بْنِ عَدِيٍّ إِلَى مُعَاوِيَةَ أَمَرَ مُعَاوِيَةُ بِحَبْسِهِ بِمَكَانٍ يُقَالُ لَهُ: مَرْجُ عَذْرَاءَ، ثُمَّ اسْتَشَارَ النَّاسَ فِيهِ قَالَ: فَجَعَلُوا يَقُولُونَ: الْقَتْل الْقَتْل. قَالَ: فَقَامَ عَبْدُ اللهِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسَدٍ الْبَجَلِيُّ فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، أَنْتَ رَاعِينَا وَنَحْنُ رَعِيَّتُكَ، وَأَنْتَ رُكْنُنَا وَنَحْنُ عِمَادُكَ، إِنْ عَاقَبْتَ قُلْنَا: أَصَبْتَ، وَإِنْ عَفَوْتَ قُلْنَا: أَحْسَنْتَ وَالْعَفْوُ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَى، وَكُلُّ رَاعٍ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ، قَالَ: فَتَفَرَّقَ النَّاسُ عَنْ قَوْلِهِ۔
”بشر بن عبداللہ الحضرمی کہتے ہیں۔ جب زیاد نے حضرت حجر بن عدی کو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف بھیجا تو جناب معاویہ نے ان کو ”مرج عذراء“ نامی جگہ پر قید کرنے کا حکم دیا۔ پھر لوگوں سے ان کے بارے میں مشورہ کیا تو لوگ کہنے لگے: قتل کریں، قتل کریں۔ پھر عبداللہ بن زید بن اسد بجلی اٹھے اور کہا: اے امیر المومنین! آپ ہمارے حکمران ہیں اور ہم آپ کی رعایا ہیں، آپ ہماری بنیاد ہیں اور ہم آپ کے ستون ہیں۔ اگر آپ سزا دیں گے تو ہم کہیں گے کہ آپ نے درست کیا اور اگر آپ معاف کر دیں گے تو ہم کہیں گے کہ آپ نے اچھا کیا، اور معاف کرنا تقویٰ کے قریب تر ہے۔ اور ہر ذمہ دار سے اس کی ذمہ داری کے بارے میں سوال ہو گا۔ تو عبداللہ بن زید کے اس بیان (کہ معاف کرنا اچھا ہے) سے سب لوگوں نے اختلاف کیا۔“ (مستدرک للحاکم: 5977)
یہ روایت تو صریح طور پر مرزا صاحب کے خلاف ہے، اور کہانی سناتے وقت اس کا ذکر تک نہیں کیا گیا۔ بس گالیوں پر ہی زور دیا گیا ہے۔

روایت نمبر:7

ابومخنف کا بیان ہے کہ:
أَنَّ هَدِيَّةَ بْنَ فَيَّاضٍ الْأَعْوَرَ أُمِرَ بِقَتْلِ حُجْرِ بْنِ عَدِيٍّ، فَمَشَى إِلَيْهِ بِالسَّيْفِ، فَارْتَعَدَتْ فَرَائِصُهُ فَقَالَ: يَا حُجْرُ أَلَيْسَ زَعَمْتَ أَنَّكَ لَا تَجْزَعُ مِنَ الْمَوْتِ، فَإِنَّا نَدَعُكَ فَقَالَ: وَمَا لِي لَا أَجْزَعُ، وَأَنَا أَرَى قَبْرًا مَحْفُورًا، وَكَفَنًا مَنْشُورًا، وَسَيْفًا مَشْهُورًا، وَإِنِّي وَاللهِ لَنْ أَقُولَ مَا يُسْخِطُ الرَّبَّ۔
”ہدیہ بن فیاض اعور کو حکم دیا گیا کہ وہ حجر بن عدی کو قتل کر دے، وہ اپنی تلوار لے کر ان کی جانب بڑھا، تو جناب حجر پر کپکپی طاری ہو گئی، ہدیہ بن فیاض نے کہا: کیا آپ یہ دعوی نہیں کیا کرتے تھے کہ آپ موت سے نہیں گھبراتے ہیں؟ تا کہ ہم آپ کو چھوڑ دیں۔ اس پر آپ نے جواب دیا: میں کیوں نہ گھبراؤں کہ میں کھودی ہوئی قبر دیکھ رہا ہوں، اور بکھرا ہوا کفن بھی، اور میں تلوار سونتی ہوئی دیکھ رہا ہوں۔ اور اللہ کی قسم! میں ایسی بات ہرگز نہیں کہوں گا جس سے رب تعالی ناراض ہو۔“ (مستدرک للحاکم:5978)
یہ روایت ضعیف ہے۔ ابومخنف لوط بن یحیی سخت ضعیف بلکہ کذاب راوی ہے۔ امام ذہبی نے ساقط اور متروک قرار دیا ہے۔ (المغنی فی الضعفاء:5121، دیوان الضعفاء:3500)
اور فرمایا: لوط بْن يحيى، أَبُو مخنف الكوفي الرافضي….. قَالَ ابْنُ مَعِينٍ: لَيْسَ بِثِقَةٍ، وَقَالَ أَبُوحاتم: متروك الحديث، وقال الدارقطني: أخباري ضعيف۔
”لوط بن یحییٰ ابومخنف الکوفی رافضی ہے، امام ابن معین نے اسے ”لیس بثقۃ“، امام ابو حاتم نے ”متروک الحدیث“، اور امام دارقطنی نے ”ضعیف اخباری“ (قصے بیان کرنے والا) قرار دیا ہے۔“ (تاریخ الاسلام:581/9)
یہ اس پر مختصر ترین جرح نقل کی گئی ہے، نیز بعض ائمہ نے تو اسے کذاب بھی قرار دیا ہے (تنزيه الشريعة:98/1، الموضوعات لابن الجوزي:406/1)
ایک مخصوص طبقہ اور ان کے نقش قدم پر گامزن مرزا انجینئر صاحب جو ایسے واقعات سنا کر مگرمچھ کے آنسو روتے اور ہائے ہائے کرتے ہیں وہ سب اسی اور اس جیسے کذاب راویوں کی تیار کردہ کہانیاں ہیں۔ اس قتل کے حوالے سے بھی بہت سی من گھڑت داستانیں بیان کی جاتی ہیں، تا کہ معاملے کو اور رنگ دے کر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ پر طعن و تشنیع کے لیے راہ ہموار کی جا سکے۔