قصائی کی اجرت کا شرعی حکم

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ زبیر علی زئی رحمہ اللہ کی کتاب قربانی کے احکام و مسائل سے ماخوذ ہے۔

قصائی کو بطور اجرت رقم دینا

سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ آپ کے قربانی کے اونٹوں کی نگرانی کروں اور (قربانی کے بعد) ان کی جھولیں اور کھالیں تقسیم کر دوں، ذبح کرنے والے کو ان میں سے کوئی چیز بھی (اجرت میں) نہ دوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہم اسے اجرت اپنی طرف سے (یعنی مال و دولت کی صورت میں) دیں گے۔“(مسند الحمیدی: 41)

تحقیق :

سندہ صحیح

تخریج :

متفق علیہ
اسے بخاری 1716اب مسلم (1317 [3181]) اور ابن عبد البر (التمہید 12/2 ا من حدیث الحمیدی) نے بھی روایت کیا ہے۔

تفقہ:

➊ قربانی کے جانور ذبح یا نحر کرنے کے لیے کسی کو نائب مقرر کرنا جائز ہے۔
➋ قربانی کے جانور خود ذبح کرنا مستحب ہے۔
➌ قربانی کے جانور کی کھال اور جھول وغیرہ غرباء و مساکین میں تقسیم کر دینی چاہئیں۔
➍ کھال و جھول بطور اجرت قصائی کو دینا جائز نہیں ہے۔
➎ قصائی کو بطور اجرت روپے پیسے دینا جائز ہے۔