تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ {وَ لَوْ كُنْتَ فَظًّا غَلِيْظَ الْقَلْبِ …:} احد کے دن مسلمانوں نے خوف ناک غلطی کی اور میدان چھوڑ کر فرار اختیار کیا، پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت سے دوبارہ جمع ہوئے تو آپ نے ان کو کسی قسم کی سرزنش نہیں کی، بلکہ حسن اخلاق سے پیش آئے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ آپ کا یہ حسن خلق اور طبیعت کی نرمی اللہ تعالیٰ کے خاص فضل و احسان اور رحمت کا نتیجہ ہے، ورنہ مسلمانوں کا جمع ہونا ممکن نہ تھا۔ (قرطبی) معلوم ہوا دعوت دین کے لیے نرمی اور حسن اخلاق نہایت ضروری چیزیں ہیں، بدخلقی، درشتی اور سخت دلی سے لوگ کبھی قریب نہیں آ سکتے۔
➌ {فَاعْفُ عَنْهُمْ …:} یعنی جنگ میں ان سے جو غلطیاں ہوئیں وہ انھیں معاف کر دیں، اللہ سے بھی ان کے لیے استغفار کریں اور مشورے سے محروم نہ کریں بلکہ برابر مشورہ کرتے رہیں۔ شاہ عبد القادر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ” شاید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دل مسلمانوں سے خفا ہوا ہو گا اور چاہا ہو گا کہ اب ان سے مشورہ نہ پوچھیے، سو حق تعالیٰ نے تلقین فرمائی کہ اول مشورہ کر لینا بہتر ہے، جب ایک بات طے ہو جائے پھر پس و پیش نہ کرے۔“ (موضح) اس آیت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا جا رہا ہے کہ جب کبھی جنگ یا انتظامی قسم کا کوئی ایسا معاملہ در پیش ہو، جس میں ہماری طرف سے بذریعۂ وحی کوئی متعین حکم نہ دیا جائے تو اپنے ساتھیوں سے مشورہ کر لیا کرو، تاکہ ان کی دل جوئی ہو اور انھیں بعد میں باہمی مشورہ سے مل کر کام کرنے کی تربیت بھی حاصل ہو۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اکثر اہم امور میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے مشورے فرمائے اور ان پر عمل بھی ہوا۔ (دیکھیے ابن کثیر زیر بحث آیت) اس کے بعد خلفائے راشدین بھی اس سنت پر پوری طرح کار بند رہے۔ پھر اگر مشورے کے بعد کسی چیز کا فیصلہ کر لیا جائے تو اسے پوری دل جمعی سے کر گزرنے اور نتیجہ اللہ پر چھوڑ دینے کا نام توکل ہے۔ چنانچہ مذکور ہے کہ جنگ اُحد کے موقع پر کھلے میدان میں لڑائی کرنے کے فیصلے کے بعد جب آپ مسلح ہو کر تشریف لے آئے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اپنی غلطی کا احساس کرتے ہوئے آپ کی رائے کے مطابق شہر ہی میں رہ کر مقابلہ کرنے پر رضا مندی ظاہر کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [لَيْسَ لِنَبِيٍّ اِذَا لَبِسَ لَأْمَتَهُ أَنْ يَّضَعَهَا حَتّٰي يُقَاتِلَ] [مسند أحمد: ۳؍۳۵۱، ح: ۱۴۷۹۹] ”کسی نبی کے لائق نہیں کہ جب اپنا اسلحہ پہن لے تو لڑنے سے پہلے اسے اتار دے۔“ یہ آیت اور آیت: «وَ اَمْرُهُمْ شُوْرٰى بَيْنَهُم» [الشوریٰ: ۳۸] اسلامی طرزِ حکومت کے لیے بنیادی حیثیت کی حامل ہیں۔ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی زندگی میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے بہت سے معاملات میں مشورہ کرتے تھے۔ انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ”(جنگ بدر کے موقع پر) نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جب ابو سفیان کے آنے کی خبر ملی تو آپ نے مشورہ کیا۔ ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما نے بات کی تو آپ نے ان سے اعراض کیا۔ سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر کہا: ”شاید آپ ہم (انصار) سے پوچھنا چاہتے ہیں، اے اللہ کے رسول! اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر آپ ہمیں حکم دیں کہ ہم گھوڑوں کو سمندر میں ڈال دیں تو ہم ضرور ڈال دیں گے اور اگر آپ حکم دیں کہ گھوڑوں کو برک الغماد (مدینہ سے بہت دور ایک جگہ) تک لے جائیں تو ہم ضرور لے جائیں گے۔“ [مسلم، الجہاد والسیر، باب غزوۃ بدر: ۱۷۷۹] جنگ خندق میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مشورہ کرنے پر سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے خندق کھودنے کی رائے دی جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمل کیا اور اللہ تعالیٰ نے اس مشورے میں بہت برکت پیدا فرمائی۔ امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خلفاء برابر دیانت دار اہل علم سے مشورہ لیتے رہے۔“(قرطبی)
آج کل بہت سے لوگ مشورے اور ووٹ کو ایک چیز سمجھتے ہیں اور جمہوریت کو اسلامی شوریٰ قرار دیتے ہیں، حالانکہ موجودہ جمہوریت اور اسلامی شوریٰ الگ الگ چیزیں ہیں، کیونکہ جمہوریت ایک مستقل دین ہے۔ اس میں: (1) ہر اہل اور نا اہل کا ووٹ برابر ہے۔ (2) اس میں عوام کی اکثریت فیصلہ کن ہے، فیصلوں میں انھی کو اللہ اور رسول کا مقام حاصل ہے، خواہ وہ سود کو حلال کر دیں، یا زنا اور قوم لوط کے عمل کو۔ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کی کوئی شرط نہیں، اگر کہیں ہے بھی تو دھوکا دینے کے لیے۔ (3) اس میں فیصلہ اکثریت کے نمائندوں کی اکثریت کا ہوتا ہے، صدر اس فیصلے کا پابند ہے، خواہ اسے غلط سمجھتا ہو یا صحیح۔ (4) ان کے ہاں مشورے کا معنی اکثریت ہے۔ جب کہ اسلام میں: (1) امیر مشورہ لینے کا پابند ہے، مگر صرف ان امور میں جو قرآن و سنت میں مذکور نہ ہوں، بلکہ تدبیری اور انتظامی قسم کے ہوں۔ (2) امیر مشورہ ان لوگوں سے لے گا جو اس معاملے میں رائے کی اہلیت رکھتے ہیں۔ امام شوکانی رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ”حکمرانوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ علماء سے ایسے معاملات میں مشورہ کریں جن کا انھیں علم نہیں ہے، یا ان کے بارے میں انھیں اشکال ہے، فوج کے سربراہوں سے فوجی معاملات میں، سربرآوردہ لوگوں سے عوام کے مصالح کے بارے میں اور ماتحت حکام و والیان سے ان کے علاقوں کی ضروریات و ترجیحات کے متعلق مشورہ کریں۔“ (3) مشورے کے بعد آخری فیصلہ امیر کا ہو گا، فرمایا: «فَاِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ» [آل عمران: ۱۵۹] اگر وہ مناسب سمجھے تو اکثریت کے فیصلے پر عمل کرے اور اگر کم لوگوں میں زیادہ اہلیت والے لوگ ہونے کی وجہ سے ان کی رائے کو بہتر سمجھے تو اس پر فیصلہ کرے، کیونکہ فیصلوں کے نتائج کا آخری ذمہ دار امیر ہو گا، اکثریت نہیں اور وہ بھی اللہ پر توکل کرتے ہوئے فیصلے پر عمل کرے گا، نہ کہ مشورہ دینے والوں کی یا اپنی عقل و فہم پر۔ اگلی آیت میں پھر اللہ تعالیٰ پر توکل کرنے کی تاکید ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
یعنی اللہ کی رحمت سے تو ان کے لیے نرم دل ہوا ہے، حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق ہیں جن پر آپ کی بعثت ہوئی ہے۔
مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا اے ابوامامہ! بعض مومن وہ ہیں جن کے لیے میرا دل تڑپ اٹھتا ہے،[مسند احمد:217/5:حسن] ۱؎ «فَظًّا» سے مراد یہاں سخت کلام ہے۔ کیونکہ اس کے بعد «غَلِيظَ الْقَلْبِ» کا لفظ ہے، یعنی سخت دل، فرمان ہے کہ نبی اکرم تم سخت کلام اور سخت دل ہوتے تو یہ لوگ تمہارے پاس سے منتشر ہو جاتے اور تمہیں چھوڑ دیتے لیکن اللہ تعالیٰ نے انہیں آپ کے جاں نثار و شیدا بنا دیا ہے اور آپ کو بھی ان کے لیے محبت اور نرمی عطا فرمائی، اور تاکہ ان کے دل آپ سے لگے رہیں سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صفتوں کو اگلی کتابوں میں بھی پاتا ہوں کہ آپ سخت کلام، سخت دل، بازاروں میں شور مچانے والے اور برائی کا بدلہ لینے والے نہیں بلکہ در گزر کرنے والے اور معافی دینے والے ہیں،[صحیح بخاری:4838] ۱؎
ترمذی کی ایک غریب حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں لوگوں کی آؤ بھگت خیر خواہی اور چشم پوشی کا مجھے اللہ کی جانب سے اسی طرح کا حکم کیا گیا ہے جس طرح فرائض کی پابندی کا۔[ابن عدی فی الکامل:15/2:ضعیف] ۱؎
اسی طرح آپ نے اس بات کا مشورہ بھی لیا کہ منزل کہاں ہو؟ اور منذر بن عمرو رضی اللہ عنہ نے مشورہ دیا کہ ان لوگوں سے آگے بڑھ کر ان کے سامنے ہو، اسی طرح احد کے موقع پر بھی آپ نے مشورہ کیا کہ آیا مدینہ میں رہ کر لڑیں یا رضی اللہ عنہ باہر نکلیں اور جمہور کی رائے یہی ہوئی کہ باہر میدان میں جا کر لڑنا چاہیئے چنانچہ آپ نے یہی کیا اور آپ نے جنگ احزاب کے موقع پر بھی اپنے اصحاب سے مشورہ کیا کہ مدینہ کے پھلوں کی پیداوار کا تہائی حصہ دینے کا وعدہ کر کے مخالفین سے مصالحت کر لی جائے؟ تو سیدنا سعد بن عبادہ اور سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہما نے اس کا انکار کیا اور آپ نے مجھے اس مشورے کو قبول کر لیا اور مصالحت چھوڑ دی۔
اور آپ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی جدائی کے لیے سیدنا علی اور سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہما سے مشورہ لیا، غرض لڑائی کے کاموں میں اور دیگر امور میں بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ رضی اللہ عنہم سے مشورہ کیا کرتے تھے،
اس میں علماء کا اختلاف ہے کہ یہ مشورے کا حکم آپ کو بطور وجوب کے دیا تھا یا اختیاری امر تھا تاکہ لوگوں کے دل خوش رہیں، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اس آیت میں ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما سے مشورہ کرنے کا حکم ہے۔ [مستدرک حاکم:70/3:صحیح] ۱؎
[حاکم] یہ دونوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حواری اور آپ کے وزیر تھے اور مسلمانوں کے باپ ہیں [ضعیف] ۱؎
[کلبی] مسند احمد میں ہے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں بزرگوں سے فرمایا اگر تمہاری دونوں کی کسی امر میں ایک رائے ہو جائے تو میں تمہارے خلاف کبھی نہ کروں گا،[مسند احمد:227/4:ضعیف جداً] ۱؎ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوتا ہے کہ عزم کے کیا معنی ہیں تو آپ نے فرمایا جب عقلمند لوگوں سے مشورہ کیا جائے پھر ان کی مان لینا [الدار المنشور للسیوطی:160/2]۱؎ [ابن مردویہ]
ابن ماجہ میں آپ کا یہ فرمان بھی مروی ہے کہ جس سے مشورہ کیا جائے وہ امین ہو، ابوداؤد ترمذی نسائی وغیرہ میں بھی یہ روایت ہے
اور روایت میں ہے کہ جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی سے مشورہ لے تو اسے چاہیئے بھلی بات کا مشورہ دے[سنن ابن ماجہ:3747،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ۱؎ [ابن ماجہ]
