حرام کے لیے حیلے تلاش کرنا بھی حرام ہے :
اسلام نے جہاں ان ظاہری وسائل کو حرام کیا جو محرمات کا باعث ہوں، وہاں اس نے ان خفیہ ذرائع اور شیطانی حیلوں کو بھی حرام قرار دیا جن کے پس پردہ حرام کو حلال کیا جا سکتا ہے۔
یہودیوں نے اللہ کی حرام کردہ چیزوں کو حلال کرنے کے لیے جو حیلہ بازیاں کی تھیں ان کی اسلام نے سخت مذمت کی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
لا ترتكبوا ما ارتكبت اليهود، فتستحلوا محارم الله بأدنى الحيل
یہودیوں نے جس کا ارتکاب کیا تم اس کا ارتکاب نہ کرو کہ اللہ کی حرام کردہ چیزوں کو ادنی حیلوں کے ذریعہ حلال کرنے لگو۔
ابن بطہ في ابطال الحيل ص 34 كما في غاية المرام و ضعفه الألباني، ولكن أورده في آداب الزفاف ص 192 و بعد تبين له انه ضعیف افطر تراجع والعلامة البانی رحمہ اللہ
یہودیوں پر اللہ نے سبت (سنیچر ہفتہ) کے دن شکار کرنا حرام کر دیا تھا، لیکن انہوں نے حیلہ کر کے حرام کو حلال کر لیا۔ چنانچہ وہ جمعہ کے دن سمندر کے کنارے خندقیں کھودتے تاکہ سبت (سنیچر ہفتہ) کے دن مچھلیاں اس میں آکر جمع ہوتی رہیں اور اتوار کے دن وہ ان کو پکڑ سکیں۔ ان حیلہ سازوں کے نزدیک ایسا کرنا جائز تھا، لیکن فقہائے اسلام کے نزدیک حرام ہے کیونکہ یہ بات اللہ کے حکم کے خلاف ہے جس کا منشاء ہی یہ تھا کہ وہ شکار سے رک جائیں۔ خواہ شکار براہ راست ہو یا بالواسطہ۔
کسی حرام چیز کا نام یا اس کی صورت بدل دینا جبکہ اس کی اصل حقیقت اپنی جگہ برقرار ہونا ناجائز قسم کا حیلہ ہی ہے۔ محض نام یا صورت کی تبدیلی کا اعتبار نہیں کیا جاسکتا۔ اگر لوگ محرمات کے لیے نئی نئی صورتیں ایجاد کرنے لگیں یا سود جیسی ناپاک چیز کے لیے حیلہ بازی پر اتر آئیں یا شراب کا کوئی خوبصورت نام رکھ کر پینا جائز کر لیں تو ایسی صورت میں ان کی حرمت اور گناہ میں کوئی فرق واقع نہ ہوگا۔ حدیث میں یہ پیشگی انتباہ موجود ہے فرمایا :
ليستحلن طائفة من أمتي الخمر يسمونها بغير اسمها
”میری امت کا ایک گروہ شراب کا نام بدل کر اس کو حلال کرلے گا۔“
مسند احمد 5/318، نسائى كتاب الاشربة باب منزلة الخمر ح 5661، ابن ماجه کتاب الاشربة باب الخمر يسمونها بغير اسمها ح 3385
يأتي على الناس زمان يستحلون الربا باسم البيع
”ایک زمانہ آئے گا جب لوگ سود کو بیچ کے نام سے حلال کر لیں گے۔“
إغاثة اللهفان لابن القيم رحمہ اللہ 1/519
اور یہ بھی تو زمانہ کی نیرنگیاں ہیں کہ لوگوں نے اخلاق سوز رقص کا نام ”فن“ رکھ دیا ہے اور شراب کو مشروبات روحیہ اور سود کو پرافٹ Profit نفع کے نام سے موسوم کر بیٹھے ہیں۔
نیک نیتی، حرام کو حلال نہیں کرتی :
یہ بات صحیح ہے کہ اسلام نے شرعی معاملات میں نیک ارادہ اور نیک نیتی کا اعتبار کیا ہے جیسا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے :
إنما الأعمال بالنيات وإنما لكل امرئ ما نوى
”اعمال میں اعتبار نیت کا ہے اور ہر شخص کے لیے وہی کچھ ہے جس کی اس نے نیت کی۔“
