شکار کرنا
ایک مفید تفریح جس کو اسلام نے جائز قرار دیا ہے، وہ شکار کرنا ہے۔ اس سے آدمی فائدہ بھی اٹھاتا ہے اور ورزش بھی خوب ہوتی ہے۔ نیز یہ کمائی کا ذریعہ بھی ہے۔ شکار خواہ تیر نیزہ بندوق وغیرہ جیسے کسی آلہ کے ذریعہ کیا جائے یا شکاری کتوں اور پرندوں کے ذریعہ، تمام مذکورہ دونوں صورتوں میں جائز ہے۔ رہے شرائط تو ان کا ذکر اس سے پہلے گزر چکا۔
اسلام نے شکار صرف دو حالتوں میں ممنوع قرار دیا ہے ایک حج یا عمرہ کے احرام کی حالت میں اور دوسرے حرم مکہ کے اندر، کیونکہ اسلام نے اس کو امن وسلامتی کا علاقہ قرار دیا ہے۔
چوسر کا کھیل
ہر وہ کھیل جس میں جوا ہو، حرام ہے۔ اور جوا ہر وہ کھیل ہے جو نفع یا نقصان سے خالی نہ ہو۔ یہی وہ میسر ہے جس کا ذکر قرآن نے شراب تھانوں اور پانسوں کے حرام قرار دینے ساتھ کیا ہے۔
سورة المائدة : 90 ، 91
حدیث نبوی ہے : جو اپنے ساتھی سے کہے کہ آؤ ہم جوا کھیلیں اسے چاہیے کہ صدقہ کرے۔
بخاری کتاب الايمان باب لا يحلف باللات والعزى ح : 6650 ۔ مسلم کتاب الایمان باب حلف باللات والعزى ح : 1647
یعنی مجرد جوئے کی طرف بلانا بھی گناہ ہے جس کا کفارہ یہ ہے کہ وہ شخص صدقہ کرے۔ چوسر کا کھیل بھی اسی قبیل سے ہے۔ جب اس کے ساتھ جوا بھی لگا ہوا ہو تو باتفاق رائے حرام ہے۔ اور اگر اس میں جوا شامل نہ ہو تو علماء کے ایک گروہ کے نزدیک حرام ہے جبکہ بعض اسے حرام نہیں بلکہ مکروہ کہتے ہیں۔ جو علماء حرمت کے قائل ہیں ان کی دلیل سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
من لعب بالنردشير فكأنما صبغ يده فى لحم خنزير ودمه
”جس نے نردشیر (چوسر) کا کھیل کھیلا اس نے گویا اپنے ہاتھ خنزیر کے گوشت اور اس کے خون میں رنگ لیے۔“
مسند احمد : 352/5 ۔ مسلم کتاب الشعر باب تحريم اللعب بالنرد ح : 2260
اور سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
من لعب بالنرد فقد عصى الله ورسوله
مسند احمد : 394/4 ۔ ابو داود كتاب الادب باب في النهي عن اللعب بالنرد ح : 4938 ، ابن ماجه كتاب الادب باب اللعب بالنرد ح : 3762
”جس نے چوسر کا کھیل کھیلا اس نے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی۔“
یہ دونوں حدیثیں اپنے مضمون میں صریح ہیں اور ہر چوسر کھیلنے والے پر منطبق ہوتی ہیں خواہ اس میں جوئے کا عنصر شامل ہو یا نہ ہو۔ امام شوکانی رحمہ اللہ کہتے ہیں : منقول ہے کہ ابن مغفل اور ابن مسیب رحمہ اللہ نے چوسر کے کھیل کو جو جوئے سے خالی ہو جائز کہا ہے۔
نیل الاوطار : 107/8
ایسا معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے مذکورہ احادیث کو جوئے کے کھیل پر محمول کیا ہے۔
شطرنج کا کھیل
کھیل کی ایک مشہور قسم شطرنج ہے جس کے حکم کے بارے میں فقہاء کے درمیان اختلاف ہے۔ کوئی جواز کا قائل ہے تو کوئی کراہت کا اور کسی کے نزدیک حرام ہے۔
