وتر، تہجد، نوافل اور ختم قرآن کے اہم مسائل صحیح احادیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس کتاب الصوم سے ماخوذ ہے جسے شیخ غلام مصطفٰی ظہیر امن پوری حفظہ اللہ نے مرتب کیا ہے۔
مضمون کے اہم نکات

سوال:

رمضان کے علاوہ وتروں کی جماعت کرانا کیسا ہے؟

جواب:

غیر رمضان میں کبھی کبھار وتروں کی جماعت جائز ہے۔
❀ سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
”جس رات سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کی تدفین ہوئی، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ یہ کہہ کر نماز کے لیے کھڑے ہو گئے کہ میرے وتر رہتے ہیں۔ ہم نے ان کے پیچھے صف بنالی، انہوں نے ہمیں تین رکعتیں پڑھائیں اور سلام آخری رکعت میں پھیرا۔“
(شرح معاني الآثار للطحاوي: 1/293، وسنده حسن)
❀ علامہ عینی حنفی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
”سند درجہ صحت کی انتہا پر ہے، راوی صحیح بخاری کے ہیں۔“
(نخب الأفكار في تنقيح مباني الأخبار في شرح معاني الآثار: 5/105)

سوال:

نماز تہجد یا دیگر نوافل کی جماعت کرانا کیسا ہے؟

جواب:

بعض شروط و قیود کے ساتھ نوافل کی جماعت مشروع ہے، اس پر بے شمار احادیث دلالت کرتی ہیں۔
❀ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ (728ھ) فرماتے ہیں:
”جس نماز کے بارے میں جماعت کی ہمیشگی کرنا مشروع نہ ہو، اس پر باقاعدگی سے جماعت کا التزام کرنا مکروہ ہے، لیکن اگر کوئی اسے لازمی سنت نہ بنائے یا کوئی مصلحت پیش نظر ہو، مثلاً کوئی آدمی اکیلے اچھی طرح سے نماز نہ پڑھ سکتا ہو یا اکیلے نماز پڑھنے میں سستی کا شکار ہو، تو ایسی صورت میں جماعت بہتر ہے، البتہ اسے ہمیشہ کا معمول نہ بنائے۔ تاہم کوئی راجح مصلحت نہ ہو تو نوافل گھر ہی میں پڑھنا افضل ہیں۔“
(فتاوى المصرية، ص 81)

سوال:

نماز تہجد میں ایک سلام سے آٹھ رکعت پڑھنا کیسا ہے؟

جواب:

ایک سلام سے آٹھ رکعت پڑھنا جائز نہیں۔ تہجد یا تراویح آٹھ رکعت مسنون ہیں، مگر ہر دو رکعت کے بعد سلام پھیرا جائے۔

سوال:

قرآن کریم کی کم سے کم مدت تکمیل کتنی ہے؟

جواب:

