تیراندازی، اللہ کی راہ میں بیدار رہنے اور گھوڑوں کے درمیان مسابقت کے احکامات

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ حسین بن مبارک الموصلی کی عربی کتاب الاوامر والنواهي سے ماخوذ ہے جس کا اُردو ترجمہ محمد سرور گوہر صاحب نے احکامات و ممنوعات کے نام سے کیا ہے۔

تیراندازی کے متعلق احکامات

① سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے تو دیکھا کہ قبیلہ اسلم کے کچھ لوگ بازار میں تیراندازی کر رہے ہیں ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إرموا بني إسماعيل فإن أباكم كان راميا ، إرموا و أنا مع بني فلان
”اولادِ اسماعیل تیراندازی کرو تمہارے باپ بھی بڑے تیرانداز تھے تیر اندازی کرو اور میں فلاں فریق کے ساتھ ہوں“۔
راوی بیان کرتے ہیں (یہ سن کر) دوسرا فریق (تیراندازی سے) رک گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
مالكم لا ترمون
”تہمیں کیا ہوا تم تیراندازی کیوں نہیں کرتے؟“
انہوں نے کہا: ”ہم کیسے تیر اندازی کریں، جبکہ آپ ان کے ساتھ ہیں؟“
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إرموا و أنا معكم كلكم
”تیراندازی کرو میں تم سب کے ساتھ ہوں“۔
بخاری کتاب الجهاد والسير 2899۔
② سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:
من تعلم الرمي ثم تركه فليس منا أو عصى
”جس نے تیراندازی سیکھی، پھر اسے چھوڑ دیا تو وہ ہم میں سے نہیں“۔
یا فرمایا:
”اس نے نافرمانی کی“۔
مسلم کتاب الامارة 1919۔
③ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ ہی بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا آپ منبر پر تشریف فرما تھے:
﴿وَأَعِدُّوا لَهُم مَّا اسْتَطَعْتُم مِّن قُوَّةٍ﴾ ألا إن القوة الرمي ، ألا إن القوة الرمي ، ألا إن القوة الرمي
”جس قدر ممکن ہو کافروں کے خلاف قوت تیار رکھو، (سن لو!) قوت سے مراد تیراندازی ہے قوت سے مراد تیراندازی ہے قوت سے مراد تیراندازی ہے“۔
مسلم، کتاب الامارة 1917۔
④ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ ہی بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:
ستفتح عليكم أرضون ويكفيكم الله فلا يعجز أحدكم أن يلهو بأسهمه
”تم ملکوں کے ملک فتح کرو گے اور اللہ تمہارے لیے کافی ہوگا، پس تم میں سے کوئی اپنے تیروں سے غافل نہ ہو“۔
مسلم، کتاب الامارة 1918۔
⑤ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ ہی بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:
إن الله تعالى ليدخل بالسهم الواحد ثلاثة نفر الجنة صانعه يحتسب فى عمله الخير والرامي به والممد به
”اللہ تعالیٰ ایک تیر کی وجہ سے تین آدمیوں کو جنت عطا فرمائے گا۔ تیر بنانے والا جو اپنے عمل سے خیر و بھلائی کی نیت کرتا ہے دوسرا تیرانداز اور تیسرا اس (تیرانداز) کی مدد کرنے والا“۔
اور ایک روایت میں ہے:
وقبله فارموا واركبوا أحب إلى أن ترموا من أن تركبوا ، كل لهو باطل ليس من اللهو محمود إلا ثلاثة: تأديب الرجل فرسه ، و ملاعبته أهله ، ورميه بقوسه و نبله فإنهن من الحق، ومن ترك العمل بعد ما عمله رغبة عنه فإنها نعمة تركها، أو قال كفرها
”تیراندازی کرو گھڑ سواری کرو گھڑ سواری کی نسبت مجھے تیراندازی زیادہ پسند ہے۔ ہر قسم کی لہو چیز باطل ہے تین کے سوا کوئی لہو قابلِ تعریف نہیں ۔ آدمی کا اپنے گھوڑے کو سکھانا اور سدھارنا، اس کا اپنے اہل کے ساتھ تفریح اور کھیل کود کرنا اور اس کا اپنی کمان سے تیراندازی کرنا یہ چیزیں حق ہیں جس شخص نے تیراندازی سیکھی اور پھر اسے غیر اہم سمجھ کر ترک کر دیا تو وہ ایک نعمت تھی جو اس نے ترک کر دی۔ یا فرمایا کہ اس نے کفرانِ نعمت کیا“۔
النسائي 28/6۔ ابو داؤد 2513۔ ترمذی کتاب فضائل الجهاد 1637۔ روایت حسن ہے۔
⑥ سیدنا عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:
من رمى بسهم فى سبيل الله فهو له عدل محرر
”جس شخص نے اللہ کی راہ میں ایک تیر پھینکا تو وہ اس کے لیے آزاد کرنے کی مانند ہے“۔
ابوداؤد، كتاب العتق 3965۔ ترمذی، کتاب فضائل الجهاد 1638۔ روایت حسن ہے۔