جو فقہاء حرمت کے قائل ہیں، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث سے استدلال کرتے ہیں، لیکن ناقدینِ حدیث نے ان احادیث کو رد کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ شطرنج کا وجود صحابہ کے زمانہ سے پہلے نہ تھا، اس لیے جو حدیثیں بھی اس سلسلہ میں وارد ہوئی ہیں وہ باطل ہیں۔
صحابہ رضی اللہ عنہم بھی اس معاملہ میں مختلف الرائے تھے۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : یہ چوسر سے بدتر ہے۔
تفسیر الدر المنثور : 169/3
اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : یہ جوئے کی ایک قسم ہے۔
تفسیر الدر المنثور : 168/3
غالباً آپ کی مراد اس شطرنج سے ہے جس میں جوا شامل ہو۔ اور بعض صحابہ رضی اللہ عنہم سے کراہت بھی منقول ہے۔
لیکن بعض صحابہ رضی اللہ عنہم اور تابعین سے اس کا جواز منقول ہے مثلاً ابن عباس رضی اللہ عنہ، ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ، ابن سیرین رحمہ اللہ، ہشام بن عروہ رحمہ اللہ، سعید بن مسیب رحمہ اللہ اور سعید بن جبیر رحمہ اللہ۔
للتفصیل نیل الأوطار : 107/8-108
راقم السطور کی رائے بھی ان اصحاب ہی کے مسلک کے مطابق ہے یعنی اس معاملہ میں اصل جواز ہے۔ اور کوئی نص ایسی وارد نہیں ہوئی ہے جو حرمت پر دلالت کرتی ہو۔ علاوہ ازیں اس میں ذہنی ورزش اور فکری تربیت کا سامان بھی ہے۔ اس لیے اس کو چوسر سے مختلف سمجھنا چاہیے۔ اور اسی بنا پر ان اصحاب کا کہنا ہے کہ چوسر کی خصوصیت محظوظ ہونا ہے، اس لیے وہ پانسوں سے مشابہ ہے، لیکن شطرنج کی خصوصیت ذہانت و تدبیر ہے اس لیے وہ تیر اندازی سے مشابہ ہے۔
جو حضرات جواز کے قائل ہیں وہ تین شرطوں کے ساتھ اس کی اجازت دیتے ہیں :
◈ اس کی وجہ سے نماز اپنے وقت سے مؤخر نہ ہونے پائے فرض فوت نہ ہو۔ کیونکہ اس میں سب سے بڑا خطرہ نماز کے اوقات کی پابندی نہ کرنے ہی کا ہے۔
◈ اس میں جوا شامل نہ ہو۔
مصنف كا شطرنج كو كسي بهي شرط كے ساته مشروط كر كے يا بلا شرط جائز قرار دينا بالكل غلط اور بے بنياد هے . عبدالله بن نافع رحمه الله كهتے هيں : همارے تمام علماء اس شطرنج كو برا سمجهتے تهے. شعب الايمان : 233/5 ، حديث : 6528
سيدنا على المرتضي رضى الله عنه نے كچه لوگوں كو شطرنج كهيلتے ديكها تو فرمايا : كوئلے كو اس كے بجهنے تك هاته ميں تهامے ركهو، يه تمهارے ليے شطرنج كهيلنے سے بهتر هے. اور آپ رضى الله عنه نے شطرنج كهيلنے والوں سے كها تها : تم اس كام كے ليے پيدا نهيں كيے گئے. اور آپ رضى الله عنه نے غصے كي شدت ميں شطرنج كهيلنے والوں كے چهروں پر تهپڑ ماركر انهيں سزا دينے كي خواهش كا اظهار بهي كيا تها. سيدنا ابو سعيد خدري رضى الله عنه شطرنج كهيلنے كو برا سمجهتے تهے. سنن بيهقي الكبري : 212/10
امام ابن سيرين رحمه الله نے شطرنج كهيلنے والے كي گواهي كو رد كر دينا بهتر خيال كيا هے. شعب الايمان : 233/5 ، حديث : 6527