تین دن اور اس سے زائد مدت میں قرآن کریم کی تلاوت مکمل کرنا مستحب اور افضل ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی حوصلہ افزائی کی ہے، دلائل ملاحظہ ہوں:
❀ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ ان کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یوں مکالمہ ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
صم من الشهر ثلاثة أيام قال إني أطيق أكثر من ذلك قال فما زال حتى قال صم يوما وأفطر يوما وقال اقرأ القرآن في شهر فقلت إني أطيق أكثر من ذلك حتى قال اقرأ القرآن في ثلاث
”مہینے میں صرف تین دن کے روزے رکھا کریں۔ عرض کیا: مجھ میں اس سے زیادہ کی طاقت ہے اور مسلسل یہی کہتے رہے (کہ مجھ میں اس سے زیادہ کی طاقت ہے)، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک دن روزہ رکھا کریں اور ایک دن کا روزہ چھوڑ دیا کریں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قرآن کریم کی تلاوت ایک مہینے میں مکمل کیا کریں۔ انہوں نے عرض کیا: میں اس سے بھی زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں (اور مسلسل یہی کہتے رہے)، یہاں تک کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین دن میں مکمل کر لیا کریں۔“
(صحيح البخاري: 1978)
❀ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لم يفقه من قرأ القرآن في أقل من ثلاث
”جس نے تین دن سے پہلے قرآن کی تلاوت مکمل کی، اس نے قرآن کو سمجھا نہیں۔“
(سنن أبي داود: 1394، سنن الترمذي: 2949، سنن ابن ماجه: 1347، فضائل القرآن للنسائي: 92، وسنده صحيح)
❀ امام ترمذی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو حسن صحیح کہا ہے۔
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو حکم دیا تھا کہ وہ چالیس (40) دنوں میں قرآن کریم کی تکمیل کیا کریں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک مہینے میں، پھر فرمایا: بیس (20) دنوں میں، پھر فرمایا: پندرہ (15) دنوں میں، پھر فرمایا: دس (10) دنوں میں، پھر فرمایا: سات (7) دنوں میں، اور سات (7) دنوں پر آ کر رک گئے۔
(فضائل القرآن للنسائي: 94، مختصر قيام الليل للمروزي، ص 66، وسنده صحيح)
❀ سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ان کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یوں بات چیت ہوئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
اقرأ القرآن في شهر قلت إني أجد قوة حتى قال فاقرأه في سبع ولا تزد على ذلك
”ایک مہینے میں قرآن مجید مکمل کیا کریں، میں نے عرض کیا: میں اس سے کم مدت میں تکمیل کی طاقت رکھتا ہوں، فرمایا… پھر سات دنوں میں تکمیل کر لیا کریں، اس سے کم مدت میں مکمل نہ کرنا۔“
(صحيح البخاري: 5054، صحيح مسلم: 1159)
❀ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
لا أعلم نبي الله صلى الله عليه وسلم قرأ القرآن كله في ليلة
”میں نہیں جانتی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی ایک رات میں مکمل قرآن کریم پڑھا ہو۔“
(صحيح مسلم: 139/746)
❀ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
اقرؤوا القرآن في كل سبع
”ہر ہفتے قرآن کریم کی تلاوت مکمل کیا کریں۔“
(فضائل القرآن للفريابي: 131، وسنده صحيح)
❀ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے بیٹے عبدالرحمن رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
إن أباه كان يختم في رمضان في ثلاث وفي غير رمضان من الجمعة للجمعة
”میرے والد محترم رمضان المبارک میں تین دنوں میں قرآن کریم کی تکمیل کیا کرتے تھے اور دوسرے دنوں میں ایک جمعہ سے دوسرے جمعہ تک قرآن مکمل کیا کرتے تھے۔“
(فضائل القرآن للفريابي: 132، وسنده صحيح)
مذکورہ بالا احادیث سے معلوم ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ایک رات میں مکمل قرآن کریم نہیں پڑھا، نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم سات دن یا کم از کم تین دن میں تکمیل کی ہدایت فرماتے تھے، لہذا بہتر یہی ہے تین دن یا اس سے زائد مدت میں ہی قرآن کریم کی تکمیل کی جائے۔

