اہلِ حدیث نام پر اعتراضات اور جماعت المسلمین کے موقف کا تحقیقی جائزہ

فونٹ سائز:
یہ اقتباس محدث العصر شیخ زبیر علی زئی رحمہ اللہ کی کتاب اہل حدیث ایک صفاتی نام سے ماخوذ ہے۔

کیا اہل حدیث نام صحیح ہے؟

سوال: ہم اہلحدیث کیوں ہیں؟ ہم مسلمین (مسلمان) کیوں نہیں ہیں؟ کیا کوئی صحابی اہلحدیث تھا؟ یا اس نے اپنا نام اہلحدیث رکھا ہو؟ دلائل سے واضح کریں، ہم اہلحدیث کیوں ہیں؟ (جزاکم اللہ خیراً) یہ سوال ’جماعت المسلمین‘ (فرقه مسعودیہ) کی طرف سے ہے، اور بخاری کی حدیث بھی پیش کی ہے کہ جماعت المسلمین اور اس کے امام کو لازم پکڑو۔

(اُمِ خالد، کامرہ کینٹ)

الجواب: ’’مسلمین‘‘ مسلم کی جمع ہے اور بالاجمام مسلمان مطیع و فرمانبردار کو کہتے ہیں۔ مسلمانوں کے بہت سے نام اور القاب ہیں۔ مثلاً مہاجرین، انصار، صحابہ، و تابعین وغیرہ، ایک صحیح حدیث میں آیا ہے: [فادعوا بدعوى الله الذي سماكم المسلمين المؤمنين عباد الله] پس پکارو، اللہ کی پکار کے ساتھ جس نے تمھارے نام مسلمین، مؤمنین (اور) عباداللہ رکھے ہیں۔

(سنن ترمذی 2863 وقال: ”حسن صحیح غریب“ و صححہ ابن حبان (موارد: 1222- 1550) والحاکم: 1/ 71، 118، 236، 421، 422 ووافقہ الذہبی) اس کی سند صحیح ہے۔ یحییٰ بن ابی کثیر نے سماع کی تصریح کر رکھی ہے۔

موسیٰ بن خلف ابو خلف عن یحییٰ بن ابی کثیر۔۔۔ الخ کی روایت میں آیا ہے: [فادعوا المسلمين بأسمائهم بما سماهم الله عزوجل المسلمين المؤمنين عباد الله عزوجل] مسلمانوں کو ان کے ناموں مسلمین، مؤمنین (اور) عباد اللہ عزوجل سے پکارو جو کہ اللہ عزوجل نے ان کے نام رکھے ہیں۔

(مسند احمد:4/ 130 ح17302 واللفظ لہ 4/ 202 ح17953،وسندہ حسن)

اس روایت کی سند حسن لذاتہ ہے۔ اس کے ایک راوی ابوخلف موسیٰ بن خلف ہیں جو جمہور محدثین کے نزدیک موثق ہیں لہٰذا صدوق حسن الحدیث ہیں۔

مسند احمد(5/ 244 ح23298) میں اس کا ایک صحیح شاہد یعنی تائید والی روایت بھی ہے، لہٰذا روایتِ مذکورہ بالکل صحیح ہے۔ والحمدلله

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مسلمانوں کے اور بھی نام ہیں لہٰذا بعض لوگوں کا یہ کہنا کہ: ہمارا نام صرف ایک: مسلم ہے، غلط اور باطل ہے۔

صحیح مسلم کے مقدمے میں مشہور تابعی محمد بن سیرین رحمہ اللہ کا قول لکھا ہوا ہے کہ: [فينظر إلى أهل السنة فيؤخذ حديثهم]

پس اہل سنت کی طرف دیکھا جاتا تھا اور ان کی حدیث قبول کی جاتی تھی۔ (باب5 حدیث نمبر27 ترقیم دارالسلام)

اس قول کے راویوں اور امام مسلم کی رضامندی سے یہ قول موجود ہے۔ صحیح مسلم ہزاروں لاکھوں علماء نے پڑھی ہے مگر کسی نے اس قول پر اعتراض نہیں کیا کہ مسلمانوں کا نام اہل سنت غلط ہے۔ معلوم ہوا کہ اس پر مسلمانوں کا اجماع ہے کہ اہل سنت نام صحیح ہے۔

