مضمون کے اہم نکات
مشرکین مکہ اور آج کے کچھ کلمہ گو
یاد رہے کہ جو صفات یہود و نصاریٰ ومشرکین مکہ وغیرہ کے لیے بری تھیں وہی صفات اسلام کے دعویداروں میں اگر آجائیں تو بھی بری ہوں گی۔ قرآن و حدیث میں ان قوموں کے حالات سے آگاہ کرنے کا مقصد دراصل ان کی بری صفات و عادات سے بچنا ہوتا ہے کیونکہ قرآن کے نزول کا مقصد صرف ان امتوں اور اشخاص کی تاریخ بیان کرنا ہی نہیں ہوتا بلکہ تاریخ کے واقعات سے عبرت و نصیحت حاصل کرنا مقصود ہوتا ہے۔ یاد رہے کہ وہ لا الہ الا اللہ کا مطلب سمجھتے تھے، اس لیے انھوں نے کلمہ نہ پڑھا یعنی وہ غیراللہ کی عبادت کو چھوڑنے کو تیار نہ تھے اور آج کل کچھ کلمہ گو حضرات کلمہ تو پڑھ چکے لیکن اس کا مطلب نہ سمجھ سکے یعنی کلمہ پڑھنے کے باوجود بھی غیر اللہ کی عبادت کر رہے ہیں۔
اس باب میں قرآن کی روشنی میں مشرکین مکہ کے متعلق بحث کریں گے، تاکہ ہمیں ان کے عقائد کا پتا چل سکے اور ان کے غلط عقائد سے ہم پرہیز کر سکیں۔ یاد رہے رسول اللہ ﷺ نے ان کے غلط عقائد یعنی شرک کی وجہ سے ان سے جنگیں لڑیں، حالانکہ وہ اللہ تعالیٰ کو مانتے تھے۔ سب سے پہلی بات یہ ہے کہ مشرکین مکہ کا ذکر اور جگہوں کے علاوہ قرآن میں مندرجہ ذیل مقامات پر آیا ہے۔ سورۃ الانعام اور سورۃ یونس (مکمل)، الانفال (32تا35)، النحل(20، 21، 35، 55)، سورۃ بنی اسرائیل (17)، العنکبوت(61، 63، 65، 66)، المومنون(84تا89)، لقمان(25، 31، 32)، الزمر(38) اور الزخرف(9تا15، 87)، ساری مکی سورتیں۔
قرآن مجید میں جہاں جہاں مشرکین مکہ کا ذکر ہے وہاں وہاں ان کے عقائد بیان کیے گئے ہیں۔ یہاں ہم چند کا ذکر کریں گے:
[1] پہلی بات:
مشرکین مکہ اللہ کو مانتے تھے، اپنے طریقے سے نماز پڑھتے تھے، حج کرتے تھے۔ لیکن یہ سب کچھ اللہ کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق نہیں تھا ،بلکہ ان میں کافی بگاڑ پیدا ہو چکا تھا۔ مثلاً: (الأنعام:130تا140)،(یونس:15تا23، 31، 32)،(الأنفال:32تا35) اور کہتے تھے کہ ہم دین ابراہیمی پر ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا تم مشرک ہو، تمہارا دین ابراہیمی سے کوئی تعلق نہیں، قرآن اس بات پر گواہ ہے۔
(دیکھیے تفسیر مراد آبادی الأنعام: 161)،(النحل:120تا123)
[2] دوسری بات:
وہ اپنے کچھ مویشی اور کھیتی اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کرنے کے لیے مخصوص کر دیتے اور کچھ مویشی اور کھیتی غیراللہ کے لیے مخصوص کر دیتے تھے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو مشرک فرمایا۔ سورۃ الأنعام:(1تا140) میں مشرکین مکہ کے جاہلانہ نظریات کا ذکر ہے۔
[3]تیسری بات:
جب یہ لوگ زمین پر یا سمندر میں کسی مصیبت میں پھنس جاتے تھے تو غیراللہ کو چھوڑ کر صرف اللہ کو پکارتے تھے، جیسا کہ قرآن میں بار بار اس کا ذکر ہے۔ (یونس:18تا23)،(بنی اسرائیل:67تا69)،(العنکبوت:61تا66)،(الروم:33، 34)،(الأنعام:40، 41، 63 تا66)،(الزمر:1تا15، 49)،(النحل:53تا55، 20، 21۔ 25تا32)
دیکھیے: ان تمام آیات کے لیے( احمد رضا خان صاحب کا ترجمہ مع تفسیر مراد آبادی)۔
اور کمال کی بات یہ ہے کہ ان مقامات پر احمد رضا صاحب نے بھی پکارنا ہی ترجمہ کیا ہے سوائے ایک جگہ کے۔ اس بحث کا حاصل یہ ہے کہ آج کل کے کچھ کلمہ گو صاحبان کا طرز عمل مشرکین مکہ سے زیادہ خطرناک ہے وہ اس طرح:
[1] مشرکین مکہ سکھ کے وقت غیراللہ کو پکارتے تھے۔ اور مصیبت کے وقت صرف خالص اللہ تعالیٰ کو پکارتے تھے، باقی سب کو چھوڑ دیتے تھے۔ (حوالہ جات کے لیے دیکھیے:(یونس:18تا23)،(العنکبوت:61تا66)،(الروم:33، 34)،(الأنعام:40، 41، 63، 64)،(لقمان:25تا32) (ترجمہ احمد رضا خان صاحب و تفسیر مراد آبادی) لیکن آج کل کے کچھ کلمہ گو صاحبان مصیبت کے وقت بھی غیر اللہ کو پکارتے نظر آتے ہیں یعنی ان اہل عرب سے چند قدم آگے جا چکے ہیں۔
[2] آج کل یہ لوگ بھی غیراللہ کے نام پر مال خرچ کرتے نظر آتے ہیں۔
[3] اہل عرب غیر اللہ کو اللہ کے ہاں سفارشی کے طور پر پکارتے اور ان کی عبادت کرتے تھے (الزمر:3)،(یونس:18) لیکن آج کل یہ لوگ براہ راست اپنے شریکوں کو داتا، گنج بخش،مشکل کشا، حاجت روا اور غوث اعظم سمجھ کر پکارتے ہیں یعنی اہل عرب سے آگے جا چکے ہیں۔
[4] چوتھی بات:
یہاں ہم مشرکین مکہ کا حج کے وقت کے تلبیہ کا ذکر کرنا چاہتے ہیں، تاکہ ان کا غلط عقیدہ صاف ظاہر ہو جائے۔ عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ مشرکین مکہ کہتے تھے: [لبيك لا شريك لك] (ہم حاضر ہیں، تیرا کوئی شریک نہیں) تو رسول اللہ ﷺ فرماتے تھے: کہ خرابی ہو تمہاری، یہیں تک رہنے دو، یہیں تک رہنے دو (یعنی آگے نہ کہو) اور وہ اس کے آگے کہتے تھے کہ مگر وہ تیرا شریک ہے کہ یا اللہ! تو اس کا مالک ہے اور وہ کسی شے کا مالک نہیں۔ غرض یہی کہتے جاتے تھے اور بیت اللہ کا طواف کرتے جاتے تھے۔ [مسلم، کتاب الحج، باب التلبية و صفتها ووقتها: 22/1185]
اس سے یہ معلوم ہوا کہ مشرکین مکہ بھی اپنے شریکوں کو اللہ کے برابر نہیں جانتے تھے بلکہ اللہ تعالیٰ کو ہر شے کا مالک جانتے تھے اور ان کو کسی شے کا مالک نہ جانتے تھے، تاہم ان کو پکارنا اور اپنا سفارشی اور وکیل قرار دینا اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ان کے مشرک ہونے کو اور ہمیشہ ہمیشہ کے لیے دوزخ میں جھونکے جانے کو کافی تھا، جیسا کہ آج کل لوگ قبروں پر جا کر کہتے ہیں۔
اب ہم مفتی احمد یار خان مشہور حنفی بریلوی عالم کا ترجمہ مشکوٰۃ مع شرح کی تیسری جلد سے کچھ اقتباسات نقل کرنا چاہتے ہیں، تاکہ ان لوگوں کی توحید کے معیار کا اندازہ لگایا جا سکے۔
[1] فرمایا: رسول اللہ ﷺ نے کہ مچھلی والے پیغمبر کی دعا جب انھوں نے مچھلی کے پیٹ میں اپنے رب سے کی، یہ ہے:تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو پاک ہے، میں ظالموں میں سے ہوں۔وئی مسلمان آدمی حاجت میں یہ دعا مانگے گا مگر قبول ہوگی۔
[ترمذی، کتاب الدعوات، باب في دعوة ذی النون: 3505]
اپنی تفسیر میں احمد یار فرماتے ہیں: کہ علماء فرماتے ہیں کہ اس مچھلی کا پیٹ عرشِ عظیم سے افضل ہے کہ ایک پیغمبر کا کچھ دن تجلی گاہ رہا، جب مچھلی کا پیٹ عرشِ عظیم سے افضل ہو گیا تو آمنہ خاتون کا شکم پاک جس میں سید الانبیاء نو ماہ تک جلوہ افروز رہے وہ تو عرش سے کہیں افضل ہے۔
(مشکوٰۃ:3/334 از احمد یار گجراتی)
آپ خود غور فرمائیں کہ غلو کی یہ انتہا ہے یا نہیں کہ اللہ تعالیٰ تو عرش پر ہے جیسا کہ قرآن میں بار بار مذکور ہے اور ان لوگوں نے رسول اللہ ﷺ کی والدہ کے پیٹ کو اللہ کے عرشِ عظیم سے بھی کہیں افضل قرار دے دیا ہے تو پھر شرک کس چیز کا نام ہے؟
ب: اسی کتاب کے صفحہ (301) پر ایک حدیث بیان کر کے لکھا گیا ہے کہ اس حدیث کی روشنی میں سب حاجتیں اپنے رب سے مانگو حتیٰ کہ جوتی کا تسمہ اور نمک بھی اور اسی کتاب کے صفحہ (142) پر لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے مال، اعمال، کمال، رب کی رضا و جنت، دوزخ سے پناہ، ایمان پر خاتمہ سب کچھ مانگا جاتا ہے۔ تو پھر دینے والے دو ہو گئے تو توحید کدھر گئی۔
