اہل وعیال پر خرچ کرنے کے فضائل قرآن و حدیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ ابو حمزہ عبدالخالق صدیقی کی کتاب صحیح فضائل اعمال سے ماخوذ ہے۔

اہل وعیال پر خرچ کرنے کے فضائل

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿الرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَى النِّسَاءِ بِمَا فَضَّلَ اللَّهُ بَعْضَهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ وَبِمَا أَنفَقُوا مِنْ أَمْوَالِهِمْ ۚ فَالصَّالِحَاتُ قَانِتَاتٌ حَافِظَاتٌ لِّلْغَيْبِ بِمَا حَفِظَ اللَّهُ ۚ وَاللَّاتِي تَخَافُونَ نُشُوزَهُنَّ فَعِظُوهُنَّ وَاهْجُرُوهُنَّ فِي الْمَضَاجِعِ وَاضْرِبُوهُنَّ ۖ فَإِنْ أَطَعْنَكُمْ فَلَا تَبْغُوا عَلَيْهِنَّ سَبِيلًا ۗ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيًّا كَبِيرًا﴾
” مرد عورتوں پر حاکم ہیں ، اُس برتری کی بدولت جو اللہ نے اُن میں سے بعض کو بعض پر دے رکھی ہے، اور اس لیے کہ مردوں نے اپنا مال خرچ کیا ہے ، پس نیک عورتیں اللہ سے ڈرنے والی ، شوہر کے پیٹھ پیچھے (اس کی عزت و مال کی ) اللہ کی حفاظت کی بدولت حفاظت کرنے والی ہوتی ہیں ، اور جن عورتوں کی نافرمانی کا تمہیں ڈر ہو، انہیں وعظ و نصیحت کرو، اور بستروں میں اُن سے علیحدگی اختیار کرلو، اور انہیں مارو، پھر اگر تمہاری اطاعت کرنے لگیں ، تو ان کے سلسلے میں کوئی اور کاروائی نہ کرو، بے شک اللہ بڑی بلندی اور کبریائی والا ہے۔“
(4-النساء:34)
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مردوں کی عورتوں پر حاکمیت کا ایک سبب ان کا مال خرچ کرنا بیان فرمایا ہے کہ مرد عورت کی رہائش، نان نفقہ کا ذمہ دار ہے، کہ اس کی ضروریاتِ زندگی پوری کرے۔
ایک اور مقام پر فرمایا :
﴿وَالْوَالِدَاتُ يُرْضِعْنَ أَوْلَادَهُنَّ حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ ۖ لِمَنْ أَرَادَ أَن يُتِمَّ الرَّضَاعَةَ ۚ وَعَلَى الْمَوْلُودِ لَهُ رِزْقُهُنَّ وَكِسْوَتُهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ ۚ لَا تُكَلَّفُ نَفْسٌ إِلَّا وُسْعَهَا﴾
” اور مائیں اپنے بچوں کو پورے دو سال دودھ پلائیں، یہ ان کے لیے ہے جو مدت رضاعت پوری کرنی چاہیں، اور باپ پر دودھ پلانے والی ماؤں کا کھانا، کپڑا عرف عام کے مطابق واجب ہے۔ کوئی شخص بھی اس کی طاقت سے زیادہ (اللہ کی طرف سے) مکلف نہیں کیا جاتا۔“
(2-البقرة:233)
اس آیت میں بھی اللہ تعالیٰ نے مرد کی ذمہ داری عورت کو نان نفقہ دینا بیان فرمائی ہے۔
عن أبى مسعود البدري رضى الله عنه عن النبى صلى الله عليه وسلم قال: إذا أنفق الرجل على أهله يحتسبها فهي له صدقة
سیدنا ابومسعود بدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب آدمی اپنے اہل وعیال پر ثواب کی نیت سے خرچ کرتا ہے، تو وہ اس کے لیے صدقہ شمار ہوتا ہے۔
صحیح بخاری، کتاب الإيمان، باب ماجاء أن الأعمال بالنية، رقم: 55 ۔ صحیح مسلم، کتاب الزكاة، باب فضل النفقة والصدقة على الأقربين والزوج والأولاد، رقم: 1002
عن ثوبان قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: أفضل دينار ينفقه الرجل: دينار ينفقه على عياله، ودينار ينفقه على دابته فى سبيل الله، ودينار ينفقه على أصحابه فى سبيل الله
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” سب سے افضل دینار وہ ہے جسے کوئی بھی آدمی اپنے اہل وعیال پر خرچ کرتا ہے۔ اور وہ دینار ہے جو اللہ کے راستے میں اپنی سواری پر خرچ کرے۔ اور ( تیسرے نمبر پر ) وہ دینار ہے جسے اللہ کے راستے میں اپنے ساتھیوں پر خرچ کرے۔“
صحیح مسلم، کتاب الزكاة، باب فضل النفقة على العيال والمملوك، رقم: 994.
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ :
إنك لن تنفق نفقة تبتغي بها وجه الله إلا أجرت عليها حتى ما تجعل فى فم امرأتك
تم جو کچھ بھی اللہ کی رضا کے لیے خرچ کرو گے، اس پر تمہیں ضرور اجر دیا جائے گا حتی کہ اس لقمے پر بھی جو تم اپنی بیوی کے منہ میں ڈالو گے۔
صحیح بخاری، کتاب الایمان، باب ماجاء أن الأعمال بالنية، رقم: 56 ۔ صحیح مسلم، کتاب الوصية، باب الوصية بالثلث، رقم: 1628 ۔