تیر اندازی، نیزہ بازی اور گھڑ سواری کے فضائل صحیح احادیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس ڈاکٹر یوسف القرضاوی کی کتاب اسلام میں حلال و حرام سے ماخوذ ہے جس کا اُردو ترجمہ محمد طاھر نقاش صاحب نے کیا ہے۔

تیر اندازی

ایک جائز فنی کھیل تیراندازی اور نیزہ چلانا بھی ہے۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو تیر اندازی میں مشغول دیکھتے تو ان کی حوصلہ افزائی فرماتے اور کہتے: تیر چلاؤ اور میں تمہارے ساتھ ہوں۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک تیراندازی، کھیل اور شوقیہ چیز نہیں تھی، بلکہ یہ ایک قسم کی قوت تھی، جس کی فراہمی کا حکم خود اللہ تعالیٰ نے دیا ہے :
وَأَعِدُّوا لَهُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ مِنْ قُوَّةٍ
”اور جہاں تک ہو سکے ان کے مقابلہ کے لیے قوت فراہم کرو۔“
سورۃ الانفال : 60
چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس آیت کی تفسیر یوں فرماتے ہیں :
ألا إن القوة الرمي، ألا إن القوة الرمي، ألا إن القوة الرمي
”سنو! قوت، تیر اندازی میں ہے سنو! قوت، تیر اندازی میں ہے سنو! قوت، تیر اندازی میں ہے۔“
بخاری کتاب الجهاد باب التحريض على الرمي ح : 2899 ۔ مسلم كتاب الامارة باب فضل الرمي والحث عليه ح : 1917
نیز فرماتے :
عليكم بالرمي فإنه من خير لهوكم
”تم تیراندازی ضرور سیکھو کیونکہ یہ بہترین کھیل ہے۔“
مجمع الزوائد : 268/5 بحواله البزار : 1701 والطبراني في الاوسط : 139/3 / 2070 والخطيب في الموضح الأوهام : 52/2
البتہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پالتو جانوروں وغیرہ کو نشانہ بنانے سے منع فرمایا ہے۔ بعض عرب زمانہ جاہلیت میں اس کے عادی تھے۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے کچھ لوگوں کو اس قسم کی حرکت کرتے ہوئے دیکھا تو فرمایا : نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص پر لعنت فرمائی ہے جو کسی ذی روح جاندار کو ہدف بنالے۔
بخاری کتاب الذبائح باب ما يكره من المثلة والمصبورة ح : 5515 ۔ مسلم كتاب الصيد باب النهي عن صبر البهائم ح : 1958
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وجہ سے لعنت فرمائی ہے کہ اس سے حیوان کو تکلیف پہنچتی اور اس کی جان ضائع ہو جاتی ہے۔ مزید برآں یہ مال کا ضیاع بھی ہے۔ اور کسی طرح بھی انسان کو یہ زیب نہیں دیتا کہ کسی ذی روح جاندار کو تکلیف پہنچا کر اپنی تفریح کا سامان کرے۔
اور یہی وجہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جانوروں کو باہم لڑانے سے منع فرمایا ہے۔
ابو داود كتاب الجهاد باب في التحريش بين البهائم ح : 2562 ۔ ترمذی کتاب الجهاد باب ماجاء في كراهية التحريش بين البهائم ح : 1708 ۔ واسناده ضعيف
مالک دو مینڈھوں یا دو بیلوں کو اشتعال دلا کر باہم سینگوں سے لڑاتے یہاں تک کہ وہ ہلاک ہو جاتے لیکن انہیں یہ تماشا دیکھ کر خوشی ہوتی۔ علماء کہتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لیے جانوروں کو لڑانے سے منع فرمایا ہے کہ اس سے جانوروں کو تکلیف ہوتی ہے نیز یہ ایک بے فائدہ اور عبث کام ہے۔