بخاری کتاب بدء الوحى باب كيف كان بدء الوحى الى رسول الله صلى الله عليه وسلم ح 1، مسلم کتاب الامارة باب قوله انما الاعمال بالنية ح 1907
نیک نیتی کی بنا پر مباح اور عادات کے قبیل کے کام، اطاعت و تقرب کے کام بن جاتے ہیں۔ مثلاً جو شخص اس نیت سے کھانا کھاتا ہے کہ بقائے حیات اور تقویت بدن کے اس ذریعہ سے وہ اپنے رب کے عائد کردہ فرائض اور اپنی ملی ذمہ داریوں کو ادا کرنے کے قابل ہو جائے گا تو اس کا کھانا اور پینا، سب عبادت و تقرب ہے۔ اسی طرح جو شخص اپنی بیوی سے اولاد کے لیے یا پاکدامنی کی خاطر مباشرت کرتا ہے تو اس کا یہ فعل بھی عبادت ہی ہے جس پر وہ اجر کا مستحق ہے۔ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
وفي بضع أحدكم صدقة، قالوا يا رسول الله أيأتي أحدنا شهوته ويكون له فيها أجر؟ قال أرأيتم لو وضعها فى حرام أكان عليه فيها وزر؟ فكذلك إذا وضعها فى الحلال كان له أجر
”تم میں کسی کا اپنی بیوی سے مباشرت کرنا بھی صدقہ ہے۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! کوئی شخص اپنی شہوت پوری کرے کیا اسے اجر بھی ملے گا؟ فرمایا: اگر وہ حرام مباشرت کا مرتکب ہوتا تو کیا وہ گنہگار نہ ہوتا؟ اسی طرح وہ جائز مباشرت کرنے پر اجر کا مستحق ہے۔“
مسلم کتاب الزکوة باب بيان ان اسم الصدقة يقع على كل نوع من المعروف ح 1006
نیز حدیث میں آیا ہے :
ومن طلب الدنيا حلالا تعففا عن المسألة وسعيا على عياله وتعطفا على جاره لقي الله ووجهه كالقمر ليلة البدر
”جو شخص دنیا کی جائز چیزوں کا طلب گار ہوا اپنی خود داری کو باقی رکھنے اپنے اہل وعیال کا نفقہ ادا کرنے اور اپنے پڑوسی پر مہربان ہونے کی غرض سے تو وہ اللہ سے اس حال میں ملاقات کرے گا کہ اس کا چہرہ چودھویں رات کے چاند کی طرح چمک رہا ہوگا۔“
ابو نعيم رحمہ اللہ في الحلية 3/109-110 من طريق الطبراني 315 وغيره والبيهقي رحمہ اللہ في الشعب 7/29، 1374، اسناده ضعيف لانقطاعه۔
اس طرح ہر جائز کام جو مؤمن انجام دیتا ہے، حسن نیت کی بنا پر عبادت بن جاتا ہے۔ اس کے برعکس حرام کام حرام ہی رہتا ہے خواہ اس کا ارتکاب کتنی ہی نیک نیتی کے ساتھ کیوں نہ کیا جائے اور بزعم خود کتنا ہی اعلیٰ مقصد پیش نظر کیوں نہ ہو۔ اسلام کو یہ بات ہرگز پسند نہیں کہ ایک اعلیٰ مقصد کے حصول کا ذریعہ حرام کو بنایا جائے۔ اسلام میں مقصد کا اعلیٰ ہونا اور اس کے حصول کے ذرائع کا پاکیزہ ہونا، دونوں ہی مطلوب ہیں۔ اسلامی شریعت اس قاعدہ کو ہرگز تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہے کہ مقصد ہر قسم کے ذریعہ کو جائز کر دیتا ہے۔ اور نہ اس کے نزدیک یہ اصول ہی قابل قبول ہے کہ صحیح مقصد کے حصول کے لیے بہ کثرت غلط طریقے اختیار کرنا پڑتے ہیں۔ بر خلاف اس کے اسلام یہ ضروری قرار دیتا ہے کہ صحیح مقصد کے لیے صحیح طریقے شریعت کے مطابق ہی اختیار کیے جائیں۔
