ترجمہ و تفسیر — سورۃ البقرة (2) — آیت 280

وَ اِنۡ کَانَ ذُوۡ عُسۡرَۃٍ فَنَظِرَۃٌ اِلٰی مَیۡسَرَۃٍ ؕ وَ اَنۡ تَصَدَّقُوۡا خَیۡرٌ لَّکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ ﴿۲۸۰﴾
اور اگر کوئی تنگی والا ہو تو آسانی تک مہلت دینالازم ہے اور یہ بات کہ صدقہ کر دو تمھارے لیے بہتر ہے، اگر تم جانتے ہو۔ En
اور اگر قرض لینے والا تنگ دست ہو تو (اسے) کشائش (کے حاصل ہونے) تک مہلت (دو) اور اگر (زر قرض) بخش ہی دو توتمہارے لئے زیادہ اچھا ہے بشرطیکہ سمجھو
En
اور اگر کوئی تنگی والا ہو تو اسے آسانی تک مہلت دینی چاہئے اور صدقہ کرو تو تمہارے لئے بہت ہی بہتر ہے، اگر تم میں علم ہو En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 280){وَ اِنْ كَانَ ذُوْ عُسْرَةٍ …:} جاہلیت میں قرض ادا نہ کرنے کی صورت میں سود در سود سے اصل رقم میں اضافہ ہوتا جاتا، جس سے تھوڑی سی رقم ایک پہاڑ بن جاتی اور اس کی ادائیگی ناممکن ہو جاتی، آج کل بھی یہی حال ہے۔ اس کے برعکس اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ کوئی تنگدست ہو تو(سود تو درکنار) آسانی تک اسے مہلت دو اور اگر قرض بالکل معاف کر دو تو زیادہ اچھا ہے۔ احادیث میں اس کی بہت فضیلت آئی ہے، بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جس نے کسی تنگدست کو مہلت دی تو اسے ہر دن اس قرضے کے برابر صدقے کا ثواب ملے گا۔ پھر میں نے آپ کو یہ فرماتے ہوئے بھی سنا: جس نے کسی تنگدست شخص کو مہلت دی تو اسے ہر دن اس قرض سے دگنا صدقے کے برابر ثواب ملے گا۔ میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! میں نے آپ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جس نے کسی تنگدست کو مہلت دی تو اسے ہر دن اس قرض کے برابر صدقے کا ثواب ملے گا اور پھر میں نے آپ کو یہ فرماتے ہوئے بھی سنا کہ جس شخص نے کسی تنگدست کو مہلت دی تو اسے ہر دن اس قرض سے دگنا صدقے کے برابر ثواب ملے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قرض چکانے کی مدت تک اسے قرض کے برابر صدقے کا ثواب ملے گا اور اگر قرض چکانے کی مدت کے آنے پر مہلت دے تو اسے قرض سے دگنا صدقے کے برابر ثواب ملے گا۔ [مسند أحمد: 360/5، ح: ۲۳۱۱۰۔ الصحیحۃ: ۸۶]
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے اپنے قرض دار کو مہلت دی یا قرض معاف کر دیا تو اللہ تعالیٰ اسے (قیامت کے دن) اپنا سایہ عطا فرمائے گا۔ [مسلم، الزہد، باب حدیث جابر الطویل …: ۳۰۰۶، عن عبادۃ بن الصامت رضی اللہ عنہ]

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

280۔ 1 زمانہ جاہلیت میں قرض کی ادائیگی نہ ہونے کی صورت میں سود در سود اصل رقم میں اضافہ ہی ہوتا چلا جاتا تھا جس سے تھوڑی سی رقم ایک پہاڑ بن جاتی تھی اور اس کی ادائیگی ناممکن ہوجاتی تھی اس کے برعکس اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ کوئی تنگ دست ہو تو (سود لینا تو درکنار اصل مال لینے میں بھی) آسانی تک اسے مہلت دے دو اور اگر قرض بالکل ہی معاف کردو تو زیادہ بہتر ہے حدیث میں اس کی بڑی فضیلت بیان کی گئی ہے کتنا فرق ہے ان دونوں نظاموں میں ایک سراسر ظلم، سنگدلی اور خود غرضی پر مبنی نظام اور دوسرا ہمدردی، تعاون اور ایک دوسرے کو سہارا دینے والا نظام۔ مسلمان خود ہی اس بابرکت اور پر رحمت نظام الٰہی کو نہ اپنائیں تو اس میں اسلام کا کیا قصور اور اللہ پر کیا الزام؟ کاش مسلمان اپنے دین کی اہمیت وافادیت کو سمجھ سکیں اور اس پر اپنے نظام زندگی کو استوار کرسکیں۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

