امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی قلتِ روایت: اسباب اور محدثین کا موقف

فونٹ سائز:
تحریر: غلام مصطفی ظہیر امن پوری حفظہ اللہ

امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ اور روایتِ حدیث

سوال: امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ سے کتنی روایات مروی ہیں؟

جواب: امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ محدث نہیں تھے، آپ سے نہ ہونے کے برابر روایات مروی ہیں، جو آپ سے روایات مروی ہیں، ان میں بھی کلام ہے۔

علامہ عبدالحی لکھنوی حنفی رحمہ اللہ (1304ھ) لکھتے ہیں:

من ثم قلت روايات الإمام أبي حنيفة بالنسبة إلى غيره من المحدثين، وهذا يبني عن شدة ورعه، وغاية احتياطه، وقد خبط جمع من علماء زماننا، فعدوه من معايبه.

اسی وجہ سے امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی روایات دیگر محدثین کی بہ نسبت کم ہیں۔ یہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے سخت ورع اور کمالِ احتیاط کی بنا پر ہے۔ ہمارے دور کے بہت سارے علماء نے سوچے سمجھے بغیر اسے امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے عیوب میں شمار کیا ہے۔ (ظفر الأماني:ص525)

❀ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی روایات کم ہیں، مگر کم ہونے کی جو وجہ بیان کی جاتی ہے کہ ورع واحتیاط کی بنا پر تھا، تو یہ درست نہیں، دراصل آپ رحمہ اللہ محدث نہ تھے اور حدیث آپ رحمہ اللہ کا مشغلہ نہ تھا۔ دوسری طرف آپ محدثین کی سخت جروح کی زد میں بھی تھے۔

امام ابنِ حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

لم يكن الحديث صناعته حدث بمائة وثلاثين حديثا مسانيد ما له حديث في الدنيا غيره أخطأ منها في مائة وعشرين حديثا إما أن يكون أقلب إسناده أو غير متنه من حيث لا يعلم فلما غلب خطؤه على صوابه استحق ترك الاحتجاج به في الأخبار ومن جهة أخرى لا يجوز الاحتجاج به

حدیث ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا فن نہیں تھا، انہوں نے کل ایک سو تیس باسند احادیث بیان کی ہیں، اس کے علاوہ ان کی کوئی حدیث دنیا میں موجود نہیں، ان میں سے بھی ایک سو بیس احادیث میں ابو حنیفہ رحمہ اللہ نے غلطی کھائی ہے، انجانے میں یا تو سند کو الٹ دیا، یا متن کو تبدیل کر دیا۔ جب ان کی درستی پر ان کی غلطیاں غالب آ گئیں، تو مستحق ٹھہرے کہ ان کی روایات سے حجت نہ پکڑی جائے، بالفاظِ دیگر ان سے حجت پکڑنا جائز نہیں۔ (کتاب المجروحین: 63/3)