کیا نبوت کسبی ہے؟ صوفیا، فلاسفہ اور ائمہ کے اقوال کا تحقیقی جائزہ

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ غلام مصطفٰی ظہیر امن پوری کی کتاب ختم نبوت سے ماخوذ ہے۔

بعض صوفیا اور فلاسفہ کا مذہب :

ابن عربی رحمہ اللہ (638ھ) نے لکھا ہے :
يتضمن هذا الباب المسائل التى لا يعلمها إلا الأكابر من عباد الله الذين هم فى زمانهم بمنزلة الأنبياء فى زمان ثبوت النبوة، وهى النبوة العامة فإن النبوة التى انقطعت بوجود رسول الله صلى الله عليه وسلم إنما هي نبوة التشريع لا مقامها فلا شرع يكون ناسخا لشرعه صلى الله عليه وسلم، ولا يزيد فى حكمه شرعا آخر، وهذا معنى قوله صلى الله عليه وسلم : إن الرسالة والنبوة انقطعت، فلا رسول بعدي ولا نبي، أى لا نبي بعدي يكون على شرع يكون مخالفا لشرعي، بل إذا كان، يكون تحت حكم شريعتي فهذا هو الذى انقطع وسد بابه، لا مقام النبوة .
”اس باب میں ایسے مسائل ہیں، جن کا علم سوائے اللہ والوں کے کسی کو نہیں، اللہ والے ہمارے زمانے میں انبیاء کی طرح ہیں اور ان کی نبوت عامہ ہے۔ جو نبوت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد منقطع ہوئی ہے، وہ تشریعی نبوت ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کو منسوخ کرنے والی کوئی شریعت نہیں آئے گی اور آپ کی شریعت کے کسی حکم میں اضافہ نہیں کرے گی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں۔“
اس کا معنی یہ ہے کہ میرے بعد کوئی ایسا نبی نہیں آئے گا، جو میری شریعت کے خلاف کوئی شریعت لائے۔ بلکہ جب کوئی نبی آئے گا، میری شریعت کا تابع ہو کر آئے گا۔ یہ نبوت منقطع ہوئی ہے، مطلقاً مقامِ نبوت کا انقطاع نہیں ہوا۔“
(الفتوحات المكية : 3/2)
ابن عربی ایک ملحد و بے دین صوفی ہے، قرآن کریم، نصوصِ سنت اور اجماعِ امتِ محمدیہ کا مخالف ہے، قرآن کریم میں سیدنا موسیٰ علیہ السلام کا قول نقل ہوا ہے :
فَوَهَبَ لِيْ رَبِّيْ حُكْمًا
”اللہ نے مجھے علم و حکمت (نبوت) عطا کی۔“
(سورة الشعراء : 21)
اس آیت میں واضح کر دیا گیا ہے کہ نبوت اور علمِ نبوت وہبی ہوتا ہے، کسبی نہیں ہوتا، کسبی نبوت کا اسلام میں وجود تو کجا تصور تک نہیں ہے، بلکہ پہلی شریعتوں میں بھی اس کا وجود نہیں ہے۔
علامہ زرکشی رحمہ اللہ (794ھ) لکھتے ہیں :
لقوله تعالى : وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ ، وفي الصحيحين قوله صلى الله عليه وسلم : لا نبي بعدي، والإجماع على ذلك، ولم يخالف منه إلا فرقة من الفلاسفة زعموا أن النبوة مكتسبة، وفي هذا القول من الشناعة والخروج من الملة ما يكفر قائله .