پھر فرمایا جب تم کسی کام کا مشورہ کر چکو پھر اس کے کرنے کا پختہ ارادہ ہو جائے تو اب اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرو اللہ تعالیٰ بھروسہ کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔
پھر دوسری آیت کا ارشاد بالکل اسی طرح کا ہے جو پہلے گزرا ہے کہ آیت «وَمَا النَّصْرُ إِلَّا مِنْ عِندِ اللَّـهِ الْعَزِيزِ الْحَكِيمِ» [3-آل عمران:126] یعنی مدد صرف اللہ ہی کی طرف سے ہے جو غالب ہے اور حکمتوں والا ہے، پھر حکم دیتا ہے کہ مومنوں کو توکل اور بھروسہ ذات باری پر ہی ہونا چاہیئے۔
پھر فرماتا ہے نبی کو لائق نہیں کہ وہ خیانت کرے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں بدر کے دن ایک سرخ رنگ چادر نہیں ملتی تھی تو لوگوں نے کہا شاید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لے لی ہو اس پر یہ آیت اتری [ترمذی][سنن ابوداود:3971،قال الشيخ الألباني:صحیح] ۱؎ اور روایت میں ہے کہ منافقوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر کسی چیز کی تہمت لگائی تھی جس پر آیت «وَمَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَن يَغُلَّ» [3-آل عمران:161] اتری، پس ثابت ہوا کہ اللہ کے رسول رسولوں کے سردار صلی اللہ علیہ وسلم پر ہر قسم کی خیانت سے بیجا طرف داری سے مبرا اور منزہ ہیں خواہ وہ مال کی تقسیم ہو یا امانت کی ادائیگی ہو،
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ بھی مروی ہے کہ نبی جانب داری نہیں کر سکتا کہ بعض لشکریوں کو دے اور بعض کو ان کا حصہ نہ پہنچائے، اس آیت کی یہ تفسیر بھی کی گئی ہے کہ یہ نہیں ہو سکتا کہ نبی اللہ کی نازل کردہ کسی چیز کو چھپا لے اور امت تک نہ پہنچائے۔
مسند کی ایک اور حدیث میں ہے جسے ہم حاکم بنائے اگر اس کا گھر نہ ہو تو وہ گھر بنا سکتا ہے، بیوی نہ ہو تو کر سکتا ہے، اس کے سوا اگر کچھ اور لے گا تو خائن ہو گا،[مسند احمد:229/4:ضعیف] ۱؎ یہ حدیث ابوداؤد میں بھی دیگر الفاظ سے منقول ہے،[سنن ابوداود:2945،قال الشيخ الألباني:صحیح] ۱؎
ابن جریر کی حدیث میں ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں میں تم میں سے اس شخص کو پہچانتا ہوں جو چلاتی ہوئی بکری کو اٹھائے ہوئے قیامت کے دن آئے گا اور میرا نام لے لے کر مجھے پکارے گا میں کہ دوں گا کہ میں اللہ تعالیٰ کے پاس تیرے کام نہیں آسکتا میں تو پہنچا چکا تھا اسے بھی میں پہچانتا ہوں جو اونٹ کو اٹھائے ہوئے آئے گا جو بول رہا ہو گا یہ بھی کہے گا کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں کہوں گا میں تیرے لیے اللہ کے پاس کسی چیز کا مالک نہیں ہوں میں تو تبلیغ کر چکا تھا اور میں اسے بھی پہچانوں گا جو اسی طرح گھوڑے کو لادے ہوئے آئے گا جو ہنہنا رہا ہو گا وہ بھی مجھے پکارے گا اور میں کہ دوں گا کہ میں تو پہنچا چکا تھا آج کچھ کام نہیں آسکتا اور اس شخص کو بھی میں پہچانتا ہوں جو کھالیں لیے ہوئے حاضر ہو گا اور کہہ رہا ہو یا محمد صلی اللہ علیہ وسلم یا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! میں کہوں گا میں اللہ کے پاس کسی نفع کا اختیار نہیں رکھتا میں تجھے حق و باطل بتا چکا تھا، یہ حدیث صحاح ستہ میں نہیں۔[تفسیر ابن جریر الطبری:8157:صحیح] ۱؎
یہ روایت صرف مسند احمد میں ضعیف ہے اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گویا اگلی مطول روایت کا ماحاصل ہے