تین دن سے کم مدت میں تکمیل اور اسلاف امت

البتہ ان تعلیمات نبوی سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ تین دن سے پہلے تکمیل کرنا جائز نہیں ہے، کیونکہ اسلاف امت کا فہم و عمل یہی بتاتا ہے۔ اس کی تفصیل درج ذیل ہے:
❀ ابو جمرہ نصر بن عمران بصری رحمہ اللہ کہتے ہیں:
”میں تیز قرآت کرنے والا شخص ہوں اور کبھی تو ایک رات میں ایک یا دو مرتبہ قرآن مجید مکمل کر لیتا ہوں۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: میں ایک سورت کی تلاوت کر لوں تو یہ مجھے آپ کے طرز عمل سے اچھا لگتا ہے۔ البتہ اگر آپ ضرور ہی ایسا کرنا چاہتے ہیں تو تلاوت ایسے انداز میں کریں کہ آپ کے کان اسے سن رہے ہوں اور آپ کا دل اسے سمجھ رہا ہو۔“
(السنن الكبرى للبيهقي: 2/396، وسنده حسن)
❀ سعید بن جبیر رحمہ اللہ کے بارے میں ہے:
إنه كان يختم القرآن في كل ليلتين
”آپ رحمہ اللہ دو راتوں میں قرآن پاک مکمل پڑھ لیا کرتے تھے۔“
(طبقات ابن سعد: 2/270، سنن الدارمي: 3528، حلية الأولياء لأبي نعيم الأصبهاني: 4/273، وسنده صحيح)
❀ قتادہ بن دعامہ رحمہ اللہ کے بارے میں ہے:
إنه كان يختم القرآن في كل سبع ليال مرة فإذا جاء رمضان ختم في كل ثلاث ليال مرة فإذا جاء العشر ختم في كل ليلة مرة
”آپ رحمہ اللہ سات راتوں میں ایک مرتبہ قرآن مجید مکمل کیا کرتے تھے۔ البتہ جب ماہ رمضان آتا تو تین راتوں میں ایک مرتبہ قرآن کریم کی تکمیل کرتے اور جب رمضان کا آخری عشرہ شروع ہو جاتا تو ہر رات میں ایک مرتبہ تکمیل کرتے تھے۔“
(حلية الأولياء لأبي نعيم الأصبهاني: 2/339، وسنده صحيح)
❀ علقمہ بن قیس نخعی رحمہ اللہ کے بارے میں ہے:
إن علقمة كان يقرأ في خمس قال وقرأه في مكة في ليلة
”علقمہ رحمہ اللہ پانچ دنوں میں قرآن کریم پڑھا کرتے تھے، البتہ مکہ مکرمہ میں انہوں نے ایک رات میں قرآن کریم کی قرآت کی۔“
(فضائل القرآن للفريابي: 139، وسنده صحيح، فضائل القرآن لأبي عبيد، ص 182، الثقات لابن حبان: 5/208، وسنده صحيح)
❀ اسود بن یزید رحمہ اللہ کے بارے میں ہے:
كان الأسود يقرأ القرآن في شهر رمضان في ليلتين ويختمه في سوى رمضان في ستة
”اسود بن یزید رحمہ اللہ رمضان میں دو راتوں میں مکمل قرآن کی تلاوت کیا کرتے تھے، جبکہ عام حالات میں چھ دنوں میں قرآن کی تکمیل کیا کرتے تھے۔“
(مصنف ابن أبي شيبة: 2/500، الثقات لابن حبان: 4/31، الطبقات الكبرى لابن سعد: 6/136، وسنده صحيح)
❀ علی ازدی رحمہ اللہ کے بارے میں ہے:
كان يختم القرآن في رمضان كل ليلة
”آپ رحمہ اللہ رمضان میں ہر رات مکمل قرآن کریم کی تلاوت کیا کرتے تھے۔“
(مصنف ابن أبي شيبة: 2/500، الثقات لابن حبان: 5/164-165، وسنده حسن)
❀ امام شعبہ بن حجاج قشیری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
كان سعد بن إبراهيم بن عبد الرحمن يختم القرآن في كل يوم وليلة
