ترجمہ و تفسیر — سورۃ الإسراء/بني اسرائيل (17) — آیت 53

وَ قُلۡ لِّعِبَادِیۡ یَقُوۡلُوا الَّتِیۡ ہِیَ اَحۡسَنُ ؕ اِنَّ الشَّیۡطٰنَ یَنۡزَغُ بَیۡنَہُمۡ ؕ اِنَّ الشَّیۡطٰنَ کَانَ لِلۡاِنۡسَانِ عَدُوًّا مُّبِیۡنًا ﴿۵۳﴾
اور میرے بندوں سے کہہ دے وہ بات کہیں جو سب سے اچھی ہو، بے شک شیطان ان کے درمیان جھگڑا ڈالتا ہے۔ بے شک شیطان ہمیشہ سے انسان کا کھلا دشمن ہے۔ En
اور میرے بندوں سے کہہ دو کہ (لوگوں سے) ایسی باتیں کہا کریں جو بہت پسندیدہ ہوں۔ کیونکہ شیطان (بری باتوں سے) ان میں فساد ڈلوا دیتا ہے۔ کچھ شک نہیں کہ شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے
En
اور میرے بندوں سے کہہ دیجیئے کہ وه بہت ہی اچھی بات منھ سے نکالا کریں کیونکہ شیطان آپس میں فساد ڈلواتا ہے۔ بےشک شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 53){وَ قُلْ لِّعِبَادِيْ يَقُوْلُوا الَّتِيْ هِيَ اَحْسَنُ…: نَزَغَ يَنْزَغُ } (ف) کا معنی چوکا مارنا، فساد اور بگاڑ پیدا کرنا ہے۔ سورۂ بقرہ میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل سے جو عہد لینے کا ذکر فرمایا اس میں یہ حکم تھا: «وَ قُوْلُوْا لِلنَّاسِ حُسْنًا» ‏‏‏‏ [البقرۃ: ۸۳] اور لوگوں کے لیے اچھی بات کہو۔ یہاں ہماری امت کو احسن یعنی سب سے اچھی بات کہنے کا حکم دیا۔ میرے بندوں سے مراد امت مسلمہ ہے، کیونکہ وہی اس کی غلامی اور بندگی کرنے والے ہیں۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے یہ ذکر نہیں فرمایا کہ کس سے احسن بات کہیں۔ اس سے ظاہر ہے کہ مسلم ہو یا کافر، دوست ہو یا دشمن، ہر ایک سے ایسی بات کرنا لازم ہے جس سے بہتر بات آدمی نہ کہہ سکتا ہو۔ اس کے لیے لازماً اسے بولنے سے پہلے سوچنا ہو گا۔ ایک عالم نے کہا کہ میں نے جب بھی اپنی طرف سے اچھی سے اچھی بات کہی، پھر اس پر غور کیا تو مجھے معلوم ہوا کہ اس سے بھی بہتر بات کہی جا سکتی تھی۔ یہاں احسن بات نہ کہنے کا نقصان بیان فرمایا کہ زبان سے ناہموار بات نکلنے پر شیطان آپس میں جھگڑا اور دشمنی ڈال دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کو مسلمانوں کا ایک دوسرے سے دلی بغض یا قطع تعلق سخت ناپسند ہے۔ بہت سی احادیث میں اس کی وعید موجود ہے۔ اسی طرح کافر سے احسن بات نہ کہنے کا نتیجہ اس کا اسلام سے مزید دوری ہو گا۔ اس لیے اس کی طرف سے برائی کا جواب بھی احسن طریقے سے دینا لازم ہے۔ دیکھیے سورۂ مومنون (۹۶ تا ۹۸) جب کافر کی طرف سے برائی کا جواب احسن طریقے سے دینا لازم ہے تو پھر مسلمان کی طرف سے ہونے والی برائی کا دفاع احسن طریقے سے کرنا تو بالاولیٰ لازم ہو گا۔ دوسری جگہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ احسن بات اور احسن رویے سے جواب کا فائدہ یہ ہو گا کہ دشمن بھی دلی دوست بن جائے گا۔ مگر یہ نعمت اسی کو ملتی ہے جو صبرکرے اور بڑا صاحب نصیب ہو، جس کی علامت یہ ہے کہ وہ شیطان کی ہر اکساہٹ اور غصہ دلانے پر اس سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگے گا اور غصے کے وقت اپنے آپ پر قابو رکھے گا۔ دیکھیے سورۂ حم السجدہ (۳۴ تا ۳۶) شیطان کی انسان سے کھلی عداوت کے ذکر کے لیے دیکھیے سورۂ فاطر (۶)، اعراف (۱۱ تا ۲۷) اور سورۂ بقرہ میں قصۂ آدم و ابلیس۔ ہمیشہ سے دشمنی کا مفہوم {كَانَ } سے ظاہر ہے اور آدم کو سجدہ نہ کرنے کے وقت سے لے کر قیامت تک اس کی دشمنی کا دوام اس کا شاہد ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

