آزاد شخص کو غلام بنانے، غلام کے بھاگنے، منافق کو آقا کہنے اور غلط نسبت کی ممانعت

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ حسین بن مبارک الموصلی کی عربی کتاب الاوامر والنواهي سے ماخوذ ہے جس کا اُردو ترجمہ محمد سرور گوہر صاحب نے احکامات و ممنوعات کے نام سے کیا ہے۔

آزاد شخص کو غلام بنانے کی ممانعت

① سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ثلاثة لا تقبل منهم صلاتهم من تقدم قوما وهم له كارهون ورجل أتى الصلاة دبارا والدبر أن يأتيها بعد أن تفوته ومن اعتبد محرره
تین قسم کے لوگوں کی نماز قبول نہیں ہوتی، پہلا وہ شخص جو لوگوں کی امامت کرائے جبکہ لوگ اسے ناپسند کرتے ہوں، دوسرا وہ شخص جو نماز کو اخری وقت میں نماز پڑھتا ہو، اور تیسرا وہ شخص جو اپنے آزاد کردہ شخص کو دوبارہ غلام بنا لے۔
ابو داؤد، کتاب الصلوة 593۔

غلام کے بھاگنے کی ممانعت

① سیدنا جریر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إذا أبق العبد لم تقبل له صلاة
”جب غلام فرار ہو جائے تو اس کی نماز قبول نہیں ہوتی۔“
مسلم، کتاب الايمان 124 / 70۔
② سیدنا جریر رضی اللہ عنہ ہی فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
إذا أبق العبد لم تقبل له صلاة حتى يرجع إلى مواليه
”جب کوئی غلام فرار ہو جائے تو اس کی نماز واپس لوٹ آنے تک قبول نہیں ہوتی۔“
مسلم، کتاب الإيمان 70/124، النسائی، کتاب تحریم الدم 94/7۔

منافق شخص کو ”آقا!“ کہنے کی ممانعت

① سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا تقولوا للمنافق: سيد، فإنه إن يك سيدا فقد أسخطتم ربكم عز وجل
”تم منافق کو سید (آقا) نہ کہو اس لیے کہ اگر وہ آقا و سردار ہوا تو تم نے اپنے رب عزوجل کو ناراض کر دیا۔“
ابو داؤد، کتاب الادب 4977۔
② سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا يقولن أحدكم: أطعم ربك، وض ربك، اسق ربك، وليقل: سيدي ومولاي، ولا يقل أحدكم: عبدي وأمتي، وليقل: فتاي وفتاتي وغلامي
”تم میں سے کوئی یوں نہ کہے: اپنے رب (مالک) کو کھانا کھلاؤ، اپنے رب کو وضو کراؤ، اپنے رب کو پانی پلاؤ۔ بلکہ یوں کہے: میرے سردار، میرے آقا۔ اور تم میں سے کوئی یوں نہ کہے: میرے بندے، میری بندی، بلکہ یوں کہے: میرا خادم، میری خادمہ اور میرا غلام۔“
بخاری، کتاب العتق 2552، مسلم، کتاب الالفاظ من الادب وغيرها 15 / 2249۔

غلام کا اپنے مالک کے علاوہ کسی اور کی طرف منسوب کرنا منع ہے

① سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من تولى قوما بغير إذن مواليه فعليه لعنة الله والملائكة والناس أجمعين، لا يقبل منه صرف ولا عدل
”جو شخص اپنے مالکوں کی اجازت کے بغیر دوسروں کو اپنا ولی بنائے تو اس پر اللہ، فرشتوں اور تمام انسانوں کی لعنت ہے، اس سے کوئی فرض قبول ہوگا نہ نفل۔“
مسلم، کتاب الفتن 18/ 1508۔ ابو داؤد، کتاب الادب 5114۔ مسند احمد، باقی مسند المکثرین 2/ 522، حدیث 9197۔