لہذا اگر کوئی شخص اس غرض سے سود، رشوت، حرام کھیل، جوا اور دیگر محظورات کے ذریعہ روپیہ کماتا ہے کہ وہ مسجد تعمیر کرے گا یا رفاہی خدمت انجام دے گا تو مقصد کی یہ پاکیزگی حرمت کو رفع ختم نہیں کرتی۔ کیونکہ اسلام میں مقاصد اور نیتیں حرام پر اثر انداز نہیں ہوتیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس کی تعلیم دی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے :
إن الله طيب لا يقبل إلا طيبا وإن الله امر المؤمنين بما آمر المرسلين فقال : يَا أَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوا مِنَ الطَّيِّبَاتِ وَاعْمَلُوا صَالِحًا إِنِّي بِمَا تَعْمَلُونَ عَلِيمٌ وقال : يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُلُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ ثم ذكر الرجل يطيل السفر أشعث أغبر يمد يديه إلى السماء يا رب يا رب ومطعمه حرام ومشربه حرام وملبسه حرام وغذي بالحرام فأنى يستجاب لذلك
”اللہ پاک ہے اور پاک چیزوں ہی کو قبول فرماتا ہے۔ اہل ایمان کو اس نے اسی بات کا حکم دیا ہے جس کا حکم کہ اس نے اپنے رسولوں کو دیا۔ چنانچہ قرآن میں فرمایا : ”اے رسولو! پاکیزہ چیزیں کھاؤ اور نیک عمل کرو۔ تم جو کچھ کرتے ہو اس کا مجھے اچھی طرح علم ہے۔“ نیز فرمایا : ”اے ایمان والو! جو پاک چیزیں ہم نے تمہیں عطا کی ہیں انہیں کھاؤ۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ایک شخص طویل سفر کرتا ہے اس کا حال یہ ہے کہ بال پریشان ہیں، پاؤں غبار آلود ہیں اور اپنے ہاتھ آسمان کی طرف اٹھا کر دعا کرتا ہے اے رب اے رب لیکن اس کا کھانا حرام پینا حرام لباس حرام اور حرام کھا کر ہی وہ پلا ہے تو ایسے شخص کی دعا کیونکر قبول ہوگی؟“
مسلم كتاب الزكوة باب قبول الصدقة من الكسب الطيب ح 1015، ترمذی کتاب تفسیر القرآن باب ومن سورة البقرة ح 2989
اور فرمایا :
من جمع مالا من حرام ثم تصدق به لم يكن له فيه أجر وكان اصره عليه
”جس نے حرام مال جمع کیا اور پھر اسے صدقہ کیا تو اس کے لیے کوئی اجر نہیں ہے بلکہ اس پر حرام کمائی کے گناہ کا بار ہے۔“
مستدرك حاكم 1/390، صحيح ابن حبان الاحسان 3206، موارد 836، 797، شرح السنة 1591 واسناده ضعيف
نیز فرمایا :
لا يكسب عبد مالا حراما fيتصدق به فيقبل منه، ولا ينفق منه فيبارك له فيه، ولا يتركه خلف ظهره إلا كان زاده إلى النار إن الله تعالى لا يمحو السيئ بالسيئ، ولكن يمحو السيئ بالحسن، إن الخبيث لا يمحو الخبيث
”بندہ حرام مال کما کر جو صدقہ کرتا ہے وہ قبول نہیں ہوتا۔ اس میں سے جو کچھ وہ خرچ کرتا ہے اس میں برکت بھی نہیں ہوتی۔ اور جو اپنے پیچھے چھوڑ جاتا ہے وہ جہنم کے لیے زادِ راہ بن جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ بدی کو بدی سے نہیں مٹاتا بلکہ بدی کو نیکی سے مٹاتا ہے۔ گندگی، گندگی کو نہیں مٹاتی۔“
مسند احمد 1/387 واسناده ضعيف
حرام میں مبتلا ہو جانے کے اندیشہ سے مشتبہات سے بچنا :
اللہ تعالیٰ کی یہ رحمت ہے کہ اس نے حلال و حرام کا معاملہ لوگوں پر مبہم نہیں رکھا۔ بلکہ حلال کو واضح کر دیا اور حرام کی تفصیل بیان کر دی :
وقد فصل لكم ما حرم عليكم
”اس نے وہ چیزیں تفصیل سے بیان کر دی ہیں جو تم پر حرام کر دی ہیں۔“
الانعام : 119
لہذا جو چیز واضح طور پر حلال ہے اس کو اختیار کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ اور جو چیز واضح طور پر حرام ہے اس کو اضطراری حالت کے سوا جس کی صراحت خود قرآن کریم میں ہے اختیار کرنے کی رخصت نہیں ہے۔ علاوہ ازیں ایک دائرہ واضح حلال و حرام کے درمیان مشتبہات کا بھی ہے۔ ایسے امور میں لوگ التباس محسوس کرنے لگتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ کبھی تو دلائل ہی غیر واضح ہوتے ہیں اور کبھی نص کو پیش آمدہ واقعہ پر منطبق کرنا سخت الجھن کا باعث بن جاتا ہے۔ اس قسم کے مشتبہ امور سے بچنے کا نام اسلام میں تورع تقوی ہے۔ یہ تورع سد ذریعہ کا کام دیتا ہے اور انسان کی صحیح ڈھنگ پر تربیت کرتا ہے ورنہ اس بات کا اندیشہ ہوتا ہے کہ آدمی مشتبہات میں پڑ کر حرام کا ارتکاب نہ کر بیٹھے۔ یہ اصول نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد پر مبنی ہے :
الحلال بين والحرام بين وبين ذلك أمور مستبهات، لا يدري كثير من الناس أمن الحلال هي أم الحرام، فمن تركها استبراء لدينه وعرضه فقد سلم، ومن واقع شيئا منها يوشك أن يواقع الحرام كما أن من يرعى حول الحمى أوشك أن يواقعه، ألا وإن لكل ملك حمى ألا وإن حمى الله محارمه
”حلال واضح ہے اور حرام بھی واضح ہے اور ان دونوں کے درمیان کچھ چیزیں مشتبہ ہیں۔ جن کے بارے میں بہت سے لوگوں کو نہیں معلوم کہ آیا یہ حلال ہیں یا حرام تو جو شخص اپنے دین اور اپنی آبرو کو بچانے کے لیے ان سے احتراز کرے گا وہ سلامتی میں رہے گا۔ لیکن جو شخص ان میں سے کسی چیز میں مبتلا ہوگا تو اس کا حرام میں مبتلا ہونا بعید نہیں۔ جس طرح کوئی شخص اپنے جانور ممنوعہ چراگاہ کے ارد گرد چراتا ہے تو ان کے اندر داخل ہونے کا امکان ہوتا ہے۔ سنو! ہر بادشاہ کی ایک ممنوعہ چراگاہ ہوتی ہے اور سنو! اللہ کی ممنوعہ چراگاہ اس کی حرام کردہ چیزیں ہیں۔“
بخاری کتاب الايمان باب فضل من استبرا لدينه ح 52، مسلم كتاب المساقاة باب اخذ الحلال وترك الشبهات ح 1599، ترمذی كتاب البيوع باب ماجاء في ترك الشبهات ح 1205 واللفظ له
حرام، سب کے لیے حرام ہے :
اسلامی شریعت میں حرام کا حکم عام ہے۔ ایسا نہیں ہے کوئی چیز عجمی کے لیے تو حرام ہو اور عربی کے لیے حلال یا کالے کے لیے ممنوع ہو اور گورے کے لیے مباح۔ اور نہ ہی کسی چیز کا جواز یا رخصت کسی مخصوص طبقہ یا گروہ کے لیے ہے کہ کاہن، احبار، بادشاہ یا شرفاء اپنے مقام اور نام کا فائدہ اٹھا کر اپنی نفس پرستی کا سامان کرتے رہیں۔ حتی کہ مسلمان کی بھی کوئی خصوصیت نہیں ہے کہ ایک چیز مسلمان کے لیے حلال ہو اور دوسروں کے لیے حرام۔ بلکہ جس طرح اللہ تعالیٰ تمام انسانوں کا رب ہے اسی طرح اس کی شریعت بھی سب کی رہنما ہے۔ لہذا اس نے اپنی شریعت میں جس چیز کو حلال قرار دیا ہے وہ تمام انسانوں کے لیے حلال ہے اور جس کو حرام قرار دیا ہے وہ قیامت تک سب کے لیے حرام ہے۔