53۔ 1 یعنی آپس میں گفتگو کرتے وقت زبان کو احتیاط سے استعمال کریں، اچھے کلمات بولیں، اسی طرح کفار و مشرکین اور اہل کتاب سے اگر مخاطبت کی ضرورت پیش آئے تو ان سے مشفقانہ اور نرم لہجے میں گفتگو کریں۔ 53۔ 2 زبان کی ذرا سی بےاعتدالی سے شیطان، جو تمہارا کھلا دشمن ہے، تمہارے درمیان آپس میں فساد ڈلوا سکتا ہے، یا کفار یا مشرکین کے دلوں میں تمہارے لئے زیادہ بغض وعناد پیدا کرسکتا ہے۔ حدیث میں ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی کی طرف ہتھیار کے ساتھ اشارہ نہ کرے اس لیے کہ وہ نہیں جانتا کہ شیطان شاید اس کے ہاتھ سے وہ ہتھیار چلوا دے اور وہ اس مسلمان بھائی کو جا لگے جس سے اس کی موت واقع ہوجائے پس وہ جہنم کے گڑھے میں جا گرے۔ صحیح بخاری

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

53۔ آپ میرے بندوں سے کہہ دیجئے: کہ وہی بات زبان سے نکالیں۔ جو بہتر ہو [64] کیونکہ شیطان لوگوں میں فساد ڈلوا دیتا [65] ہے۔ بلا شبہ شیطان انسان کا کھلا کھلا دشمن ہے۔
[64] داعی کو تلخ کلامی سے پرہیز ضروری ہے:۔
ہر شخص کو چاہیے کہ خطاب کے وقت اس کے لہجہ میں نرمی اور الفاظ میں شیرینی ہونی چاہیے تند و تیز اور غصہ والے لہجہ یا تلخ الفاظ استعمال کرنے سے پرہیز کرنا چاہیے خواہ یہ خطاب باہمی گفتگو کے سلسلہ میں ہو یا دعوت دین کے سلسلہ میں۔ کیونکہ لہجہ یا الفاظ میں درستی سے مخاطب کے دل میں ضد اور عداوت پیدا ہوتی ہے اور اس سے دعوت دین کا کام یا اصلاح احوال کا کام پیچھے جا پڑتا ہے۔
[65] اور شیطان تو چاہتا ہی یہ ہے کہ تمہاری آپس میں منافرت، ضد اور دشمنی پیدا ہو اور دعوت و تبلیغ کا کام رک جائے۔ لہٰذا خطاب کے وقت خصوصی احتیاط کرو۔ اور تم غصہ میں آگئے یا تلخ لہجہ یا سخت الفاظ کہنا شروع کر دیئے تو سمجھ لو کہ تم شیطان کی چال میں آگئے۔ اسی لیے اللہ نے مسلمانوں کو کافروں کے بتوں یا معبودوں کو بھی برا بھلا کہنے سے منع فرما دیا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ کافر ضد میں آکر جوابی کار روائی کے طور پر اللہ کو برا بھلا کہنے لگیں۔ [6: 108]

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

مسلمانو ایک دوسرے کا احترام کرو ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتا ہے کہ آپ مومن بندوں سے فرما دیں کہ وہ اچھے الفاظ، بہتر فقروں اور تہذیب سے کلام کرتے رہیں، ورنہ شیطان ان کے آپس میں سر پھٹول اور برائی ڈلوا دے گا، لڑائی جھگڑے شروع ہو جائیں گے۔ وہ انسان کا دشمن ہے گھات میں لگا رہتا ہے، اسی لیے حدیث میں ہے کہ { مسلمان بھائی کی طرف کسی ہتھیار سے اشارہ کرنا بھی حرام ہے کہ کہیں شیطان اسے لگا نہ دے اور یہ جہنمی نہ بن جائے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:7072]‏‏‏‏
ملاحظہ ہو مسند احمد۔ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کے ایک مجمع میں فرمایا کہ سب مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں کوئی کسی پر ظلم و ستم نہ کرے کوئی کسی کو بے عزت نہ کرے، پھر آپ نے اپنے سینے کی طرف اشارہ کر کے فرمایا تقویٰ یہاں ہے جو دو شخص آپس میں دینی دوست ہوں پھر ان میں جدائی ہو جائے اسے ان میں سے جو بیان کرے وہ بیان کرنے والا برا ہے وہ بدتر ہے وہ نہایت شریر ہے۔ } ۱؎[مسند احمد:71/5:قال الشيخ الألباني:حسن]‏‏‏‏