اللہ کی راہ میں بیدار رہنا

① سیدنا ابو ریحانہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:
حرمت عين على النار سهرت| فى سبيل الله
”جو آنکھ اللہ کی راہ میں جاگتی ہے اس پر جہنم کی آگ حرام ہے“۔
النسائي، كتاب الجهاد 15/6 مسند احمد 134/4۔ روایت حسن لغیرہ ہے۔
② سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:
عينان لا تمسهما النار : عين بكت من خشية الله، و عين باتت تحرس فى سبيل الله
”دو آنکھیں ایسی ہیں جنہیں آگ نہیں چھوئے گی۔ ایک وہ آنکھ جو اللہ کی خشیت سے روتی ہے اور دوسری وہ آنکھ جو اللہ کی راہ میں پہرہ دیتی ہے“۔
ترمذی، کتاب فضائل جهاد 1639۔ روایت حسن لغیرہ ہے۔

گھوڑوں کے درمیان مسابقت کے احکامات

① سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم گھوڑے کو ایک عرصہ تک کھلاتے اور پھر آہستہ آہستہ اس کی خوراک میں کمی کرتے جاتے تاکہ وہ دبلا پتلا ہو جائے۔ پھر آپ اسے مسابقت کے لیے دوڑاتے تھے۔
② سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما ہی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھڑ دوڑ میں حصہ لیا اور جو گھوڑا عمر کے پانچویں برس میں تھا اس کے لیے فاصلہ مزید دور مقرر کیا۔
روایت صحیح ہے۔ ابو داؤد، کتاب الجھاد 2577۔ مسند احمد، مسند المكشرين من الصحابه 6466۔
③ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا سبق إلا فى خف أو حافر أو نصل
”اونٹ یا گھوڑے دوڑانے یا تیراندازی کے سوا مقابلہ بازی جائز نہیں“۔
ابوداؤد، كتاب الجهاد 2574۔ ترمذي، كتاب الجهاد 1700۔ روایت صحیح ہے۔
④ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ”عضباء“ نامی اونٹنی تھی ۔ وہ ہمیشہ آگے رہتی تھی۔ پس ایک اعرابی تقریباً دو سالہ اونٹنی پر آیا اور وہ اس سے آگے نکل گیا۔ یہ بات مسلمانوں پر گراں گزری حتیٰ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پہچان لیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
حق على الله أن لا يرتفع شيء من الدنيا إلا وضعه
”اللہ پر یہ حق ہے کہ جو چیز دنیا میں بلند ہوتی ہے تو اللہ اسے پست کر دیتا ہے“۔
بخاري، كتاب الجهاد والسير 2871 ابوداؤد، کتاب الادب 4802۔