”سعد بن ابراہیم بن عبدالرحمن رحمہ اللہ ہر دن رات میں ایک دفعہ مکمل قرآن کریم کی تلاوت کیا کرتے تھے۔“
(طبقات ابن سعد: 5/364، تاريخ ابن عساكر: 20/213، وسنده صحيح)
❀ محمد بن خالد خزاز رحمہ اللہ کے بارے میں ہے:
كان يختم القرآن في يوم وليلة
”آپ رحمہ اللہ ایک دن رات میں قرآن مجید مکمل کیا کرتے تھے۔“
(الجرح والتعديل لابن أبي حاتم: 7/245)
❀ امام علی بن مدینی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
كان عبد الرحمن بن مهدي يختم في كل ليلتين كان ورده في كل ليلة نصف القرآن
”عبدالرحمن بن مہدی رحمہ اللہ دو راتوں میں قرآن کریم مکمل کیا کرتے تھے۔ ایک رات میں نصف قرآن پڑھا کرتے تھے۔“
(تاريخ بغداد للخطيب: 10/247، وسنده صحيح)
❀ محمد بن احمد بن ابو عون رحمہ اللہ کے بارے میں ہے:
كان يختم القرآن في كل يوم وليلة مرتين
”آپ رحمہ اللہ ہر دن رات میں دو مرتبہ قرآن کریم مکمل کیا کرتے تھے۔“
(صحيح ابن حبان: 4622)
❀ حافظ نووی رحمہ اللہ (676ھ) فرماتے ہیں:
”اس سلسلہ میں راجح بات یہ ہے کہ تکمیل قرآن کی مدت کا مسئلہ مختلف لوگوں کے لیے مختلف ہے۔ جو شخص سمجھ بوجھ اور گہری سوچ رکھنے والا ہے، وہ اتنی مقدار میں تلاوت کرے کہ تدبر اور استخراج معانی کے مقصد میں خلل واقع نہ ہو۔ اسی طرح جو شخص علمی مصروفیات یا دیگر دینی سرگرمیوں اور عام مسلمانوں کی اصلاح میں مشغول ہے، اس کے لیے مستحب ہے کہ وہ اتنی مقدار میں تلاوت کرے کہ اس کے دیگر امور میں خلل نہ آئے۔ ہاں، جو شخص ایسی مصروفیات میں نہیں ہے، اس کے لیے بہتر یہ ہے کہ اکتاہٹ کے بغیر جس قدر ممکن ہو سکے، کثرت کے ساتھ قرآن مجید کی تلاوت کرے، نیز تیز رفتاری سے قرآت نہ کرے، واللہ اعلم!“
(التبيان في آداب حملة القرآن ص 61، فتح الباري لابن حجر: 9/97، تفسير ابن كثير: 81، 82/1)
❀ علامہ محمد عبدالرحمن مبارکپوری رحمہ اللہ (1353ھ) فرماتے ہیں:
لو تتبعت تراجم أئمة الحديث لوجدت كثيرا منهم أنهم كانوا يقرءون القرآن في أقل من ثلاث فالظاهر أن هؤلاء الأعلام لم يحملوا النهي عن قراءة القرآن في أقل من ثلاث على التحريم
”اگر آپ ائمہ حدیث کی سیرت کی ورق گردانی کریں گے تو آپ کو ان میں بہت سے ایسے ائمہ ملیں گے جو تین دنوں سے پہلے قرآن کریم کی قرآت مکمل کر لیا کرتے تھے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ یہ کبار محدثین تین دن سے پہلے قرآن کریم کی تکمیل کے بارے میں وارد ہونے والی ممانعت کو تحریمی نہیں سمجھتے تھے۔“
(تحفة الأحوذي: 4/63)
لیکن تکمیل کی جو بھی صورت ہو، آداب تلاوت کو ملحوظ خاطر رکھنا چاہیے۔
❀ امام ترمذی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
الترتيل في القراءة أحب إلى أهل العلم
”قرأت میں ترتیل اہل علم کے ہاں زیادہ پسندیدہ ہے۔“
(سنن الترمذي، تحت الحديث: 2946)

