عیسائیوں اور ہندو قوموں کے حج :
موجودہ دور کے مشرکین کا تعلق ہند سے ہو یا کسی دوسرے ملک سے، سب کے سب اپنے معبودانِ باطل کا حج کرنے جاتے ہیں جیسے ہندو سومناۃ وغیرہ کا اور اسی طرح نصاری قمامہ، بیت لحم اور القونہ کا حج کرتے ہیں۔
القونہ سیدنایہ میں واقع ہے۔
اصل میں القونہ ان تصاویر کو کہتے ہیں جو نصاری اپنے گرجوں میں رکھتے ہیں۔ ان تصاویر کی وہ بہت تعظیم و تکریم کرتے ہیں۔ نیز ان تصاویر کو اپنے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان شفاعت کنندہ خیال کرتے ہیں۔
القونہ اصحاب الفیل کی باقیات سے ہے :
مفسرین و مؤرخین کا کہنا ہے کہ القونہ ابرہہ کی تصویر ہے جو یمن کا حکمران تھا۔ وہی ابرہہ تھا جو ہاتھیوں کی فوج لے کر بیت اللہ کو گرانے کی نیت سے مکہ پر حملہ آور ہوا تھا تاکہ کعبہ کو منہدم کرے اور عربوں کو اپنے زیرِ نگین کر لے۔
یہ اس وقت کا واقعہ ہے جبکہ حبشیوں نے یمن کو فتح کر لیا اور عربوں پر غالب آ گئے تھے۔ اس کے بعد سیف بن ذی یزن آیا جس نے شاہِ ایران سے مدد لے کر حبشیوں کو یمن سے نکال باہر کیا۔ یہ وہی شخص ہے جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کی خوشخبری دی تھی۔ جس سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت ہوئی، یہی سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کی نشانی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعتِ مطہرہ کی جیتی جاگتی علامت ہے اور صرف بیت اللہ ہی ایک ایسا گھر باقی ہے جس کی طرف منہ کر کے امتِ محمدیہ نماز پڑھتی ہے اور جس کا ہر سال حج کیا جاتا ہے۔
یہ واقعہ مشہور ہے کہ ابرہہ نے ملکِ یمن میں ایک خوبصورت کنیسہ تعمیر کیا۔ اس کا ارادہ یہ تھا کہ عربوں کے ذہن اس کی طرف مائل ہوں اور وہ اس کا حج کریں۔ لیکن ہوا یہ کہ ایک عرب اس میں داخل ہوا تو اس نے وہاں پاخانہ کر دیا، جس سے ابرہہ غصے سے لال پیلا ہو گیا اور اپنی فوج لے کر بیت اللہ کو گرانے کے لیے مکہ مکرمہ کی طرف روانہ ہو گیا۔ لیکن جب وہ منی اور عرفات کے درمیان وادیِ عرنہ میں خیمہ زن ہوا تو اللہ نے اس کا پورا لشکر تباہ کر دیا۔ اس واقعہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے رب ذوالجلال فرماتا ہے:
أَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِأَصْحَابِ الْفِيلِ ﴿١﴾ أَلَمْ يَجْعَلْ كَيْدَهُمْ فِي تَضْلِيلٍ ﴿٢﴾ وَأَرْسَلَ عَلَيْهِمْ طَيْرًا أَبَابِيلَ ﴿٣﴾ تَرْمِيهِم بِحِجَارَةٍ مِّن سِجِّيلٍ ﴿٤﴾ فَجَعَلَهُمْ كَعَصْفٍ مَّأْكُولٍ ﴿٥﴾
”تم نے دیکھا نہیں کہ تمہارے رب نے ہاتھی والوں کے ساتھ کیا کیا؟ کیا اس نے ان کی تدبیر کو اکارت نہیں کر دیا؟ اور ان پر پرندوں کے جھنڈ کے جھنڈ بھیج دیے جو ان کے اوپر پکی ہوئی مٹی کے پتھر پھینک رہے تھے۔ پھر ان کا ایسا حال کر دیا جیسے (جانوروں) کا کھایا ہوا بھوسا۔“
(105-الفيل:1-5)
مفسرین و مورخین کے ہاں یہ بات مسلم ہے کہ ابرھہ نے یمن میں جو کنیسہ تعمیر کیا تھا اس نے اس کا مقصد عربوں کو اس کے حج کی طرف مائل کرنا تھا۔ اور یہ بھی واضح ہے کہ وہ اس کنیسہ میں وہی کام ہوتے دیکھنا چاہتا تھا جو نصاری اپنے کنائس میں کرتے ہیں۔ اس سے یہ بات کھل کر سامنے آ جاتی ہے کہ نصاری کے ہاں کنائس کی طرف سفر کرنا بالکل اسی طرح ہے جس طرح مسلمان حج کی نیت سے مکہ مکرمہ کا سفر کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ابرہہ اپنے تعمیر کردہ کلیسا کو بیت اللہ کے مشابہ قرار دیتا تھا اور اس کی طرف سفر کرنے کو حج قرار دیتا تھا۔ گویا جو شخص زمین کے کسی حصہ کو عبادت کے لیے منتخب کر کے اس کی طرف سفر کرتا ہے وہ اسی طرح ہے جیسے اس نے بیت اللہ کی طرف سفر کیا، کیونکہ اس نے یہ سفر عبادت کی نیت سے کیا ہے جو حج کے مترادف ہے۔