مضمون کے اہم نکات
سوال:
نماز تراویح میں نابالغ سامع کو پہلی صف میں کھڑا کرنا کیسا ہے؟
جواب:
جائز ہے۔
سوال:
تراویح میں سامع کی جگہ مخصوص کرنے کے لیے جائے نماز بچھانا کیسا ہے؟
جواب:
یہ ضرورت ہے، کیونکہ سامع ایسی جگہ پر کھڑا ہوتا ہے جہاں وہ قاری کی قرآت بالکل صحیح سماعت کر سکے اور غلطی کی صورت میں بآسانی لقمہ دے سکے۔ اس لیے سامع کی جگہ مختص کرنے کے لیے جائے نماز بچھانا درست ہے۔
سوال:
کیا تراویح کی جماعت مسجد کے علاوہ ہو سکتی ہے؟
جواب:
تراویح کی نماز کہیں بھی ہو سکتی ہے۔
سوال:
ڈاڑھی منڈوانے والے کا نماز تراویح کی امامت کرنا کیسا ہے؟
جواب:
ڈاڑھی منڈوانا اعلانیہ کبیرہ گناہ ہے، ایسا شخص فاسق ہے اور فاسق کو کسی نماز کا امام نہیں بنانا چاہیے، نہ نفل کا، نہ فرض کا۔
سوال:
مصحف سے دیکھ کر امامت کرانا کیسا ہے؟
جواب:
نماز میں زبانی قراءت کی قدرت نہ ہو تو قرآن ہاتھ میں پکڑ کر قراءت کی جا سکتی ہے، محدثین اسے جائز سمجھتے تھے، اسی طرح اگر سامع حافظ نہ ہو تو وہ بھی ایسا کر سکتا ہے۔ اس کے دلائل درج ذیل ہیں:
➊ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں ہے:
يؤمها عبدها ذكوان من المصحف
”ان کے غلام ذکوان انہیں امامت قرآن مجید سے دیکھ کر کرواتے تھے۔“
(صحيح البخاري: 1/96 تعليقاً، مصنف ابن أبي شيبة: 2/337، كتاب المصاحف لابن أبي داود: 797، السنن الكبرى للبيهقي: 2/253، وسنده صحيح)
حافظ نووی رحمہ اللہ (خلاصة الأحكام: 1/550) نے سند کو صحیح اور حافظ ابن حجر رحمہ اللہ (تغليق التعليق: 2/291) نے روایت کو صحیح قرار دیا ہے۔
➋ امام شعبہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
في الرجل يؤم في رمضان يقرأ في المصحف رخص فيه
”حکم بن عتیبہ رحمہ اللہ رمضان المبارک میں قرآن سے دیکھ کر قرآت کرنے کی رخصت دیتے تھے۔“
(مصنف ابن أبي شيبة: 2/337، وسنده صحيح)
➌ امام حسن بصری رحمہ اللہ اور امام محمد بن سیرین رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
”نماز میں قرآن پکڑ کر قراءت کرنے میں کوئی حرج نہیں۔“
(مصنف ابن أبي شيبة: 2/337، وسنده صحيح)
➍ عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
”نماز میں قرآن سے دیکھ کر قراءت کرنے میں کوئی حرج نہیں۔“
(مصنف ابن أبي شيبة: 2/337، وسنده صحيح)
➎ امام یحییٰ بن سعید انصاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
لا أرى بالقراءة من المصحف في رمضان بأسا يريد القرآن
”رمضان المبارک میں قرآن سے دیکھ کر قراءت میں حرج نہیں۔“
(كتاب المصاحف لابن أبي داود: 805، وسنده حسن)
➏ محمد بن عبداللہ بن مسلم رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
سألت ابن شهاب عن القراءة في المصحف يؤم الناس فقال لم يزل الناس منذ كان الإسلام يفعلون ذلك
”میں نے امام زہری رحمہ اللہ سے پوچھا کہ لوگ امامت کرواتے ہوئے قرآن ہاتھ میں پکڑ لیتے ہیں؟ فرمایا: شروع اسلام سے ہر دور کے مسلمان ایسا کرتے آئے ہیں۔“
(كتاب المصاحف لابن أبي داود: 806، وسنده حسن)
➐ امام مالک رحمہ اللہ سے سوال ہوا کہ ایک شخص قرآن ہاتھ میں پکڑ کر امامت کرواتا ہے؟ فرمایا:
لا بأس بذلك إذا اضطروا
”اگر مجبوری ہو تو حرج نہیں۔“
(كتاب المصاحف لابن أبي داود: 808، وسنده حسن)
➑ ثابت بنانی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
كان أنس يصلي وغلامه يمسك المصحف خلفه فإذا تعايا في آية فتح عليه
”سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نماز پڑھتے تو ان کا غلام ان کے پیچھے قرآن پکڑ کر کھڑا ہو جاتا۔ جب آپ کسی آیت پر رکتے تو لقمہ دے دیتا۔“
(مصنف ابن أبي شيبة: 2/337، السنن الكبرى للبيهقي: 3/212، وسنده صحيح)
ثابت ہوا کہ قرآن پکڑ کر قراءت کرنے سے نماز فاسد نہیں ہوتی۔ اس کے خلاف سلف سے کچھ ثابت نہیں۔
شیخ عبدالعزیز ابن باز رحمہ اللہ نے بھی فتح الباری (2/185) کی تحقیق میں اسے بوقت ضرورت جائز قرار دیا ہے۔
