برائی کے ارتکاب کی ممانعت
① امام مالک رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں، مجھے یہ خبر ملی ہے کہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا ہم صالحین کے ہوتے ہوئے ہلاک کر دیے جائیں گے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
نعم، إذا كثر الخبث
”ہاں! جب برائی زیادہ ہو جائے گی۔“
الموطأ، کتاب الجامع 2/991 حدیث 22۔
② سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا يقولن أحدكم خبثت نفسي، ولكن ليقل لقست نفسي
”تم میں سے کوئی شخص بدہضمی کی وجہ سے یوں نہ کہے: میرا نفس خبیث ہو گیا ہے، بلکہ یوں کہے: میرا نفس بدمزہ ہو گیا ہے۔“
بخاری، کتاب الأدب 6179، مسلم، الألفاظ من الأدب وغيرها 16/2250۔
کسی کو بھڑکانے، خراب کرنے کی ممانعت
① سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ليس منا من خبب امرأة على زوجها، أو عبدا على سيده
”جو شخص کسی عورت کو اس کے خاوند کے خلاف یا کسی غلام کو اس کے مالک کے خلاف بھڑکائے وہ ہم میں سے نہیں۔“
ابو داؤد، کتاب الطلاق 2175۔
② سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
المؤمن غر كريم، والفاجر خب لئيم
”مومن سادہ لوح، سخی ہوتا ہے جبکہ بدکار شخص مکار، بخیل ہوتا ہے۔“
ابو داؤد، کتاب الأدب 4790، ترمذی، کتاب البر والصلة 1964۔
دورخی اختیار کرنے کی ممانعت
① سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
تجدون من شر الناس عند الله ذا الوجهين، الذى يأتى هؤلاء بوجه وهؤلاء بوجه
”تم اللہ کے ہاں سب سے برا شخص اسے پاؤ گے جو دورخی اختیار کرتا ہے، جو ان کے پاس آتا ہے تو ایک چہرے کے ساتھ اور ان کے ساتھ ایک چہرے کے ساتھ۔“
بخاری، کتاب الأدب 6058، مسلم، کتاب الإمارة 252/98۔
② سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ہی بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إن من شر الناس عند الله يوم القيامة ذا الوجهين
”اللہ کے ہاں قیامت کے دن بدترین شخص وہ ہوگا جو دورخی اختیار کرتا ہے۔“
ترمذی، کتاب البر والصلة 2025، یہ سند صحیح ہے۔
③ سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من كان له وجهان فى الدنيا كان له يوم القيامة لسانان من نار
”جس شخص کے دنیا میں دو چہرے ہوں گے (دورخا) تو قیامت کے دن اس کی آگ کی دو زبانیں ہوں گی۔“
ابو داؤد، کتاب الأدب 4873، الدارمي، کتاب الرقاق 2764۔
مسلمان پر الزام لگانا منع ہے
① سیدنا معاذ بن انس جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من حمى مؤمنا من منافق بعث الله تعالى ملكا يحمي لحمه يوم القيامة من نار جهنم، ومن رمى مسلما بشيء يريد شينه به حبسه الله على جسر جهنم حتى يخرج مما قال
”جس شخص نے کسی مومن کو کسی منافق سے بچایا تو اللہ تعالیٰ ایک فرشتے کو مبعوث فرمائے گا جو قیامت کے دن اس کے گوشت کو جہنم کی آگ سے بچائے گا، اور جس شخص نے کسی مسلمان پر الزام تراشی کی اور وہ اس کے ذریعے اس کی برائی چاہتا ہو تو اللہ اس کو جہنم کے پل پر روک لے گا حتی کہ وہ سزا بھگتنے کے بعد اپنی کہی ہوئی بات سے نکل جائے۔“
ابو داؤد، کتاب الأدب۔