سوال:

پورا رمضان نماز تراویح پڑھنا کیسا ہے؟

جواب:

نماز تراویح مشروع و مستحب ہے، رمضان میں قیام اللیل باجماعت بھی کیا جا سکتا ہے اور منفرد بھی، دونوں طرح جائز ہے، نیز پورا مہینہ تراویح پڑھنا بھی مستحب ہے۔
❀ عبدالرحمن بن عبد القاری رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
خرجت مع عمر بن الخطاب رضي الله عنه ليلة في رمضان إلى المسجد فإذا الناس أوزاع متفرقون يصلي الرجل لنفسه ويصلي الرجل فيصلي بصلاته الرهط فقال عمر إني أرى لو جمعت هؤلاء على قارئ واحد لكان أمثل ثم عزم فجمعهم على أبي بن كعب ثم خرجت معه ليلة أخرى والناس يصلون بصلاة قارئهم قال عمر نعم البدعة هذه والتي ينامون عنها أفضل من التي يقومون يريد آخر الليل وكان الناس يقومون أوله
”میں رمضان کی ایک رات سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ساتھ مسجد کی طرف نکلا، لوگ مختلف گروہوں میں منقسم تھے۔ کوئی آدمی اکیلا اور کوئی جماعت کے ساتھ نماز پڑھ رہا تھا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میرے مطابق انہیں ایک قاری پر جمع کر دیا جائے تو بہت اچھا ہو گا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے عزم مصمم کر لیا اور لوگوں کو سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی امامت پر جمع کر دیا۔ ایک رات پھر میں آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھ نکلا۔ لوگ ایک قاری کی اقتدا میں نماز پڑھ رہے تھے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یہ تجدید نو کیا خوب ہے! البتہ ان سے وہ افضل ہیں جو اس وقت سو جاتے ہیں اور آخری پہر قیام کرتے ہیں۔“
(صحيح البخاري: 2010)
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پورا مہینہ باجماعت نماز تراویح کا دوبارہ اجرا کیا، کیونکہ اب وہ علت اور خدشہ ختم ہو گیا تھا جس کے پیش نظر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پورا مہینہ نماز تراویح باجماعت ادا نہیں کی۔
❀ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں:
إن رسول الله صلى الله عليه وسلم صلى في المسجد ذات ليلة فصلى بصلاته ناس ثم صلى من القابلة فكثر الناس ثم اجتمعوا من الليلة الثالثة أو الرابعة فلم يخرج إليهم رسول الله صلى الله عليه وسلم فلما أصبح قال قد رأيت الذي صنعتم فلم يمنعني من الخروج إليكم إلا أني خشيت أن تفرض عليكم قال وذلك في رمضان
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کی ایک رات مسجد میں نماز پڑھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا میں لوگوں نے بھی نماز پڑھی، اگلی رات نماز پڑھائی تو نمازیوں کی تعداد بڑھ گئی، پھر لوگ تیسری یا چوتھی رات بھی جمع ہوئے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے نہ نکلے۔ صبح ہوئی تو فرمایا: میں نے آپ کا شوق عبادت دیکھا، لیکن باہر اس لیے نہیں آیا کہ کہیں آپ پر یہ نماز فرض نہ ہو جائے، راوی کہتے ہیں: یہ رمضان کا واقعہ ہے۔“
(صحيح البخاري: 1129، صحيح مسلم: 177/761، واللفظ له)
❀ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں:
خرج رسول الله صلى الله عليه وسلم في الليلة الثانية فصلوا بصلاته فأصبح الناس يذكرون ذلك فكثر أهل المسجد من الليلة الثالثة فخرج فصلوا بصلاته فلما كانت الليلة الرابعة عجز المسجد عن أهله فلم يخرج إليهم رسول الله صلى الله عليه وسلم فطفق رجال منهم يقولون الصلاة فلم يخرج إليهم رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى خرج لصلاة الفجر
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دوسری رات تشریف لائے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی۔ لوگ اس کا تذکرہ کرنے لگے۔ تیسری رات مسجد میں نمازی بڑھ گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی۔ چوتھی رات مسجد تنگی داماں کا شکوہ کرنے لگی، مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف نہ لائے، حاضرین مسجد کہنے لگے: نماز (تراویح)! لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز فجر کے وقت ہی تشریف لائے۔“
(صحيح البخاري: 2012، صحيح مسلم: 178/761)
❀ دوسری روایت میں ہے:
خشيت أن تفرض عليكم صلاة الليل فتعجزوا عنها
”مجھے خدشہ ہوا کہ قیام اللیل فرض نہ ہو جائے اور آپ اس سے عاجز آ جائیں۔“
(صحيح البخاري: 924، صحيح مسلم: 178/761)