ایک صحیح حدیث میں آیا ہے کہ طائفہ منصورہ ہمیشہ غالب رہے گا۔ اس کی تشریح میں امام بخاری فرماتے ہیں: [يعني أهل الحديث]

یعنی اس سے مراد اہل الحدیث ہیں۔ (مسئلۃ الاحتجاج بالشافعی للخطیب:ص47 وسندہ صحیح)

امام بخاری کے استاد علی بن عبداللہ المدینی ایسی روایت کی تشریح میں فرماتے ہیں: [هم أهل الحديث]وہ اہل الحدیث ہیں۔

(سنن الترمذی، ابواب الفتن باب ما جاء فی الائمۃ المضلین: ح2229 نسخہ عارضۃ الاحوذی:9/ 74 وسندہ صحیح)

امام قتیبہ بن سعید نے فرمایا: [إذا رأيت الرجل يحب أهل الحديث… فإنه على السنة]الخ

اگر تو کسی آدمی کو دیکھے کہ وہ اہل الحدیث سے محبت کرتا ہے۔۔۔۔ تو (سمجھ لے کہ) وہ شخص سنت پر (چل رہا) ہے۔

(شرف اصحاب الحدیث للخطیب: ص134 ح143 وسندہ صحیح)

احمد بن سنان الواسطی نے فرمایا: [ليس في الدنيا مبتدع إلا وهو يبغض أهل الحديث]

دنیا میں کوئی بھی ایسا بدعتی نہیں ہے جو کہ اہل الحدیث سے بغض نہیں رکھتا۔ (معرفۃ علوم الحدیث للحاکم: ص4 وسندہ صحیح)

امام احمد بن حنبل فرماتے ہیں: [إن لم تكن هذه الطائفة المنصورة أصحاب الحديث فلا أدري من هم]

اگر اس طائفہ منصورہ سے مراد اصحاب الحدیث نہیں ہیں تو پھر میں نہیں جانتا کہ وہ کون ہیں۔

(معرفۃ علوم الحدیث للحاکم: ص2 و صححہ ابن حجر فی فتح الباری:13/ 250)

حفص بن غیاث نے اصحاب الحدیث کے بارے میں کہا: [هم خير أهل الدنيا] یہ دنیا میں بہترین لوگ ہیں۔

(معرفۃ علوم الحدیث للحاکم: ص3 وسندہ صحیح)

امام شافعی فرماتے ہیں: [إذا رأيت رجلاً من أصحاب الحديث فكأني رأيت النبي ﷺ حياً]

جب میں اصحاب الحدیث میں سے کسی شخص کو دیکھتا ہوں، تو گویا میں نبی ﷺ کو زندہ دیکھتا ہوں۔

(شرف اصحاب الحدیث للخطیب:ص94 ح85 وسندہ صحیح)

المحدث الصدوق امام ابن قتیبہ الدینوری (متوفی 276ھ) نے ایک کتاب لکھی ہے: [تأويل مختلف الحديث في الرد على أعداء أهل الحديث] اس کتاب میں انھوں نے ’اہل الحدیث‘ کے اعداء (دشمنوں) کا زبردست رد کیا ہے۔

یہ تمام اقوال محدثین کے درمیان بلا انکار و بلا اعتراض شائع و ذائع اور مشہور ہیں۔

لہٰذا معلوم ہوا کہ ’اہل الحدیث‘ نام کے جائز و صحیح ہونے پر ائمہ مسلمین کا اجماع ہے۔ اور یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ امتِ مسلمہ گمراہی پر اجماع نہیں کر سکتی۔

قال رسول الله ﷺ: [لا يجمع الله أمتي أو قال: هذه الأمة على الضلالة أبداً ويد الله على الجماعة]

اللہ میری امت کو، یا فرمایا: اس امت کو گمراہی پر کبھی جمع نہیں کرے گا اور اللہ کا ہاتھ جماعت (اجماع) پر ہے۔

(المستدرک:1/ 116 ح398-399 وسندہ صحیح)

ان چند دلائلِ مذکورہ سے معلوم ہوا کہ مسلمین کا صفاتی نام اور لقب اہل حدیث و اہل سنت بھی ہے اور یہی گروہ طائفہ منصورہ ہے۔

اہل حدیث کے دو ہی مفہوم ممکن ہیں:

صحیح العقیدہ محدثین کرام

صحیح العقیدہ عوام جو محدثین کے منہج پر ان کی اقتداء بالدلیل کرتے ہیں۔

دیکھئے: مقدمۃ الفرقۃ الجدیدہ (ص 19) ومجموع فتاویٰ ابن تیمیہ(4/95)

