والدین کے حقوق اور حسن سلوک کے احکام قرآن و حدیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس ڈاکٹر یوسف القرضاوی کی کتاب اسلام میں حلال و حرام سے ماخوذ ہے جس کا اُردو ترجمہ محمد طاھر نقاش صاحب نے کیا ہے۔

والدین کے ساتھ بدسلوکی گناہ کبیرہ ہے

اولاد پر والدین کا یہ حق ہے کہ وہ ان کے ساتھ نیک سلوک کرے ان کی اطاعت کرے اور ان کا ہر حال میں احترام کرے۔ یہ حق در حقیقت فطرت کی آواز ہے اور اس کو بہترین طریقہ کے ساتھ ادا کرنا واجب ہے۔ خاص طور سے ماں کے حق کا زیادہ خیال رکھنا چاہیے۔ کیونکہ ماں نے حمل، وضع حمل، دودھ پلانے اور پرورش کرنے کے سلسلہ میں جو مصیبتیں جھیلی ہوتی ہیں وہ محتاج بیان نہیں ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے :
وَوَصَّيْنَا الْإِنسَانَ بِوَالِدَيْهِ إِحْسَانًا ۖ حَمَلَتْهُ أُمُّهُ كُرْهًا وَوَضَعَتْهُ كُرْهًا ۖ وَحَمْلُهُ وَفِصَالُهُ ثَلَاثُونَ شَهْرًا
”ہم نے انسان کو (سخت) تاکید کی کہ وہ اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک کرے۔ اس کی ماں نے مشقت اٹھا کر اس کو پیٹ میں رکھا اور مشقت اٹھا کر اس کو جنم دیا۔ اس کا حمل اور دودھ چھڑانے میں تیس مہینے لگ گئے۔“
(سوره الأحقاف : 15)
ایک شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا :
من أحق الناس بحسن صحابتي؟ قال أمك، قال ثم من؟ قال أمك، قال ثم من؟ قال أمك، قال ثم من؟ قال أبوك
”لوگوں میں سے میرے حسن سلوک کا سب سے زیادہ مستحق کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تمہاری ماں۔ اس نے کہا : اس کے بعد کون؟ فرمایا : تمہاری ماں۔ اس نے کہا : اس کے بعد کون؟ فرمایا : تمہاری ماں۔ اس نے کہا : اس کے بعد کون؟ فرمایا : تمہارا باپ۔“
بخاری کتاب الادب باب من أحق الناس بحسن الصحبة ح : 5971 ، مسلم کتاب البر والصلة باب بر الوالدين ح : 2548
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے والدین کے ساتھ بدسلوکی کو کبیرہ گناہوں میں سب سے بڑا کبیرہ گناہ قرار دیا ہے۔ یعنی شرک کے بعد سب سے بڑا گناہ یہی ہے۔ صحیحین کی حدیث ہے :
ألا أنبئكم بأكبر الكبائر ثلاثا – قالوا بلى يا رسول الله قال : الإشراك بالله وعقوق الوالدين وكان متكئا فجلس فقال : ألا وقول الزور وشهادة الزور
”کیا میں تمہیں یہ نہ بتاؤں کہ کبیرہ گناہوں میں سب سے بڑے گناہ کون سے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات تین مرتبہ دہرائی۔ صحابہ نے عرض کیا: ضرور بتائیے اے اللہ کے رسول! فرمایا : کسی کو اللہ کا شریک ٹھہرانا، والدین کی نافرمانی کرنا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ٹیک لگائے ہوئے تھے کہ اٹھ بیٹھے اور فرمایا : سنو! جھوٹی بات اور جھوٹی گواہی بھی۔“
بخاری کتاب الادب باب حقوق الوالدين من الكبائر ح : 5977 – مسلم کتاب الایمان باب الكبائر واكبرها ح : 87
نیز فرمایا :
كل الذنوب يؤخر الله منها ما شاء إلى يوم القيامة إلا عقوق الوالدين فإن الله يعجله لصاحبه فى الحياة قبل الممات
”اللہ جن گناہوں کو چاہتا ہے قیامت تک کے لیے مؤخر کر دیتا ہے، سوائے والدین کے ساتھ قطع تعلق کرنے کے کہ اللہ اس کا بدلہ موت سے پہلے اس زندگی ہی میں دے دیتا ہے۔“
مستدرك حاكم : 4 / 156 واسناده ضعيف فيه بكار بن عبد العزيز وهو ضعيف قاله الذهبي
والدین جب بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو ان کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنے کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑی تاکید فرمائی ہے کیونکہ اس وقت وہ کمزور ہو چکے ہوتے ہیں اور نسبتاً جوانی کے ان کا زیادہ خیال رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ قرآن مجید نے ہدایت کی ہے :
وَقَضَىٰ رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا ۚ إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِندَكَ الْكِبَرَ أَحَدُهُمَا أَوْ كِلَاهُمَا فَلَا تَقُل لَّهُمَا أُفٍّ وَلَا تَنْهَرْهُمَا وَقُل لَّهُمَا قَوْلًا كَرِيمًا ‎23‏ وَاخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ وَقُل رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا
”تیرے رب نے فیصلہ کیا ہے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو۔ اور والدین کے ساتھ نیک سلوک کرو۔ اگر ان میں سے کوئی ایک یا دونوں تمہارے پاس بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو نہ انہیں اف کہو اور نہ ہی جھڑکوں۔ بلکہ ان سے شریفانہ لہجہ میں بات کہو۔ اور ان کے لیے رحمدلی کے ساتھ پستی کے بازو جھکائے رہو اور دعا کرتے رہو کہ اے میرے رب ان پر رحم فرما جس طرح انہوں نے بچپن میں مجھے پالا تھا۔“
(سوره الإسراء : 23-24)