مسند احمد میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک روز کھڑے ہو کر خیانت کا ذکر کیا اور اس کے بڑے بڑے گناہ اور وبال بیان فرما کر ہمیں ڈرایا پھر جانوروں کو لیے ہوئے قیامت کے دن آئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے فریاد رسی کی عرض کرنے اور آپ کے انکار کر دینے کا ذکر کیا جو پہلے بیان ہو چکا ہے اس میں سونے چاندی کا ذکر بھی ہے، یہ حدیث بخاری مسلم میں بھی ہے،[صحیح بخاری:3073]۱؎
مسند احمد میں ہے کہ رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے لوگ جسے ہم عامل بنائیں اور پھر وہ ہم سے ایک سوئی یا اس سے بھی ہلکی چیز چھپائے تو وہ خیانت ہے جسے لے کر وہ قیامت کے دن حاضر ہو گا، یہ سن کر ایک سانولے رنگ کے انصاری سیدنا سعید بن عبادہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہو کر کہنے لگے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں تو عامل بننے سے دستبردار ہوتا ہوں، فرمایا کیوں؟ کہا آپ نے جو اس طرح فرمایا، آپ نے فرمایا ہاں اب بھی سنو! ہم کوئی کام سونپیں اسے چاہیئے کہ تھوڑا بہت سب کچھ لائے جو اسے دیا جائے وہ لے لے اور جس سے روک دیا جائے رک جائے، یہ حدیث مسلم اور ابوداؤد میں بھی ہے۔ [صحیح مسلم:1833] ۱؎
اللہ تعالیٰ کی راہ میں نزدیک والوں اور دور والوں سے جہاد کرو، وطن میں بھی اور سفر میں بھی جہاد جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ ہے جہاد کی وجہ سے اللہ تعالیٰ مشکلات سے اور رنج و غم سے نجات دیتا ہے، اللہ کی حدیں نزدیک و دور والوں میں جاری کرو اللہ کے بارے میں کسی ملامت کرنے کی ملامت تمہیں نہ روکے [مسند احمد] اس حدیث کا بعض حصہ ابن ماجہ میں بھی مروی ہے، [مسند احمد:330/5:صحیح] ۱؎
سیدنا ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عامل بنا کر بھیجنا چاہا تو فرمایا اے ابومسعود! جاؤ ایسا نہ ہو کہ میں تمہیں قیامت کے دن اس حال میں پاؤں کہ تمہاری پیٹھ پر اونٹ ہو جو آواز نکال رہا ہو جسے تم نے خیانت سے لے لیا ہو، میں نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پھر تو میں نہیں جاتا آپ نے فرمایا اچھا میں تمہیں زبردستی بھیجتا بھی نہیں [ابوداؤد] [سنن ابوداود:2947،قال الشيخ الألباني:صحیح]۱؎
مسند احمد میں ہے کہ خیبر کی جنگ والے دن صحابہ کرام رضی اللہ عنہم آنے لگے اور کہنے لگے فلاں شہید ہے فلاں شہید ہے جب ایک شخص کی نسبت یہ کہا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہرگز نہیں میں نے اسے جہنم میں دیکھا ہے کیونکہ اس نے غنیمت کے مال کی ایک چادر خیانت کر لی تھی پھر آپ نے فرمایا اے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ تم جاؤ اور لوگوں میں منادی کر دو کہ جنت میں صرف ایماندار ہی جائیں گے چنانچہ میں چلا اور سب میں یہ ندا کر دی، یہ حدیث مسلم اور ترمذی میں بھی ہے امام ترمذی اسے حسن صحیح کہتے ہیں۔[صحیح مسلم:114] ۱؎
ابن جریر میں سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہیں صدقات وصول کرنے کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھیجنا چاہا اور فرمایا اے سعد رضی اللہ عنہ ایسا نہ ہو کہ قیامت کے دن تو بلبلاتے اونٹ کو اٹھا کر لائے تو سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ نہ میں اس عہدہ کو لوں اور نہ ایسا ہونے کا احتمال رہے چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس کام سے انہیں معاف رکھا،[تفسیر ابن جریر الطبری:8162:صحیح] ۱؎
مسند احمد میں ہے کہ مسلمہ بن عبدالملک رحمہ اللہ کے ساتھ روم کی جنگ میں سیدنا سالم بن عبداللہ رحمہ اللہ بھی تھے ایک شخص کے اسباب میں کچھ خیانت کا مال بھی نکلا سردارِ لشکر نے سیدنا سالم رحمہ اللہ سے اس کے بارے میں فتویٰ پوچھا تو آپ نے فرمایا مجھ سے میرے باپ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اور ان سے ان کی باپ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس کے اسباب میں تم چوری کا مال پاؤ اسے جلا دو، راوی کہتا ہے میرا خیال ہے یہ بھی فرمایا اور اسے سزا دو، چنانچہ جب اس کا مال بازار میں نکالا تو اس میں ایک قرآن شریف بھی تھا سیدنا سالم رضی اللہ عنہ سے پھر اس کی بابت پوچھا گیا آپ نے فرمایا اسے بیچ دو اور اس کی قیمت صدقہ کر دو، یہ حدیث ابوداؤد اور ترمذی میں بھی ہے،[مسند احمد:22/1:ضعیف] ۱؎
امام علی بن مدینی اور امام بخاری رحمہ اللہ علیہم وغیرہ فرماتے ہیں یہ حدیث منکر ہے، امام دارقطنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں صحیح یہ ہے کہ یہ سیدنا سالم رحمہ اللہ کا اپنا فتویٰ ہے، سیدنا امام احمد رحمہ اللہ اور ان کے ساتھیوں کا قول بھی یہی ہے، سیدنا حسن رضی اللہ عنہ بھی یہی کہتے ہیں۔
امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خائن کے جنازے کی نماز سے انکار کر دیا اور اس کا اسباب نہیں جلایا، واللہ اعلم
مسند احمد میں ہے کہ قرآن شریف کے جب تغیر کا حکم کیا گیا تو سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرمانے لگے تم میں سے جس سے ہو سکے وہ اسے چھپا کر رکھ لے کیونکہ جو شخص جس چپز کو چھپا کر رکھ لے گا اسی کو لے کر قیامت کے روز آئے گا، پھر فرمانے لگے میں نے ستر دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی پڑھا ہے پس کیا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پڑھائی ہوئی قرأت کو چھوڑ دوں؟ [مسند احمد:414/1:صحیح موقوف] ۱؎ امام وکیع رحمہ اللہ بھی اپنی تفسیر میں اسے لائے ہیں،
ابوداؤد میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارکہ تھی کہ جب مال غنیمت آتا تو آپ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیتے اور وہ لوگوں میں منادی کرتے کہ جس جس کے پاس جو جو ہو لے آئے پھر آپ اس میں سے پانچواں حصہ نکال لیتے اور باقی کو تقسیم کر دیتے۔ ایک مرتبہ ایک شخص اس کے بعد بالوں کا ایک گچھا لے کر آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس یہ رہ گیا تھا آپ نے فرمایا کیا تو نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کی منادی سنی تھی؟ جو تین مرتبہ ہوئی تھی اس نے کہا ہاں فرمایا پھر تو اس وقت کیوں نہ لایا؟ اس نے عذر بیان کیا آپ نے فرمایا اب میں ہرگز نہ لوں گا تو ہی اسے لے کر قیامت کے دن آنا۔[سنن ابوداود:2712،قال الشيخ الألباني:صحیح] ۱؎
اسی طرح فرمان ہے کہ جن سے اللہ کا اچھا وعدہ ہو چکا ہے اور جو اسے پانے والا ہے وہ اور دنیا کا نفع حاصل کرنے والا برابر نہیں۔ پھر فرماتا ہے کہ بھلائی اور برائی والے مختلف درجوں پر ہیں،[تفسیر ابن ابی حاتم:646/2] ۱؎
وہ جنت کے درجوں میں ہیں اور یہ جہنم کے طبقوں میں، جیسا کہ دوسری جگہ ہے آیت «وَلِكُلٍّ دَرَجٰتٌ مِّمَّا عَمِلُوْا» [6-الأنعام:32] ہر ایک کے لیے ان کے اعمال کے مطابق درجات ہیں۔ پھر فرمایا اللہ ان کے اعمال دیکھ رہا ہے اور عنقریب ان سب کو پورا بدلہ دے گا نہ نیکی ماری جائے گی اور نہ بدی بڑھائی جائے گی بلکہ عمل کے مطابق ہی جزا سزا ہو گی۔