یہ بات ثابت شدہ ہے کہ طائفہ منصورہ جنت میں جائے گا کیونکہ یہ اہل حق ہیں تو کیا صرف محدثین کرام ہی جنت میں جائیں گے اور ان کے عوام باہر دروازے پر ہی رہ جائیں گے؟

معلوم ہوا کہ طائفہ منصورہ میں محدثین اور ان کے عوام دونوں ہی شامل ہیں۔ قرآن و حدیث کو اپنی عقل سے سمجھنے والے اور منکرِ اجماع مسعود احمد بی ایس سی تکفیری نے لکھا ہے:

ہم بھی محدثین کو اہل الحدیث کہتے ہیں۔ زبیر صاحب کا مذکورہ بالا قول ہماری تائید ہے نہ کہ تردید۔ (الجماعة القدیمہ بجواب الفرقہ الجدیدہ:ص5)

حدیث بیان کرنے والوں کو محدثین کہتے ہیں۔

یہ عوام المسلمین کو بھی معلوم ہے صحابہ و تابعین نے احادیث بیان کی ہیں لہٰذا ثابت ہوا کہ صحابہ و تابعین سب محدثین (اہل الحدیث) تھے۔

مسعود صاحب پر ایک نئی ’’وحی‘‘ نازل ہوئی ہے، وہ متکبرانہ اعلان کرتے ہیں کہ: محدثین تو گزر گئے اب تو وہ لوگ رہ گئے ہیں جو ان کی کتابوں سے نقل کرتے ہیں۔ (الجماعة القدیمہ:ص29)

اس پر تبصرہ کرتے ہوئے برادرِ محترم ڈاکٹر ابو جابر عبداللہ دامانوی فرماتے ہیں: گویا موصوف کے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح محمد رسول اللہﷺ پر نبوت کا سلسلہ ختم ہو چکا ہے اسی طرح محدثین کا سلسلہ بھی کسی خاص محدث پر ختم ہو چکا ہے اور اب قیامت تک کوئی محدث پیدا نہیں ہو گا اور اب جو بھی آئے گا وہ صرف ناقل ہی ہو گا۔ جس طرح لوگوں نے اجتہاد کا دروازہ بند کر دیا۔ کسی نے بارہ کے بعد ائمہ کا سلسلہ ختم کر دیا۔ موصوف کا خیال ہو گا کہ اسی طرح محدثین کی آمد کا سلسلہ بھی اب ختم ہو چکا ہے لیکن اس سلسلے میں انھوں نے کسی دلیل کا ذکر نہیں کیا، اقوال الرجال تو ویسے ہی موصوف کی نگاہ میں قابلِ التفات نہیں ہیں البتہ اپنے ہی قول کو انھوں نے اس سلسلے میں حجت مانا ہے۔ حالانکہ جو لوگ بھی فنِ حدیث کے ساتھ شغف رکھتے ہیں ان کا شمار محدثین کے زمرے میں ہوتا ہے۔ (خلاصۃ الفرقۃ الجدیدہ:ص55)

صحیح بخاری (7084) والی حدیث: [تلزم جماعة المسلمين وإمامهم] جماعت المسلمین اور اس کے امام کو لازم پکڑو۔

اس حدیث پر امام بخاری کے لکھے ہوئے: [باب كيف الأمر إذا لم تكن جماعة] کی تشریح میں حافظ ابن حجر فرماتے ہیں:

[والمعنى ما الذي يفعل المسلم في حال الإختلاف من قبل أن يقع الإجماع على خليفة] اس حدیث کا معنی یہ ہے کہ ایک خلیفہ پر اجماع ہونے سے پہلے حالتِ اختلاف میں مسلمان کیا کرے؟ (فتح الباری:13/ 35 ح7084)

عینی حنفی لکھتے ہیں: [وحاصل معنى الترجمة أنه إذا وقع اختلاف ولم يكن خليفة فكيف يفعل المسلم من قبل أن يقع الإجتماع على خليفة]

اس باب کا خلاصہ یہ ہے کہ جب اختلاف ہو جائے اور خلیفہ نہ ہو تو خلیفہ پر اجماع سے پہلے مسلمان کیا کرے گا؟

(عمدة القاری:ج24 ص193 کتاب الفتن)