قرآن و حدیث میں ہے کہ دعا عبادت ہے اور غیراللہ کی عبادت شرک ہے: [الدعاء هو العبادة] یعنی :دعا عبادت ہے۔
[ترمذی، کتاب الدعوات، باب منه: 3372، 2969، 3247]،[ أبو داؤد، کتاب الوتر، باب الدعاء: 1479]،[دیکھیے احمد رضا خان صاحب کا ترجمہ مع تفسیر سورۃ المومن آیت (60) کے تحت]
حیات النبی ﷺ:
[1] کچھ کلمہ گو بھائیوں کا عقیدہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ حاضر و ناظر ہیں حالانکہ قرآن مجید میں جگہ جگہ یہ فرمایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ عرش پر ہے لیکن اپنے علم کی بنا پر سب کچھ دیکھ رہا ہے، سن رہا ہے یعنی حاضر و ناظر ہے تو رسول اللہ ﷺ کو حاضر و ناظر جاننا گویا ان کو اللہ تعالیٰ کے برابر کرنا ہے اور اللہ تعالیٰ نے غیراللہ کو اللہ کے برابر قرار دینے کو کفر و شرک قرار دیا ہے اور فرمایا: ہے کہ اللہ تعالیٰ کے برابر کوئی نہیں۔ (البقرة:22،165)،(الأنعام:1، 150)،(ابراہیم:30)،(الشعراء:98)،(سباء:33)،(مریم:65)،(الزمر:8)،(حم السجدة:9) اس سارے معاملے کا ذکر توحید فی العلم اور شرک فی العلم کی بحث میں تفصیل سے آ چکا ہے، وہاں ملاحظہ فرمائیں۔
[2] کچھ کلمہ گو بھائیوں کا عقیدہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ ہر جگہ حاضر و ناظر تو نہیں البتہ اپنے روضہ اطہر میں جسم اور جان سے زندہ ہیں۔ اور اگر کوئی آپ ﷺ کے روضہ اطہر کے پاس درود شریف پڑھے یا کوئی عرض کرے تو آپ ﷺ سنتے ہیں۔ اس عقیدے کا ابطال بھی توحید فی العلم اور شرک فی العلم میں آ چکا ہے۔
[3] قرآن و حدیث میں آپ ﷺ کے فوت ہونے کا ذکر موجود ہے۔ صحیح بخاری (کتاب الجنائز:1241، 1242) میں آپ ﷺ کے بیمار ہونے اور فوت ہونے اور دفن ہونے کاتفصیل سے ذکر موجود ہے اور یہ بھی لکھا ہے کہ جب آپﷺ فوت ہو گئے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جو کہے گا کہ رسول اللہﷺ فوت ہو گئے تو میں اس کا سر تلوار سے قلم کر دوں گا۔ بعد میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے اس اجتماع میں تشریف لائے اور وعظ فرمایا اور قرآنی آیات کا حوالہ دیا اور فرمایا: کہ اللہ تعالیٰ رسول اللہ ﷺ کو ایک موت کا مزہ چکھا چکا، دوسری موت کا مزہ آپ نہ چکھیں گے اور فرمایا: آپ ﷺ فوت ہو چکے ہیں اور سب صحابہ نے اس بات سے اتفاق کیا کہ رسول اللہ ﷺ فوت ہو چکے ہیں۔ اور خلفائے راشدین کو بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا لیکن کسی خلیفہ راشد نے مصیبت کے وقت رسول اللہ ﷺ کے روضہ اطہر پر جا کر آپ ﷺ سے رابطہ نہیں کیا۔ یہ ساری باتیں اس کتاب میں مذکور ہو چکی ہیں اور یہ بھی بیان ہو چکا کہ یہ حدیث کہ اگر رسول اللہ ﷺ کے روضہ اطہر کے قریب درود شریف پڑھا جائے تو آپ ﷺ سنتے ہیں، پہلے اس کتاب میں بیان ہو چکا ہے کہ یہ موضوع حدیث ہے یعنی من گھڑت ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ آپ ﷺ کا جسم اطہر تو آپ ﷺ کی مدینہ منورہ والی قبر مبارک میں ہے اور آپ ﷺ کی روح مبارک جنت کے اعلیٰ ترین مقام پر عرش کے نیچے ہے اور آپ ﷺ نے روح مبارک کے قبض ہونے سے چند لمحے پہلے دعا مانگی تھی:[اللٰهم بالرفیق الأعلٰی]کہ یااللہ! مجھے اعلیٰ رفیقوں یعنی انبیاء اور فرشتوں کے پاس پہنچا دے اور اس کتاب میں صحیح بخاری کی روایت سے یہ بھی ثابت کیا جا چکا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو اس وقت معلوم نہیں کہ ان کی امت کیا کر رہی ہے۔ [بخاری، کتاب الرقاق، باب في الحوض: 6586]

