کیا لڑکے سے لڑکی اور لڑکی سے لڑکا بن جاتا ہے؟

Read in English
فونٹ سائز:
یہ تحریر علمائے حرمین کے فتووں پر مشتمل کتاب 500 سوال و جواب برائے عقیدہ سے ماخوذ ہے جس کا ترجمہ فضیلۃ الشیخ مولانا محمد یاسر عرفات حفظہ اللہ نے کیا ہے۔

23- کیا لڑکے سے لڑکی اور لڑکی سے لڑکا بن جاتا ہے؟

ایسا کرنا مخلوق میں سے کسی کے بس کی بات نہیں ہے اور نہ ان کے اختیار میں ہے، خواہ ان کی معلومات اور علمی دعویٰ کتنا ہی بلند کیوں نہ ہو۔ یہ تو صرف اللہ وحدہ لا شریک کا کام ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
لِلَّهِ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ يَهَبُ لِمَنْ يَشَاءُ إِنَاثًا وَيَهَبُ لِمَنْ يَشَاءُ الذُّكُورَ أَوْ يُزَوِّجُهُمْ ذُكْرَانًا وَإِنَاثًا وَيَجْعَلُ مَنْ يَشَاءُ عَقِيمًا إِنَّهُ عَلِيمٌ قَدِيرٌ [الشوریٰ: 50,49]
”آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اللہ ہی کی ہے، وہ پیدا کرتا ہے جو چاہتا ہے، جسے چاہتا ہے بیٹیاں عطا کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے بیٹے عطا کرتا ہے۔ یا انھیں ملا کر بیٹے اور بیٹیاں عطا کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے بانجھ کر دیتا ہے، یقیناً وہ سب کچھ جاننے والا، ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔“
اس آیت کی ابتدا میں اللہ تعالیٰ نے اس بات کی وضاحت فرمائی ہے کہ یہ تو میرا ہی خاصا ہے لڑکا بناؤں یا لڑکی، اور آیت کے اختتام پر اس خصوصیت کی وجہ بھی بیان کی کہ یہ کمال علم اور قدرت کا نتیجہ ہے۔ ہاں یہ بات ضرور ہے کہ بعض بچے ایسے ہوتے ہیں کہ پیدا ہوتے ہی ان کی پہچان مشکل ہوتی ہے کہ لڑکی ہے یا لڑکا ہے۔ ان میں سے اکثر کا بالغ ہوتے ہی پتا چل جاتا ہے، لیکن اگر کوئی ایسی صورت پیش آ جائے کہ کوئی علامت سامنے نہ آئے تو آپریشن کے ذریعے سے راستہ کھول کر اصل حقیقت معلوم کی جاتی ہے۔ ایسی صورت میں یہ کسی ڈاکٹر یا معالج کا کمال نہیں ہے کہ اس نے لڑکی سے لڑکا بنا دیا ہے، بلکہ اس نے تو مالک الملک کی طرف سے پہلے ہی طے شدہ جنس کے راستے کو کھولا ہے۔ واللہ اعلم (اللجنة الدائمة: 1542)