مثال کے طور پر چوری کرنا حرام ہے خواہ مسلمان چوری کرے یا غیر مسلم اور خواہ چرائی ہوئی چیز مسلمان کی ہو یا غیر مسلم کی۔ اسی طرح چور کے لیے سزا لازمی ہے خواہ اس کا نسب و حسب کچھ ہو اور اس کی وابستگی کسی سے بھی ہو۔ یہ وہ اصول ہے جس پر خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عمل درآمد فرمایا اور اس کا اعلان ان الفاظ میں کیا :
وايم الله لو سرقت فاطمة بنت محمد لقطعت يدها
”اللہ کی قسم! اگر فاطمہ بنت محمد رضی اللہ عنہا بھی چوری کرتیں تو میں ان کا ہاتھ بھی کاٹ دیتا۔“
بخاری کتاب الحدود باب كراهية الشفاعة في الحدود ح 6788، مسلم كتاب الحدود باب قطع السارق الشريف وغيره ح 1688
اسی طرح عہد رسالت میں چوری کا ایک واقعہ پیش آیا تھا، جس میں ایک یہودی اور ایک مسلمان پر شبہ ہوا۔ مسلمان کے رشتہ دار بعض قرائن کی بنا پر یہودی پر الزام رکھنے لگے حالانکہ درحقیقت مسلمان نے چوری کی تھی۔ اس موقع پر وحی الہی نے بے لاگ انصاف سے کام لیتے ہوئے یہودی کو بری قرار دیا۔ چنانچہ قرآن میں ارشاد ہوا :
اِنَّاۤ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ لِتَحْكُمَ بَیْنَ النَّاسِ بِمَاۤ اَرٰىكَ اللّٰهُؕ وَ لَا تَكُنْ لِّلْخَآىٕنِیْنَ خَصِیْمًاۙ 105 وَّ اسْتَغْفِرِ اللّٰهَؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا
یہ کتاب ہم نے حق کے ساتھ تمہاری طرف اتاری ہے، تاکہ تم لوگوں کے درمیان اس کے مطابق فیصلہ کرو جو اللہ نے تمہیں دکھایا ہے تم خیانت کرنے والوں کی طرف سے جھگڑنے والے نہ بنو اور اللہ سے استغفار کرو یقیناً اللہ غفور و رحیم ہے۔ اور ان لوگوں کی وکالت نہ کرو جو اپنے نفس سے خیانت کرتے ہیں۔ اللہ کو ایسے لوگ پسند نہیں جو خیانت کار اور معصیت کوش ہوں۔
ترمذی کتاب تفسیر القرآن باب ومن سورة النساء ح 3036
یہودی جنہوں نے اپنی کتابوں میں تحریف کی اس خیانت میں مبتلا تھے کہ سود ایک یہودی پر صرف اس صورت میں حرام ہے جبکہ وہ اپنے یہودی بھائی کو قرض دے۔ کسی غیر یہودی کو سود پر قرض دینے میں کوئی حرج نہیں ہے جیسا کہ سفر تثنیہ الاشتراع میں ہے :
”کسی اجنبی کو سود پر قرض دے لیکن اپنے بھائی کو سود پر قرض نہ دے۔“
قرآن نے بھی ان کے بارے میں کہا ہے کہ وہ دوسری ملت والوں کے ساتھ خیانت کرنے میں کوئی حرج یا گناہ محسوس نہیں کرتے :
وَ مِنْهُمْ مَّنْ اِنْ تَاْمَنْهُ بِدِیْنَارٍ لَّا یُؤَدِّهٖۤ اِلَیْكَ اِلَّا مَا دُمْتَ عَلَیْهِ قَآىٕمًاؕ-ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَالُوْا لَیْسَ عَلَیْنَا فِی الْاُمِّیّٖنَ سَبِیْلٌۚ وَ یَقُوْلُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ وَ هُمْ یَعْلَمُوْنَ