280۔ اور اگر مقروض تنگ دست ہے تو اسے اس کی آسودہ حالی تک مہلت دینا چاہیے۔ اور اگر (راس المال بھی) چھوڑ ہی دو تو یہ تمہارے [400] لیے بہت بہتر ہے۔ اگر تم یہ بات سمجھ سکو
[400] مقروض کو مہلت دینے یا اسے معاف کر دینے میں جو بہتری ہے وہ درج ذیل احادیث سے واضح ہوتی ہے:
(1) حضرت ابو قتادہؓ فرماتے ہیں کہ: ”جس شخص کو یہ بات محبوب ہو کہ اللہ تعالیٰ اسے قیامت کی سختیوں سے نجات دے اسے چاہئے کہ تنگدست کو مہلت دے یا پھر اسے معاف کر دے۔“ [مسلم: كتاب المساقاة و المزارعة، باب فضل انظار المعسر]
(2)
قرضہ میں مہلت کی فضیلت:۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: ”جس شخص کے ذمہ کسی کا قرضہ ہوا اور مقروض ادائیگی میں تاخیر کرے تو قرض خواہ کے لئے ہر دن کے عوض صدقہ ہے۔“ [احمد بحواله، مشكوٰة۔ كتاب البيوع۔ باب الافلاس والا نظار، فصل ثالث]
(3) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص کسی تنگ دست کو مہلت دے یا معاف کر دے، قیامت کے دن اللہ اسے اپنے سایہ میں جگہ دے گا۔“ (طویل حدیث سے اقتباس) [مسلم۔ كتاب الزهد۔ باب حديث جابر و قصة ابي بسير] اور اگر مقروض تنگدست ہو اور قرض خواہ زیادہ ہوں تو اسلامی عدالت قرض خواہ یا قرض خواہوں سے مہلت دلوانے یا قرض کا کچھ حصہ معاف کرانے کی مجاز ہوتی ہے۔ (اس صورت حال کو ہمارے ہاں دیوالیہ کہتے ہیں اور عربی میں افلاس اور تفلیس) چنانچہ حضرت ابو سعیدؓ کہتے ہیں کہ دور نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں ایک شخص کو پھل کی خرید و فروخت میں نقصان ہوا اور اس کا قرضہ بہت بڑھ گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے فرمایا: ”اس پر صدقہ کرو“ لوگوں نے صدقہ کیا، پھر بھی اتنی رقم نہ ہو سکی جو قرضے پورے کر سکے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرض خواہوں سے فرمایا: ”جو کچھ (قرضہ کی نسبت سے) تمہیں ملتا ہے لے لو اور تمہارے لئے یہی کچھ ہے۔“ [مسلم۔ كتاب المساقاة و المزارعة۔ باب وضع الجوائع] عبد اللہ بن کعبؓ کہتے ہیں کہ (میرے باپ) کعب بن مالک نے عبد اللہ بن ابی حدرد سے مسجد نبوی میں اپنے قرض کا تقاضا کیا۔ دونوں چلانے لگے۔ آپ اپنے حجرہ میں تھے۔ ان دونوں کی آوازیں سنیں تو آپ حجرے کا پردہ اٹھا کر برآمد ہوئے اور کعبؓ کو پکارا۔ کعبؓ نے کہا: حاضر یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارے سے فرمایا: ”آدھا قرض چھوڑ دو۔“ کعبؓ کہنے لگے: یا رسول اللہ! میں نے چھوڑ دیا۔ پھر آپ نے ابو حدردؓ سے فرمایا: ”اٹھ اور اس کا قرض ادا کر۔“ [بخاري۔ كتاب الحضومات۔ باب كلام الحضوم بعضهم فى بعض۔ نيز كتاب الصلٰوة، باب التقاضي و الملازمة فى المسجد] ہاں اگر کوئی قرض خواہ مقروض کے ہاں اپنی چیز (جس کی مقروض نے قیمت ابھی ادا نہ کی تھی) بجنسہ پالے تو وہ اس کی ہو گی۔ [بخاري۔ كتاب فى الاستقراض۔ باب من وجد ماله عند مفلس نيز مسلم۔ كتاب المساقاة و المزارعة، باب من ادرك ماله۔۔۔] دیوالیہ کی صورت میں اسلامی عدالت مقروض کی جائیداد کی قرقی کر سکتی ہے۔ چنانچہ حضرت کعب بن مالکؓ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذؓ کو اپنے مال میں تصرف کرنے سے روک دیا تھا اور وہ مال ان کے قرض کی ادائیگی کے لئے فروخت کیا گیا۔ [رواه دارقطني و صححه الحاكم و اخرجه، ابو داؤد مرسلاً]
البتہ درج ذیل اشیاء قرقی سے مستثنیٰ کی جائیں گی۔
(1) مفلس کے رہنے کا مکان، (2) اس کے اور اس کے اہل خانہ کے پہننے والے کپڑے، (3) اگر تاجر ہے تو بار دانہ اور محنت کش ہے تو اس کے کام کرنے کے اوزار، (4) اس کے اور اس کے اہل خانہ کے کھانے پینے کا سامان اور گھر کے برتن وغیرہ۔ [فقه السنة، ج 3 ص 408]