”فرمان باری تعالیٰ : وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ اور صحیح بخاری و صحیح مسلم کی حدیث : ”میرے بعد کوئی نبی نہیں“ اور اجماعِ امت اسی پر دلالت کناں ہے۔ اس پر کوئی دوسری رائے نہیں، فلاسفہ کا ایک گروہ کہتا ہے کہ نبوت کسبی ہوتی ہے، ان کی یہ بات بدبختی اور ملتِ محمدیہ سے خروج یعنی کفر پر جا ٹھہرتی ہے۔“
(تشنيف المسامع بجمع الجوامع : 764/4)

امام ابن حبان رحمہ اللہ اور عقیدہ ختم نبوت :

محمد بن محمد بن صالح ہروی کا کہنا ہے :
أنكروا على أبى حاتم ابن حبان قوله : النبوة العلم والعمل، فحكموا عليه بالزندقة، وهجر، وكتب فيه إلى الخليفة فكتب بقتله وسمعت غيره يقول : لذلك خرج إلى سمرقند .
”لوگوں نے امام ابن حبان رحمہ اللہ پر زندیقیت کا فتویٰ لگایا تھا اور ان سے بائیکاٹ کر دیا تھا، ان کے بقول ابن حبان رحمہ اللہ کہتے تھے کہ نبوت علم اور عمل کا نام ہے، خلیفہ کو ان کا یہ فتویٰ بتایا گیا، تو اس نے ابن حبان رحمہ اللہ کو قتل کرنے کا فیصلہ کیا، بعض لوگ کہتے ہیں کہ اسی فتویٰ کی وجہ سے انہیں سمرقند جانا پڑا۔“
(تاريخ دمشق لابن عساكر : 253/52)
یہ جھوٹی داستان ہے۔
عبد الصمد بن محمد بن محمد بن صالح اور اس کے باپ کے حالاتِ زندگی نہیں مل سکے۔
حافظ ابو زرعہ، ابن العراقی رحمہ اللہ (826ھ) لکھتے ہیں :
فرقة من الفلاسفة قالوا : إن النبوة مكتسبة . وفي ذم الكلام للهروي : أنكروا على ابن حبان قوله : النبوة العلم والعمل، وحكموا عليه بالزندقة، وهجر، وكتب فيه إلى الخليفة، فأخرج إلى سمرقند . قلت : وما أظن ابن حبان يقول : إن من حصل له العلم والعمل صار نبيا، ولٰكن العلم والعمل آلة للنبوة، ثم قد يؤتي الله العالم العامل النبوة وقد لا يؤتيه الله إياها : اللَّهُ أَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَهُ ، وكان هٰذا قبل نبينا عليه الصلاة والسلام، أما الآن فقد علم بالدليل القطعي انتفاء ذٰلك، والله أعلم . وأما كونه عليه الصلاة والسلام مبعوثا إلى الخلق أجمعين، فالمراد المكلف منهم، وهٰذا يتناول الإنس والجن والملائكة، فأما الأولان فبالإجماع .
”فلسفیوں کا ایک گروہ نبوت کو کسبی قرار دیتا ہے۔ ہروی کی کتاب ”ذم الکلام“ میں لکھا ہے کہ لوگوں نے امام ابن حبان رحمہ اللہ پر زندیقیت کا فتویٰ لگایا تھا اور ان کا بائیکاٹ کر دیا تھا، ان کے بقول ابن حبان رحمہ اللہ کہتے تھے کہ نبوت علم اور عمل کا نام ہے، خلیفہ کو ان کا یہ فتویٰ بتایا گیا، تو انہیں سمرقند کی طرف جلا وطن کر دیا گیا۔ میں نہیں مانتا کہ ابن حبان رحمہ اللہ نے یہ بات کہی ہوگی کہ جس کو علم اور عمل حاصل ہو جائے، وہ نبی بن سکتا ہے، علم اور عمل تو نبوت کا آلہ ہیں، اللہ کبھی عالم و عامل کو نبوت عطا کر دیتے ہیں اور کبھی نہیں کرتے۔ اللَّهُ أَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَهُ اللہ زیادہ جانتا ہے کہ اس نے کسے رسول بنانا ہے۔ اور نبوت کا عطا کیا جانا ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کی بات ہے۔ اب تو دلیلِ قطعی سے معلوم ہو چکا کہ نبوت منقطع ہے۔ واللہ اعلم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام مخلوق کی طرف مبعوث کیا گیا ہے، مطلب یہ کہ جو شریعت کی مکلف مخلوقات ہیں، جن، انسان اور فرشتے۔ انسانوں اور جنوں کا مکلف ہونا تو اتفاقی مسئلہ ہے۔“