’’جماعة‘‘ کی تشریح میں قسطلانی لکھتے ہیں:

[مجتمعون على خليفة] ایک خلیفہ پر جمع ہونے والے۔ (ارشاد الساری:ج10 ص183)

ابوالعباس احمد بن عمر بن ابراہیم القرطبی (متوفی656ھ) لکھتے ہیں:

[يعني: أنه متى اجتمع المسلمون على إمام فلا يخرج عليه وإن جار كما تقدم وكما في الرواية الأخرى: فاسمع وأطع، وعلى هذا فتشهد مع أئمة الجور الصلوات والجماعات والجهاد والحج وتجتنب معاصيهم ولا يطاعنون فيها]

یعنی: جب بھی تمام مسلمان کسی امام (خلیفہ) پر جمع ہو جائیں تو اس کے خلاف خروج نہیں کیا جائے گا اگرچہ وہ ظالم ہو، جیسا کہ گزر چکا ہے اور جیسا کہ دوسری روایت میں آیا ہے: پس سنو اور اطاعت کرو (اگرچہ وہ تمھاری پیٹھ پر مارے) اس حدیث کی رُو سے نمازیں، جماعتیں، جہاد اور حج (وغیرہ) ظالم حکمرانوں کے ساتھ مل کر ادا کی جاتی ہیں۔ اُن کے گناہوں سے اجتناب کیا جاتا ہے اور ان پر طعن نہیں کیا جاتا۔ (المفہم لما اشکل من تلخیص کتاب مسلم:ج4 ص57)

قرطبی مزید فرماتے ہیں: [فلو بايع أهل الحل والعقد لواحد موصوف بشروط الإمامة لانعقدت له الخلافة وحرمت على كل أحد المخالفة] پس اگر (تمام) اہل حل و عقد امامت کے کسی مستحق کی بیعت کر لیں تو اس کی خلافت قائم ہو جاتی ہے اور ہر ایک پر اس کی مخالفت حرام ہو جاتی ہے۔ (المفہم:ج4 ص57-58)

شارحینِ حدیث کی ان تشریحات سے معلوم ہوا کہ جماعت المسلمین اور ان کے امام سے مراد خلافت اور خلیفہ ہے۔ اس کی تائید اس سے بھی ہوتی ہے کہ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے دوسری روایت میں آیا ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: [فإن لم تجد يومئذ خليفة فاهرب حتى تموت]الخ

پس اگر تو اُس دن خلیفہ نہ پائے تو موت تک کے لئے بھاگ جا۔ (سنن ابی داود: 4247 وصحیح ابی عوانہ 4 / 476 وسندہ حسن، صخر بن بدر وثقہ ابن حبان وابوعوانہ و سبیع بن خالد وثقہ العجلی وابن حبان وللحدیث شواہد)

ایک اہم فائدہ: ابن بطال القرطبی (متوفی449ھ) نے کہا:

[فإذا لم يكن لهم إمام فافترق أهل الإسلام أحزاباً فواجب اعتزال تلك الفرق كلها]

پس جب ان لوگوں کا امام (خلیفہ) نہ ہو اور اہل اسلام احزاب (پارٹیوں) میں بٹ جائیں تو ان تمام فرقوں سے دُور ہو جانا واجب (فرض) ہے۔

(شرح صحیح البخاری لابن بطال:10/ 32)

سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کی بیان کردہ اس حدیث سے دو قسم کے لوگوں نے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی ہے:

وہ لوگ جنھوں نے ’’جماعت المسلمین‘‘ کے نام سے ایک کاغذی پارٹی (حزب) بنائی اور ایک عام آدمی اس کا امام بن گیا حالانکہ یہ پارٹی خلافتِ مسلمین نہیں ہے اور اس کا نام نہاد امام خلیفہ نہیں ہے۔

وہ لوگ جنھوں نے ایک کاغذی خلیفہ بنایا جس کے پاس نہ فوج ہے اور نہ کوئی طاقت اس کاغذی خلیفہ کا ایک انچ زمین پر قبضہ نہیں ہے۔ اس خلیفہ نے نہ کفار سے جہاد کیا، نہ شرعی حدود کا نفاذ کیا، اسے خلیفہ کہنا خلافت کے ساتھ مذاق ہے۔

سورہ بقرہ کی آیت:30 کی تشریح میں حافظ ابن کثیر لکھتے ہیں:

