جھوٹے نبی اور اس کی تصدیق کرنے والے کا حکم؟
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی بھی معنی اور تشریح میں دعویٰ نبوت کفر و ارتداد ہے۔ اس پر کتاب و سنت کے دلائل کے ساتھ ساتھ امت مسلمہ کا اجماع بھی ہے۔
علامہ حلیمی رحمہ اللہ (404ھ) فرماتے ہیں :
إن تمنى فى زمان نبينا صلى الله عليه وسلم وبعدم أن لو كان نبيا … وهذا كفر .
”اگر کوئی عہد نبوی میں یا اس کے بعد نبی ہونے کی تمنا کرے تو یہ کفر ہے۔“
(المنهاج في شعب الإيمان : 106/3)
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :
مسيلمة بعث رجلين أحدهما ابن أثال بن حجر، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : أتشهدان أن محمدا رسول الله؟، قالا : نشهد أن مسيلمة رسول الله، فقال النبى صلى الله عليه وسلم : آمنت بالله ورسله، لو كنت قاتلا وفدا قتلتكما .
”مسیلمہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دو آدمی بھیجے، ایک اثال بن حجر تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا : محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کا رسول مانتے ہو؟ کہنے لگے : ہم مسیلمہ کو اللہ کا رسول مانتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لاتا ہوں، اگر میں قاصدوں کا قتل روا رکھتا تو تمہیں قتل کر دیتا۔“
(مسند أبي يعلى : 5097 وسنده حسن)
حافظ ہیثمی رحمہ اللہ نے اس کی سند کو حسن کہا ہے۔
(مجمع الزوائد : 314/5)
سیدنا نعیم بن مسعود اشجعی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :
سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول حين قرأ كتاب مسيلمة الكذاب، قال للرسولين : فما تقولان أنتما؟ قالا : نقول كما قال، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : والله لولا أن الرسل لا تقتل لضربت أعناقكما .
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مسیلمہ کا خط پڑھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قاصدوں سے پوچھا : آپ کا عقیدہ کیا ہے؟ کہنے لگے : وہی جو خط میں لکھا ہے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ کی قسم ! اگر قاصدوں کو قتل نہ کرنے کا قانون نہ ہوتا، تو میں تمہاری گردنیں اڑا دیتا۔“
(مسند الإمام أحمد : 487/3 ، سنن أبي داود : 2761 وسنده حسن)
امام بخاری رحمہ اللہ نے اس حدیث کو ”حسن“ کہا ہے۔
(العلل الكبير للترمذي : 715)
امام حاکم رحمہ اللہ (52/3،143/2) نے امام مسلم رحمہ اللہ کی شرط پر ”صحیح“ کہا ہے، حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہے۔
صحیح بخاری (4379) میں ہے کہ اسود عنسی کو بھی قتل کر دیا گیا تھا۔
سیدنا وحشی بن حرب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :
قدمت على رسول الله صلى الله عليه وسلم، فلما رآني قال : أنت وحشي قلت : نعم، قال : أنت قتلت حمزة قلت : قد كان من الأمر ما بلغك، قال : فهل تستطيع أن تغيب وجهك عني قال : فخرجت فلما قبض رسول الله صلى الله عليه وسلم فخرج مسيلمة الكذاب، قلت : لأخرجن إلى مسيلمة، لعلي أقتله فأكافى به حمزة، قال : فخرجت مع الناس، فكان من أمره ما كان، قال : فإذا رجل قائم فى ثلمة جدار، كأنه جمل أورق نائر الرأس، قال : فرميته بحربتي، فأضعها بين ثدييه حتى خرجت من بين كيفيه، قال : ووثب إليه رجل من الأنصار فضربه بالسيف على هامته .
”میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : آپ وحشی ہیں؟ میں نے کہا جی ہاں! فرمایا : حمزہ رضی اللہ عنہ کو قتل آپ نے کیا تھا؟ عرض کیا : جی! آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو صحیح خبر پہنچی ہے۔ فرمایا : آپ میرے سامنے آنے سے اجتناب کیجیے گا، میں وہاں سے چلا آیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد مسیلمہ کذاب کے فتنہ نے زور پکڑا، تو دل میں خیال آیا کہ مسیلمہ کو میں قتل کروں گا، تاکہ حمزہ رضی اللہ عنہ کے قتل کا بوجھ میرے سر سے اتر جائے۔ میں اس سے جنگ کرنے والے لشکر میں شامل ہو گیا، کیا دیکھتا ہوں کہ ایک آدمی دیوار کے شگاف میں کھڑا ہے، جو خاکستری اونٹ کی طرح گندم گوں تھا اور اس کے بال پراگندہ تھے۔ میں نے اسے دیکھا، تو اپنا نیزہ اس کے سینے میں پیوست کر دیا اور اس کا سینہ پیٹھ تک چر گیا، پھر ایک انصاری نے تلوار سے اس کا سر قلم کر دیا۔“
(صحيح البخاري : 4072)
امام سحنون رحمہ اللہ (240ھ) فرماتے ہیں :
من تنبا وزعم أنه يوحى إليه استتيب، فإن تاب وإلا قتل .