(الغيث الهامع شرح جمع الجوامع : 766،765)
حافظ ذہبی رحمہ اللہ (748ھ) لکھتے ہیں :
قلت : ولقوله هذا محمل سائخ إن كان عناه، أى عماد النبوة العلم والعمل، لأن الله لم يؤت النبوة والوحي إلا من اتصف بهذين النعتين، وذلك لأن النبى صلى الله عليه وسلم يصير بالوحي عالما، ويلزم من وجود العلم الإلهي العمل الصالح، فصدق بهذا الاعتبار قوله : النبوة العلم اللدني والعمل المقرب إلى الله، فالنبوة إذا تفسر بوجود هذين الوصفين الكاملين، ولا سبيل إلى تحصيل هذين الوصفين بكمالهما إلا بالوحي الإلهي ، وهو علم يقيني ما فيه ظن، وعلم غير الأنبياء منه يقيني وأكثره ظني ثم النبوة ملازمة للعصمة ولا عصمة لغيرهم، ولو بلغ فى العلم والعمل ما بلغ والخبر عن الشيء يصدق ببعض أركانه وأهم مقاصده، غير أنا لا نسوع لأحد إطلاق هذا إلا بقرينة، كقوله عليه الصلاة والسلام : الحج عرفة، وإن كان عنى الحصر ، أى ليس شيء إلا العلم والعمل ، فهذه زندقة وفلسفة .
”ان کی اس بات میں ایک جائز احتمال موجود ہے، اگر انہوں نے وہ مراد لیا ہو تو درست ہے، مطلب یہ کہ علم اور عمل نبوت کے ستون ہیں۔ اللہ جسے نبوت دیتا ہے، اسے علم و عمل بھی دیتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وحی کے ساتھ عالم ہو گئے تھے اور علم الہی کے وجود کا لازمہ عمل صالح ہے۔ اس معنی کے اعتبار سے امام ابن حبان رحمہ اللہ کی یہ بات سچ ہوگی کہ نبوت علم لدنی اور قرب الہی کا ذریعہ بننے والے عمل کا نام ہے۔ نبوت ان دو اوصاف کے کامل ہونے کا نام ہے اور ان دونوں اوصاف کا کمال صرف وحی الہی سے ملتا ہے۔ وحی علم یقینی ہے، ظنی نہیں اور غیر نبی کا علم بعض دفعہ یقینی بھی ہوتا ہے، لیکن اکثر ظنی ہوتا ہے۔ پھر نبوت کو عصمت لازم ہے، غیر نبی معصوم نہیں ہوتا، بھلے وہ بہت سارا علم حاصل کر لے۔ بسا اوقات کسی چیز کی خبر کا اطلاق اس کے بعض ارکان اور اہم مقاصد پر بھی ہوتا ہے، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے : ”حج (وقوف) عرفہ کا نام ہے۔“ امام ابن حبان رحمہ اللہ نے اگر حصر مراد لیا ہے، یعنی نبوت صرف علم وعمل سے حاصل ہوتی ہے، تو یقینا یہ زندیقیت اور فلسفہ ہے۔“
(میزان الاعتدال : 508/3)
مزید لکھتے ہیں :
قلت : هذه حكاية غريبة، وابن حبان فمن كبار الأئمة، ولسنا ندعي فيه العصمة من الخطا لكن هذه الكلمة التى أطلقها، قد يطلقها المسلم، ويطلقها الزنديق الفيلسوف، فإطلاق المسلم لها لا ينبغي لكن يعتذر عنه، فنقول : لم يرد حصر المبتدء فى الخبر، ونظير ذلك قوله عليه الصلاة والسلام : الحج عرفة، ومعلوم أن الحاج لا يصير بمجرد الوقوف بعرفة حاجا، بل بقي عليه فروض وواجبات، وإنما ذكر مهم الحج وكذا هذا ذكر مهم النبوة، إذ من أكمل صفات النبى كمال العلم والعمل، فلا يكون أحد نبيا إلا بوجودهما، وليس كل من برز فيهما نبيا، لأن النبوة موهبة من الحق تعالى، لا حيلة للعبد فى اكتسابها ، بل بها يتولد العلم اللدني والعمل الصالح وأما الفيلسوف فيقول : النبوة مكتسبة ينتجها العلم والعمل، فهذا كفر، ولا يريده أبو حاتم أصلا، وحاشاه .