اور جگہ ہے «وَمَا أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ إِلَّا رِجَالًا نُّوحِي إِلَيْهِم مِّنْ أَهْلِ الْقُرَىٰ» [12-يوسف:109] یعنی تجھ سے پہلے بھی ہم نے مردوں کو وحی کی تھی جو بستیوں کے رہنے والے تھے اور ارشاد ہے «يٰمَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ اَلَمْ يَاْتِكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ يَقُصُّوْنَ عَلَيْكُمْ اٰيٰتِيْ وَيُنْذِرُوْنَكُمْ لِقَاءَ يَوْمِكُمْ ھٰذَا» [6-الأنعام:130] یعنی اے جنو اور انسانو! کیا تمہارے پاس تم میں سے ہی رسول نہیں آئے تھے؟ الغرض یہ پورا احسان ہے کہ مخلوق کی طرف انہی میں سے رسول بھیجے گئے تاکہ وہ پاس بیٹھ اٹھ کر بار بار سوال جواب کر کے پوری طرح دین سیکھ لیں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أي: برحمة الله لك ولأصحابك، منَّ الله عليك أن ألنت لهم جانبك وخفضت لهم جناحك، وترققت عليهم، وحسنت لهم خلقك، فاجتمعوا عليك، وأحبوك وامتثلوا أمرك، {ولو كنت فظاً}؛ أي: سيئ الخلق {غليظ القلب}؛ أي: قاسيه، {لانفضوا من حولك} لأن هذا ينفرهم ويبغضهم لمن قام به هذا الخلق السيئ، فالأخلاق الحسنة من الرئيس في الدين تجذب الناس إلى دين الله وترغبهم فيه، مع ما لصاحبه من المدح والثواب الخاص، والأخلاق السيئة من الرئيس في الدين تنفر الناس عن الدين وتبغضهم إليه، مع ما لصاحبها من الذم والعقاب الخاص. فهذا الرسول المعصوم يقول الله له ما يقول، فكيف بغيره؟ أليس من أوجب الواجبات وأهم المهمات الاقتداء بأخلاقه الكريمة، ومعاملة الناس بما يعاملهم به - صلى الله عليه وسلم -، من اللين وحسن الخلق والتأليف؟ امتثالاً لأمر الله وجذباً لعباد الله لدين الله؟
ثم أمر الله تعالى بأن يعفو عنهم ما صدر منهم من التقصير في حقه - صلى الله عليه وسلم - ويستغفر لهم في التقصير في حق الله فيجمع بين العفو والإحسان، {وشاورهم في الأمر}؛ أي: الأمور التي تحتاج إلى استشارة ونظر وفكر، فإن في الاستشارة من الفوائد والمصالح الدينية والدنيوية ما لا يمكن حصره:
منها: أن المشاورة من العبادات المتقرب بها إلى الله.
ومنها: أن فيها تسميحاً لخواطرهم وإزالة لما يصير في القلوب عند الحوادث، فإنَّ مَنْ له الأمرُ على الناس إذا جمع أهل الرأي والفضل، وشاورهم في حادثة من الحوادث، اطمأنت نفوسهم وأحبوه وعلموا أنه ليس يستبد عليهم، وإنما ينظر إلى المصلحة الكلية العامة للجميع، فبذلوا جهدهم ومقدورهم في طاعته لعلمهم بسعيه في مصالح العموم، بخلاف من ليس كذلك فإنهم لا يكادون يحبونه محبة صادقة ولا يطيعونه، وإن أطاعوه فطاعة غير تامة.
ومنها: أن في الاستشارة تنور الأفكار بسبب إعمالها فيما وضعت له، فصار في ذلك زيادة للعقول.
ومنها: ما تنتجه الاستشارة من الرأي المصيب، فإن المشاور لا يكاد يخطئ في فعله، وإن أخطأ أو لم يتم له مطلوب فليس بملوم.
فإذا كان الله يقول لرسوله - صلى الله عليه وسلم - ـ وهو أكمل الناس عقلاً وأغزرهم علماً وأفضلهم رأياً ـ: {وشاورهم في الأمر}، فكيف بغيره؟ ثم قال تعالى: {فإذا عزمت}؛ أي: على أمر من الأمور بعد الاستشارة فيه إن كان يحتاج إلى استشارة {فتوكل على الله}؛ أي: اعتمد على حول الله وقوته متبرئاً من حولك وقوتك، {إن الله يحب المتوكلين} عليه اللاجئين إليه.