حدیث 22: تین چیزوں: گھر، عورت اور گھوڑے میں نحوست ہے
ان تینوں چیزوں کی نحوست کے بارے میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے دو روایات مروی ہیں پہلی حدیث یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
الشؤم في الفرس والمرأة والدار
”گھوڑے، عورت اور گھر میں نحوست ہے۔“
صحيح البخاري، النكاح، باب ما يتقى من شؤم المرأة، حديث: 5093
دوسری حدیث میں ہے کہ صحابہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس نحوست کا تذکرہ کیا تو آپ نے فرمایا:
إن كان الشؤم فى شيء ففي الدار والمرأة والفرس
”اگر نحوست کسی چیز میں ہو سکتی ہے تو وہ گھر، عورت اور گھوڑے میں ہو سکتی ہے۔“
صحيح البخاري، النكاح، باب ما يتقى من شؤم المرأة، حديث: 5094
اس طرح حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إن كان فى شيء ففي الفرس والمرأة والمسكن
”اگر نحوست کسی چیز میں ہوتی تو عورت، گھوڑے اور گھر میں ہوتی۔“
صحيح البخاري، النكاح، باب ما يتقى من شؤم المرأة، حديث: 5095
معلوم ہوتا ہے کہ طلوع اسلام نے ان احادیث کو صرف اس لیے قابل اعتراض بنایا ہے کہ ان کی زد میں عورت آتی ہے اور ان کا تمام تر رجحان عورت کی طرف ہے تو اسے بچانے کے لیے انہوں نے اعتراض کیا کہ ان احادیث کے درمیان تعارض ہے کہ ایک حدیث میں مطلقاً تین چیزوں میں نحوست کا اثبات ہو رہا ہے جبکہ دوسری حدیث میں تعلیق و شرط کے طور پر اس کا ذکر ہو رہا ہے۔
جواب :
ان احادیث میں کوئی تعارض نہیں بلکہ اصول حدیث میں ہے کہ جب کسی حدیث میں لفظ زیادہ ہو اور راوی ثقہ اور معتمد ہو تو یہ زیادت قبول ہوتی ہے۔ اسی طرح ایک حدیث دوسری حدیث کے لیے تفسیر بھی ہوتی ہے تو ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی دوسری حدیث اور سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث، ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی پہلی حدیث کی تفسیر ہیں، یعنی نحوست کسی چیز میں معتبر ہوگی تو ان تین چیزوں میں معتبر ہوگی جبکہ شرعاً ان تین چیزوں میں معتبر نہیں تو معلوم ہوا کہ نحوست کسی چیز میں بھی نہیں، نیز نحوست کا معنی عربی میں تطير ہے، یعنی بد فال لینا، دور جاہلیت میں ان تین چیزوں سے فال بد لی جاتی تھی۔
امام بخاری رحمہ اللہ نے یہ احادیث درج ذیل آیت کی تفسیر میں بیان کی ہیں:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّ مِنْ أَزْوَاجِكُمْ وَأَوْلَادِكُمْ عَدُوًّا لَّكُمْ فَاحْذَرُوهُمْ
”اے ایمان والو! بلاشبہ تمہاری بیویوں میں سے اور تمہاری اولاد میں سے بعض تمہارے دشمن ہیں، پس ان سے محتاط رہو۔“
(64-التغابن:14)
یعنی انسان فطری طور پر اولاد اور بیوی سے محبت رکھتا ہے۔ کبھی یہ محبت حد سے بڑھ جاتی ہے یہاں تک کہ اس کو اللہ تعالیٰ، اس کے دین اور اس کے ذکر سے غافل کر دیتی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُلْهِكُمْ أَمْوَالُكُمْ وَلَا أَوْلَادُكُمْ عَن ذِكْرِ اللَّهِ
”اے ایمان والو! تمہارے مال اور تمہاری اولاد تمہیں اللہ کی یاد سے غافل نہ کرنے پائے۔“
(63-المنافقون:9)
جب مال و اولاد اور ازواج کی محبت اس حد تک پہنچ جائے تو وہ شامت اور بدفالی کا سبب بن سکتی ہے۔ اسی طرح (حدیث میں مذکور) ان تین چیزوں کی محبت اور ان میں مشغولیت بھی انسان کے لیے نحوست کا سبب بن جاتی ہے۔