”یہ عجیب و غریب حکایت ہے، ابن حبان رحمہ اللہ ایک بڑے امام ہیں، ہم ان کی عصمت کا دعوی نہیں کرتے لیکن یہ جملہ ایک مسلمان بھی استعمال کر لیتا ہے اور ایک فلسفی اور زندیق بھی۔ مسلمان کے لئے بھی یہ کلمہ استعمال کرنا درست نہیں، اگر کوئی کرے تو اس کا معنی سمجھنے کی ضرورت ہے۔ مبتدا کا معنی صرف خبر کے لفظوں پر منحصر نہیں ہوتا ، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”حج (وقوف) عرفہ کا نام ہے۔“ لیکن ہم جانتے ہیں کہ صرف عرفہ میں وقوف کرنے سے حج ادا نہیں ہوتا، بلکہ دوسرے فرائض وواجبات بھی موجود ہیں، یہاں حج کے اہم رکن کا ذکر ہے۔ امام ابن حبان رحمہ اللہ نے اسی طرح نبوت کے اہم جزو کا ذکر کیا ہے، کیوں کہ یہ نبوت کے اہم اجزا ہیں، ایسا نہیں کہ جس کے پاس علم و عمل ہو، وہ نبی بن جائے ، نبوت تو وہبی ہے، اللہ جسے چاہے دے۔ اس کے حاصل کرنے کا کوئی طریقہ نہیں، ہاں نبوت ملنے کے ساتھ علم لدنی اور عمل صالح مل جاتا ہے۔ جبکہ فلسفیوں کا کہنا ہے کہ نبوت کسبی ہے، علم اور عمل سے مل جاتی ہے۔ یہ کفر ہے، امام ابن حبان رحمہ اللہ نے یہ معنی مراد نہیں لیا، وحاشاہ۔“
(سير أعلام النبلاء : 96/16)
حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ (774ھ) لکھتے ہیں :
قد حاول بعضهم الكلام فيه من جهة معتقده، ونسبه إلى القول بأن النبوة مكتسبة، وهى نزعة فلسفية، والله أعلم بصحتها عنه .
بعض لوگوں نے ان کے عقیدہ پر کلام کیا ہے اور ان کی طرف منسوب کیا ہے کہ وہ نبوت کو کسبی سمجھتے تھے، یہ فلسفیانہ جھگڑا ہے، اللہ جانتا ہے کہ امام ابن حبان رحمہ اللہ سے یہ بات ثابت ہے یا نہیں؟
(البداية والنهاية : 281/15)

علامہ غزالی رحمہ اللہ اور ختم نبوت :

علامہ عبد الرؤف مناوی رحمہ اللہ (1031ھ) فرماتے ہیں :
هذه قاعدة لا يحتاج فى إثباتها إلى شيء لانعقاد الإجماع عليها، ولا التفات إلى ما زعمه بعض فرق الضلال؛ من أن النبوة باقية إلى يوم القيامة، وبنوا ذلك على قاعدة الأوائل أن النبوة مكتسبة، ورمي بذلك جمع من عظماء الصوفية كالإمام الغزالي، افتراه عليه الحسدة، وقد تبرأ رحمه الله من القول به، وتنصل منه فى كتبه، وأما عيسى عليه الصلاة والسلام، فقد أجمعوا على نزوله نبيا لكنه بشريعة نبينا صلى الله تعالى عليه وآله وسلم .