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا اپنے بندوں پر لطف و کرم ہے کہ اس نے انھیں بہتر اخلاق، اعمال اور اقوال کا حکم دیا ہے جو دنیا و آخرت کی سعادت کے موجب ہیں، چنانچہ فرمایا: ﴿ وَقُ٘لْ لِّعِبَادِیْ یَقُوْلُوا الَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ کہہ دو، میرے بندوں سے، بات وہی کہیں جو اچھی ہو۔ یہ ہر اس کلام کے بارے میں حکم ہے جو اللہ تعالیٰ کے تقرب کا ذریعہ ہے، مثلاً: قراء ت قرآن، ذکر الٰہی، حصول علم، امر بالمعروف، نہی عن المنکر اور لوگوں کے ساتھ ان کے حسب مراتب اور حسب منزلت شیریں کلامی وغیرہ۔ اگر دو اچھے امور در پیش ہوں اور ان دونوں میں جمع و تطبیق ممکن نہ ہو تو ان میں جو بہتر ہو اس کو ترجیح دی جائے اور اچھی بات ہمیشہ خلق جمیل اور عمل صالح کو دعوت دیتی ہے، اس لیے جسے اپنی زبان پر اختیار ہے اس کے تمام معاملات اس کے اختیار میں ہیں۔ ﴿ اِنَّ الشَّ٘یْطٰ٘نَ یَنْ٘زَغُ بَیْنَهُمْ بے شک شیطان ان کے درمیان جھڑپ کرواتا ہے یعنی شیطان بندوں کے دین و دنیا کو خراب کر کے ان کے درمیان فساد پھیلانا چاہتا ہے اور اس فساد کی دوا یہ ہے کہ وہ بری باتوں میں شیطان کی پیروی نہ کریں جن کی طرف شیطان دعوت دیتا رہتا ہے اور آپس میں نرم رویہ اختیار کریں تاکہ شیطان کی ریشہ دوانیوں کا قلع قمع ہو جو ان کے درمیان فساد کا بیج بوتا رہتا ہے، اس لیے کہ شیطان ان کا حقیقی دشمن ہے اور ان پر لازم ہے کہ وہ شیطان کے خلاف مصروف جنگ رہیں، اس لیے کہ وہ تو انھیں دعوت دیتا رہتا ہے ﴿ لِیَكُوْنُوْا مِنْ اَصْحٰؔبِ السَّعِیْرِ تاکہ وہ جہنم والے بن جائیں۔ اگرچہ شیطان ان کے درمیان فساد اور عداوت ڈالنے کی بھرپور کوشش کرتا ہے لیکن اس بارے میں کامل حزم و احتیاط یہ ہے کہ اپنے دشمن شیطان کی مخالفت کی جائے، نفس امارہ کا قلع قمع کیا جائے جس کے راستے سے شیطان داخل ہوتا ہے، اس طرح وہ اپنے رب کی اطاعت کر سکیں گے، ان کا معاملہ درست رہے گا اور راہ ہدایت پا لیں گے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

وهذا من لطفِهِ بعباده؛ حيثُ أمرهم بأحسن الأخلاق والأعمال والأقوال الموجبة للسعادة في الدُّنيا والآخرة، فقال: {وقُلْ لعبادي يقولوا التي هي أحسنُ}: وهذا أمرٌ بكلِّ كلام يقرِّب إلى الله؛ من قراءةٍ وذكرٍ وعلم وأمرٍ بمعروف ونهي عن منكرٍ وكلام حسنٍ لطيفٍ مع الخلق على اختلاف مراتبهم ومنازلهم، وأنه إذا دار الأمر بين أمرين حسنين؛ فإنَّه يؤمَر بإيثار أحسَنِهما إن لم يمكن الجمعُ بينَهما، والقول الحسنُ داعٍ لكلِّ خلقٍ جميل وعمل صالح؛ فإنَّ مَن مَلَكَ لسانه؛ مَلَكَ جميع أمره. وقوله: {إنَّ الشيطانَ يَنْزَغُ بينهم}؛ أي: يسعى بين العباد بما يُفْسِدُ عليهم دينهم ودنياهم؛ فدواءُ هذا أن لا يُطيعوه في الأقوال غير الحسنة التي يدعوهم إليها، وأن يَلينوا فيما بينَهم؛ لينقمعَ الشيطانُ الذي ينزغ بينهم؛ فإنَّه عدوُّهم الحقيقيُّ الذي ينبغي لهم أن يحاربوه؛ فإنَّه يدعوهم ليكونوا من أصحاب السعير، وأما إخوانهم؛ فإنَّهم وإنْ نزغ الشيطان فيما بينهم وسعى في العداوة؛ فإنَّ الحزم كلَّ الحزم السعيُ في ضدِّ عدوِّهم، وأن يَقْمَعوا أنفسهم الأمَّارة بالسوء، التي يدخُل الشيطان من قِبَلِها؛ فبذلك يطيعون ربَّهم، ويستقيم أمرهم، ويُهْدَون لرشدهم.