کھڑے ہو کر پینے اور مشروب میں پھونک مارنے کی ممانعت

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ حسین بن مبارک الموصلی کی عربی کتاب الاوامر والنواهي سے ماخوذ ہے جس کا اُردو ترجمہ محمد سرور گوہر صاحب نے احکامات و ممنوعات کے نام سے کیا ہے۔

کھڑے ہو کر پینے کی ممانعت

① سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر پینے سے منع فرمایا۔ راوی کہتے ہیں، ہم نے عرض کیا: تو کھانے کا کیا حکم ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ذٰلك أشر
”یہ تو اس سے بھی زیادہ برا ہے۔“
یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
أشر أو أخبث
”اس سے بھی زیادہ خبیث ہے“۔
مسلم، کتاب الأشربة 2024/113۔ ترمذي، کتاب الأشربة 1879۔
② سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا يشربن أحد منكم قائما ، فمن نسي فليستقئ
”تم میں سے کوئی شخص کھڑے ہو کر نہ پیے، پس جو کوئی بھول جائے تو وہ قے کر دے“۔
مسلم، کتاب الأشربة 2026/116۔

مشروب میں پھونک مارنے کی ممانعت

① سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیالے کی ٹوٹی ہوئی جگہ سے پینے اور مشروب میں پھونک مارنے سے منع فرمایا ہے۔
ابوداؤد، کتاب الأشربة 3722۔ مسند احمد باقی، مسند المکشرین 98/3، حدیث 11766۔
② سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے برتن میں سانس لینے یا اس میں پھونک مارنے سے منع فرمایا ہے۔
ابوداؤد، کتاب الأشربة 3728۔