حدثنا محمد بن حمادة قال أخبرني أبو حصين أن ذكوان حدثه أن أبا هريرة رضى الله عنه حدثه قال جاء رجل إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال دلني على عمل يعدل الجهاد قال لا أجده قال هل تستطيع إذا خرج المجاهد أن تدخل مسجدك فتقوم ولا تفتر وتصوم ولا تفطر قال ومن يستطيع ذلك، قال أبو هريرة إن فرس المجاهد ليستن فى طوله فيكتب له حسنات.
”ہمام کہتے ہیں ہم سے محمد بن حمادہ نے حدیث بیان کی وہ کہتے ہیں مجھے ابو حصین نے خبر دی کہ بیشک ذکوان نے ان کو حدیث بیان کی کہ بیشک ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے ان کو بیان کیا کہا ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، کہا: ”مجھے کوئی ایسا عمل بتائیں جو ( ثواب میں ) جہاد کے برابر ہو؟ “ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں ایسا کوئی عمل نہیں پاتا۔ “ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا آپ یہ طاقت رکھتے ہیں کہ جب مجاہد ( جہاد کے لیے ) نکلے تو تم اپنی مسجد میں داخل ہو کر مسلسل نماز میں مصروف رہو، اس دوران تم کوئی تھکاوٹ محسوس نہ کرو، اور تم مسلسل روزے رکھتے رہو کبھی روزہ ترک نہ کرو؟ ( کیا ایسا کر سکتے ہو؟ ) “ اس شخص نے کہا : ”ایسا کون کر سکتا ہے؟ “ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ”مجاہد کا گھوڑا جب رسی میں بندھا ہوا ہو ( زمین پر ) پاؤں مارتا ہے تو اس پر بھی اس کے لیے نیکیاں لکھی جاتی ہیں۔ “
(صحیح بخاری و مسلم) (رواہ البخاری، کتاب الجہاد والسیر، باب فضل الجہاد والسیر، الرقم: 2785، واللفظ لہ، ومسلم، کتاب الإمارة، باب فضل الشہادة فی سبیل اللہ تعالیٰ، الرقم: 1876)
تشریح
مسلسل روزے رکھنا اور مسلسل نماز میں مشغول رہنا ایک ناممکن عمل ہے کیونکہ انسان اپنی جسمانی ضروریات پوری کرنے کے لیے نماز سے باہر آنے، اور روزہ افطار کرنے پر مجبور ہے، لیکن مجاہد جب عملی طور پر جنگ میں مشغول نہ ہو پھر بھی اسے ثواب ملتا رہتا ہے، اس لحاظ سے جہاد زیادہ ثواب کا باعث ہے، نیز مال غنیمت مجاہد کے لیے ایک انعام ہے کیونکہ وہ اسے بھی نیکی کے کاموں میں خرچ کرتا ہے اس طرح مزید ثواب حاصل کرتا ہے۔