نیزہ چلانا

تیر اندازی کی طرح ایک کھیل نیزہ چلانا بھی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حبشیوں کو مسجد نبوی میں نیزہ کا کھیل کھیلنے کی اجازت دی تھی اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو بھی اجازت دی تھی کہ ان کا کھیل دیکھیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے حبشیوں کو اس سے روکنا چاہا لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : عمر رضی اللہ عنہ انہیں چھوڑ دو۔
بخاری کتاب الجهاد باب اللهو بالحراب ونحوها ح : 2901 ۔ مسلم کتاب صلاة العيدين باب الرخصة في اللعب الذي لا معصية فيه ح : 893
مسجد میں اس کھیل کی اجازت دے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑی فراخی اور وسعت ظرفی کا ثبوت دیا تا کہ دین اور دنیا دونوں کو جمع کیا جا سکے۔ یہ محض کھیل نہیں تھا بلکہ ورزش بھی تھی اور ٹریننگ بھی۔ مذکورہ حدیث کے پیش نظر علماء کہتے ہیں کہ مسجد تمام مسلمانوں کے معاملات کا مرکز ہے لہذا جو کام بھی دین اور اہل دین کی منفعت کے ہوں، ان کو اس میں انجام دینا جائز ہے۔ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کو اس تلخ حقیقت پر غور کرنا چاہیے کہ ان کی مسجدیں کس طرح زندگی کے حقائق اور قوت سے خالی ہو گئی ہیں !

گھوڑے پر سواری

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :
وَالْخَيْلَ وَالْبِغَالَ وَالْحَمِيرَ لِتَرْكَبُوهَا وَزِينَةً
”اس نے گھوڑے اور خچر اور گدھے پیدا کیے تاکہ تم ان پر سوار ہو اور رونق کا کام دیں۔“
سورۃ النحل : 8
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
الخيل معقود بنواصيها الخير
”گھوڑوں کی پیشانیاں خیر سے بندھی ہوئی ہیں۔“
بخاری کتاب الجهاد باب الخيل معقود في نواصيها الخير ح : 2850 ۔ مسلم كتاب الامارة باب فضيلة الخيل ح : 1873
نیز فرمایا :
ارموا واركبوا
”تیر چلاؤ اور سواری کرو۔“
مسند احمد : 144/4، 148 ، ترمذی کتاب فضائل الجهاد باب ماجاء في فضل الرمي في سبيل الله ح : 1637 ابن ماجه کتاب الجهاد باب الرمي في سبيل الله ح : 2811 واسناده ضعيف
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : اپنی اولاد کو تیراکی اور تیر اندازی سکھاؤ اور ان سے کہو کہ وہ گھوڑے پر چھلانگ لگا کر سوار ہوں۔
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے گھوڑوں کا مقابلہ کرایا اور آگے نکل جانے والے کو انعام دیا۔
مسند احمد : 91/2 وللحديث شواهد
یہ گھوڑ دوڑ کی حوصلہ افزائی کے لیے تھا کیونکہ یہ ورزش بھی ہے اور ٹریننگ بھی۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ کیا آپ حضرات عہد رسالت میں بازی لگاتے تھے اور کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خود بازی لگاتے تھے؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ! اللہ کی قسم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک گھوڑے کی بازی لگائی تھی جس کا نام سبحہ تھا، چنانچہ وہ سب لوگوں پر سبقت لے گیا اور یہ دیکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم خوش ہو گئے۔
مسند احمد : 3/ 256 ، 160 ۔ سنن الدارمی : 212/2 – 213
مباح بازی کی صورت یہ ہے کہ انعام، دوڑ میں حصہ لینے والے فریقین کی جانب سے نہ ہو بلکہ کسی اور کی جانب سے ہو۔ یا صرف ایک فریق کی جانب سے ہو۔ لیکن اگر فریقین کی جانب سے انعام ہو کہ جو سبقت لے جائے گا اس کو انعام ملے گا تو یہ جوا ہے جو ممنوع ہے اور اس قسم کے گھوڑے کو جو جوئے کے لیے استعمال کیا جائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شیطانی گھوڑے سے تعبیر کیا ہے اور اس کی قیمت وغیرہ کو گناہ قرار دیا ہے۔
مسند احمد : 381/5 ، 69/4 نحو المعنى
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : گھوڑے تین قسم کے ہوتے ہیں ایک رحمن کے لیے دوسرا انسان کے لیے اور تیسرا شیطان کے لیے۔ تو جو گھوڑا رحمن کے لیے ہوتا ہے وہ اللہ کی راہ میں باندھا جاتا ہے۔ اور جو شیطان کے لیے ہوتا ہے وہ جُوئے (ریس) کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اور جو انسان کے لیے ہوتا ہے اسے آدمی افزائش نسل کے لیے پالتا ہے اور اس کی محتاجی دور کرنے کا ذریعہ بن جاتا ہے۔
مسند احمد : 395/1 ۔ مسند الشاشی : 832 ۔ بیهقی : 2110