خبرِ واحد کی حجیت قرآن، حدیث اور عملِ صحابہ کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس فضیلتہ الشیخ عبدالسلام رُستمی کی کتاب انکار حدیث سے انکار قرآن تک سے ماخوذ ہے۔

بارہواں شبہ: احادیث کا اخبار آحاد ہونا

پرویزیوں کے نزدیک تمام احادیث اخبار آحاد ہیں۔ وہ انہیں متواتر اور مشہور نہیں مانتے۔ وہ کہتے ہیں کہ اخبار آحاد پر یقین نہیں ہوتا، لہذا وہ کیسے حجت بن گئیں؟

جواب:

یہ شبہ بھی سابقہ شبہے کی طرح ہے، صرف تعبیر میں فرق ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ قرآن کریم میں بہت سے ایسے واقعات ہیں جو خبر واحد سے ثابت ہوئے ہیں۔

قرآن سے خبر واحد کی حجیت کا ثبوت

ارشاد الہی ہے:
لَقَدْ أَرْسَلْنَا نُوحًا إِلَىٰ قَوْمِهِ فَقَالَ يَا قَوْمِ اعْبُدُوا اللَّهَ مَا لَكُمْ مِنْ إِلَٰهٍ غَيْرُهُ
”بے شک ہم نے نوح علیہ السلام کو اس کی قوم کی طرف بھیجا، تو انہوں نے کہا: اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔“
(7-الأعراف:59)
نیز فرمایا:
وَإِلَىٰ عَادٍ أَخَاهُمْ هُودًا ۚ قَالَ يَا قَوْمِ اعْبُدُوا اللَّهَ مَا لَكُمْ مِنْ إِلَٰهٍ غَيْرُهُ
”اور قوم عاد کی طرف ان کے بھائی ہود علیہ السلام کو بھیجا، انہوں نے کہا: اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔“
(7-الأعراف:65)
نیز فرمایا:
وَإِلَىٰ ثَمُودَ أَخَاهُمْ صَالِحًا ۚ قَالَ يَا قَوْمِ اعْبُدُوا اللَّهَ مَا لَكُمْ مِنْ إِلَٰهٍ غَيْرُهُ
”اور ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح علیہ السلام کو بھیجا، انہوں نے کہا: اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔“
(7-الأعراف:73)
نیز فرمایا:
وَلُوطًا إِذْ قَالَ لِقَوْمِهِ
”اور لوط علیہ السلام جب اپنی قوم سے کہا۔“
(7-الأعراف:80)
نیز فرمایا:
وَإِلَىٰ مَدْيَنَ أَخَاهُمْ شُعَيْبًا ۚ قَالَ يَا قَوْمِ اعْبُدُوا اللَّهَ مَا لَكُمْ مِنْ إِلَٰهٍ غَيْرُهُ
”اور مدین والوں کی طرف ان کے بھائی شعیب علیہ السلام کو بھیجا، انہوں نے کہا: اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔“
(7-الأعراف:85)
مذکورہ بالا آیات سے ثابت ہوا کہ ان انبیاء علیہم السلام نے اکیلے ہی اپنی اپنی قوم کو توحید کی دعوت پیش کی اور جب قوم نے انہیں جھٹلایا تو اللہ تعالیٰ نے ان پر عذاب نازل فرمایا۔ یہ آیات خبر واحد کی حجیت کے لیے یقینی ثبوت ہیں۔ اس سے ثابت ہوا کہ خبر واحد کو جھٹلانا عذاب الہی کا سبب بنا ہے۔ یہاں کوئی یہ اعتراض نہیں کر سکتا کہ یہ خبر واحد نبی کی نبوت اور رسول کی رسالت کی وجہ سے حجت ہے، اصولی طور پر حجت نہیں۔ کیونکہ قرآن کریم میں ایسے نہیں فرمایا کہ اس نبی اور رسول کی خبر نبوت یا رسالت کی وجہ سے مان لو بلکہ انبیاء کو ناصح اور امین کہا گیا ہے، یعنی خبر واحد دینے والا امانت دار اور مخلص ہے، لہذا اس کی خبر قابل قبول اور حجت ہے۔
قرآن کریم میں نبی کے علاوہ عام شخص کی خبر واحد کا بھی تذکرہ کیا ہے اور اسے قوم کے لیے حجت قرار دیا ہے۔
➊ جیسا کہ فرمایا:
وَجَاءَ مِنْ أَقْصَى الْمَدِينَةِ رَجُلٌ يَسْعَىٰ قَالَ يَا قَوْمِ اتَّبِعُوا الْمُرْسَلِينَ ‎﴿٢٠﴾‏
”اور شہر کے دور کے مقام سے ایک آدمی دوڑتا ہوا آیا، اس نے کہا: اے میری قوم! ان رسولوں کی بات مانو۔“
(36-یس:20)
پس جب قوم نے اس شخص کی بات نہ مانی اور اسے قتل کر دیا تو اللہ تعالیٰ نے ان پر عذاب نازل فرمایا:
➋ نیز فرمایا:
إِنْ كَانَتْ إِلَّا صَيْحَةً وَاحِدَةً فَإِذَا هُمْ خَامِدُونَ
”وہ عذاب تو بس ایک سخت آواز تھی کہ وہ بجھ کر رہ گئے۔“
(36-یس:29)
‏ وَجَاءَ رَجُلٌ مِّنْ أَقْصَى الْمَدِينَةِ يَسْعَىٰ قَالَ يَا مُوسَىٰ إِنَّ الْمَلَأَ يَأْتَمِرُونَ بِكَ لِيَقْتُلُوكَ فَاخْرُجْ إِنِّي لَكَ مِنَ النَّاصِحِينَ ‎﴿٢٠﴾‏ فَخَرَجَ مِنْهَا خَائِفًا يَتَرَقَّبُ
