فصل2:عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے متعلق متواتر احادیث
اس باب میں ہم نے بہت سی احادیث نقل کرنے کا اہتمام کیا ہے تا کہ ہر راست فکر شخص یہ یقین کر لے کہ اتنے ائمہ محدثین اور اتنی روایات جھوٹ نہیں ہو سکتیں بلکہ وہ شخص جھوٹا ہوگا جو حدیث کی ان ساری روایات کو غلط تصور کرتا ہو۔
ابن کثیر رحمہ اللہ نے عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے متعلق احادیث کی دس سندیں بیان کی ہیں۔ امام ترمذی رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کے نزول اور قتل دجال کے متعلق احادیث درج ذیل صحابہ کرام رضي اللہ عنہم سے مروی ہیں: عمران بن حصین، نافع بن عیینہ، ابو برزہ اسلمی، حذیفہ بن اسید، ابو ہریرہ، کیسان، عثمان بن ابی العاص، جابر، ابو امامہ، ابن مسعود، ابن عمرو، سمرہ بن جندب، نواس بن سمعان، عمرو بن عوف، اور حذیفہ بن یمان رضي اللہ عنہم۔
ابن کثیر، ابن جریر، ابن عطیہ اور ابو حیان رحمہم اللہ اور دیگر مفسرین نے فرمایا کہ یہ احادیث متواتر ہیں۔ احادیث مندرجہ ذیل ہیں:
➊ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
والذي نفسي بيده ليوشكن أن ينزل فيكم ابن مريم حكما عدلا فيكسر الصليب ويقتل الخنزير ويضع الجزية ويفيض المال حتى لا يقبله أحد حتى تكون السجدة الواحدة خير من الدنيا وما فيها ثم يقول أبو هريرة واقرؤوا إن شئتم وإن من أهل الكتاب إلا ليؤمنن به قبل موته ويوم القيامة يكون عليهم شهيدا
”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! البتہ قریب ہے کہ ابن مریم تم میں تشریف لائیں۔ وہ حاکم اور عادل کی حیثیت سے آئیں گے، صلیب کو توڑیں گے، خنزیر کو قتل کریں گے، جزیہ ختم کر دیں گے مال و دولت کی فراوانی ہوگی حتیٰ کہ اسے کوئی قبول کرنے والا نہیں ہوگا۔ حتیٰ کہ ایک سجدہ دنیا اور اس میں جو کچھ ہے اس سے بہتر ہوگا۔“
پھر ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے: اگر تم چاہو تو اس آیت کی تلاوت کرو اور اہل کتاب میں سے سب کے سب اس (مسیح علیہ السلام) پر اس کی موت سے پہلے ضرور ایمان لائیں گے اور وہ قیامت کے دن ان پر گواہی دیں گے۔
صحيح البخاري، أحاديث الأنبياء، باب نزول عيسى ابن مريم عليهما السلام، حديث: 3448
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
كيف أنتم إذا نزل ابن مريم فيكم وإمامكم منكم
”تمہاری اس وقت کیسی حالت ہوگی جب ابن مریم تم میں نازل ہوں گے، اور تمہارا امام تم ہی میں سے ہوگا۔“
صحيح البخاري، أحاديث الأنبياء، باب نزول عيسى ابن مريم عليهما السلام، حديث: 3449
اور امام مسلم رحمہ اللہ نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں، ابن ابو ذئب نے فرمایا: ”تمہارا امام تم ہی میں سے ہوگا۔“ کا معنی یہ ہے کہ وہ عیسیٰ علیہ السلام تمہارے رب کی کتاب اور تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے مطابق فیصلے کریں گے۔
➋ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا:
يمكث عيسى فى الأرض بعد ما ينزل أربعين سنة ثم يموت ويصلي عليه المسلمون ويدفنونه