❀ حافظ ابن عبد البر رحمہ اللہ (463ھ) فرماتے ہیں:
فيه أن قيام رمضان سنة من سنن النبي صلى الله عليه وسلم مندوب إليها مرغوب فيها ولم يسن منها عمر بن الخطاب إذ أحياها إلا ما كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يحبه ويرضاه ولم يمنع من المواظبة عليه إلا خشية أن يفرض على أمته وكان بالمؤمنين رءوفا رحيما صلى الله عليه وسلم فلما علم ذلك عمر من رسول الله صلى الله عليه وسلم وعلم أن الفرائض لا يزاد فيها ولا ينقص منها بعد موته عليه الصلاة والسلام أقامها للناس وأحياها وأمر بها وذلك سنة أربع عشرة من الهجرة وذلك شيء ادخره الله له وفضله به ولم يلهم إليه أبا بكر وإن كان أفضل من عمر وأشد سبقا إلى كل خير بالجملة ولكل واحد منهم فضائل خص بها ليست لصاحبه
”یہ حدیث دلیل ہے کہ رمضان کا قیام (تراویح) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے، نیز مستحب اور مستحسن عمل ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے جب (پورا مہینہ) نماز تراویح پڑھنے کا اہتمام کروایا تو انہوں نے یہ عمل اسی لیے جاری کیا، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باجماعت نماز تراویح کو پسند کرتے تھے، اس پر ہمیشگی کرنے میں صرف یہ چیز مانع تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خدشہ ہوا کہ کہیں امت پر فرض نہ کر دی جائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو مؤمنوں کے لیے بہت شفیق و مہربان ہیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس علت کو جان لیا اور انہیں یہ بھی معلوم تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد اب فرائض میں اضافہ یا کمی نہیں ہو سکتی، تو انہوں نے لوگوں کے لیے نماز تراویح کا قیام کیا، اس کی تجدید نو کر دی اور اسے قائم کرنے کا حکم دیا۔ یہ سن 14 ہجری کا واقعہ ہے۔ یہ ایسی نیکی ہے جو اللہ تعالیٰ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے حصہ میں رکھی تھی اور انہیں یہ فضیلت بخشی تھی، اللہ تعالیٰ نے یہ بات سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کے ذہن میں نہیں ڈالی، اگرچہ سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے افضل تھے اور مجموعی طور پر ہر خیر میں سبقت لے جانے والے تھے، مگر ہر صحابی کے خاص فضائل ہیں جو دوسرے صحابہ کے حصہ میں نہیں آئے۔“
(التمهيد: 8/108)
❀ نیز ایک حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں:
في هذا الحديث من الفقه فضل قيام رمضان وظاهره يبيح فيه الجماعة والانفراد لأن ذلك كله فعل خير وقد ندب الله إلى فعل الخير وفيه دليل على أن ما أمر به عمر وفعله من قيام رمضان قد كان سبق من رسول الله صلى الله عليه وسلم فيه الترغيب والحض فصار ذلك من سننه صلى الله عليه وسلم
”اس حدیث میں فقہ ہے کہ قیام رمضان بافضیلت عمل ہے، اس حدیث کے ظاہر سے قیام اللیل کو باجماعت اور انفرادی دونوں طرح پڑھنے کا جواز ثابت ہوتا ہے، کیونکہ یہ سب امور خیر ہیں اور اللہ تعالیٰ نے خیر کے کاموں کی ترغیب دی ہے، نیز اس حدیث میں دلیل ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے جو قیام رمضان کا حکم فرمایا تھا اور جو اس بارے میں عمل کیا تھا، اس بارے میں پہلے ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ترغیب اور تحسین موجود تھی، یوں یہ (پورا رمضان باجماعت تراویح پڑھنا) بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہوا۔“
(التمهيد: 7/105)
❀ علامہ شاطبی رحمہ اللہ (790ھ) فرماتے ہیں:
إن قيام الإمام بالناس في المسجد في رمضان سنة عمل بها صاحب السنة رسول الله صلى الله عليه وسلم وإنما تركها خوفا من الافتراض فلما انقضى زمن الوحي زالت العلة فعاد العمل بها إلى نصابه
”ماہ رمضان میں امام کا لوگوں کو باجماعت قیام کرانا سنت ہے، اس پر صاحب سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمل کیا ہے اور اسے صرف فرضیت کے خوف سے ترک کیا، مگر جب وحی کا زمانہ ختم ہو گیا اور علت ختم ہو گئی تو یہ عمل اپنی اصل حالت پر لوٹ آیا۔“
(الاعتصام: 1/375)
❀ علامہ صنعانی رحمہ اللہ (1182ھ) فرماتے ہیں:
قيام رمضان سنة بلا خلاف والجماعة في نافلته لا تنكر
”قیام رمضان کے سنت ہونے میں کوئی اختلاف نہیں، قیام اللیل کی جماعت کرانا بھی منکر نہیں ہے۔“
(سبل السلام: 1/345)