والدین کو گالیاں دلوانا کبائر میں سے ہے

والدین کو لعنت ملامت کرانا یعنی اس کا سبب بننا نہ صرف حرام بلکہ گناہ کبیرہ ہے۔ ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم یہ ہے :
إن من أكبر الكبائر أن يلعن الرجل والديه فاستغرب القوم أن يلعن رجل عاقل مؤمن والديه وهما سبب حياته، فقالوا وكيف يلعن الرجل والديه؟ قال يسب الرجل أبا الرجل فيسب أباه ويسب أمه فيسب أمه
”کبیرہ گناہوں میں سب سے بڑا گناہ یہ ہے کہ آدمی اپنے والدین کو خود لعنت ملامت کرے۔ لوگوں کو تعجب ہوا کہ ایک عقلمند مؤمن آدمی کس طرح اپنے والدین کو لعنت ملامت کر سکتا ہے جبکہ اسے زندگی ان ہی کے ذریعہ ملی ہے! چنانچہ انہوں نے پوچھا کہ آدمی اپنے والدین کو کس طرح لعنت ملامت کر سکتا ہے؟ فرمایا آدمی کسی کے باپ کو گالی دیتا ہے اور یہ جواب میں اس کے باپ کو گالی دیتا ہے وہ اس کی ماں کو گالی دیتا ہے اور یہ جواب میں اس کی ماں کو گالی دیتا ہے۔“
بخاری کتاب الادب باب لايسب الرجل والديه ح : 5973 – مسلم کتاب الایمان باب الكبائر واكبرها ح : 90
تو اندازہ کیجئے اس شخص کے گناہ کا کیا انجام ہوگا جو اپنے ماں باپ کو خود بد گالی دیتا ہے !

