زیارت قبور کے ممنوعہ کام اور قبروں کو عبادت گاہ بنانے کی ممانعت

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی کتاب الجواب الباہر فی زوار المقابر سے ماخوذ ہے جس کا ترجمہ شیخ عطا اللہ ثاقب نے کیا ہے۔

زیارت قبور کے موقع پر ممنوعہ کام

پس ایسی زیارت قبور منع ہے جس میں مسنون اعمال تو ترک کر دیے جائیں لیکن ممنوع کام انجام دیے جائیں۔ جیسے جزع فزع، بے ہودہ کلام اور بے صبری وغیرہ۔ اسی طرح ایسی زیارت قبور بھی ممنوع ہے جو شرک باللہ، غیر اللہ کو پکارنا اور ترک اخلاص پر مشتمل ہو تو یہ دونوں قسم کی زیارت میں ممنوع ہیں۔ البتہ مؤخر الذکر بلحاظ گناہ کے زیادہ سنگین ہے۔ لہذا قبر کے پاس جا کر یا قبر کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنا جائز نہیں ہے۔ کیونکہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ:
لا تصلوا إلى القبور ولا تجلسوا عليها
”نہ قبروں کی طرف منہ کر کے نماز پڑھو اور نہ ان کے اوپر مجاور بن کر ہی بیٹھو۔“
(صحیح مسلم کتاب الجنائز : باب النهي عن الجلوس على القبر والصلاة إليه حدیث 972)
پس زیارت قبور کی دو صورتیں ٹھہریں:
◈ پہلی وہ جس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا اور علماء کا اس پر اتفاق ہے کہ یہ غیر مشروع ہے۔ اور وہ یہ کہ قبور کو عبادت گاہ، بت خانہ اور میلے کی جگہ بنا لیا جائے۔ لہذا وہاں فرض یا نفل نماز کی ادائیگی کے لیے جانا بھی غلط ہے اور یہ بھی غلط ہے کہ قبر کی عبادت بتوں کی طرح کی جائے۔ انہیں میلے کی جگہ بنا لیا جائے کہ لوگ ایک مقررہ وقت پر وہاں جمع ہوں جیسے عرفات اور منی میں مسلمان جمع ہوتے ہیں۔
◈ دوسری زیارت شرعیہ ہے جو اکثر علماء کے نزدیک مستحب ہے۔ بعض علماء اسے مباح اور بعض مطلق ممنوع کہتے ہیں جس کی تفصیل سابقہ صفحات میں گزر چکی ہے۔ شرعی دلائل جس کی تائید و حمایت میں ہیں وہ یہ ہے کہ ہم مطلق کو مقید پر محمول کریں۔ اس صورت میں زیارت کی مندرجہ ذیل تین قسمیں ہوں گی:
➊ ممنوع
➋ مباح
➌ مستحب
امام مالک رحمہ اللہ کے ہاں تیسری صورت صحیح ہے اور وہ اس کی تائید میں وہی روایات و آثار پیش کرتے ہیں، جن میں مسجد نبوی، مسجد قبا، جنت البقیع اور شہدائے احد کی قبور کی زیارت کا تذکرہ ہے۔
رسول مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول تھا کہ آپ ان دو مساجد اور دو قبرستانوں کے سوا کہیں تشریف نہ لے جاتے تھے۔ آپ نماز جمعہ اپنی مسجد میں پڑھتے اور ہفتہ کے روز مسجد قبا تشریف لے جاتے تھے۔ جیسا کہ صحیحین میں سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ:
إن النبى صلى الله عليه وسلم كان يأتى قباء كل سبت راكبا وماشيا فيصلي فيه ركعتين
”رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہر ہفتہ پیادہ پا اور کبھی سواری پر مسجد قبا تشریف لے جا کر دو رکعت نماز ادا فرماتے۔“
(صحیح بخاری کتاب فضل الصلاة في مسجد مكة والمدينة : باب إتيان مسجد قباء ماشيا وراكبا حدیث 1193، صحیح مسلم کتاب الحج : باب فضل مسجد قباء وفضل الصلاة فيه حدیث 1399)
قبور کو عبادت گاہ بنانے کی نفی میں احادیث کا ذخیرہ بے شمار ہے جو صحیحین اور ان کے علاوہ کتب حدیث میں محفوظ ہے۔ ان میں سے چند ایک احادیث قارئین کرام کے لیے پیش خدمت ہیں۔