شطرنج كهيلنا وقت كا ضياع هے. مومن ايسي فضول كهيلوں سے گريز كرتا هے. نبي كريم صلى الله عليه وسلم نے فرمايا : بهتر اسلام كي علامت يهي هے كه انسان فضول كاموں كو چهوڑ دے. سنن الترمذي كتاب الزهد باب فيمن تكلم بكلمته حديث : 2318
وقت كو غير ضروري امور ميں ضائع كرنا مومن كي شان نهيں. لهذا ايسي كهيلوں سے اجتناب كرنا ضروري هے. مصنف نے شطرنج كو ذهني ورزش كا ذريعه قرار ديا هے. اور نماز وغيره كے وقت كا خيال ركهنے كي شرط كے ساته مشروط كر كے جائز قرار ديا هے. جبكه يه دونوں باتيں غلط اور باطل هيں. اگر شطرنج ميں ذهني ورزش يا كسي بهي قسم كا مثبت و مفيد پهلو موجود هوتا تو صحابه كرام رضي الله عنهم اس كي شديد الفاظ ميں مذمت كر كے كبهي اس سے منع نه كرتے. اور مصنف نے تو يه بهي موقف اپنايا هے كه اس كهيل سے نماز كے اوقات ميں تاخير كا خدشه هوتا هے لهذا اگر نمازوں كے اوقات كا خيال ركها جائے تو شطرنج كهيلنا جائز هے. واه سبحان الله پهر تو مصنف كے پاس بهت سي بدعنوانيوں، بري عادات اور اخلاقي و سماجي برائيوں كي ايك لمبي فهرست موجود هوگي جن كو صرف اس شرط پر جائز قرارديا هوگا كه تم يه برائياں بهي كرتے جاؤ اور صحيح وقت پر نماز كي ادائيگي كا بهي خيال ركهو تو كوئي حرج نهيں. انا لله وانا اليه راجعون حقيقت يه هے كه اسلام اپنے ماننے والوں كو تفريحي امور سے لطف اندوز هونے كے مواقع فراهم كرتا اور صحت مند و تربيتي كهيلوں كي حوصله افزائي كرتا هے. ليكن ايسے تفريحي كهيلوں كي يقينا حوصله شكني كرتا هے جو انسان كو سست، كاهل، نكما اور ايماني جذبات ميں سرد كر ديں. اور عبادت و ذكر الهي سے دور كر ديں. يه بهي ياد ركهيے كه اسلام كسي بهي كهيل كو محض اس ليے حرام قرار نهيں ديتا كه اس سے نمازوں كے اوقات متاثر هوں گے، يا انسان عبادات كو بروقت ادا كرنے ميں كاهلي كرے گا. بلكه جو كهيل اسلام ميں ممنوع، حرام يا برا تصور كيا جاتا هے اس ميں اور بهي بهت سي حكمتيں پنهاں هوتي هيں. شطرنج اور اس كي طرح كے ديگر كهيلوں ميں مشغول رهنے والا شخص كبهي بهي نمازوں يا ديگر عبادات كے اوقات كا لحاظ نهيں كرتا اور ان كهيلوں ميں بهت حد تك جوا بهي لازما شامل هوتا هے. جو كه اسلام نے حرام قرار ديا هے. بالفرض هم مصنف كي عائد كرده شروط كو ايك لمحے كے ليے قبول كر كے شطرنج وغيره كو جائز قرار دے ديں تو پهر بهي يه بات ذهن نشيں ركهني چاهيے كه جو عمل عرف عام يعني سمجهدار معزز اور سنجيده لوگوں ميں بالخصوص اور عوام الناس كي نظر ميں بالعموم برے اور آواره منش لوگوں كي طرف منسوب كيا جائے اسے كهيلنا يا اس كے كهيلے جانے كي محفل ميں بيٹهنا بهي نا جائز و نا مناسب هے. (ابوالحسن مبشر احمد رباني)
◈ کھیلنے والا کھیل کے دوران اپنی زبان کو فحش اور بد کلامی سے محفوظ رکھے۔ اگر ان میں سے کسی ایک شرط کی بھی پابندی نہ کی جائے تو یہ کھیل حرام ہوگا۔