”جس نے نبوت کا دعویٰ کیا اور کہا کہ اس کی طرف وحی کی جاتی ہے، اس سے توبہ کروائی جائے گی، اگر کر لے تو بہتر ورنہ قتل کر دیا جائے گا۔“
(النوادر والزيادات لأبي زيد قيرواني : 532/14)
علامہ عبد القاہر بغدادی رحمہ اللہ (429ھ) لکھتے ہیں :
قالوا بتكفير كل متنب سواء كان قبل الإسلام كزراذشت ويودأسف وماني وديصان ومزفيور ومزدك أو بعده كمسيلمة وستجارح والأسود ثم يزيد العنسي وسائر من كان بعدهم من المتنبين .
”اہل سنت ہر مدعی نبوت کو کافر کہتے ہیں، وہ اسلام سے پہلے ہو، جیسا کہ زرادشت، یوداسف، مانی، دیصان، مزفیور اور مزدک ہیں یا اسلام کے بعد ہو جیسا مسیلمہ، ستجارح، اسود اور یزید عنسی اور ان کے بعد جتنے بھی متنبی پیدا ہوئے۔“
(الفرق بين الفرق ص : 302)
علامہ ابن حزم رحمہ اللہ (456ھ) لکھتے ہیں :
أما من قال : إن الله عز وجل هو فلان لإنسان بعينه أو إن الله تعالى يحل فى جسم من أجسام خلقه أو إن بعد محمد صلى الله عليه وسلم نبيا غير عيسى بن مريم فإنه لا يختلف اثنان فى تكفيره لصحة قيام الحجة بكل هذا على كل أحد .
”جو کہے کہ اللہ فلاں شخص کے روپ میں ہے یا کہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی کسی مخلوق کے جسم میں حلول کرتا ہے یا کہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سیدنا عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے علاوہ کوئی اور نبی بھی آسکتا ہے، تو اس کے کفر میں (اہل اسلام میں سے) دو انسانوں کا بھی اختلاف نہیں، کیوں کہ ان میں سے ہر چیز کی دلیل ہر شخص پر قائم ہو چکی ہے۔“
(الفصل في الملل والأهواء والنحل : 139/3)
قاضی عیاض رحمہ اللہ (544ھ) لکھتے ہیں :
كذلك من ادعى نبوة أحد مع نبينا صلى الله عليه وسلم أو بعده كالعيسوية من اليهود القائلين بتخصيص رسالته إلى العرب وكالخرمية القائلين بتواتر الرسل وكأكثر الرافضة القائلين بمشاركة على فى الرسالة للنبي صلى الله عليه وسلم وبعده فكذلك كل إمام عند هؤلاء يقوم مقامه فى النبوة والحجة وكالبزيغية والبيانية منهم القائلين بنبوة يزيع وبيان وأشباء هؤلاء أو من ادعى النبوة لنفسه أو جون اكتسابها والبلوغ بصفاء القلب إلى مرتبتها كالفلاسفة وغلاة المتصوفة وكذلك من ادعى منهم أنه يوحى إليه وإن لم يدع النبوة أو أنه يصعد إلى السماء ويدخل الجنة ويأكل من ثمارها ويعانق الحور العين فهؤلاء كلهم كفار مكذبون للنبي صلى الله عليه وسلم لأنه أخبر صلى الله عليه وسلم أنه خاتم النبيين لا نبي بعده وأخبر عن الله تعالى أنه خاتم النبيين وأنه أرسل كافة للناس وأجمعت الأمة على حمل هذا الكلام على ظاهره وأن منهومه المراد به دون تأويل ولا تخصيص فلا شك فى كفر هؤلاء الطوائف كلها قطعا إجماعا وسمعا .
