عن أبى هريرة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم سئل أى العمل أفضل قال إيمان بالله ورسوله قيل ثم ماذا قال الجهاد فى سبيل الله قيل ثم ماذا قال حج مبرور.
”ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا کہ کون سا عمل افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ اور اس کے رسول اللہ پر ایمان لانا۔ “ کہا گیا پھر کیا؟ (یعنی پھر کون سا عمل افضل ہے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کے راستے میں جہاد کرنا۔ “ کہا گیا پھر کیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حج مبرور۔ “
(صحیح بخاری و مسلم) (رواه البخاري كتاب الايمان باب من قال الايمان هو العمل واللفظ له الرقم: 26 / مسلم كتاب الايمان باب بيان كون الايمان بالله تعالى أفضل الرقم: 83)
چند فوائد مستنبطہ
اس حدیث میں کئی کاموں کو سب سے زیادہ فضیلت والے کام بتلایا گیا ہے:
اللہ اور اس کے رسول اللہ پر ایمان:
اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے کا مطلب یہ ہے کہ صرف اسی کو ہی اللہ، معبود اور کارساز مانا جائے اور اس کی جملہ صفات کو تسلیم کیا جائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کا مطلب یہ ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ کا سچا اور آخری رسول مانا جائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کی جائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ حسنہ کو اختیار کیا جائے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی بھی امتی کے قول و فعل پر اعتماد نہ کیا جائے۔
جہاد فی سبیل اللہ:
اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے دین کے غلبہ کے لیے جانی، مالی اور زبانی طور پر جد و جہد جاری رکھی جائے اور اس سلسلہ میں جو رکاوٹیں آتی ہیں ان کا احسن انداز سے مقابلہ کیا جائے۔
حج مبرور:
اس سے مراد وہ حج ہے جو سنت کے مطابق کیا گیا ہو اور لڑائی جھگڑے اور گناہوں سے بچنے کی پوری کوشش کی گئی ہو، اس لیے اس کا معنی مقبول حج بھی کیا جاتا ہے۔
مراتب اعمال:
حدیث مذکور سے درجہ و افضلیت کے اعتبار سے مراتب اعمال کا مقام بھی معلوم ہوا کہ افضل ترین عمل اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول اللہ پر ایمان لانا ہے، پھر باقی اعمال کا درجہ ہے۔