ہبہ واپس لینے کی ممانعت
① سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ليس لنا مثل السوء الذى يعود فى هبته كالكلب يقيء ثم يعود فى قيئه
ہمارے لیے بری روایت نہیں ہے، وہ آدمی جو کوئی چیز دے کر واپس لے لیتا ہے تو وہ کتے کی طرح ہے جو قے کر کے پھر اسے کھا جاتا ہے۔
بخاری، کتاب الهبة وفضلها والتحريض عليها 2622۔ مسلم، کتاب الهبات 1622/5۔ ابو داؤد، کتاب البيوع 3539۔
② سیدنا ابن عباس و سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا يحل لرجل أن يعطي عطية أو يهب هبة ثم يرجع فيها إلا الوالد فيما يعطي ولده، ومثل الذى يرجع فى عطيته أو هبته كالكلب يأكل فإذا شبع قاء ثم عاد فى قيئه
کسی آدمی کے لیے حلال نہیں کہ وہ کوئی عطیہ دے کر یا ہبہ کرنے کے بعد اسے واپس لے لے سوائے والد کے جو وہ اپنے بچے کو ہبہ کرتا ہے اور وہ شخص جو اپنا عطیہ یا ہبہ واپس لے لیتا ہے اس کتے کی طرح ہے جو کھاتا ہے اور جب وہ خوب سیر ہو جاتا ہے تو قے کر دیتا ہے اور پھر اپنی قے کھا جاتا ہے۔
ابو داؤد، کتاب البيوع 3539، ترمذی، کتاب البيوع 2132۔
خوشبو قبول نہ کرنے کی ممانعت
① سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:
من عرض عليه طيب فلا يرده فإنه طيب الريح خفيف المحمل
جس شخص کو خوشبو پیش کی جائے تو وہ اسے واپس نہ کرے اس لیے کہ وہ فضا کو معطر کر دیتی ہے اور اٹھانے میں ہلکی ہے۔
ابو داؤد، الترجل 4172، نسائی، الزینه 8/ 1665، مسند احمد، باقی مسند المکثرین 2/ 429۔
② سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ثلاث لا ترد، الوسائد، والدهن، والطيب
تین چیزیں، تکیہ، تیل اور خوشبو واپس نہیں کرنی چاہئیں، انہیں قبول کر لینا چاہیے۔
ترمذی، کتاب الادب 2790۔
③ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خوشبو پیش کی جاتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے واپس نہیں کرتے تھے۔
نسائی، الزینه، باب الطيب 1658، مسند احمد 3/ 306۔
سفارش کرنے پر تحفہ قبول کرنے کی ممانعت
① سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من شفع لأحد شفاعة فأهدى له هدية عليها فقبلها فقد أتى بابا عظيما من أبواب الربا
جس شخص نے کسی کی سفارش کی اور اسے اس پر تحفہ پیش کیا جائے اور وہ اسے قبول کر لے تو اس نے سود کے ایک بہت بڑے باب کو اختیار کر لیا۔
ابو داؤد، کتاب البيوع 3541، مسند احمد، باقی مسند الانصار 5/ 308، حدیث 22314۔
عطیہ دے کر احسان جتلانے کی ممانعت
① سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ثلاثة لا يكلمهم الله ولا ينظر إليهم يوم القيامة ولا يزكيهم ولهم عذاب أليم
تین قسم کے لوگ ہیں اللہ ان سے کلام کرے گا نہ قیامت کے دن ان کی طرف نظر رحمت سے دیکھے گا اور نہ ہی انہیں پاک کرے گا اور ان کے لیے دردناک عذاب ہو گا۔
راوی بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار اسے پڑھا۔ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، وہ لوگ ناکام و نامراد ہوں، عرض کیا گیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! وہ کون لوگ ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
المسبل، والمنان، والمنفق سلعته بالحلف الكاذب
ازار لٹکانے والا، احسان جتلانے والا اور جھوٹی قسم کے ذریعے اپنا سودا بیچنے والا۔
مسلم، کتاب الایمان 106/171، ترمذی، کتاب البيوع 1211۔
② سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا يدخل الجنة منان ولا عاق ولا مدمن خمر
احسان جتلانے والا، والدین کا نافرمان اور عادی شراب نوش جنت میں نہیں جائے گا۔
النسائي، الاشربه 8/ 284۔
③ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا يدخل الجنة خب ولا بخيل ولا منان
فساد ڈالنے والا، بخیل اور احسان جتلانے والا جنت میں داخل نہیں ہوں گے۔
ترمذی، کتاب البر والصلة 1963۔ مسند احمد، مسند العشرة المبشرین بالجنة 1/ 6، حدیث 14۔