”اسی طرح جو شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں یا اس کے بعد نبوت میں کسی کو شریک قرار دے، وہ کافر ہے۔ یہود کا عیسویہ فرقہ کہتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت خطہ عرب کے ساتھ خاص ہے۔ فرقہ خرمیہ کہتا ہے کہ رسول متواتر آتے رہیں گے۔ روافض کی اکثریت کہتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سیدنا علی رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت میں شریک ہیں، اسی طرح ان کے نزدیک ان کا ہر امام نبوت و حجت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قائم مقام ہے۔ بزیغیہ اور بیانیہ فرقے بزیغ اور بیان نامی اشخاص کی نبوت کے قائل ہیں، یہ سب لوگ کافر ہیں۔ اسی طرح وہ بھی کافر ہے جس نے خود نبوت کا دعویٰ کیا یا فلاسفہ اور غالی صوفیوں کی طرح دل کی صفائی سے نبوت کے اکتساب اور نبوت کے مرتبہ تک پہنچنے کو جائز سمجھا، وہ بھی دائرہ اسلام سے خارج ہے جو نبوت کا مدعی نہ ہو مگر خود پر وحی کے نزول کا دعویٰ کرتا ہو، یا کہتا ہو کہ وہ آسمان پر چڑھتا ہے، جنت میں داخل ہوتا ہے اور اس کے پھل کھاتا ہے اور حور عین سے معانقہ کرتا ہے، اس قسم کے نظریات رکھنے والے تمام لوگ کافر ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تکذیب کرتے ہیں، حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پوری انسانیت کی طرف مبعوث ہیں۔ یہ کلام اپنے ظاہری معنی پر محمول ہوگا، اس پر امت کا اجماع ہے۔ اس میں کسی قسم کی تاویل و تخصیص کی گنجائش نہیں۔ پس مذکورہ بالا فرقوں کے کفر میں کوئی شک و شبہ نہیں۔ اجماع اور قرآن و سنت کے دلائل سے یہ لوگ دائرہ اسلام سے یقیناً خارج ہیں۔“
(الشفا بتعريف حقوق المصطفى : 285/2،286)
علامہ ابن قدامہ مقدسی رحمہ اللہ (620ھ) لکھتے ہیں :
من ادعى النبوة، أو صدق من ادعاه، فقد ارتد، لأن مسيلمة لما ادعى النبوة، فصدقه قومه، صاروا بذلك مرتدين وكذلك طليحة الأسدي ومصدقوه، وقال النبى صلى الله عليه وسلم : لا تقوم الساعة حتى يخرج ثلاثون كذابون، كلهم يزعم أنه رسول الله .
”جو نبوت کا دعویٰ کرتا ہے یا مدعی نبوت کی تصدیق کرتا ہے، وہ مرتد ہے، مسیلمہ نے جب نبوت کا دعویٰ کیا، تو اس کی قوم نے اس کی تصدیق کی اور وہ مرتد قرار پائے، اسی طرح طلیحہ اسدی اور اس کی تصدیق کرنے والے بھی مرتد ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس وقت تک قیامت قائم نہیں ہوگی، جب تک کہ تیس کذاب نہیں آجاتے، ان میں سے ہر ایک نبوت کا دعویٰ کرے گا۔“
(المغنى : 28/9)
حافظ نووی رحمہ اللہ (676ھ) لکھتے ہیں :
أو ادعى النبوة بعد نبينا صلى الله عليه وسلم أو صدق مدعيا لها ، … فكل هذا كفر .
”جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوت کا دعوی کرے یا نبوت کے مدعی کی تصدیق کرے، وہ کافر ہے۔“
(روضة الطالبين : 65/10)
علامہ قرافی رحمہ اللہ (684ھ) لکھتے ہیں :
من تنبا وزعم أنه يوحى إليه قال ابن القاسم : هو مرتد لكفره بقوله تعالى : وخاتم النبيين .
”جو نبوت کا دعوی کرے اور کہے کہ اس کی طرف وحی کی جاتی ہے، ابن قاسم رحمہ اللہ اسے مرتد کہتے ہیں، اللہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبیین فرمایا ہے۔“
(الذخيرة : 13/12)
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ (728ھ) لکھتے ہیں :
إن كان المدعي للنبوة كاذبا فهو من أكفر خلق الله ، وشرهم .
”نبوت کا مدعی اگر جھوٹا ہو، تو اللہ کی مخلوق میں سب سے بڑا کافر اور بدترین انسان ہوتا ہے۔“
(الجواب الصحيح لمن بدل دين المسيح : 127/1)
مزید لکھتے ہیں :
لا يعرف قط أحد ادعى النبوة وهو كاذب إلا قطع الله دابره وأذله وأظهر كذبه وفجوره .
”ایسا کبھی نہیں ہوا کہ کسی جھوٹے نے نبوت کا دعوی کیا ہو اور اللہ نے اسے نیست و نابود اور ذلیل و رسوا نہ کر دیا ہو اور اس کا کذب و فجور ظاہر نہ کیا ہو۔“
(الجواب الصحيح لمن بدل دين المسيح : 410/1)
نیز رقم طراز ہیں :
من أثبت نبيا بعد محمد فهو شبيه بأتباع مسيلمة الكذاب وأمثاله من المتنبئين .
”جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی نبی کا اثبات کرتا ہے، وہ مسیلمہ کذاب اور اس جیسے دوسرے جھوٹے مدعیان نبوت کے پیروکاروں کے حکم میں ہے۔“
(منهاج السنة : 187/6)
ایک جگہ فرمایا :
معلوم أن مدعي الرسالة إما أن يكون من أفضل الخلق وأكملهم وإما أن يكون من أنقص الخلق وأرذلهم، ولهذا قال أحد أكابر ثقيف للنبي صلى الله عليه وسلم لما بلغهم الرسالة ودعاهم إلى الإسلام : والله لا أقول لك كلمة واحدة، إن كنت صادقا فأنت أجل فى عيني من أن أرد عليك، وإن كنت كاذبا فأنت أحفر من أن أرد عليك، فكيف يشتبه أفضل الخلق وأكملهم بأنقص الخلق وأرذلهم، وما أحسن قول حسان : لو لم تكن فيه آيات مبينة كانت بديهته تأتيك بالخبر، وما من أحد ادعى النبوة من الكذابين إلا وقد ظهر عليه من الجهل والكذب والفجور واستحواذ الشياطين عليه ما ظهر لمن له أدنى تمييز . وما من أحد ادعى النبوة من الصادقين إلا وقد ظهر عليه من العلم والصدق والبر وأنواع الخيرات ما ظهر لمن له أدنى تمييز .
”ظاہر ہے کہ مدعی نبوت یا تو مخلوق میں سب سے افضل اور اکمل ہو یا سب سے ناقص اور رذیل ہو۔ اسی لئے قبیلہ ثقیف کے ایک بزرگ کو جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت پہنچی، تو اس نے کہا تھا : میں آپ کے متعلق ایک بھی جملہ نہیں بولوں گا، اگر آپ سچے ہیں، تو آپ اس سے بلند ہیں کہ میں آپ کی دعوت رد کروں اور اگر آپ جھوٹے ہیں، تو آپ اس سے حقیر ہیں کہ میں آپ کا رد کروں۔ تو مخلوق کا اکمل و افضل شخص مخلوق کے ناقص ترین اور رذیل ترین شخص جیسا کیسے ہو سکتا ہے؟ سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کی یہ بات کیا خوب ہے: اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں واضح نشانیاں نہ بھی ہوتیں، تب بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت نبوت کی خبر دینے کے لیے کافی تھی۔ کذابین میں سے جس نے بھی نبوت کا دعوی کیا، اس پر جہالت، کذب، فجور اور شیطانی بہکاوے غالب آگئے، اسی طرح جب کسی سچے آدمی نے نبوت کا دعوی کیا، اس پر علم، صدق، نیکی اور دوسری اچھائیاں غالب ہوگئیں، یہ باتیں ادنی تمیز دار آدمی بھی سمجھ سکتا ہے۔“
(شرح العقيدة الأصفهانية ص : 138)
مزید فرماتے ہیں :
معلوم أن من كذب على الله بأن زعم أنه رسول الله أو نبيه أو أخبر عن الله خبرا كذب فيه كمسيلمة والعنسي ونحوهما من المتنبئين، فإنه كافر حلال الدم .
”جو اللہ پر جھوٹ باندھے اور خود کو نبی و رسول باور کروائے، یا اللہ کی طرف سے جھوٹی خبر دے، وہ کافر ہے، اس کا خون حلال ہے، جیسا کہ مسیلمہ، عنسی اور ان جیسے دیگر متنبی ہیں۔“
(الصارم المسلول على شاتم الرسول ص : 171)
علامہ سبکی رحمہ اللہ (756ھ) لکھتے ہیں :
من ادعى الإلهية أو الرسالة أو النبوة أو أنكر أن يكون الله خالقه أو ربه فلا خلاف فى كفره .
”جو الہ ہونے یا نبی و رسول ہونے کا دعوی کرے، یا اللہ کو خالق ماننے سے انکاری ہو، اس کے کفر میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔“
(فتاوى السبكي : 578/2)
علامہ ابن ابی العز حنفی رحمہ اللہ (792ھ) لکھتے ہیں :
إن النبوة إنما يدعيها أصدق الصادقين أو أكذب الكاذبين، ولا يلتبس هذا بهذا إلا على أجهل الجاهلين، بل قرائن أحوالهما تعرب عنهما، وتعرف بهما والتمييز بين الصادق والكاذب له طرق كثيرة فيما دون دعوى النبوة، فكيف بدعوة النبوة ؟
”نبوت کا دعویدار یا تو صدق کا پیکر ہوگا یا جھوٹا ترین انسان ہوگا اور کوئی جاہل ہی ایسا ہوگا، جو جھوٹے اور سچے کی تمیز نہ کر سکے۔ لوگوں کے احوال ان کی شخصیات کو کھول دیتے ہیں، سچے اور جھوٹے کی پہچان نبوت کے دعوی کے بغیر بھی بہت طریقوں سے ہو جاتی ہے، تو نبوت کے دعوی پر کیوں نہیں ہو سکتی؟“
(شرح العقيدة الطحاوية ص : 150)
مزید لکھتے ہیں :
لما ثبت أنه خاتم النبيين ، علم أن من ادعى بعده النبوة، فهو كاذب، ولا يقال : فلو جاء المدعي للنبوة بالمعجزات الخارقة والبراهين الصادقة كيف يقال بتكذيبه؟ لأنا نقول : هذا لا يتصور أن يوجد، وهو من باب فرض المحال؛ لأن الله تعالى لما أخبر أنه خاتم النبيين، فمن المحال أن يأتى مدع يدعي النبوة ولا يظهر إمارة كذبه فى دعواه … أن تلك الدعوى بسبب هوى النفس، لا عن دليل، فتكون باطلة .