شبہات کا ازالہ:
جو لوگ کہتے ہیں کہ ہاتھ میں قرآن پکڑ کر نماز میں قراءت کرنے سے نماز فاسد ہو جاتی ہے، وہ یہ دلیل پیش کرتے ہیں:
❀ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے:
نهانا أمير المؤمنين عمر رضي الله عنه أن يؤم الناس في المصحف
”سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ہمیں قرآن ہاتھ میں پکڑ کر امامت کروانے سے منع فرمایا۔“
(كتاب المصاحف: 772)
سند سخت ضعیف ہے:
➊ نہشل بن سعید ”متروک اور کذاب“ ہے۔
(تقريب التهذيب لابن حجر: 7197، ميزان الاعتدال للذهبي: 4/275)
➋ ضحاک بن مزاحم کا سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے سماع نہیں۔
(شعب الإيمان للبيهقي: 3/367، 4/187؛ القرائة خلف الإمام للبيهقي: 197؛ تفسير ابن كثير: 5/236؛ التلخيص الحبير لابن حجر: 1/21؛ العجائب في بيان الأسباب لابن حجر، ص: 104)
➌ سلیم بن حنظلہ بکری رحمہ اللہ کے بارے میں ہے:
إنه مر على رجل يؤم قوما في مصحف فضربه برجله
”آپ رحمہ اللہ کا ایک شخص کے پاس سے گزر ہوا جو مصحف سے دیکھ کر امامت کروارہا تھا، تو آپ نے اسے پاؤں سے ٹھوکر ماری۔“
(كتاب المصاحف لابن أبي داود، ص 452)
سند ضعیف ہے۔
①سلیم بن حنظلہ بکری مجہول الحال ہے، اسے صرف امام ابن حبان رحمہ اللہ نے ثقات (4/332) میں ذکر کیا ہے۔
②سفیان ثوری مدلس ہیں، سماع کی تصریح نہیں کی۔
نوٹ:
”المصاحف“ کے نسخ میں سلیم بن حنظلہ کے بجائے سوید بن حنظلہ ہے، یہ ثقہ ہے۔ امام بخاری (التاريخ الكبير: 4/122)، امام ابو حاتم (الجرح والتعديل: 4/212)، امام ابن حبان رحمہ اللہ (4/332) وغیرہم کے نزدیک سلیم بن حنظلہ ہے۔ عیاش عامری، سلیم کے شاگردوں میں ہے، نہ کہ سوید بن حنظلہ کے۔
بعض ائمہ کے اقوال:
اس سلسلے میں بعض ائمہ کے اقوال بھی وارد ہوئے ہیں جن میں مصحف ہاتھ میں پکڑ کر نماز کی ممانعت کا مضمون وارد ہوا ہے، ان اقوال کا مختصر جائزہ ملاحظہ ہو:
➊ سعید بن مسیب (مصنف ابن ابی شیبہ: 2/124) اور حسن بصری (ایضاً) کا قول قتادہ کے عنعنہ کی وجہ سے ضعیف ہے۔
➋ مجاہد رحمہ اللہ (مصنف ابن ابی شیبہ: 2/124) کا قول لیث بن ابی سلیم کی وجہ سے ضعیف ہے۔
➌ امام شعبی رحمہ اللہ (مصنف ابن ابی شیبہ: 2/124) کا قول جابر جعفی کی وجہ سے ضعیف ہے۔
➍ ربیع بن انس رحمہ اللہ (المصاحف لابن ابی داود، ص 454) کا قول بھی ضعیف ہے، کیونکہ ابو جعفر عیسیٰ بن ابی عیسیٰ کی روایت ربیع بن انس سے ضعیف ہوتی ہے۔
حماد بن ابی سلیمان، قتادہ اور ابراہیم نخعی رحمہم اللہ نماز میں مصحف سے قراءت کو مکروہ سمجھتے ہیں۔ ان دونوں بزرگوں کے قول کو غیر اضطراری حالت پر محمول کیا جائے گا کہ جب قرآن کریم حفظ و ضبط ہونے کے باوجود ہاتھ میں پکڑ کر قراءت کرے تو مکروہ ہے۔ یوں تمام اقوال میں جمع و توفیق ہو جاتی ہے۔ اس کی تائید امام مالک رحمہ اللہ کے مندرجہ بالا قول سے بھی ہوتی ہے کہ ”مجبوری ہو تو ایسا کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔“ یوں امام زہری کا دعویٰ اجماع صحیح ثابت ہو جاتا ہے۔ ہم بھی بلا وجہ قرآن کریم ہاتھ میں پکڑ کر نماز میں قراءت کو مکروہ سمجھتے ہیں، البتہ اضطراری حالت میں جائز ہے۔
الحاصل:
نماز میں بوقت ضرورت قرآن ہاتھ میں پکڑ کر قراءت کی جا سکتی ہے، اسی طرح امام کو لقمہ دینے کے لیے قرآن سے دیکھ سننا بھی جائز ہے۔
سوال:
قرآن سے دیکھ کر لقمہ دینا کیسا ہے؟
جواب:
بلا کراہت جائز ہے۔
❀ ثابت بنانی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
كان أنس يصلي وغلامه يمسك المصحف خلفه فإذا تعايا في آية فتح عليه
”سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نماز پڑھتے تو ان کا غلام ان کے پیچھے قرآن پکڑ کر کھڑا ہو جاتا۔ جب آپ کسی آیت پر رکتے تو لقمہ دے دیتا۔“
(مصنف ابن أبي شيبة: 2/337، السنن الكبرى للبيهقي: 3/212، وسنده صحيح)
مصحف سے دیکھ کر لقمہ دینے سے نماز فاسد نہیں ہوتی۔ اس کے خلاف سلف سے کچھ ثابت نہیں۔