عن طارق بن شهاب قال سمعت ابن مسعود يقول شهدت من المقداد بن الأسود مشهدا لأن أكون صاحبه أحب إلى مما عدل به أتى النبى صلى الله عليه وسلم وهو يدعو على المشركين فقال لا نقول كما قال قوم موسى اذهب أنت وربك فقاتلا ولكنا نقاتل عن يمينك وعن شمالك وبين يديك وخلفك فرأيت النبى صلى الله عليه وسلم أشرق وجهه وسره يعني قوله.
”طارق بن شہاب سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ فرماتے تھے کہ میں نے مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ سے ایسی بات سنی کہ اگر وہ بات میری زبان سے ادا ہو جاتی تو میرے لیے کسی بھی چیز کے مقابلے میں زیادہ محبوب ہوتی۔ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم مشرکین پر بددعا فرما رہے تھے، انہوں نے عرض کیا: ”یا رسول اللہ! ہم وہ نہیں کہیں گے جو جنابِ موسیٰ علیہ السلام کی قوم نے کہا تھا کہ اذهب أنت وربك فقاتلا (جاؤ تم اور تمہارا رب ان سے جنگ کرو)، بلکہ ہم آپ کے دائیں، بائیں، آگے اور پیچھے جمع ہو کر لڑیں گے۔“ میں نے دیکھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک چمکنے لگا اور آپ خوش ہو گئے۔“
( صحیح بخاری) (رواہ البخاری، کتاب المغازی، باب قول اللہ تعالیٰ: إذ تستغیثون ربکم، الرقم: 3952)
تشریح
ہوا یہ تھا کہ بدر کے دن رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قریش کے ایک قافلے کی خبر سن کر مدینہ سے نکلے تھے، وہاں قافلہ تو نکل گیا اور فوج سے لڑائی ٹھن گئی جس میں خود کفارِ مکہ جارح کی حیثیت سے تیار ہو کر آئے تھے، اس نازک مرحلہ پر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جملہ صحابہ سے جنگ سے متعلق نظریہ معلوم فرمایا، اس وقت جملہ مہاجرین و انصار نے آپ کو تسلی دی اور اپنی آمادگی کا اظہار فرمایا، انصار نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ آپ اگر برک الغماد نامی دور دراز جگہ تک جنگ کے لیے لے جائیں گے تو بھی ہم آپ کے ساتھ چلنے اور جان و دل سے لڑنے کو حاضر ہیں، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم بے حد مسرور ہوئے۔