دوڑ اور کشتی کے جائز کھیل صحیح احادیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس ڈاکٹر یوسف القرضاوی کی کتاب اسلام میں حلال و حرام سے ماخوذ ہے جس کا اُردو ترجمہ محمد طاھر نقاش صاحب نے کیا ہے۔

جائز کھیل کی قسمیں

تفریح کی کتنی ہی قسمیں اور کھیل کے کتنے ہی چھوٹے طور طریقے ایسے ہیں، جن کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمان کے لیے جائز قرار دیا ہے تاکہ ان کے بارِ خاطر کو ہلکا کرنے اور ان کے لیے تفریح طبع کا سامان ہو۔ یہ کھیل ایسے ہیں جو عبادات اور واجبات کی ادائیگی پر بلکہ ان کاموں میں سرگرمی کے ساتھ حصہ لینے پر، انسان کو آمادہ کرتے ہیں، نیز ان ورزشی کھیلوں کے ذریعہ ایسی ٹریننگ حاصل ہوتی ہے جو قوت میں اضافہ کا موجب ہوتی ہے اور اس سے آدمی میدان جہاد کے لیے تیار ہو جاتا ہے۔ درج ذیل کھیل اسی قبیل سے ہیں :

دوڑ میں مقابلہ

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم دوڑ میں مقابلہ کرتے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم انہیں ایسا کرنے دیتے۔ روایت ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ دوڑ لگانے میں بہت تیز تھے۔
سنن دار قطنی : 3054 بيهقى : 22/10 و اسناده ضعیف
نبی صلی اللہ علیہ وسلم خود اپنی زوجہ مطہرہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ان کو خوش کرنے کی خاطر اور صحابہ کو تعلیم دینے کی غرض سے، دوڑ میں مقابلہ کرتے تھے۔ چنانچہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوڑ میں میرا مقابلہ کیا تو میں آگے نکل گئی۔ پھر جب میرا جسم بڑھ گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسابقت میں مجھے ہرا دیا اور فرمایا۔ یہ اس وقت کا بدلہ ہے۔
مسند احمد : 2/ 26439 ابو داؤد كتاب الجهاد باب فى السبق على الرجل ح : 2578 ۔ ورواه ابن ماجه في كتاب النكاح : 1979 مختصراً جداً

کشتی لڑنا

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مشہور پہلوان رکانہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ کشتی لڑی اور اس کو کئی بار پچھاڑ دیا۔
ابو داؤد کتاب اللباس باب فی العمائم ح : 4078 ، ترمذی کتاب اللباس باب العمائم على القلانس ح : 1784
فقہاء نے ان احادیث سے یہ حکم مستنبط کیا ہے کہ دوڑ میں مقابلہ کرنا جائز ہے خواہ مرد باہم دوڑ لگائیں یا محرم عورتوں یا اپنی بیویوں کے ساتھ دوڑ لگائیں۔ دوڑ کا یہ مقابلہ اور کشتی لڑنا، وقار و شرف علم و فضل اور عمر کی بزرگی کے کسی طرح بھی خلاف نہیں ہے کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ دوڑے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر پچاس سے زیادہ تھی۔