”یہ ایسا قاعدہ ہے، جس کے اثبات کے لیے کسی دلیل کی ضرورت نہیں، کیونکہ اس پر اجماع ہو چکا ہے۔ بعض گمراہ فرقوں نے جو یہ دعویٰ کیا ہے کہ نبوت قیامت تک باقی رہے گی، ناقابل التفات ہے۔ ان کی بنیاد پہلے فلسفیوں کے اس قول پر ہے کہ نبوت کسبی چیز ہے۔ کبار صوفیوں کے ایک گروہ پر اس نظریے کو اپنانے کا الزام لگا تھا۔ امام غزالی رحمہ اللہ بھی انہی میں سے ہیں، ان کے حاسدوں نے ان پر یہ جھوٹا الزام لگایا تھا لیکن انہوں نے اس سے براءت کا اظہار کر دیا اور اپنی کتابوں میں اس سے بیزاری ظاہر کی۔ رہے عیسی علیہ السلام، تو امت کا اس پر اجماع ہے کہ وہ بوقت نزول نبی ہی ہوں گے، لیکن ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کے متبع ہوں گے۔
(فيض القدير : 341/2 ، التيسير بشرح الجامع الصغير : 236/1)
علامہ قرطبی رحمہ اللہ (671ھ) لکھتے ہیں :
ما ذكره الغزالي فى هذه الآية، وهذا المعنى فى كتابه الذى سماه بالاقتصاد، إلحاد عندي، وتطرق خبيث إلى تشويش عقيدة المسلمين فى ختم محمد صلى الله عليه وسلم النبوة، فالحذر الحذر منه والله الهادي برحمته .
”علامہ غزالی رحمہ اللہ نے اس آیت کے تحت اپنی اقتصاد نامی کتاب میں جو کہا ہے، میں اسے الحاد سمجھتا ہوں ، یہ عقیدہ ختم نبوت میں شک کے بیج بونے کی سازش ہے، اس سے بچ جائیں، اللہ آپ کو اپنی رحمت میں لپیٹ لے۔“
(تفسير القرطبي : 197/14)
ابوحیان اندلسی رحمہ اللہ (745ھ) لکھتے ہیں :
من ذهب إلى أن النبوة مكتسبة لا تنقطع، أو إلى أن الولي أفضل من النبي، فهو زنديق يجب قتله، وقد ادعى النبوة ناس فقتلهم المسلمون على ذلك، وكان فى عصرنا شخص من الفقراء ادعى النبوة بمدينة مالقة، فقتله السلطان بن الأحمر، ملك الأندلس بغرناطة، وصلب إلى أن تناثر لحمه .
”جو یہ کہتے ہیں کہ نبوت کسبی ہے، منقطع نہیں ہوتی، یا سمجھتے ہیں کہ ولی نبی سے افضل ہوتا ہے، وہ زندیق ہیں، انہیں قتل کرنا واجب ہے۔ جب بھی کسی نے نبوت کا دعوی کیا، مسلمانوں نے اسے قتل کر دیا۔ ہمارے زمانے میں مالقہ نامی شہر کے ایک فقیر نے نبوت کا دعوی کیا ، تو اندلس کے بادشاہ سلطان بن احمر نے اسے غرناطہ میں قتل کروا دیا اور اسے پھانسی دے دی، یہاں تک کہ اس کا گوشت بکھر گیا۔“
(البحر المحيط : 485/8)

ملا علی قاری رحمہ اللہ اور عقیدہ ختم نبوت :

علامہ ابن بطال رحمہ اللہ (449ھ) لکھتے ہیں :
إن العرب تقول فى لو: إنها تجيء لامتناع الشيء لامتناع غيره، كقوله صلى الله عليه وسلم : لو كان بعدي نبي لكان عمر، ولا سبيل أن يكون بعده نبي كما لا سبيل أن يكون عمر نبيا .