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَاِنْ كَانَ اور اگر کوئی مقروض ﴿ ذُوْ عُسْرَةٍ تنگی والا ہو جسے قرض کی ادائیگی کے لیے مال میسر نہ ہو ﴿ فَنَظِرَةٌ اِلٰى مَیْسَرَةٍ تو اسے آسانی تک مہلت دینی چاہیے۔ یہ واجب ہے کہ ایسے مقروض کو اتنی مہلت دی جائے کہ اسے قرض واپس کرنے کے لیے مال مل جائے۔ ﴿ وَاَنْ تَصَدَّقُ٘وْا خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ اور صدقہ کرو (کہ سارا یا کچھ قرض معاف کردو) تو تمھارے لیے بہت ہی بہتر ہے۔ اگر تمھیں علم ہو۔
﴿ وَاتَّقُوْا یَوْمًا تُرْجَعُوْنَ فِیْهِ اِلَى اللّٰهِ١۫ۗ ثُمَّؔ تُوَفّٰى كُ٘لُّ نَ٘فْ٘سٍ مَّا كَسَبَتْ وَهُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ اور اس دن سے ڈرو جس میں تم سب اللہ کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔ اور ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔ اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔ یہ آیت مبارکہ قرآن مجید کی ان آیات میں شامل ہے جو سب سے آخر میں نازل ہوئیں۔ اس پر ان احکام اور اوامر و نواہی کو ختم کیا گیا کیونکہ اس میں نیکی پر جزا کا وعدہ ہے، برائی پر سزا کی وعید ہے اوریہ بیان ہے کہ جس شخص کو یہ یقین ہوتا ہے کہ وہ اللہ کے پاس جانے والا ہے، جو اسے ہر چھوٹے بڑے، ظاہر اور پوشیدہ عمل کی جزا دے گا، اور وہ اس پر ذرہ برابر ظلم نہیں کرے گا، اس یقین کے نتیجے میں اس کے دل میں رغبت و رہبت (شوق اور خوف) کی کیفیت پیدا ہوجاتی ہے۔ جب تک دل میں یہ یقین جاگزیں نہ ہو، یہ چیز کسی طرح پیدا نہیں ہوسکتی۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{وإن كان ذو عسرة فنظرة إلى ميسرة}؛ أي: وإن كان الذي عليه الدَّين معسراً لا يقدر على الوفاء وجب على غريمه أن يُنْظِره إلى ميسرة، وهو يجب عليه إذا حصل له وفاء بأي طريق مباح أن يوفي ما عليه، وإن تصدق عليه غريمه بإسقاط الدَّينِ كلِّه أو بعضه فهو خير له، ويهون على العبد التزام الأمور الشرعية واجتناب المعاملات الربوية والإحسان إلى المعسرين؛ عِلْمُه بأن له يوماً يرجع فيه إلى الله ويوفيه عمله ولا يظلمه مثقال ذرة. كما ختم هذه الآية بقوله: {واتقوا يوماً ترجعون فيه إلى الله ثم توفى كل نفس ما كسبت وهم لا يظلمون}؛ ثم قال تعالى: