قربانی کا مفہوم اور ابراہیمی سنت کی تحقیق قرآن و حدیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ فاروق رفیع صاحب کی کتاب قُربانی، عقیقہ اور عشرہ زی الحجہ سے ماخوذ ہے۔

قربانی کی تعریف اور حکم

قربانی وہ جانور ہے جو اللہ کی راہ میں قربان کیا جائے۔
فیروز اللغات: 953
صاحبِ قاموس فرماتے ہیں:
والقربان بالضم ما يتقرب به إلى الله تعالى
”قربانی وہ عمل ہے، جس سے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کیا جائے۔“
القاموس المحيط

انسان میں قربانی کا جذبہ:

تخلیقِ انسانیت کے آغاز ہی سے انسان میں قربانی کا جذبہ کارفرما ہے اور انسان بارگاہِ الٰہی میں قرب و مقام حاصل کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ کی راہ میں قربانی پیش کرنے کا خواہاں رہا ہے، فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
﴿وَاتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَأَ ابْنَيْ آدَمَ بِالْحَقِّ إِذْ قَرَّبَا قُرْبَانًا فَتُقُبِّلَ مِنْ أَحَدِهِمَا وَلَمْ يُتَقَبَّلْ مِنَ الْآخَرِ قَالَ لَأَقْتُلَنَّكَ ۖ قَالَ إِنَّمَا يَتَقَبَّلُ اللَّهُ مِنَ الْمُتَّقِينَ﴾
”اور ان پر آدم کے دو بیٹوں کی خبر کی تلاوت حق کے ساتھ کر، جب ان دونوں نے کچھ قربانی پیش کی تو ان میں سے ایک کی قبول کر لی گئی اور دوسرے کی قبول نہ کی گئی۔ اس نے کہا: میں تجھے ضرور ہی قتل کر دوں گا۔ اس نے کہا: بے شک اللہ متقی لوگوں ہی سے قبول کرتا ہے۔“
سورة المائدة: 27

قربانی سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی عظیم ترین سنت:

قربانی سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی عظیم ترین سنت ہے، یہ عمل اللہ تبارک و تعالیٰ کو اتنا پسند آیا کہ اس عمل کو قیامت تک کے لیے مسلمانوں کے لیے عظیم سنت قرار دیا گیا۔ قرآنِ حکیم میں منقول ہے کہ جب قومِ ابراہیم علیہ السلام نے انہیں ہجرت پر مجبور کیا تو انہوں نے کہا:
﴿وَقَالَ إِنِّي ذَاهِبٌ إِلَىٰ رَبِّي سَيَهْدِينِ ‎رَبِّ هَبْ لِي مِنَ الصَّالِحِينَ ‎فَبَشَّرْنَاهُ بِغُلَامٍ حَلِيمٍ ‏ فَلَمَّا بَلَغَ مَعَهُ السَّعْيَ قَالَ يَا بُنَيَّ إِنِّي أَرَىٰ فِي الْمَنَامِ أَنِّي أَذْبَحُكَ فَانظُرْ مَاذَا تَرَىٰ ۚ قَالَ يَا أَبَتِ افْعَلْ مَا تُؤْمَرُ ۖ سَتَجِدُنِي إِن شَاءَ اللَّهُ مِنَ الصَّابِرِينَ فَلَمَّا أَسْلَمَا وَتَلَّهُ لِلْجَبِينِ‏ وَنَادَيْنَاهُ أَن يَا إِبْرَاهِيمُ‏ قَدْ صَدَّقْتَ الرُّؤْيَا ۚ إِنَّا كَذَٰلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِينَ ‎‏ إِنَّ هَٰذَا لَهُوَ الْبَلَاءُ الْمُبِينُ وَفَدَيْنَاهُ بِذِبْحٍ عَظِيمٍ وَتَرَكْنَا عَلَيْهِ فِي الْآخِرِينَ﴾
”اور اس نے کہا: بے شک میں اپنے رب کی طرف جانے والا ہوں، وہ مجھے ضرور راستہ دکھائے گا۔ اے میرے رب! مجھے (لڑکا) عطا کر جو نیکوں سے ہو۔ تو ہم نے اسے ایک بہت بردبار لڑکے کی بشارت دی۔ پھر جب وہ اس کے ساتھ دوڑ دھوپ کی عمر کو پہنچ گیا تو اس نے کہا: اے میرے چھوٹے بیٹے! بلاشبہ میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ میں تجھے ذبح کر رہا ہوں، تو دیکھ تو کیا خیال کرتا ہے؟ اس نے کہا: اے میرے باپ! تجھے جو حکم دیا جا رہا ہے کر گزر، اگر اللہ نے چاہا تو تو ضرور مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائے گا۔ تو جب دونوں نے حکم مان لیا اور اس نے اسے پیشانی کی ایک جانب پر گرا دیا۔ اور ہم نے اسے آواز دی کہ اے ابراہیم! یقیناً تو نے خواب سچا کر دکھایا، بے شک ہم نیکی کرنے والوں کو اسی طرح جزا دیتے ہیں۔ بے شک یہی تو یقیناً کھلی آزمائش ہے۔ اور ہم نے اس کے فدیے میں ایک بہت بڑا ذبیحہ دیا۔ اور پیچھے آنے والوں میں اس کے لیے یہ بات چھوڑ دی۔“
سورة الصافات: 99 تا 108

