تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[65] اور شیطان تو چاہتا ہی یہ ہے کہ تمہاری آپس میں منافرت، ضد اور دشمنی پیدا ہو اور دعوت و تبلیغ کا کام رک جائے۔ لہٰذا خطاب کے وقت خصوصی احتیاط کرو۔ اور تم غصہ میں آگئے یا تلخ لہجہ یا سخت الفاظ کہنا شروع کر دیئے تو سمجھ لو کہ تم شیطان کی چال میں آگئے۔ اسی لیے اللہ نے مسلمانوں کو کافروں کے بتوں یا معبودوں کو بھی برا بھلا کہنے سے منع فرما دیا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ کافر ضد میں آکر جوابی کار روائی کے طور پر اللہ کو برا بھلا کہنے لگیں۔ [6: 108]
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
ملاحظہ ہو مسند احمد۔ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کے ایک مجمع میں فرمایا کہ سب مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں کوئی کسی پر ظلم و ستم نہ کرے کوئی کسی کو بے عزت نہ کرے، پھر آپ نے اپنے سینے کی طرف اشارہ کر کے فرمایا تقویٰ یہاں ہے جو دو شخص آپس میں دینی دوست ہوں پھر ان میں جدائی ہو جائے اسے ان میں سے جو بیان کرے وہ بیان کرنے والا برا ہے وہ بدتر ہے وہ نہایت شریر ہے۔ } ۱؎[مسند احمد:71/5:قال الشيخ الألباني:حسن]
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
وهذا من لطفِهِ بعباده؛ حيثُ أمرهم بأحسن الأخلاق والأعمال والأقوال الموجبة للسعادة في الدُّنيا والآخرة، فقال: {وقُلْ لعبادي يقولوا التي هي أحسنُ}: وهذا أمرٌ بكلِّ كلام يقرِّب إلى الله؛ من قراءةٍ وذكرٍ وعلم وأمرٍ بمعروف ونهي عن منكرٍ وكلام حسنٍ لطيفٍ مع الخلق على اختلاف مراتبهم ومنازلهم، وأنه إذا دار الأمر بين أمرين حسنين؛ فإنَّه يؤمَر بإيثار أحسَنِهما إن لم يمكن الجمعُ بينَهما، والقول الحسنُ داعٍ لكلِّ خلقٍ جميل وعمل صالح؛ فإنَّ مَن مَلَكَ لسانه؛ مَلَكَ جميع أمره. وقوله: {إنَّ الشيطانَ يَنْزَغُ بينهم}؛ أي: يسعى بين العباد بما يُفْسِدُ عليهم دينهم ودنياهم؛ فدواءُ هذا أن لا يُطيعوه في الأقوال غير الحسنة التي يدعوهم إليها، وأن يَلينوا فيما بينَهم؛ لينقمعَ الشيطانُ الذي ينزغ بينهم؛ فإنَّه عدوُّهم الحقيقيُّ الذي ينبغي لهم أن يحاربوه؛ فإنَّه يدعوهم ليكونوا من أصحاب السعير، وأما إخوانهم؛ فإنَّهم وإنْ نزغ الشيطان فيما بينهم وسعى في العداوة؛ فإنَّ الحزم كلَّ الحزم السعيُ في ضدِّ عدوِّهم، وأن يَقْمَعوا أنفسهم الأمَّارة بالسوء، التي يدخُل الشيطان من قِبَلِها؛ فبذلك يطيعون ربَّهم، ويستقيم أمرهم، ويُهْدَون لرشدهم.