”اور شہر کی دوسری جانب سے ایک شخص دوڑتا ہوا آیا، اس نے کہا: اے موسیٰ! سرداران قوم تمہارے متعلق مشورہ کر رہے ہیں کہ تمہیں ہلاک کر ڈالیں، لہذا تم یہاں سے نکل جاؤ! بے شک میں تیرے خیر خواہوں میں سے ہوں، چنانچہ وہ (موسیٰ علیہ السلام) وہاں سے ڈرتے ہوئے انتظار کرتے ہوئے نکل کھڑے ہوئے۔“
(28-القصص:20-21)
یہاں بھی صرف ایک شخص نے موسیٰ علیہ السلام کو خبر دی تو انہوں نے اس کی بات کو سچا سمجھ کر اس پر عمل کیا اور وہاں سے نکل کھڑے ہوئے، اس طرح وہ ظالم قوم سے بچ گئے۔
➌ اور فرمایا:
إِنَّ أَبِي يَدْعُوكَ لِيَجْزِيَكَ أَجْرَ مَا سَقَيْتَ لَنَا
”میرے والد تمہیں بلاتے ہیں کہ تم نے جو ہمارے لیے پانی پلایا تھا اس کا معاوضہ ادا کریں۔“
(28-القصص:25)
موسیٰ علیہ السلام اس لڑکی کی بات سن کر اس کے والد کے پاس گئے۔ اس میں یہ اشارہ ہے کہ مرد تو در کنار عورت کی خبر واحد بھی قبول و منظور ہے۔
➍ اسی طرح فرمایا:
وَقَالَ الَّذِي آمَنَ يَا قَوْمِ اتَّبِعُونِ أَهْدِكُمْ سَبِيلَ الرَّشَادِ
”اور اس مومن شخص نے کہا: اے میری قوم! میرے نقش قدم پر چلو! میں تمہیں ہدایت کی راہ بتلاتا ہوں۔“
(40-المؤمن:38)
اس آیت میں اس شخص کا ذکر ہے جو موسیٰ علیہ السلام پر ایمان لے آیا تو اس نے قوم کو بہت حکیمانہ انداز میں دعوت دی۔ اس دعوت کی تفصیل سورۂ مومن کی آیت 38 تا 45 میں موجود ہے۔
اور آخر میں اس نے فرمایا:
فَسَتَذْكُرُونَ مَا أَقُولُ لَكُمْ
”تم عنقریب میری بات کو یاد کرو گے۔“
(40-غافر:44)
اس میں اس عذاب کی طرف اشارہ ہے جو حق جھٹلانے کی پاداش میں ملتا ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے اس شخص اور قوم کے انجام کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:
فَوَقَاهُ اللَّهُ سَيِّئَاتِ مَا مَكَرُوا ۖ وَحَاقَ بِآلِ فِرْعَوْنَ سُوءُ الْعَذَابِ ‎﴿٤٥﴾
”پس اللہ نے اس کو ان کی تدبیر کی مضرتوں سے بچا لیا اور آل فرعون کو بہت بڑے عذاب نے آگھیرا۔“
(40-المؤمن:45)
اس سے پتا چلا کہ اللہ تعالیٰ نے اس شخص کو بچا لیا اور قوم نے اس کی بات نہ مانی تو وہ عذاب کا شکار ہو گئی۔
➎ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
وَمَا كَانَ الْمُؤْمِنُونَ لِيَنفِرُوا كَافَّةً ۚ فَلَوْلَا نَفَرَ مِن كُلِّ فِرْقَةٍ مِّنْهُمْ طَائِفَةٌ لِّيَتَفَقَّهُوا فِي الدِّينِ وَلِيُنذِرُوا قَوْمَهُمْ إِذَا رَجَعُوا إِلَيْهِمْ لَعَلَّهُمْ يَحْذَرُونَ ‎﴿١٢٢﴾‏
”اور ممکن نہیں کہ ایمان والے سب کے سب نکل جائیں، سو ان کے ہر گروہ میں سے کچھ لوگ کیوں نہ نکلے تا کہ وہ دین میں سمجھ حاصل کریں اور تا کہ جب اپنی قوم کی طرف واپس جائیں تو انہیں ڈرائیں تاکہ وہ بچ جائیں۔“
(9-التوبة:122)
مفسرین نے (طائفہ) کا لغوی معنی کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ایک شخص کو بھی طائفہ کہا جا سکتا ہے، یعنی ایک شخص علم حاصل کرے اور پھر وہ علم اپنی قوم کو پہنچائے اور قوم اس شخص کی بات مان کر بے دینی سے بچ جائے۔ اس سے واضح ہوا کہ ایک عادل عالم کی بات حجت ہے۔
➏ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِن جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا
”اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق شخص تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو پہلے تحقیق کر لیا کرو۔“
(49-الحجرات:6)
اس آیت میں لفظ فاسق کا مفہوم مخالف یہ ہے کہ اگر ایک عادل شخص کوئی خبر لائے تو تحقیق کے بغیر اسے مان لیا کرو اور مفہوم موافق یہ ہے کہ فاسق کی خبر بھی تحقیق کرنے کے بعد قابل اعتبار ہے۔ دونوں مفہوم خبر واحد کے حجت ہونے پر دلالت کر رہے ہیں۔

