سر کے کچھ بال مونڈنے اور کچھ چھوڑ دینے کی ممانعت
① سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر کے کچھ بال مونڈنے اور کچھ چھوڑ دینے سے منع فرمایا ہے۔
بخاری، کتاب اللباس 5921۔
② سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بچے کو دیکھا جس کے بعض بال مونڈے ہوئے تھے اور بعض چھوڑے ہوئے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس سے منع فرما دیا اور فرمایا:
احلقوه كله أو اتركوه كله
”پورا سر مونڈ دو یا پورا سر چھوڑ دو نہ مونڈو۔“
ابوداؤد، کتاب الترجل 4195۔
③ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سر کے کچھ بال مونڈنے اور کچھ چھوڑ دینے سے مجھے منع فرمایا۔
النسائی، الزينه 113/8۔
ازار (شلوار، تہہ بند وغیرہ) نصف پنڈلی تک رکھنا
① سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرا، میرا ازار لٹک رہا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
يا عبد الله ارفع إزارك
”عبداللہ! اپنا ازار اونچا کرو۔“
میں نے اسے اونچا کر لیا۔ پھر فرمایا:
زد
”مزید کرو۔“
پس میں نے مزید اونچا کر لیا، اور میں اس کے بعد اس کا اہتمام کرتا ہوں۔ لوگوں میں سے کسی نے کہا: کہاں تک؟ تو انہوں نے فرمایا:
إلى أنصاف الساقين
”نصف پنڈلیوں تک۔“
مسلم كتاب اللباس والزينة 2086۔
فخر و غرور کے طور پر ازار لٹکانے کی ممانعت
① سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا ينظر الله يوم القيامة إلى من جر ثوبه خيلاء
”جو شخص تکبر کے طور پر اپنا کپڑا لٹکاتا ہے تو روزِ قیامت اللہ اس کی طرف نظرِ رحمت سے نہیں دیکھے گا۔“
بخاری، کتاب اللباس 5783، مسلم، اللباس والزينة 2085/42، ابو داؤد، کتاب اللباس 4085۔
② سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:
من جر إزاره لا يريد بذلك إلا الخيلاء فإن الله لا ينظر إليه يوم القيامة
”جو شخص از راہِ تکبر اپنا ازار لٹکاتا ہے تو روزِ قیامت اللہ اس کی طرف نظرِ رحمت سے نہیں دیکھے گا۔“
مسلم، كتاب اللباس والزينة 45 / 2085۔
③ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا ينظر الله يوم القيامة إلى من جر إزاره بطرا
”اللہ روزِ قیامت اس شخص کی طرف نظرِ رحمت سے نہیں دیکھے گا جو از راہِ تکبر اپنا ازار گھسیٹتا ہے۔“
بخاری، کتاب اللباس 5788، مسلم، كتاب اللباس والزينة 48-2078۔
مونچھیں کٹوانا
① سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
أنهكوا الشوارب وأعفوا اللحى
”مونچھیں خوب پست کرو اور داڑھیاں بڑھاؤ۔“
اور ایک روایت میں أحفوا الشوارب کے الفاظ ہیں۔
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما حج یا عمرہ کے موقع پر مٹھی بھر سے زائد داڑھی کو کتر دیتے تھے۔
بخاری ، کتاب اللباس 5892، مسلم، كتاب الطهارة 1709/41۔ ابو داؤد، کتاب الترجل 4199۔
② سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من لم يأخذ من شاربه فليس منا
”جو شخص اپنی مونچھیں نہیں کترواتا وہ ہم میں سے نہیں ہے۔“
ترمذی، کتاب الادب 2761، نسائی، کتاب الطهارة الزينة 15، مسند احمد 4/ 366، روایت صحیح ہے۔