”لغت عرب کے مطابق لفظ لو یہ ظاہر کرتا ہے کہ دو چیزیں ایک دوسرے کا لازمہ ہیں، یعنی اگر ایک چیز نہ ہوگی، تو دوسری بھی نہ ہوگی۔ جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے : میرے بعد کوئی نبی ہوتا، تو عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ہوتے۔ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ہی نبی نہیں، تو کوئی دوسرا بھی نبی نہیں ہوسکتا۔“
(شرح صحيح البخاري : 42/3)
یہ قضیہ سمجھ لینے کے بعد اب ملا علی قاری کی ایک عبارت کو سمجھنا آسان ہو جائے گا، ختم نبوت کے حوالے سے ملا علی قاری کا وہی موقف ہے، جو تمام امت کا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی کسی قسم کا نبی نہیں آسکتا، آپ کے بعد جو نبوت کا دعوی کرے گا، کافر و مرتد ہوگا، تاہم ان کی ایک عبارت سے بعض لوگوں نے ایسا معنی کشید کرنے کی کوشش کی ہے، جو ملا علی قاری کی مراد نہیں تھا۔
انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب ایک حدیث : لو عاش لكان نبيا ”ابراہیم رضی اللہ عنہ زندہ ہوتے تو نبی ہوتے۔“ پر بحث کی ہے۔
وہ اس حدیث پر علما مثلا حافظ ابن عبد البر رحمہ اللہ اور حافظ نووی رحمہ اللہ کے اقوال نقل کرتے ہیں، جن کے مطابق یہ حدیث ضعیف ہے، مگر ملا علی قاری نے اس حدیث کو صحیح مانتے ہیں اور اس کا معنی بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
إنه يومي إليه بأنه لم يعش له ولد يصل إلى مبلغ الرجال فإن ولده من صلبه يقتضي أن يكون لب قلبه كما يقال : الولد سر أبيه ولو عاش وبلغ أربعين وصار نبيا لزم أن لا يكون نبينا خاتم النبيين .
”اس میں اشارہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی بیٹا اس عمر تک زندہ نہیں رہے گا کہ حد بلوغ کو پہنچ جائے ، کیوں کہ صلبی اولاد دل کا جوہر ہوتی ہے، محاورہ ہے کہ بیٹا باپ کا جوہر ہوتا ہے، تو اگر ابراہیم رضی اللہ عنہ ابن رسول صلی اللہ علیہ وسلم زندہ رہتے اور چالیس برس کی عمر کو پہنچ جاتے اور نبی بن جاتے تو لازم تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین نہ رہتے۔“
وہ یہاں ایک بات فرض کر رہے ہیں کہ اگر یوں ہوتا، تو یوں ہوتا، مگر چوں کہ یہ سب کچھ نہیں ہوا، لہذا صرف سمجھانے کی غرض سے یہ بات فرض کر لی گئی ہے۔
جیسا کہ فرمان باری تعالیٰ ہے :
لَوْ كَانَ فِيْهِمَاۤ اٰلِهَةٌ اِلَّا اللّٰهُ لَفَسَدَتَا
”اگر زمین و آسمان میں اللہ کے سوا کئی الہ ہوتے ، تو ان میں فساد ہوتا۔“
(الأنبياء : 22)
اس آیت کا یہ مطلب نہیں کہ اور الہ ہیں، بلکہ یہ مطلب ہے کہ اگر ہوتے تو یوں ہوتا، مگر اور اللہ موجود ہی نہیں ہیں، لہذا ایسا نہیں ہے۔ ملا علی قاری اسی سیاق میں لکھتے ہیں :
لو عاش إبراهيم وصار نبيا وكذا لو صار عمر نبيا لكانا من أتباعه عليه الصلاة والسلام كعيسى والخضر وإلياس عليهم السلام فلا يناقض قوله تعالى: وخاتم النبيين إذ المعنى أنه لا يأتى نبي بعده ينسخ ملته ولم يكن من أمته .