”جب یہ ثابت ہو چکا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین ہیں، تو ظاہر ہے کہ آپ کے بعد نبوت کا دعوی کرنے والا جھوٹا ہوگا۔ یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اگر بعد میں آنے والا معجزات اور خارق عادت چیزیں دکھائے اور سچے براہین لے کر آئے، تو اس کی تکذیب کیسے کی جائے گی؟، ہم کہتے ہیں کہ ایسے کسی وجود کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ناممکن ہے، اللہ نے جب خبر دے دی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین ہیں، تو ایسا ناممکن ہے کہ کوئی نبوت کا مدعی آئے اور اس کے دعوؤں سے جھوٹ ظاہر نہ ہو۔ … یہ تمام دعوے خواہشات نفسانی کے سبب ہیں، کسی دلیل کی وجہ سے نہیں، لہذا یہ دعوے باطل ہیں۔“
(شرح العقيدة الطحاوية ص : 166)
حافظ عراقی رحمہ اللہ (806ھ) لکھتے ہیں :
أما ما ذهب إليه بعض من ينتسب إلى الصوفية من أن النبوة مكتسبة وأنه يجوز أن يتخذ الله بعد نبينا نبيا آخر فهذا قول منابد للشريعة ومخالف لإجماع الأمة، والأحاديث الصحيحة المشتهرة، وقائل هذا يبعد أن يعد من هذه الأمة وإنما هم زنادقة .
”بعض صوفیا کا کہنا کہ نبوت کسبی ہوتی ہے اور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی نبی کا ہونا ممکن ہے، تو یہ قول شریعت، اجماع اور مشہور احادیث کے مخالف ہے، ایسی بات کرنے والا امت محمدیہ کا فرد نہیں ہوسکتا، بلکہ زندیق ہوتا ہے۔“
(طرح التثريب : 112/2)
علامہ قلقشندی رحمہ اللہ (821ھ) لکھتے ہیں :
إنهم يقولون : إن النبوات غير متناهية وإنها مكتسبة ينالها العبد بالرياضات، وهاتان المقالتان من جملة ما كفروا به بتجويز النبوة بعد النبى صلى الله عليه وسلم الذى أخبر تعالى أنه خاتم النبيين ، وقولهم: إنها تنال بالكسب .
”لوگ کہتے ہیں کہ نبوت غیر متناہی ہے، یہ کسبی چیز ہے، جسے کوئی بھی شخص ریاضت کے ذریعے حاصل کر سکتا ہے، یہ لوگ کافر ہیں اور ان کی تکفیر دو وجہوں سے کی گئی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ نے خاتم النبیین فرمایا ہے اور یہ لوگ آپ کے بعد نبوت کے جواز کے قائل ہیں۔ یہ لوگ نبوت کو کسبی چیز سمجھتے ہیں۔“
(صبح الأعشى في صناعة الإنشاء : 306/13)
علامہ احمد قسطلانی رحمہ اللہ (923ھ) لکھتے ہیں :
من تشريف الله تعالى له صلى الله عليه وسلم ختم الأنبياء والمرسلين به، وإكمال الدين الحنيف له، وقد أخبر الله فى كتابه، ورسوله فى السنة المتواترة عنه أنه لا نبي بعده، ليعلموا أن كل من ادعى هذا المقام بعده؛ فهو كذاب، أفاك، دجال، ضال، مضل، ولو تحذق وتشعبد، وأتى بأنواع السحر والطلاسم والنيرنجيات، فكلها محال وضلالة عند أولي الألباب، ولا يقدح فى هذا نزول عيسى ابن مريم عليه السلام بعده، لأنه إذا نزل كان على دين نبينا صلى الله عليه وسلم ومنهاجه، مع أن المراد أنه آخر من نى، قال أبو حيان : ومن ذهب إلى أن النبوة مكتسبة لا تنقطع، أو إلى أن الولي أفضل من النبي؛ فهو زنديق يجب قتله .
”اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبیین بنایا، یہ اللہ کی طرف سے آپ کے لئے بڑا اعزاز ہے اور دین حنیف کی تکمیل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے متواتر احادیث میں بتلایا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں، مقصد ہمیں یہ سمجھانا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوت کا دعوی کرنے والا، جھوٹا، مفتری اور دجال ہے، وہ خود گمراہ ہے اور دوسروں کو گمراہ کرتا ہے۔ اب وہ ہزار شعبدہ بازیاں کرے، قسم ہا قسم کے جادو، طلسم اور جھاڑ پھونک کرے، اسے کذاب و دجال ہی سمجھا جائے گا۔ کیونکہ اہل عقل و خرد کے نزدیک محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوت کا وجود ناممکن ہے۔ ختم نبوت کا معنی یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے آخری انسان ہیں جن پر وحی نازل ہوئی۔ اور ہاں! سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے نزول سے ختم نبوت کے عقیدے پر زد نہیں آتی، کیوں کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دین اور منہج پر نازل ہوں گے۔ ابو حیان رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ جو شخص نبوت کو ایک کسبی امر قرار دے کر جاری سمجھتا ہے یا ولی کو نبی سے افضل سمجھتا ہے، وہ زندیق واجب القتل ہے، واللہ اعلم۔“ (المواهب اللدنية بالمنح المحمدية : 546/2)
علامہ ابن نجیم حنفی رحمہ اللہ (970ھ) لکھتے ہیں :
إذا لم يعرف أن محمدا صلى الله عليه وسلم آخر الأنبياء فليس بمسلم؛ لأنه من الضروريات .
”جو یہ نہیں جانتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں، وہ مسلمان نہیں ہے، کیوں کہ یہ بات ضروریات دین میں سے ہے۔“
(الأشباه والنظائر ص : 222)
علامہ ابن حجر ہیتمی رحمہ اللہ (974ھ) لکھتے ہیں :
من اعتقد وحيا من بعد محمد صلى الله عليه وسلم كان كافرا بإجماع المسلمين .
”جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد وحی کا اعتقاد رکھتا ہے، اس کے کافر ہونے پر مسلمانوں کا اجماع ہے۔“
(الفتاوى الفقهية الكبرى : 194/4)
علامہ شربینی رحمہ اللہ (977ھ) لکھتے ہیں :
أو نفى الرسل بأن قال : لم يرسلهم الله، أو نفى نبوة نبي، أو ادعى نبوة بعد نبينا صلى الله عليه وسلم أو صدق مدعيها أو قال : النبى صلى الله عليه وسلم أسود أو أمرد أو غير قرشي، أو قال : النبوة مكتسبة أو تنال رتبتها بصفاء القلوب أو أوحي إلى ولم يدع نبوة أو كذب رسولا أو نبيا أو سبه أو استخف به أو باسمه أو باسم الله .
”جو انبیا کا انکار کرے اور کہے کہ اللہ نے انہیں مبعوث نہیں کیا، یا کسی نبی کی نبوت کا انکار کرے، یا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوت کا دعوی کرے، یا مدعی نبوت کی تصدیق کرے یا کہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کالے یا بے ریش یا غیر قرشی ہیں، یا کہے کہ نبوت کسبی ہوتی ہے اور دل کی صفائی سے نبوت کا رتبہ پایا جاسکتا ہے یا وہ کہے کہ مجھے وحی کی جاتی ہے، لیکن نبوت کا دعوی نہ کرے۔ یا وہ کسی رسول و نبی کی تکذیب کرے، یا کسی نبی کو گالی دے، اس کی تنقیص شان کرے، یا اس کے نام کی یا اللہ کے نام کی تخفیف کرے، وہ کافر ہے۔“
(مغني المحتاج : 429/5)
علامہ رملی رحمہ اللہ (1004ھ) لکھتے ہیں :
تمني النبوة بعد وجود نبينا أى أو ادعاؤها فيما يظهر للقطع بكذبه بنص قوله تعالى : وَلٰـكِنۡ رَّسُوۡلَ اللّٰهِ وَخَاتَمَ النَّبِيّٖنَ
”ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوت کی تمنا یا نبوت کا دعوی قطعا جھوٹ ہے، اللہ کا فرمان ہے : آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول اور آخری نبی ہیں۔“
(نهاية المحتاج إلى شرح المنهاج : 425/7)
ملا علی قاری (1014ھ) لکھتے ہیں :
دعوى النبوة بعد نبينا كفر بالإجماع .
”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوت کا دعوی بالاجماع کفر ہے۔“
(شرح الفقه الأكبر، ص 380)
علامہ بہوتی رحمہ اللہ (1051ھ) لکھتے ہیں :
من ادعى النبوة أو صدق من ادعاها كفر، لأنه مكذب لله تعالى فى قوله : وَلٰـكِنۡ رَّسُوۡلَ اللّٰهِ وَخَاتَمَ النَّبِيّٖنَ ولحديث : لا نبي بعدي .
”جس نے نبوت کا دعوی کیا یا دعوی کرنے والے کی تصدیق کی، وہ کافر ہے، کیوں کہ اس نے فرمان باری تعالیٰ : وَلٰـكِنۡ رَّسُوۡلَ اللّٰهِ وَخَاتَمَ النَّبِيّٖنَ ”آپ اللہ کے رسول اور خاتم النبیین ہیں۔“ اور فرمان نبوی : ”میرے بعد کوئی نبی نہیں۔“ کی تکذیب کی ہے۔“
(شرح منتهى الإرادات : 394/3)
شیخی زادہ حنفی رحمہ اللہ (1078ھ) لکھتے ہیں :
في البزازية : يجب الإيمان بالأنبياء بعد معرفة معنى النبى وهو المخبر عن الله تعالى بأوامره ونواهيه وتصديقه بكل ما أخبر عن الله تعالى وأما الإيمان بسيدنا محمد عليه الصلاة والسلام فيجب بأنه رسولنا فى الحال وخاتم الأنبياء والرسل فإذا آمن بأنه رسول ولم يؤمن بأنه خاتم الأنبياء لا يكون مؤمنا .