احادیث سے خبر واحد کی حجیت کا ثبوت

➊ تحویل قبلہ کا حکم نازل ہونے سے پہلے لوگ مسجد قباء میں بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز فجر ادا کر رہے تھے۔ اتنے میں ایک صحابی نے آ کر انہیں تحویل قبلہ کی خبر دی تو انہوں نے دوران نماز میں ہی اپنا رخ بیت اللہ کی طرف کر لیا۔
صحيح البخاري، الصلاة، باب ماجاء في القبلة ومن لم حديث:403
یہ بھی ایک آدمی ہی کی خبر تھی جس پر اہل قباء نے عمل کیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر کوئی تنقید نہیں فرمائی، لہذا خبر واحد حجت ہے۔
➋ انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں شراب کی حرمت سے پہلے ابو عبیدہ، ابو طلحہ اور ابی بن کعب رضی اللہ عنہم کو شراب پلا رہا تھا کہ اتنے میں ایک شخص نے خبر دی کہ شراب حرام ہو گئی ہے۔ یہ سن کر ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: انس! اٹھو اور شراب کو انڈیل دو، چنانچہ میں نے اسے انڈیل دیا۔
صحيح البخاري، الأشربة، باب نزل تحريم الخمر وهي حديث : 5582
➌ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کے موقع پر میدان عرفات میں ربیعہ انصاری رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تو انہوں نے لوگوں کو کہا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بھیجا ہوا ہوں۔ آپ کا فرمان ہے کہ میدان عرفات سارا موقف (ٹھہرنے کی جگہ) ہے۔ ہر شخص اپنی اپنی جگہ وقوف کرے۔ صحابہ کرام رضي اللہ عنہم نے اس ایک شخص کے اعلان کو حجت تسلیم کیا۔
سنن أبي داود، المناسك، باب موضع الوقوف بعرفة حديث 1919 وجامع الترمذي، الحج، باب ماجاء في الوقوف بعرفات حديث: 883
ہم انہی واقعات پر اکتفا کرتے ہیں ورنہ احادیث میں بے شمار واقعات مذکور ہیں جن میں خبر واحد پر اکتفا کیا گیا ہے اور اس پر احکام شرعیہ مرتب کیے گئے ہیں۔

