موحد اور مشرک کی زیارتِ قبور میں فرق قرآن و حدیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی کتاب الجواب الباہر فی زوار المقابر سے ماخوذ ہے جس کا ترجمہ شیخ عطا اللہ ثاقب نے کیا ہے۔

موحد اور مشرک کی زیارت قبور میں فرق :

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل توحید اور مشرکین کے طریقہ ہائے زیارت قبور کے بارے میں فرق بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ اہل توحید جب زیارت قبور کے لیے جاتے ہیں تو میت کے لیے دعا و سلام اور بخشش کی دعا کرتے ہیں جیسے نماز جنازہ میں دعا کی جاتی ہے۔ لیکن جب کوئی مشرک قبرستان میں جاتا ہے تو وہ مخلوق کو خالق سے مشابہ ٹھہراتا ہے میت کے نام کی نذر و نیاز دیتا، اسے سجدہ کرتا اور اسے مشکل کشا سمجھ کر پکارتا ہے اور اس سے اس طرح محبت کا اظہار کرتا ہے جیسے اللہ تعالیٰ سے محبت کی جاتی ہے۔ پس اس طرح وہ اپنے عمل سے اہل قبور کو اللہ تعالیٰ کا ساجھی اور اس کے برابر قرار دیتا ہے۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو بڑی سختی سے اس بات سے روکا ہے کہ وہ انبیاء یا ملائکہ وغیرہ کو اس کا شریک ٹھہرائیں۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
مَا كَانَ لِبَشَرٍ أَن يُؤْتِيَهُ اللَّهُ الْكِتَابَ وَالْحُكْمَ وَالنُّبُوَّةَ ثُمَّ يَقُولَ لِلنَّاسِ كُونُوا عِبَادًا لِّي مِن دُونِ اللَّهِ وَلَٰكِن كُونُوا رَبَّانِيِّينَ بِمَا كُنتُمْ تُعَلِّمُونَ الْكِتَابَ وَبِمَا كُنتُمْ تَدْرُسُونَ ‎﴿٧٩﴾‏ وَلَا يَأْمُرَكُمْ أَن تَتَّخِذُوا الْمَلَائِكَةَ وَالنَّبِيِّينَ أَرْبَابًا ۗ أَيَأْمُرُكُم بِالْكُفْرِ بَعْدَ إِذْ أَنتُم مُّسْلِمُونَ ‎﴿٨٠﴾‏
”کسی انسان کا یہ کام نہیں ہے کہ اللہ تو اس کو کتاب اور حکم اور نبوت عطا فرمائے اور وہ لوگوں سے کہے کہ اللہ کے بجائے تم میرے بندے بن جاؤ۔ وہ تو یہی کہے گا کہ سچے ربانی بنو جیسا کہ اس کتاب کی تعلیم کا تقاضا ہے جسے تم پڑھتے اور پڑھاتے ہو۔ وہ تم سے ہرگز یہ نہ کہے گا کہ فرشتوں کو یا پیغمبروں کو اپنا رب بنا لو۔ کیا یہ ممکن ہے کہ ایک نبی تمہیں کفر کا حکم دے جب کہ تم مسلم ہو؟؟“
(3-آل عمران:79-80)

وہ تو خود امیدوار ہیں :

❀ دوسرے مقام پر ارشاد الہی ہے کہ:
قُلِ ادْعُوا الَّذِينَ زَعَمْتُم مِّن دُونِهِ فَلَا يَمْلِكُونَ كَشْفَ الضُّرِّ عَنكُمْ وَلَا تَحْوِيلًا ‎﴿٥٦﴾‏ أُولَٰئِكَ الَّذِينَ يَدْعُونَ يَبْتَغُونَ إِلَىٰ رَبِّهِمُ الْوَسِيلَةَ أَيُّهُمْ أَقْرَبُ وَيَرْجُونَ رَحْمَتَهُ وَيَخَافُونَ عَذَابَهُ ۚ إِنَّ عَذَابَ رَبِّكَ كَانَ مَحْذُورًا ‎﴿٥٧﴾‏
”ان سے کہو پکار دیکھو ان معبودوں کو جن کو تم اللہ کے سوا (اپنا کارساز) سمجھتے ہو، وہ کسی تکلیف کو تم سے نہ ہٹا سکتے ہیں نہ بدل سکتے ہیں۔ جن کو یہ لوگ پکارتے ہیں وہ تو خود اپنے رب کے حضور رسائی حاصل کرنے کا وسیلہ تلاش کر رہے ہیں کہ کون اس سے قریب تر ہو جائے اور وہ اس کی رحمت کے امیدوار اور اس کے عذاب سے خائف ہیں، حقیقت یہ ہے کہ تیرے رب کا عذاب ہے ہی ڈرنے کے لائق“
(17-الإسراء:56-57)
اس آیت کے بارے میں سلف کی ایک جماعت کا یہ خیال ہے کہ سابقہ اقوام و ملل میں سے کئی قومیں مصائب و مشکلات اور ابتلاء کے وقت اپنے انبیاء مثلاً : سیدنا عیسیٰ علیہ السلام، سیدنا عزیر علیہ السلام اور اسی طرح فرشتوں کو پکارا کرتی تھیں، تاکہ مشکلات و مصائب سے نجات مل جائے۔ اپنی اقوام کو اللہ تعالیٰ نے خبردار کیا کہ یہ تو میرے بندے تھے جو خود میری رحمت کے طلب گار رہتے، میرے عذاب سے ڈرتے اور اعمال صالح سے میرا قرب حاصل کرنے کی کوشش کیا کرتے تھے۔