”ابراہیم رضی اللہ عنہ یا عمر رضی اللہ عنہ اگر نبی بن جاتے ، تب بھی وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے متبع ہوتے ، جیسا کہ عیسیٰ علیہ السلام، خضر علیہ السلام اور الیاس علیہ السلام ہیں۔ تب بھی یہ اللہ کے فرمان وَخَاتَم النَّبِيِّينَ کے منافی نہ ہوتا ، تب اس کا معنی یہ کیا جاتا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی ایسا نبی نہیں آئے گا، جو ان کی نبوت کو منسوخ کر دے اور ان کی امت سے نہ ہو۔“
اب یہاں کلمہ لو ہے کہ اگر ابراہیم رضی اللہ عنہ زندہ رہتے یا عمر رضی اللہ عنہ نبی ہوتے ، تو معنی یوں ہوتا، بصورت دیگر معنی وہی رہے گا کہ کوئی بھی نبی ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نہیں آئے گا، اب کسی نبی کا آنا ختم نبوت کے منافی ہے۔
اس سے پچھلی عبارت میں وہ خود کہہ چکے ہیں کہ ابراہیم رضی اللہ عنہ کا زندہ رہ کر نبی ہونا ہی ختم نبوت کے منافی تھا لیکن بالفرض والمحال ایسا ہو جاتا، تو آیت کا معنی یوں کر لیا جاتا۔
ملا علی قاری کی دوسری عبارات ملاحظہ ہوں، لکھتے ہیں :
دعوى النبوة بعد نبينا كفر بالإجماع .
”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوت کا دعوی بالاجماع کفر ہے۔“
(شرح الفقه الأكبر ص : 380)
نیز لکھتے ہیں :
المعنى أنه لا يحدث بعده نبي لأنه خاتم النبيين السابقين وفيه إيماء إلى أنه لو كان بعده نبي لكان عليا، وهو لا ينافي ما ورد فى حق عمر صريحا، لأن الحكم فرضي وتقديري، فكأنه قال : لو تصور بعدي نبي لكان جماعة من أصحابي أنبياء، ولكن لا نبي بعدي .
معنی یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبی پیدا ہی نہیں ہوگا، کیوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین ہیں، اس حدیث میں اشارہ ہے کہ اگر کوئی نبی ہوتا، تو علی رضی اللہ عنہ ہوتے ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے بارے میں بھی ایسا ہی فرمان ہے، یہ حکم تقدیری اور فرضی ہے، گویا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے : میرے بعد نبوت کا تصور ہوتا ، تو میرے صحابہ کی ایک جماعت کو نبی بنایا جاتا لیکن میرے بعد کوئی نبی نہیں۔
(مرقاة المفاتيح شرح مشكوة المصابيح : 3932/9)
نیز لکھتے ہیں :
(وأنا العاقب) أى الآتي عقب الأنبياء ليس بعدي نبي ، ففي الصحاح العاقب يعني آخر الأنبياء وكل من خلف بعد شيء فهو عاقبة .
”میں عاقب ہوں، یعنی انبیا کے بعد آیا ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ صحاح میں ہے کہ عاقب کا معنی آخری نبی ہے۔ ہر چیز جو کسی کے بعد آئے ، عاقب کہلاتی ہے۔“
(شرح الشفا : 490/1)
نیز مقفی کا معنی بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
المعنى أنه آخر النبيين فإذا قفى فلا نبي بعده .
”معنی یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں، جب آپ آخری ہیں، تو یقیناً آپ کے بعد کوئی نبی نہیں۔“
(شرح الشفا : 495/1)
مزید لکھتے ہیں :
إنه آخر الأنبياء الآتي على أثرهم، لا نبي بعده .
”وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم انبیا کے بعد آخر میں آنے والے ہیں، آپ کے بعد کوئی نبی نہیں۔“
(مرقاة المفاتيح : 3697/9)