عہد صحابہ میں خبر واحد کی حجیت

عہد صحابہ میں بہت سے واقعات پیش آئے جن میں ایک صحابی کی خبر پر تمام صحابہ کرام رضي اللہ عنہم نے اتفاق کیا، اس لیے کہ ان کے نزدیک خبر واحد حجت تھی۔ کچھ واقعات بطور مثال پیش کیے جاتے ہیں۔
➊ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تدفین کے وقت مسئلہ پیدا ہوا کہ آپ کو کہاں دفن کیا جائے تو ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے انہیں ایک حدیث سنائی:
ما قبض الله نبيا إلا فى الموضع الذى يحب أن يدفن فيه
”اللہ تعالیٰ نبی کی روح اس جگہ قبض کرتے ہیں جہاں پر اس کا دفن ہونا پسند کرتے ہیں۔“
تمام صحابہ کرام رضي اللہ عنہم نے ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خبر واحد کو قبول کیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے میں دفن کیا کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہیں وفات پائی تھی۔
جامع الترمذي، الجنائز، باب أين تدفن الأنبياء، حديث: 1018، وسنن ابن ماجه، الجنائز، باب ذكر وفاته ودفنه، حديث: 1628
➋ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے وقت خلافت کے متعلق اختلاف واقع ہوا تو ابو بکر اور عمر رضی اللہ عنہما دونوں سقیفہ بنی ساعدہ تشریف لے گئے جہاں انصار جمع تھے۔ بحث سننے کے بعد ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث سنائی کہ:
الأئمة من قريش
”امام (خلیفہ) قریش کے خاندان سے ہوگا۔“
فتح الباري شرح صحيح البخاري:30/7-32، تحت حديث: 3668
چنانچہ اس حدیث پر تمام صحابہ مہاجرین اور انصار نے اتفاق کر کے ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو خلیفہ مقرر کر دیا۔
➌ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد سیدنا عباس اور فاطمہ رضی اللہ عنہما وراثت کا مطالبہ کرنے ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے تو انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث سنائی:
لا نورث ما تركناه صدقة
”ہم وارث نہیں بناتے بلکہ ہم جو ترکہ چھوڑیں وہ صدقہ ہے۔“
صحيح البخاري، المغازي، باب غزوة خيبر، حدیث:4241، وصحيح مسلم، الجهاد، باب قول النبي صلى الله عليه وسلم: لا نورث، حديث: 1758
ان واقعات سے ثابت ہوا کہ صحابہ کرام رضي اللہ عنہم خبر واحد کو حجت مانتے تھے۔ ان روایات میں خبر واحد اس لیے حجت نہیں کہ وہ ایک صحابی نے روایت کی ہے بلکہ اس کی وجہ ایک عادل متقی شخص کی روایت ہے، خواہ وہ صحابی ہو یا کوئی اور۔
عہد تابعین میں عموماً ہر شہر میں ایک محدث ہوتا تھا جو فتویٰ دیا کرتا تھا۔ لوگ اس کی علمی دیانت کی وجہ سے اس کے فتوے کو تسلیم کرتے تھے۔
حاصل بحث یہ ہے کہ قرآن و حدیث اور عمل سلف سے یہ واضح ہوتا ہے کہ خبر واحد دین میں حجت ہے۔
بعض صحابہ نے حدیث کے لیے شہادت کا مطالبہ کیا ہے، مثلاً: ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے میراث کے متعلق مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کی روایت کے ساتھ شہادت طلب کی تو محمد بن سلمہ رضی اللہ عنہ نے تائید کی۔
سنن أبي داود الفرائض، باب في الجدة، حديث : 2894، وجامع الترمذي، الفرائض، باب ماجاء في ميراث الجدة، حديث : 2100
اسی طرح عمر رضی اللہ عنہ نے اجازت لینے کے متعلق ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی روایت کے متعلق شہادت طلب کی تو ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے ان کی تائید کی۔
صحيح البخاري، البيوع، باب الخروج في التجارة حديث : 2062
تو ایسے واقعات میں شہادت طلب کرنے کا یہ مطلب نہیں کہ وہ خبر واحد نہیں مانتے تھے بلکہ انہوں نے زیادہ تائید و تاکید کے لیے ایسا کیا اور یہ ایک احتیاطی پہلو ہے۔