جھوٹی شہادت، ظلم پر گواہی اور گواہی میں مسابقت کی ممانعت

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ حسین بن مبارک الموصلی کی عربی کتاب الاوامر والنواهي سے ماخوذ ہے جس کا اُردو ترجمہ محمد سرور گوہر صاحب نے احکامات و ممنوعات کے نام سے کیا ہے۔

کتاب الشهادات

جھوٹی شہادت (گواہی) کی ممانعت

① سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبیرہ گناہوں کا ذکر کیا تو فرمایا:
الإشراك بالله، وعقوق الوالدين، وقتل النفس
”اللہ کے ساتھ شرک کرنا، والدین کی نافرمانی اور قتل کرنا۔“
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ألا أنبئكم بأكبر الكبائر؟ قال: قول الزور أو قال: شهادة الزور
”کیا میں تمہیں کبیرہ گناہوں کے متعلق نہ بتاؤں؟ اور فرمایا: جھوٹی اور باطل بات۔ یا فرمایا: جھوٹی گواہی۔“
بخاری، کتاب الادب 5977، مسلم، الإيمان 1/ 92۔
② سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ألا أنبئكم بأكبر الكبائر؟
”کیا میں تمہیں کبیرہ گناہوں کے متعلق نہ بتاؤں؟“
ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! کیوں نہیں؟ ضرور بتائیں۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
الإشراك بالله، وعقوق الوالدين
”اللہ کے ساتھ شرک کرنا، والدین کی نافرمانی کرنا۔“
آپ صلی اللہ علیہ وسلم ٹیک لگائے ہوئے تھے کہ بیٹھ گئے اور فرمایا:
ألا وقول الزور، وشهادة الزور
”سن لو! جھوٹی بات اور جھوٹی گواہی۔“
آپ صلی اللہ علیہ وسلم بار بار اس کا تکرار فرماتے رہے حتیٰ کہ ہم نے کہا: کاش کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو جائیں۔
بخاری، کتاب الادب 5976، مسلم، کتاب الايمان 87/143۔
③ سیدنا ایمن بن خزیم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خطاب کرنے کے لیے کھڑے ہوئے تو فرمایا:
أيها الناس عدلت شهادة الزور إشراكا بالله
”لوگو! جھوٹی گواہی دینے کو اللہ کے ساتھ شرک کرنے کے مساوی قرار دیا گیا ہے۔“
پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی:
﴿ فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْأَوْثَانِ وَاجْتَنِبُوا قَوْلَ الزُّورِ﴾
”بتوں کی نجاست (شرک) سے بچو اور جھوٹی بات سے اجتناب کرو۔“
ترمذی، کتاب الشهادات 2299، مسند احمد، مسند الشامیین 4/ 219، حدیث 17616۔

ظلم پر گواہی دینے کی ممانعت

① سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ان کی والدہ بنت رواحہ نے ان کے والد سے اپنے بیٹے کو اپنے مال سے کچھ مال ہبہ کرنے کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے سال تک اسے ملتوی رکھا۔ پھر انہوں نے دینا چاہا تو انہوں نے (ان کی والدہ نے) کہا: آپ نے میرے بیٹے کو جو کچھ ہبہ کیا ہے اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گواہ بنائیں تب میں راضی ہوں گی۔ پس میرے والد نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے اائے، میں اس وقت بچہ تھا، میرے والد نے کہا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! اس کی والدہ بنت رواحہ یہ پسند کرتی ہے کہ میں نے اس کے بیٹے کو جو کچھ ہبہ کیا ہے اس پر میں آپ کو گواہ بناؤں۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
يا بشير ألك ولد سواه هذا؟
”بشیر! کیا اس کے سوا بھی تمہاری اولاد ہے؟“
انہوں نے کہا: ہاں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
أكلهم وهبت له مثل هذا؟
”کیا تم نے ان سب کو اسی قدر ہبہ کیا ہے؟“
انہوں نے کہا: نہیں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
فلا تشهدني إذا، فإني لا أشهد على جور
”پھر مجھے گواہ نہ بناؤ اس لیے کہ میں ظلم و نا انصافی پر گواہ نہیں بنتا۔“
مسلم، کتاب الهبات 1623/14۔

گواہی دینے میں مسابقت کرنے کی ممانعت

① سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
خير الناس قرني ثم الذين يلونهم، ثم الذين يلونهم، ثم يجيء قوم تسبق شهادة أحدهم يمينه ويمينه شهادته
”بہترین لوگ میرے زمانے کے ہیں، پھر وہ جو ان کے بعد اائیں گے، پھر وہ جو ان کے بعد اائیں گے، پھر ایسے لوگ اائیں گے کہ ان میں سے کسی کی گواہی اس کی قسم پر اور اس کی قسم اس کی گواہی پر سبقت لے جائے گی۔“
بخاری، کتاب الشهادات 2652، مسلم، فضائل الصحابه 2533/210۔