فوائد:

① نیک اور صالح اولاد کی دعا کرنا مستحسن فعل ہے اور ناامید اور مایوس ہونے کے بجائے بڑھاپے میں بھی اللہ تعالیٰ کی رحمت سے پُرامید رہنا چاہیے۔
② انبیاء علیہم السلام کے خواب وحی ہوتے ہیں اور حالتِ نیند اور حالتِ بیداری میں ان کے لیے حکمِ الٰہی یکساں اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔ اسی چیز کو مدنظر رکھتے ہوئے سیدنا ابراہیم علیہ السلام خواب کو حقیقت کا روپ دینے کے لیے تیار ہوئے تھے۔
③ تفاسیر میں جو مذکور ہے کہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے سیدنا اسماعیل علیہ السلام کو ذبح کرتے وقت چہرے کے بل لٹایا تھا، تاکہ چھری پھیرتے وقت شفقتِ پدری حکمِ ربانی پر غالب نہ آئے، سراسر باطل اور سیاقِ قرآن کے مخالف ہے۔ قرآنِ حکیم میں تو واضح آیا ہے کہ ﴿فَلَمَّا أَسْلَمَا وَتَلَّهُ لِلْجَبِينِ﴾ ”غرض جب دونوں مطیع ہو گئے اور اس نے اسے پیشانی کی ایک جانب گرا دیا۔“ ”جبین“ سے مراد پیشانی کی ایک جانب ہے، پیشانی نہیں۔ پیشانی کے لیے عربی زبان میں لفظ ”الجبهة“ استعمال ہوتا ہے، اس کے دلائل حسبِ ذیل ہیں:
① علامہ وحید الزماں بیان کرتے ہیں کہ بعض نے کہا: ”جبین وہ مقام ہے جو ابرو کے بال کی جگہ تک ہے، تو ہر آدمی میں دو جبین ہیں، جو چہرے کے دونوں طرف ہیں۔“
لغات الحديث: 264/1
② مفسرِ قرآن حافظ صلاح الدین یوسف رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
”ہر انسان کے منہ (چہرے) پر دو جبینیں (دائیں اور بائیں) ہوتی ہیں اور درمیان میں پیشانی ”جبهة“ اس لیے ”للجبين“ کا زیادہ صحیح ترجمہ کروٹ پر ہے۔ یعنی اس طرح کروٹ پر لٹا لیا، جس طرح جانور کو ذبح کرتے وقت قبلہ رخ کروٹ پر لٹایا جاتا ہے۔“
تفسير احسن البيان از صلاح الدین یوسف
③ ابنِ جریر طبری رحمہ اللہ ﴿وَتَلَّهُ لِلْجَبِينِ﴾ کی تفسیر بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے سیدنا اسماعیل علیہ السلام کو چہرے کی ایک جانب گرایا۔ پیشانی کے دائیں اور بائیں جانب دو جبینیں ہوتی ہیں، یوں چہرے کی دو جبینیں اور ان کے درمیان میں پیشانی ہوتی ہے۔
تفسیر طبری: 76/21
نیز جن روایات میں اسماعیل علیہ السلام کو اوندھے منہ لٹا کر ذبح کرنے کا بیان ہے، وہ روایات کمزور اور ناقابلِ حجت ہیں۔
﴿فَلَمَّا أَسْلَمَا وَتَلَّهُ لِلْجَبِينِ﴾ کی تفسیر عکرمہ رحمہ اللہ یوں بیان کرتے ہیں: ”جب دونوں (باپ بیٹا) نے حکمِ الٰہی بخوشی تسلیم کر لیا اور بیٹا ذبح ہونے اور باپ ذبح کرنے کے لیے راضی ہو گیا تو بیٹے نے عرض کی:
يا أبت: اقذفني للوجه، كي لا تنظر إلى فترحمني، وأنا أنظر إلى السفرة فأجزع و لكن أدخل السفرة من تحتي، وأمض
”ابو جان! مجھے چہرے کے بل گرائیے تاکہ مجھے دیکھ کر آپ ترس نہ کھائیں اور میں چھری دیکھ کر بے صبرا نہ ہو جاؤں، بلکہ میرے نیچے سے چھری داخل کریں اور اللہ تعالیٰ کے حکم کو کر گزرئیے“۔
ضعیف: تفسیر طبری: 76/21
اس کے ضعف کی دو علتیں ہیں:

①  اس سند میں محمد بن حمید بن حیان رازی ضعیف راوی ہے۔ جمہور محدثین نے اسے ضعیف قرار دیا ہے۔
②  عکرمہ اور سیدنا اسماعیل علیہ السلام کے درمیان انقطاع ہے۔ عکرمہ نے یہ روایت کس سے سنی اور درمیان میں کتنے واسطے ہیں، اس بارے کوئی صراحت نہیں ہے۔
② مجاہد رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: ﴿وَتَلَّهُ لِلْجَبِينِ﴾ کا معنیٰ ہے کہ انہوں نے (سیدنا ابراہیم علیہ السلام) نے اس کا چہرہ زمین پر رکھا تو سیدنا اسماعیل علیہ السلام نے کہا:
لا تذبحني وأنت تنظر إلى وجهي عسى أن ترحمني ولا تجهز على اربط يدي إلى رقبتي، ثم ضع وجهي للأرض
”مجھے ذبح کرتے وقت میرے چہرے کی طرف نہ دیکھنا، ممکن ہے اس طرح تمہیں مجھ پر ترس آ جائے اور آپ مجھ پر دسترس نہ رکھ سکیں (بلکہ) میرے ہاتھ میری گردن کی طرف باندھو اور میرا چہرہ زمین پر رکھو (پھر چھری چلا دو)۔“
ضعیف: تفسیر طبری: 76/21
اس حدیث کا سبب ضعف دو علتیں ہیں :
① عبد الله بن أبي نجيح المکی کی تدلیس ہے۔
② مجاہد اور اسماعیل علیہ السلام کے درمیان انقطاع ہے۔
③ سیدنا ابنِ عباس رضی اللہ عنہ ﴿وَتَلَّهُ لِلْجَبِينِ﴾ کی تفسیر بایں الفاظ بیان کرتے ہیں:
أكبه على جبهته سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے اسے (سیدنا اسماعیل علیہ السلام کو) پیشانی کے بل الٹا گرایا۔
ضعیف: تفسیر طبری: 78/21
اس اثر کی سند کے تمام راوی ضعیف ہیں، جو بالترتیب بیان کیے جاتے ہیں :
① محمد بن سعد بن محمد بن حسن عطیہ کمزور راوی ہے ۔
② سعد بن محمد بن حسن بن عطیہ تسائل ہے۔
③ حسین بن حسن بن عطیہ بالا تفاق ضعیف راوی ہے ۔
④ حسن بن عطیہ عوفی ضعیف ہے۔
⑤ عطیہ بن سعد بن جنادہ عوفی ضعیف مدلس راوی ہے۔
لہذا راجح مفہوم یہی ہے کہ سیدنا اسماعیل علیہ السلام کو ذبح کرتے وقت سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے انہیں دائیں کروٹ لٹایا تھا، جیسے جانور کو ذبح کرتے وقت چہرے کی دائیں جانب لٹایا جاتا ہے۔