والدین کی اجازت کے بغیر جہاد کے لیے جانا

چونکہ اسلام والدین کی رضا مندی کا بے حد خواہاں ہے اس لیے اس نے والدین کی اجازت کے بغیر جہاد (جیسے اہم فریضہ) کے لیے نکلنا جبکہ جہاد تطوع کے طور پر ہو یعنی فرض عین نہ ہو حرام ٹھہرایا ہے۔ حالانکہ اسلام میں جہاد فی سبیل اللہ کا مقام اتنا بلند ہے کہ اس کا نعم البدل نہ رات بھر کی عبادت ہو سکتی ہے اور نہ دن بھر کا روزہ۔ عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں :
جاء رجل إلى نبي الله صلى الله عليه وسلم فاستأذنه فى الجهاد فقال أحي والداك؟ قال نعم قال ففيهما فجاهد
”ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے جہاد کی اجازت مانگی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا : تمہارے والدین حیات ہیں؟ اس نے عرض کیا : جی ہاں! فرمایا : تو پھر ان ہی میں جہاد کرو۔“
بخاری کتاب الجهاد باب الجهاد باذن الأبوين ح : 3004 – مسلم كتاب البر والصلة باب بر الوالدين : 2549
یعنی والدین کی خدمت اور اُن کے ساتھ نیک سلوک کو میدان جہاد بنالو۔ اسی طرح ایک شخص کو جو ہجرت اور جہاد پر بیعت کرنے کی غرض سے حاضر ہوا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
أفتبتغي الأجر من الله؟ قال نعم قال فارجع إلى والديك فأحسن صحبتهما
”کیا تم اللہ سے اجر کے طالب ہو؟ اس نے کہا : جی ہاں! فرمایا : تو اپنے والدین کے پاس واپس چلے جاؤ اور ان کی اچھی طرح خدمت کرو۔“
مسلم حواله سابق ح : 2549/6
ایک اور شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: میں ہجرت پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کرنے کی غرض سے حاضر ہوا ہوں اور والدین کو اس حال میں چھوڑ آیا ہوں کہ وہ رو رہے تھے۔ فرمایا :
ارجع إليهما فأضحكهما كما أبكيتهما
”اپنے والدین کے پاس واپس چلے جاؤ اور جس طرح انہیں رُلایا ہے اسی طرح انہیں ہنساؤ۔“
ابو داود كتاب الجهاد باب في الرجل يغزو وابواه كارهان ح : 2528 ۔ نسائی کتاب البيعة باب البيعة على الهجرة ح : 4168 – ابن ماجه كتاب الجهاد باب الرجل يغزووله ابوان ح : 2782
اسی طرح یمن سے ایک شخص ہجرت کر کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے دریافت فرمایا کہ آیا وہ والدین کی اجازت سے آیا ہے۔ اس نے جب نفی میں جواب دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
فارجع إليهما فاستأذنهما فإن أذنا لك فجاهد وإلا فبرهما
”ان کے پاس واپس چلے جاؤ اور اُن سے اجازت طلب کرو۔ اگر وہ اجازت دیں تو جہاد کرو ورنہ ان کی خدمت میں لگے رہو۔“
ابو داؤد کتاب الجهاد باب فى الرجل يغزو و ابواه کارهان ح : 2530

مشرک والدین

والدین کے معاملہ میں اسلام نے نہایت اعلی تعلیم دی ہے اور ان کے ساتھ بدسلوکی کو بہر صورت حرام ٹھہرایا ہے۔ یہاں تک کہ اگر والدین مشرک و کافر ہی کیوں نہ ہوں اور شرک کے داعی بن کر اپنے بیٹے کو دین اسلام سے پھیرنے کے لیے دباؤ ڈالیں، تب بھی ان کے ساتھ کسی طرح بھی بدسلوکی کرنا روا نہیں ہے۔ ارشاد الہی ہے :
أَنِ اشْكُرْ لِي وَلِوَالِدَيْكَ إِلَيَّ الْمَصِيرُ 14‏ وَإِن جَاهَدَاكَ عَلَىٰ أَن تُشْرِكَ بِي مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْهُمَا ۖ وَصَاحِبْهُمَا فِي الدُّنْيَا مَعْرُوفًا ۖ وَاتَّبِعْ سَبِيلَ مَنْ أَنَابَ إِلَيَّ ۚ ثُمَّ إِلَيَّ مَرْجِعُكُمْ فَأُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ
”میرا شکر ادا کر اور اپنے والدین کا بھی۔ میری ہی طرف پلٹ کر آنا ہے۔ اور اگر وہ تجھ پر دباؤ ڈالیں کہ تو میرے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرائے جس کی تیرے پاس کوئی علمی دلیل نہیں ہے تو ان کی بات نہ مان اور دنیا میں ان کے ساتھ اچھا برتاؤ کر۔ اور اتباع کرو اس شخص کے راستہ کی کہ جس نے میری طرف رجوع کیا ہے۔ پھر تم سب کو میری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے اس وقت میں تمہیں بتا دوں گا کہ تم کیسے عمل کرتے رہے ہو؟“
(سورہ لقمان : 14-15)
مذکورہ آیات میں مسلمانوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ شرک کے معاملہ میں اپنے والدین کی اطاعت نہ کریں کہ خالق کی معصیت کے معاملہ میں مخلوق کی اطاعت جائز نہیں، اور شرک سے بڑھ کر معصیت اور کیا ہوسکتی ہے؟ البتہ دنیوی معاملات میں ان کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کا حکم دیا گیا ہے اس طور سے کہ کوئی مسلمان ایمان کے معاملہ میں ان کی رائے سے متاثر نہ ہو بلکہ مؤمنین صالحین کی راہ کی اتباع کرے اور اس کے اور والدین کے درمیان دین کا جو اختلاف ہے اس کا فیصلہ احکم الحاکمین پر چھوڑ دے اس دن کے لیے جب نہ باپ بیٹے کے کچھ کام آسکے گا اور نہ بیٹا باپ کے۔
رواداری کی اس اعلی تعلیم کی مثال آپ کو دنیا کے کسی مذہب میں نہیں مل سکتی!