حدیث 35: جنات کو باندھنا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”آج رات اچانک ایک بڑا جن میرے پاس آیا تا کہ میری نماز تہجد میں خلل ڈالے اللہ تعالیٰ نے مجھے اس پر قابو پانے کی قدرت دی اور میں نے ارادہ کیا کہ اسے مسجد کے کسی ستون کے ساتھ باندھ دوں تا کہ تم صبح کے وقت اسے دیکھ سکو، لیکن مجھے سلیمان علیہ السلام کی دعا یاد آگئی۔“
رَبِّ اغْفِرْ لِي وَهَبْ لِي مُلْكًا لَّا يَنبَغِي لِأَحَدٍ مِّن بَعْدِي
”میرے رب مجھے معاف کر دے، اور مجھے ایسی حکومت عطا فرما جو میرے بعد کسی کو زیبا نہ ہو۔“
(38-ص:35)
تو میں نے اسے ذلیل و خوار چھوڑ دیا۔
صحيح البخاري، الصلاة، باب الأسير أو الغزيم يربط. ، حدیث:461، و مقام حدیث، ص : 235 ، اس نے دھوکا دینے کے لیے کچھ ٹکڑا چھوڑ دیا ہے۔
اس حدیث کے متعلق منکرین کے تین اعتراض ہیں:
➊ جن کے وجود کا انکار
➋ جن کو باندھنا
➌ نماز میں خلل ڈالنا
اعتراض اول کا جواب:
① اس کا کچھ حصہ شیطان کے ذاتی تشخص ثابت کرنے کے باب میں گزر چکا ہے۔ جنات کا مستقل مادہ تخلیق ہے، اللہ تعالیٰ نے انسان اول کا مادہ تخلیق بیان کرنے کے بعد فرمایا:
وَالْجَانَّ خَلَقْنَاهُ مِن قَبْلُ مِن نَّارِ السَّمُومِ
”اور اس سے قبل ہم جنوں کو جلانے والی آگ سے پیدا کر چکے ہیں۔“
(15-الحجر:27)
اس آیت میں جنات کی مستقل تخلیق کے دو دلائل ہیں:
❀ جنوں کو آدم علیہ السلام سے پہلے پیدا فرمایا، لہذا وہ بنی آدم میں شمار نہیں ہو سکتے۔
❀ ان کا مادہ تخلیق انسان کے مادہ تخلیق سے بالکل علیحدہ ہے۔
②لفظ ”جن“ کا مادہ اخفا (پوشیدگی) پر دلالت کرتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
فَلَمَّا جَنَّ عَلَيْهِ اللَّيْلُ
”پس جب رات کی تاریکی نے اسے ڈھانپ لیا۔“
(6-الأنعام:76)
نیز فرمایا:
كَأَنَّهَا جَانٌّ
”گویا کہ وہ سانپ ہے۔“
(28-القصص:31)
سانپ کو جان اس لیے کہتے ہیں کہ وہ تیز رفتاری کی وجہ سے پوری طرح نظر نہیں آتا۔
مَا بِصَاحِبِهِم مِّن جِنَّةٍ
”ان کے ساتھی کو کسی قسم کا جنون نہیں۔“
(7-الأعراف:184)
دیوانگی کو بھی اس لیے جنون کہتے ہیں کہ اس میں عقل مخفی ہوتی ہے۔ اس مادہ لفظی سے بھی معلوم ہوا کہ جنات ایک مخفی مخلوق ہے جبکہ لفظ انسان مادہ انس سے ماخوذ ہے جس کا معنی ہے ایسی چیز جو بالکل دیکھی جا سکے۔ یوں دونوں الفاظ کے مادوں میں بھی تناقض ہے۔
③ قرآن کریم کی آیات میں جن و انس کو ایک ہی آیت میں الگ الگ بیان کیا گیا ہے اور یہ سولہ آیات کریمہ ہیں۔ بعض آیات میں لفظ جن کا ذکر پہلے ہے اور بعض میں لفظ انس کا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
يَا مَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْإِنسِ
”اے گروہ جن و انس۔“
(6-الأنعام:130)
نیز فرمایا:
فَيَوْمَئِذٍ لَّا يُسْأَلُ عَن ذَنبِهِ إِنسٌ وَلَا جَانٌّ
”پس اس روز کسی انسان اور جن سے اس کے گناہ کے متعلق سوال نہیں کیا جائے گا۔“
(55-الرحمن:39)
④ گیارہ آیات میں جنوں کا مستقل طور پر الگ ذکر کیا، فرمایا:
وَجَعَلُوا لِلَّهِ شُرَكَاءَ الْجِنَّ وَخَلَقَهُمْ
”اور انہوں نے جنوں کو اللہ کا شریک بنا رکھا ہے، حالانکہ اسی نے انہیں پیدا کیا ہے۔“
(6-الأنعام:100)
نیز فرمایا:
يَا مَعْشَرَ الْجِنِّ قَدِ اسْتَكْثَرْتُم مِّنَ الْإِنسِ
”اے گروہ جن! تم نے انسانوں میں سے ایک بڑی تعداد اپنے ساتھ لے لی۔“
(6-الأنعام:128)
ابلیس بھی جن تھا جیسا کہ فرمایا:
كَانَ مِنَ الْجِنِّ فَفَسَقَ عَنْ أَمْرِ رَبِّهِ