”بزازیہ میں ہے کہ نبی کے معنی کی معرفت کے بعد انبیا پر ایمان لانا واجب ہے، نبی کی تعریف یہ ہے کہ وہ اللہ کے اوامر و نواہی کی خبر دیتا ہے، اس کی اللہ کے متعلق دی ہوئی خبروں پر ایمان لازم ہے، رہے ہمارے نبی سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم، تو اس بات پر ایمان لانا واجب ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اب ہمارے رسول اور خاتم الانبیاء والرسل ہیں، جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت پر تو ایمان لائے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت پر ایمان نہ لائے، وہ مومن نہیں ہے۔“
(مجمع الأنهر في شرح مجمع الأبحر : 691/1)
خادمی حنفی رحمہ اللہ ( 1156ھ) لکھتے ہیں :
يجب إكفار اليزيدية فرقة من الخوارج أصحاب يزيد بن أنيسة فى انتظار نبي من العجم ينسخ ملة محمد صلى الله تعالى عليه وسلم بكتاب ينزل من السماء جملة واحدة على دين الصابئة المذكورة فى القرآن وجه الكفر واضح إذ كونه خاتم النبيين وبقاء شريعته إلى يوم القيامة ثابت بأدلة قطعية بل من الضرورات الدينية .
”یزید بن انیسہ کے مقلدین، خوارج کے فرقہ یزیدیہ کی تکفیر لازم ہے، کیوں کہ وہ عجم کے ایک ایسے نبی کے انتظار میں ہیں، جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ملت کو منسوخ کر دے گا۔ آسمان سے اترنے والی کتاب قرآن مجید بیک جنبش اس گروہ کو کافر قرار دیتی ہے، کیوں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خاتم النبین ہونا اور آپ کی شریعت کا قیامت تک باقی رہنا قطعی دلائل سے ثابت ہے، بلکہ ضروریات دین میں سے ہے۔“
(بريقة محمودية : 272/1)
علامہ بعلی رحمہ اللہ (1192ھ) لکھتے ہیں :
متى ادعى النبوة أو صدق من ادعاها كفر، لأنه يكذب الله تعالى فى قوله: وَلكِن رَّسُولَ اللهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ ولحديث : لا نبي بعدي .
”جو شخص نبوت کا دعوی کرے یا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی مدعی نبوت کی تصدیق کرے، وہ کافر ہے، کیوں کہ وہ فرمان الہی : وَلكِن رَّسُولَ اللهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ آپ اللہ کے رسول اور خاتم النبین ہیں۔ اور فرمان نبوی : ”میرے بعد کوئی نبی نہیں“ کی تکذیب کا مرتکب ہے۔“
(کشف المخدرات : 777/2)
فتاوی عالمگیری میں لکھا ہے :
إذا لم يعرف الرجل أن محمدا صلى الله عليه وسلم آخر الأنبياء عليهم وعلى نبينا السلام فليس بمسلم … وكذلك لو قال : أنا رسول الله، أو قال بالفارسية من بيغمبرم يريد به من بيغام فى برم يكفر .
”جو یہ نہیں جانتا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں، وہ مسلمان نہیں ہے۔ اسی طرح اگر وہ کہے کہ میں رسول ہوں یا فارسی میں کہے کہ میں پیغمبر ہوں، کافر ہے۔“
(فتاوی عالمگیری : 263/2)
علامہ آلوسی حنفی رحمہ اللہ (1270ھ) لکھتے ہیں :
كونه صلى الله عليه وسلم خاتم النبيين مما نطق به الكتاب وصدعت به السنة وأجمعت عليه الأمة، فيكفر مدعي خلافه ويقتل إن أصر .
”آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا خاتم النبین ہونا ان عقائد میں سے ہے، جنہیں قرآن نے صراحت کے ساتھ بیان کیا ہے، سنت نے واشگاف کیا ہے اور امت نے اس پر اتفاق کیا ہے، لہذا اس کے خلاف دعوی کرنے والا کافر قرار دیا جائے گا اور اگر اس دعوے پر اصرار کرے تو اسے قتل کر دیا جائے گا۔“
(روح المعاني : 32/2239)
علامہ ابن باز رحمہ اللہ (1420ھ) فرماتے ہیں :
لما كان عليه الصلاة والسلام خاتم النبيين وكان رسولا عاما إلى جميع الثقلين اقتضت حكمة الله سبحانه أن تكون شريعته أوفى الشرائع وأكملها وأتمها انتطاما لمصالح العباد فى المعاش والمعاد، فهو عليه الصلاة والسلام خاتم الأنبياء والمرسلين، كما قال تعالى : مَا کَانَ مُحَمَّدٌ اَبَاۤ اَحَدٍ مِّنۡ رِّجَالِکُمۡ وَ لٰکِنۡ رَّسُوۡلَ اللّٰہِ وَ خَاتَمَ النَّبِیّٖنَ، وتواترت الأحاديث عن رسول الله عليه الصلاة والسلام بأنه خاتم النبيين ، وهذا أمر بحمد الله مجمع عليه ومعلوم بالضرورة من دين الإسلام، وقد أجمع المسلمون على أن من ادعى النبوة بعده فهو كافر كاذب يستتاب، فإن تاب وإلا قتل كافرا .
”چونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبین ہیں اور تمام جن وانس کی طرف رسول ہیں، اس لیے حکمت الہی کا تقاضا یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت انسانوں کی معاشی واقتصادی مصلحتوں کی تنظیم میں تمام شرائع سے کامل ترین ہو۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین ہیں، اللہ فرماتے ہیں : مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَاۤ اَحَدٍ مِّنۡ رِّجَالِكُمۡ وَ لٰكِنۡ رَّسُوۡلَ اللّٰهِ وَ خَاتَمَ النَّبِيّٖنَ محمد صلی اللہ علیہ وسلم مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں، بلکہ اللہ کے رسول اور خاتم النبیین ہیں۔ اسی طرح آپ کا خاتم النبیین ہونا، متواتر احادیث سے ثابت ہے، الحمد للہ یہ اجماعی مسئلہ ہے اور ضروریات دین میں سے ہے۔ مسلمانوں کا اجماع ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوت کا دعوی کرنے والا کافر اور جھوٹا ہے، اس سے توبہ کروائی جائے گی، توبہ کر لے تو ٹھیک ورنہ اس کافر کو قتل کر دیا جائے گا۔“
(مجموع فتاوی ابن باز : 222/2-223)
علامہ محمد بن صالح عثیمین رحمہ اللہ (1421ھ) فرماتے ہیں :
قوله : وإنه سيكون من أمتي كذابون ثلاثون، حصرهم النبى صلى الله عليه وسلم بعدد، وكلهم يزعم أنه نبي أوحي إليه، وهم كذابون، لأن النبى صلى الله عليه وسلم خاتم النبيين ولا نبي بعده، فمن زعم أنه نبي بعد الرسول صلى الله عليه وسلم؛ فهو كاذب كافر حلال الدم والمال، ومن صدقه فى ذلك؛ فهو كافر حلال الدم والمال، وليس من المسلمين ولا من أمة محمد صلى الله عليه وسلم، ومن زعم أنه أفضل من محمد، وأنه يتلقى من الله مباشرة ومحمد صلى الله عليه وسلم يتلقى منه بواسطة الملك؛ فهو كاذب كافر حلال الدم والمال .
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”عنقریب میری امت میں تیس جھوٹے آئیں گے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی تعداد بیان کی ہے، سب کا دعوی ہوگا کہ وہ نبی ہیں اور ان کی طرف وحی ہوتی ہے، حالاں کہ سب جھوٹے ہوں گے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبین ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد جو نبوت کا دعوی کرے، وہ کافر اور جھوٹا ہے، اس کا خون اور مال حلال ہے، نیز جس نے مدعی نبوت کی تصدیق کی وہ بھی کافر ہے، اس کا مال و جان بھی حلال ہے، ایسا شخص نہ مسلمان ہے اور نہ امت محمدیہ میں داخل ہے۔ جس نے دعوی کیا کہ وہ محمد کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے افضل ہے، وہ اللہ تعالیٰ سے براہ راست ملتا ہے، جب کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم فرشتے کے واسطے سے ملتے ہیں، وہ کافر ہے، اس کا مال و جان حلال ہے۔“
(مجموع ورسائل العثيمين : 478/9)
علامہ محمد امین ہروی حفظہ اللہ لکھتے ہیں :
هذا من أوضح الأدلة على أن النبوة قد انتهت بعد النبى صلى الله عليه وسلم، ونفي جنس النبوة بعده صلى الله عليه وسلم يعم كل نوع من أنواع النبوة سواء كانت بشريعة جديدة أو لا، وقد أجمعت الأمة على أن من ادعى النبوة بعده صلى الله عليه وسلم، فإنه كافر كذاب .
”یہ حدیث اس بات پر واضح دلالت کر رہی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوت کا سلسلہ اور نبوت کی جنس ختم ہے۔ یہ نبوت کی تمام انواع کو شامل ہے، بھلے نئی شریعت ہو یا نہ ہو۔ امت کا اس پر اجماع ہے کہ جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوت کا دعوی کرے، وہ کذاب اور کافر ہے۔“
(الكوكب الوهاج شرح صحیح مسلم : 71/20)