دعوتِ دین کی بنیاد توحید ہے: حدیثِ معاذ رضی اللہ عنہ کے اہم فوائد

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ عبداللہ ناصر رحمانی کی شرح کتاب التوحید من صحیح بخاری سے ماخوذ ہے۔
مضمون کے اہم نکات

بسم الله الرحمن الرحيم

كِتَابُ التَّوْحِيدِ

باب ما جاء في دعاء النبي صلى الله عليه وسلم أمته إلى توحيد الله تبارك وتعالى:

رسول اللہ ﷺ کا اپنی امت کو بلانا اللہ رب العزت کی توحید کی طرف۔

امت کی دو اقسام ہیں:

[1] امت دعوت

[2] امت ایجابت

یہاں دونوں مراد ہیں۔

[1] امت دعوت:

ساری امت جس میں کفار ومشرکین شامل ہیں، جن کو دعوت رسول اللہ ﷺ نے دی۔

[2] امت ایجابت:

وہ امت جس نے رسول اللہ ﷺ کی دعوت قبول کر لی۔

نوٹ: ملحدین سے جو قواعد و ضوابط بنائے ہیں ان کی کوئی ضرورت نہیں، بلکہ وہ قواعد و ضوابط مہلک ہیں۔

7371: حدثنا أبو عاصم، حدثنا زكرياء بن إسحاق، عن يحيى بن عبد الله بن صيفي، عن أبي معبد، عن ابن عباس رضي الله عنهما: أن النبي صلى الله عليه وسلم بعث معاذا إلى اليمن۔

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ: نبی کریم ﷺ نے معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو یمن بھیجا۔

7372: وحدثني عبد الله بن أبي الأسود، حدثنا الفضل بن العلاء، حدثنا إسماعيل بن أمية، عن يحيى بن عبد الله بن محمد بن صيفي: أنه سمع أبا معبد، مولى ابن عباس، يقول: سمعت ابن عباس يقول: «لما بعث النبي صلى الله عليه وسلم معاذا نحو اليمن، قال له: إنك تقدم على قوم من أهل الكتاب، فليكن أول ما تدعوهم إلى أن يوحدوا الله تعالى، فإذا عرفوا ذلك، فأخبرهم أن الله فرض عليهم خمس صلوات في يومهم وليلتهم، فإذا صلوا، فأخبرهم أن الله افترض عليهم زكاة في أموالهم، تؤخذ من غنيهم فترد على فقيرهم، فإذا أقروا بذلك فخذ منهم، وتوق كرائم أموال الناس۔

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے کہا کہ جب رسول اللہ ﷺ نے معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو یمن بھیجا تو ان سے فرمایا کہ تم اہل کتاب میں سے ایک قوم کے پاس جا رہے ہو ۔ اس لیے سب سے پہلے انہیں اس کی دعوت دینا کہ وہ اللہ کو ایک مانیں (اور میری رسالت کو مانیں) جب وہ اسے سمجھ لیں تو پھر انہیں بتانا کہ اللہ نے ایک دن اور رات میں ان پر پانچ نمازیں فرض کی ہیں ۔ جب وہ نماز پڑھنے لگیں تو انہیں بتانا کہ اللہ نے ان پر ان کے مالوں میں زکوٰۃ فرض کی ہے ، جو ان کے امیروں سے لی جائے گی اور ان کے غریبوں کو لوٹا دی جائے گی ۔ جب وہ اس کا بھی اقرار کر لیں تو ان سے زکوٰۃ لینا اور لوگوں کے عمدہ مال لینے سے پرہیز کرنا۔

فوائد و استنباطات: فضيلۃ الشیخ عبداللہ ناصر رحمانی حفظہ اللہ

مختصر تعارفِ رواۃ:

◈ ابو عاصم: امام بخاری کے استاد ہیں۔

نام: الضحاک ابن مخلد

لقب: النبیل

◈ ابی معبد: یہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضي اللہ عنہ کے غلام تھے۔

نام: نافذ

وفات: 104ھ

امام بخاری رحمہ اللہ نے اس حدیث کی دو سندیں ذکر کی ہیں۔

[1] پہلی حدیث(7371) کی سند عالی ہے۔ (یعنی) واسطے کم ہوں۔

[2] دوسری حدیث(7372) کی سند نازل ہے۔(یعنی) واسطے زیادہ ہوں۔

سوال: یمن کے لئے سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کا ہی انتخاب کیوں کیا گیا؟

جواب: سیدنا معاذ بن جبل رضي اللہ عنہ حلال وحرام کے بڑے عالم تھے۔

دلیل: [وأعلمهم بالحلال والحرام معاذ بن جبل]

اور حلال و حرام کے سب سے بڑے عالم معاذ بن جبل ہیں۔

(سنن ترمذي:3791)

[قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:، معاذ بين يدي العلماء يوم القيامة برتوة]

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: معاذ رضی اللہ عنہ قیامت کے دن علماء کے آگے ایک درجہ بلند ہوں گے۔

(الطبقات الكبرى-ط العلمية:264/2)

بالفاظ مختلفة: إنه يحشر يوم القيامة بين يدي العلماء نبذة.

وہ قیامت کے دن علماء کے درمیان ایک جماعت کی صورت میں اٹھائے جائیں گے ۔

(مسند احمد-ط الرسالۃ: ح108)

  • سیدنا معاذ بن جبل رضي اللہ عنہ 10ھ کو یمن کی طرف روانہ ہوئے۔
  • یمن کو یمن اس لئے کہتے ہیں یہ مکہ سے دائیں طرف ہے۔ اور شام شمال بائیں جانب ہے۔
  • فلیکن: صیغہ امر ہے۔

اور اس لفظ سےیہ بات معلوم ہوئی کے اللہ رب العزت کی معرفت اوّل فرض ہے۔

  • متکلمین اور معتزلہ کے نزدیک اوّل واجب دلائل میں غور کرنا ہے تو یہ بات قطعا درست نہیں۔
  • بعض متکلمین کے نزدیک اوّل واجب شک ہے۔

تو یہ سب متکلمین کے نظریے باطل اور مردود ہیں۔

  • اور ایک حدیث میں یہ الفاظ ہیں:[فإذا عرفوا الله] (صحیح البخاری:1458)

اس حدیث کا موضوع توحید الوہیت و ربوبیت ہے۔

توحید کی معرفت کے بعد نماز کا موضوع شروع ہوتا ہے۔