مسلمان کو فاسق کہنے کی ممانعت
① سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:
لا يرمي رجل رجلا بالفسق أو يرميه بالكفر إلا ارتدت عليه إن لم يكن صاحبه كذلك
”اگر کوئی آدمی کسی کو فسق یا کفر کا الزام دیتا ہے اور اگر وہ ایسا نہ ہو تو پھر یہ کلمہ اس کہنے والے پر لوٹ آتا ہے۔“
بخاری، کتاب الأدب 6045، مسند احمد، مسند الأنصار 2155، حدیث 21626۔
مسلمان کو گالی دینے کی ممانعت
① سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
سباب المسلم فسوق، وقتاله كفر
”مسلمان کو گالی دینا فسق اور اس سے لڑنا کفر ہے۔“
بخاری، کتاب الإیمان 48، مسلم، کتاب الإیمان 64/116۔
② سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
المستبان ما قالا فعلى الأول وفي رواية: فعلى البادئ منهما حتى يتعدى المظلوم
”گالی دینے والے دو افراد جو کچھ کہتے ہیں، اس کا گناہ پہلے شخص پر ہوتا ہے۔“ اور ایک روایت میں ہے: ”اس کا گناہ ان دونوں میں سے پہل کرنے والے پر ہوتا ہے حتی کہ مظلوم زیادتی کرنے پر اتر آئے۔“
مسلم، کتاب البر والصلة والآداب 2587/68، ابو داؤد، کتاب الأدب 4894، مسند احمد، باقی مسند المکثرین 2/315۔
ہوا کو برا بھلا کہنے کی ممانعت
① سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:
إن هذه الريح من روح الله، تأتي بالرحمة وتأتي بالعذاب، فإذا رأيتموها فلا تسبوها، وسلوا الله تعالى خيرها، واستعيذوا بالله من شرها
”یہ ہوا اللہ کی رحمت ہے، یہ رحمت لے کر آتی ہے اور عذاب بھی لاتی ہے، پس جب تم اسے دیکھو تو اسے برا بھلا نہ کہو بلکہ اللہ تعالیٰ سے خیر و بھلائی اور اس کے شر سے پناہ طلب کرو۔“
ابو داؤد، کتاب الأدب 5097، ابن ماجه، کتاب الأدب 3727۔
رنجش و دشمنی رکھنے کی ممانعت
① سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
تفتح أبواب الجنة يوم الخميس ويوم الاثنين، فيغفر لكل عبد لا يشرك بالله شيئا، إلا رجلا كانت بينه وبين أخيه شحناء، فيقال: أنظروا هذين حتى يصطلحا
”جمعرات اور سوموار کے روز جنت کے دروازے کھولے جاتے ہیں، پس اللہ کے ساتھ شرک نہ کرنے والے ہر شخص کو بخش دیا جاتا ہے سوائے اس شخص کے جس کی اپنے بھائی سے رنجش و دشمنی ہو۔ پس کہا جاتا ہے: ان دونوں کو مہلت دو حتی کہ وہ دونوں صلح کر لیں۔“
مسلم، کتاب البر والصلة والآداب 2565/35، ابو داؤد، کتاب الأدب 4916۔
② سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
تعرض أعمال الناس فى كل جمعة مرتين: يوم الاثنين ويوم الخميس، فيغفر لكل عبد مؤمن إلا عبدا بينه وبين أخيه شحناء، فيقال: اتركوا أو أركوا هذين حتى يفيئا
”جمعہ میں سوموار اور جمعرات کے روز دو مرتبہ لوگوں کے اعمال پیش کیے جاتے ہیں، پس ہر مومن بندے کو معاف کر دیا جاتا ہے سوائے اس بندے کے جس کی اپنے بھائی سے دشمنی ہو۔ اور کہا جاتا ہے: ان دونوں کو چھوڑ دو یا ان کے معاملے کو مؤخر رکھو حتی کہ وہ دونوں رجوع (صلح) کر لیں۔“
مسلم، کتاب البر والصلة والآداب 36/2565۔