اونچی قبروں کو برابر کرنا، تصویروں اور مورتیوں کو مٹانا، مردہ لوگوں کی خوبیاں اور فوتگی پر کہے جانے والے کلمات

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ حسین بن مبارک الموصلی کی عربی کتاب الاوامر والنواهي سے ماخوذ ہے جس کا اُردو ترجمہ محمد سرور گوہر صاحب نے احکامات و ممنوعات کے نام سے کیا ہے۔

اونچی قبروں کو برابر کرنا

① ابوالہیاج حیان بن حصین الاسدی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے مجھے فرمایا: کیا میں تمہیں ایسے کام پر نہ بھیجوں جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بھیجا تھا؟
أن لا تدع تمثالا إلا طمسته ولا قبرا مشرفا إلا سويته
”ہر مورتی مجسمے کو مٹا دو اور ہر اونچی قبر کو برابر کر دو۔“
مسلم، كتاب الجنائز 969۔ ابو داؤد، کتاب الجنائز 3218۔ ترمذى، كتاب الجنائز عن رسول الله صلى الله عليه وسلم 1049۔

تصویروں اور مورتیوں کو مٹانے کے متعلق احکامات

① سیدنا ابوالہیاج حیان بن حصین الاسدی بیان کرتے ہیں، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا میں تمہیں اس کام پر نہ بھیجوں، جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بھیجا تھا؟ کہ میں ہر مورتی کو مٹا دوں اور ہر اونچی قبر کو برابر کر دوں۔
اور ایک روایت میں ہے: یہ کہ میں ہر تصویر کو مٹا دوں۔
مسند احمد، مسند العشرة المبشرة بالجنة 1064، 741 تحقیق احمد شاکر۔ مسلم، كتاب الجنائز 93/969۔

کسی کے فوت ہونے پر کیا کہا جائے

① سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إذا مات ولد العبد قال الله تعالى لملائكته: قبضتم ولد عبدي؟ فيقولون: نعم، فيقول: قبضتم ثمرة فؤاده؟ فيقولون: نعم، فيقول: ماذا قال عبدي؟ فيقولون: حمدك واسترجع، فيقول الله تعالى: ابنوا لعبدي بيتا فى الجنة وسموه بيت الحمد
”جب کسی شخص کا بچہ فوت ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرشتوں سے فرماتا ہے: تم نے میرے بندے کا بچہ قبض کر لیا (اسے فوت کر دیا)؟ تو وہ کہتے ہیں: ہاں!۔ پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: تم نے اس کے جگر گوشے پر ہاتھ رکھ دیا؟ تو وہ کہتے ہیں: ہاں!۔ پھر وہ پوچھتا ہے: میرے بندے نے کیا کہا تھا؟ وہ کہتے ہیں: اس نے تیری حمد بیان کی اور انا لله وانا إليه راجعون کہا تھا۔ پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میرے بندے کے لیے ایک گھر تعمیر کر دو اور اس کا نام ”بیت الحمد“ رکھ دو۔“
ترمذی، کتاب الجنائز 1021، اس کی روایت ضعیف ہے، اس کی سند میں ابو سنان التملی ضعیف ہے ۔

مردہ لوگوں کی خوبیاں بیان کرنا

① سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
اذكروا محاسن موتاكم وكفوا عن مساوئهم
”اپنے فوت شدگان کے محاسن بیان کرو اور ان کی برائیوں (کے ذکر کرنے) سے باز رہو۔“
ابوداؤد، کتاب الادب 4900۔ ترمذی 1019، یہ روایت منکر ہے، اس کی سند میں عمران بن انس المکی منکر الحدیث ہے ۔
② سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس فوت شدگان کا برے الفاظ سے ذکر کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا تذكروا هلكاكم إلا بخير
”اپنے فوت شدگان کا ذکر اچھے الفاظ سے کیا کرو۔“
نسائی 52/4 روایت صحیح ہے ۔