[وقد استدل القرطبي وغيره بهذه الآية على وجوب نصب الخليفة ليفصل بين الناس فيما يختلفون فيه ويقطع تنازعهم وينتصر لمظلومهم من ظالمهم ويقيم الحدود ويزجر عن تعاطي الفواحش]

قرطبی وغیرہ نے اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ خلیفہ قائم کرنا واجب ہے تاکہ لوگوں کے درمیان اختلافات میں فیصلہ کرے اور جھگڑے ختم کر دے۔ ظالم کے مقابلے میں مظلوم کی مدد کرے، حدود کا نفاذ کرے اور بے حیائی، فحاشی کے کاموں سے روکے۔ (تفسیر ابن کثیر:1/ 204)

قاضی ابو یعلیٰ محمد بن الحسین الفراء اور قاضی علی بن محمد بن حبیب الماوردی نے بھی خلیفہ کے لئے جہاد، سیاست اور اقامتِ حدود کو شرط قرار دیا ہے۔ دیکھئے:( الاحکام السلطانیہ (ص 22) والا حکام السلطانیہ للماوردی (ص 6) اور ماہنامہ الحدیث:23 ص 39)

ملا علی قاری حنفی لکھتے ہیں: [ولأن المسلمين لابد لهم من إمام يقوم بتنفيذ أحكامهم وإقامة حدودهم وسد ثغورهم وتجهيز جيوشهم وأخذ صدقاتهم]

مسلمانوں کا ایسا امام (خلیفہ) ہونا ضروری ہے جو احکام نافذ کرے، حدود قائم کرے، سرحدوں کی حفاظت کرے، لشکر تیار کرے اور لوگوں سے صدقات (قوت کے ساتھ) وصول کرے۔ (شرح الفقہ الاکبر:ص146)

علمائے کرام کی ان تشریحات کے سراسر خلاف ایک کاغذی خلیفہ بنانا جو اپنے گھر میں شرعی حدود قائم کرنے سے عاجز ہوا اور اپنے گھر کی دیواروں کی حفاظت نہ کر سکتا ہو (وغیرہ) ان لوگوں کا کام ہے جو امتِ مسلمہ میں فرقہ پرستی اور باطل نظریات کو فروغ دینا چاہتے ہیں۔

ایک حدیث میں آیا ہے: [من مات وليس له إمام مات ميتة جاهلية] جو شخص فوت ہو جائے اور اس کی گردن میں امام (خلیفہ) کی بیعت نہ ہو تو وہ جاہلیت کی موت مرتا ہے۔ (السنہ لابن ابی عاصم: 1057، وسندہ حسن، نیز دیکھئے صحیح مسلم: 1851)

اس کی تشریح میں امام احمد فرماتے ہیں: [تدري ما الإمام؟ الذي يجتمع المسلمون عليه، كلهم يقول: هذا إمام، فهذا معناه]

تجھے پتا ہے کہ (اس حدیث میں) امام کسے کہتے ہیں؟ جس پر تمام مسلمانوں کا اجماع ہو جائے۔ ہر آدمی یہی کہے کہ یہ امام (خلیفہ) ہے، یہ ہے اس حدیث کا معنی۔

(سوالات ابن ہانی ص 185 فقرہ: 2011، السنۃ للخلال ص 81 فقرہ: 10، المسند من مسائل الامام احمد، ق: 1، بحوالہ الامامۃ العظمیٰ عند اہل السنۃ والجماعۃ ص 217)

مختصر یہ کہ امام اور جماعت المسلمین والی احادیث سے استدلال کرتے ہوئے بعض الناس کا کاغذی جماعتیں اور کاغذی امیر بنانا بالکل غلط ہے اور سلف صالحین کے فہم کے سراسر خلاف ہے۔

بعض لوگ ’’اہلِ حدیث‘‘ نام سے بہت چڑتے ہیں اور عوام الناس میں یہ مشہور کرنے کی سعیِ نامراد کرتے ہیں کہ:یہ نام فرقہ وارانہ ہے چونکہ ہم مسلمان ہیں لہٰذا ہمیں مسلمان ہی کہلانا چاہئے۔ لہٰذا ہم نے اپنے اسلاف، محدثین اور ائمہ کرام سے متعدد دلائل پیش کئے ہیں کہ اہل حدیث کہلانا نہ صرف جائز ہے بلکہ پسندیدہ بھی ہے اور یہی طائفہ منصورہ ہے۔