اولاد میں عدل، ہدیہ قبول کرنے، تحفے کا بدلہ دینے اور ہدیہ کے احکامات

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ حسین بن مبارک الموصلی کی عربی کتاب الاوامر والنواهي سے ماخوذ ہے جس کا اُردو ترجمہ محمد سرور گوہر صاحب نے احکامات و ممنوعات کے نام سے کیا ہے۔

كتاب الهبة

اولاد کے درمیان عدل کرنا

① سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میرے والد نے اپنا کچھ مال مجھ پر صدقہ کر دیا تو میری والدہ عمرہ بنت رواحہ نے کہا جب تک آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس پر گواہ نہیں بنا لیتے، میں راضی نہیں ہوں گی۔ پس میرے والد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں تشریف لے گئے تاکہ وہ آپ کو میرے صدقہ پر گواہ بنائیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فرمایا:
أفعلت هذا بولدك كلهم
کیا تم نے اپنی تمام اولاد کے ساتھ اس طرح کا سلوک کیا ہے؟
انہوں نے عرض کیا، نہیں! تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
اتقوا الله واعدلوا فى أولادكم
اللہ سے ڈرو اور اپنی اولاد کے درمیان عدل کرو۔
پس میرے والد واپس تشریف لائے اور وہ صدقہ واپس کر دیا۔
بخاری، کتاب الهبة وفضلها والتحريض عليها 2586۔

ہدیہ قبول کرنے کے متعلق احکامات

① سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہدیہ قبول فرما لیتے اور اس کا کچھ بدلہ بھی دیا کرتے تھے۔
بخاری، کتاب الهبة وفضلها والتحريض عليها 2585۔ابو داؤد، کتاب البيوع 3536۔
② سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لو أهدي إلى كراع لقبلت، ولو دعيت عليه لأجبت
اگر بکری کا پایہ مجھے ہدیہ دیا جائے تو میں قبول کر لوں گا اور اگر اس کی دعوت پر مجھے بلایا جائے تو میں دعوت قبول کر لوں گا۔
ترمذی، کتاب الاحکام 1338۔ مسند احمد 3/ 209 روایت صحیح ہے۔
③ سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، کسری نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ہدیہ بھیجا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے قبول فرما لیا۔ اور کئی بادشاہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں تحائف بھیجے تو آپ نے ان کی طرف سے بھیجے گئے تحائف قبول فرمائے۔
ترمذی 1576 روایت ضعیف ہے۔ اس کی اسناد میں سوید بن زبی فاختہ ضعیف ہے۔

تحفے کا بدلہ دینے کے احکامات

① سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من استعاذ بالله فأعيذوه، ومن سأل بالله فأعطوه، ومن دعاكم فأجيبوه، ومن صنع إليكم معروفا فكافئوه، فإن لم تجدوا ما تكافئونه فادعوا له حتى تروا أنكم قد كافأتموه
جو شخص اللہ کے نام پر پناہ طلب کرے تو اسے پناہ دے دو، جو اللہ کے نام پر سوال کرے اسے عطا کرو، جو تمہیں دعوت دے اسے قبول کرو اور جو تمہارے ساتھ بھلائی کرے تو اس کو نیک بدلہ دو۔ اگر تم اسے بدلہ دینے کے لیے کچھ نہ پاؤ تو اس کے لیے اتنی دعا کرو کہ تمہیں یقین ہو جائے کہ تم نے اس کا بدلہ چکا دیا ہے۔
ابو داؤد، کتاب الزکاة 1672۔ مسند احمد، مسند المکثرین من الصحابه 2/ 94.
② سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، ذویزن کے بادشاہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک سرخ جوڑے کا ہدیہ بھیجا تو آپ نے اسے قبول فرما لیا۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جو ہدیہ بھیجا گیا تھا آپ نے اسے خریدا بھی۔
ترمذی میں یہ الفاظ نہیں، ابو داؤد 4034 میں یہ الفاظ ہیں: ”ذویزن کے بادشاہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک جوڑے کا ہدیہ بھیجا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تنتیس اونٹوں یا تنتیس اونٹنیوں کے عوض اسے خرید لیا“۔

ہدیہ (تحفہ) کے متعلق احکامات

① سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
تهادوا فإن الهدية تذهب بوحر الصدر، ولا تحقرن جارة لجارتها ولو شق فرسن شاة
آپس میں تحفہ دیا کرو اس لیے کہ تحفہ سینے کا کینہ ختم کر دیتا ہے۔ کوئی پڑوسن اپنی پڑوسن کو تحفہ دینا معمولی نہ سمجھے خواہ بکری کے پائے کا کچھ حصہ ہی کیوں نہ ہو۔
ترمذی، کتاب الولاء والهبة عن رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم 2130۔
② سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہدیہ قبول کیا کرتے تھے اور اس کا پورا پورا بدلہ بھی دیا کرتے تھے۔
بخاری، کتاب الهبة وفضلها والتحريض عليها 2585۔
③ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کرتی ہیں میں نے عرض کیا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! میری دو پڑوسنیں ہیں، میں ان میں سے کس کو ہدیہ دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إلى أقربهما منك بابا
دونوں میں سے جس کا گھر تیرے زیادہ قریب ہے۔
بخاری، کتاب الادب 6020۔
④ عطاء خراسانی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
تصافحوا يذهب الغل، وتهادوا تحابوا وتذهب الشحناء
باہم مصافحہ کیا کرو اس سے کینہ ختم ہو جاتا ہے، باہم تحفہ دیا کرو اس طرح آپس میں محبت پیدا ہوگی اور رنجش جاتی رہے گی۔
موطا 2/ 908، حدیث 16۔