جس نے کسی مجاہد کو جہاد کے لیے تیار کیا وہ بھی جہاد میں شامل ہے

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ ابی عبد الصبور عبد الغفور دامنی کی کتاب فضائل الجہاد سے ماخوذ ہے۔

حدثني بسر بن سعيد قال حدثني زيد بن خالد رضى الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال من جهز غازيا فى سبيل الله فقد غزا ومن خلف غازيا فى سبيل الله بخير فقد غزا.
” (ابو سلمہ کہتے ہیں) مجھے بسر بن سعید نے بیان کیا وہ کہتے ہیں مجھے زید بن خالد رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کو ساز و سامان دیا تو وہ (گویا) خود جہاد میں شریک ہوا۔ اور جس نے خیر خواہانہ طریقے سے غازی کے گھر کی نگرانی کی وہ (گویا) خود غزوہ میں شریک ہوا۔ “
(صحیح بخاری و مسلم) (رواہ البخاری، کتاب الجہاد والسیر، باب فضل من جہز غازیا أو خلفہ بخیر، واللفظ لہ، الرقم: 2843 / مسلم، کتاب الإمارة، باب فضل إعانة الغازي فی سبیل اللہ بمرکوب وغیرہ وخلافتہ فی أہلہ بخیر، الرقم: 1895)

فوائد و مسائل

➊ نیکی کے کسی کام میں تعاون کرنا اس نیکی میں شریک ہونے کے برابر ہے۔
➋ جہاد میں مالی تعاون بھی جہاد میں شامل ہے۔
➌ جس نیکی کے کام میں ایک سے زیادہ افراد شریک ہوں ان سب کو پورا ثواب ملتا ہے، کسی کے حصے کا ثواب کم کر کے دوسرے کو نہیں دیا جاتا۔
➍ نیکی کی توفیق بھی اللہ تعالیٰ کا احسان ہے اور اس پر ثواب ملنا اللہ تعالیٰ کا مزید احسان ہے۔
➎ مجاہد فی سبیل اللہ کی خدمات کے اچھے ثمرات : جیسا کہ وہ شخص جس نے مجاہد کو سفر خرچ دے کر جہاد فی سبیل اللہ کے لیے آمادہ کیا اور اسی طرح وہ شخص جس نے غازی کے گھر کی نگرانی کی تو وہ سب کے سب جہاد فی سبیل اللہ میں شریک ہوئے۔