”اور ان میں ایسے بھی ہیں کہ اگر تم ایک دینار بھی ان کو امانت میں دو تو وہ اس کو ادا نہیں کریں گے مگر جب تک کہ تم ان کے سر پر سوار نہ ہو جاؤ۔ یہ اس وجہ سے ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ امیوں غیر یہودیوں کے معاملہ میں ہم پر کوئی الزام نہیں ہے۔ اور یہ بات وہ جانتے بوجھتے اللہ کی طرف جھوٹ منسوب کرتے۔“
آل عمران : 75
بے شک انہوں نے اللہ پر یہ جھوٹ ہی باندھا تھا کیونکہ حقیقتاً اللہ کی شریعت قوموں کے درمیان کوئی تفریق نہیں کرتی۔ اللہ نے خیانت کو تو تمام انبیاء کی زبانی حرام قرار دیا ہے۔
ضرورتیں محظورات کو مباح کر دیتی ہیں :
اسلام نے حرام کے معاملہ میں سخت احکام دیئے ہیں، لیکن اس نے انسانی زندگی کی ضرورتوں کی طرف سے بے اعتنائی نہیں برتی ہے اور انسانی کمزوری کا بھی پورا لحاظ کیا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ اسلام نے اس بات کو جائز کر دیا ہے کہ ایک مسلمان شدید ضرورت کے پیش آجانے پر اپنی جان بچانے کے لیے بقدر ضرورت حرام چیز کھا لے۔ جیسے کہ اللہ تعالیٰ نے مردار، خون اور سور کے گوشت کی حرمت کا حکم دینے کے بعد فرمایا ہے :
فَمَنِ اضْطُرَّ غَيْرَ بَاغٍ وَلَا عَادٍ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ
”تو جو شخص مجبور ہو جائے اور اس کا خواہش مند اور حد سے تجاوز کرنے والا نہ ہو تو اس پر کچھ گناہ نہیں۔ بے شک اللہ بخشنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔“
البقرہ : 173
یہ حکم دیگر چار سورتوں میں بھی آیا ہے جس کا مفہوم ایک ہی ہے۔ یہ اور اس طرح کی دوسری آیتوں کے پیش نظر فقہائے اسلام نے یہ اہم اصول اخذ کیا ہے کہ ضرورتیں محظورات کو جائز کر دیتی ہیں۔
لیکن خیال رہے کہ ان آیات نے مضطر کے لیے غَيْرَ بَاغٍ وَلَا عَادٍ کی قید لگائی ہے جس کی تفسیر یہ کی گئی ہے کہ حالت مجبوری میں حرام سے فائدہ اٹھانے والا حرام شئے کی لذت کا طالب نہ ہو اور نہ ہی فائدہ اٹھانے کے معاملہ میں حد ضرورت سے تجاوز کرنے والا ہو۔ اس شرط سے فقہاء نے ایک اور اصول اخذ کیا ہے اور وہ یہ ہے کہ ضرورت اپنا دائرہ خود متعین کرتی ہے۔
انسان کو اگرچہ مجبوری کے آگے جھکنا پڑتا ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ اپنے کو بری طرح مجبوری کے حوالہ کر دے اور اپنے نفس کی زمام اس کے ہاتھ میں دے بیٹھے۔ بلکہ اسے لازماً اصل حلال سے وابستہ رہنا چاہیے اور اسی کی تلاش میں لگے رہنا چاہیے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ جو چیز دفع ضرورت کے لیے وقتی طور پر حلال ہو گئی تھی اسے سہل خیال کیا جانے لگے اور اس سے لذت حاصل کی جانے لگے۔ اسلام نے ضرورت کے موقعوں پر محظورات کو مباح کر کے اپنی عام اسپرٹ روح اور قواعد کلیہ کے مطابق بڑی آسانی پیدا کر دی ہے اور اس سے اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی تصدیق ہو جاتی ہے۔
يُرِيدُ اللَّهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلَا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ
”اللہ تمہارے ساتھ آسانی کرنا چاہتا ہے سختی کرنا نہیں چاہتا۔“
البقرہ : 185