”وہ (ابلیس) جنوں میں سے تھا، پس اس نے اپنے رب کے حکم کی نافرمانی کی۔“
(18-الكهف:50)
ایک خاص طاقت ور جن نے ملکہ سبا کا عرش لانے کے متعلق سلیمان علیہ السلام سے کہا:
قَالَ عِفْرِيتٌ مِّنَ الْجِنِّ أَنَا آتِيكَ بِهِ
”ایک دیو ہیکل جن نے کہا: میں اسے آپ کی خدمت میں پیش کروں گا۔“
(27-النمل:39)
⑤ جنات سلیمان علیہ السلام کے محکوم تھے اور وہ ان کے لیے مختلف کام کرتے تھے۔ فرمایا:
وَمِنَ الْجِنِّ مَن يَعْمَلُ بَيْنَ يَدَيْهِ بِإِذْنِ رَبِّهِ
”اور جنوں میں سے بعض ایسے تھے جو اس کے رب کے حکم سے ان کے آگے کام کرتے تھے۔“
(34-سبأ:12)
⑥ جن غیب نہیں جانتے، چنانچہ فرمایا:
فَلَمَّا خَرَّ تَبَيَّنَتِ الْجِنُّ أَن لَّوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ الْغَيْبَ
”پس جب وہ (سلیمان علیہ السلام) گر پڑے تو جنوں کو معلوم ہوا کہ اگر وہ غیب جانتے ہوتے۔“
(34-سبأ:14)
⑦ کچھ لوگ اس خیال سے جنوں کی عبادت کرتے ہیں کہ وہ فرشتے ہیں، فرمایا:
قَالُوا سُبْحَانَكَ أَنتَ وَلِيُّنَا مِن دُونِهِم ۖ بَلْ كَانُوا يَعْبُدُونَ الْجِنَّ
”وہ (فرشتے) کہیں گے تو پاک ہے، تو ہمارا کارساز ہے وہ نہیں ہیں، بلکہ وہ تو جنوں کی عبادت کیا کرتے تھے۔“
(34-سبأ:41)
⑧ جنوں نے قرآن سنا اور ایمان لا کر داعی بن گئے، فرمایا:
وَإِذْ صَرَفْنَا إِلَيْكَ نَفَرًا مِّنَ الْجِنِّ يَسْتَمِعُونَ الْقُرْآنَ
”اور جب کہ ہم نے چند جنوں کو آپ کی طرف بھیجا کہ وہ قرآن سنیں۔“
(46-الأحقاف:29)
⑨ جنات کے ایمان لانے اور قرآن سننے کے متعلق دیگر تفصیلات سورۂ جن کے ابتدائی حصے میں مذکور ہیں۔ جنوں کے مستقل احوال کا ذکر بھی انہی آیات میں موجود ہے کہ وہ ایک مستقل مخلوق ہیں اور قرآن کریم نے ابلیس کے متعلق فرمایا:
إِنَّهُ يَرَاكُمْ هُوَ وَقَبِيلُهُ مِنْ حَيْثُ لَا تَرَوْنَهُمْ
”بے شک وہ (ابلیس) اور اس کا لشکر تمہیں اس طرح دیکھ رہا ہے کہ تم انہیں نہیں دیکھ سکتے۔“
(7-الأعراف:27)
یہ صریح دلیل ہے کہ جن غیر مرئی مستقل مخلوق ہیں۔ اتنی تفصیل کے بعد کوئی عقل مند شخص ان کے وجود شخصی سے کیسے انکار کر سکتا ہے۔
اعتراض دوم کا جواب:
جنات کو باندھنا عقل کے خلاف نہیں۔ قرآن پاک میں ہے کہ سلیمان علیہ السلام اپنی بادشاہت میں فساد کرنے والے جنوں کو بیڑیوں میں جکڑتے تھے، چنانچہ ارشاد ہوا:
وَآخَرِينَ مُقَرَّنِينَ فِي الْأَصْفَادِ
”اور دوسرے جنات جو بیڑیوں میں جکڑے رہتے ہیں۔“
(38-ص:38)
جب سلیمان علیہ السلام کے متعلق قرآن سے ثابت ہے کہ وہ جنوں کو باندھ دیتے تھے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فضل الرسل ہیں، کیا ان کے لیے ممکن نہیں کہ وہ کسی جن کو پکڑ کر ستون کے ساتھ باندھ دیں؟
اعتراض سوم کا جواب:
انسان جو مادی اور مرئی مخلوق ہے وہ اپنے کلام کے ذریعے سے دوسرے انسانوں کے دلوں میں وسوسہ ڈالتے ہیں تو جن جو غیر مرئی مخلوق ہے، اس کے لیے تو وسوسہ ڈالنے کے بہت سے ذرائع ہیں۔ جن و انس کے وسوسہ ڈالنے کے متعلق قرآن نے اکٹھا ذکر کیا:
الَّذِي يُوَسْوِسُ فِي صُدُورِ النَّاسِ ﴿٥﴾ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ ﴿٦﴾
”(ہر اس متنفس سے) جو لوگوں کے دلوں میں وسوسے ڈالتا ہے، خواہ وہ جنوں میں سے ہو اور خواہ انسانوں میں سے ہو۔“
(114-الناس:5-6)
البتہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ان کا وسوسہ اثر انداز نہیں ہوتا۔ نصوص سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور باقی تمام انبیاء علیہم السلام کو شیاطین کے اثر سے محفوظ رکھا ہے۔