”عیسیٰ علیہ السلام نزول کے بعد چالیس سال زمین پر رہیں گے، پھر آپ فوت ہو جائیں گے، مسلمان آپ کی نماز جنازہ پڑھیں گے اور آپ کو دفن کریں گے۔“
صحيح مسلم، الإيمان، باب نزول عيسى ابن مريم عليهما السلام، حديث: 155
➌ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لم يسلط على قتل الدجال إلا عيسى ابن مريم
”دجال کے قتل کرنے پر صرف عیسیٰ ابن مریم ہی مسلط و مقرر کیے گئے ہیں۔“
➍ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
يقتل ابن مريم الدجال بباب لد
”ابن مریم دجال کو باب لد پر قتل کریں گے۔“
جامع الترمذي، الفتن، باب ما جاء في قتل عيسى بن مريم عليهما السلام الدجال، حديث: 2244
➎ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
والذي نفسي بيده ليهلن ابن مريم من فج الروحاء بالحج أو بالعمرة أو ليثنينهما
”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! ابن مریم مقام فج الروحاء سے حج یا عمرہ یا دونوں کے لیے ضرور تلبیہ پڑھیں گے۔“
صحيح مسلم، الحج، باب إهلال النبي صلى الله عليه وسلم، حديث: 1252
➏ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا ينزل الدجال المدينة ولكنه ينزل بين الخندق وعلى كل نقب منها ملائكة يحرسونها فأول من يتبعه النساء والإماء فيذهب فيتبعه الناس فيؤذونه فيرجع غضبان حتى ينزل الخندق فينزل عند ذلك عيسى ابن مريم
”دجال مدینہ میں داخل نہیں ہوگا، لیکن وہ خندق کے درمیان تک پہنچ جائے گا۔ مدینہ کے تمام راستوں کی فرشتے حفاظت کر رہے ہوں گے۔ سب سے پہلے عورتیں اور لونڈیاں اس کی اتباع کریں گی، پھر لوگ اس کی اتباع کریں گے اور وہ اسے اذیت پہنچائیں گے تو وہ غصے کی حالت میں واپس آئے گا حتیٰ کہ وہ خندق تک پہنچ جائے گا، تب عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام کا نزول ہوگا۔“
المعجم الأوسط للطبراني : 219/6، ومجمع الزوائد : 349/7
➐ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
الأنبياء إخوة لعلات أمهاتهم شتى ودينهم واحد وأنا أولى الناس بعيسى ابن مريم لأنه لم يكن بيني وبينه نبي فإذا رأيتموه فاعرفوه فإنه رجل مربوع الخلق إلى الحمرة والبياض سبط الرأس كأن رأسه يقطر وإن لم يصبه بلل بين ممصرتين فيدق الصليب ويقتل الخنزير ويضع الجزية ويقاتل الناس على الإسلام حتى يهلك الله فى زمانه الملل كلها غير الإسلام ويهلك الله فى زمانه مسيح الضلالة الكذاب الدجال وتقع الأمانة فى زمانه فى الأرض حتى ترتع الأسود مع الإبل والنمور مع البقر والذئاب مع الغنم ويلعب الصبيان مع الحيات لا يضر بعضهم بعضا فيلبث فى الأرض ما شاء الله ثم يتوفى فيصلي عليه المسلمون
”انبیاء علیہم السلام علاتی بھائی ہیں۔ ان کا باپ ایک اور مائیں الگ الگ ہیں اور ان کا دین ایک ہی ہے۔ عیسیٰ ابن مریم کا میں زیادہ حق دار اور تعلق دار ہوں کیونکہ میرے اور ان کے درمیان کوئی نبی نہیں، لہذا جب تم انہیں دیکھو تو انہیں پہچان لینا کہ وہ درمیانے قد والے، سرخ و سفید رنگ والے اور سیدھے بالوں والے ہیں، گویا کہ ان کے بالوں سے پانی ٹپکتا محسوس ہوگا اگرچہ وہ گیلے نہیں ہوں گے۔ وہ زردی مائل کپڑوں میں ملبوس ہوں گے، وہ صلیب توڑیں گے، خنزیر کو قتل کریں گے، جزیہ ختم کر دیں گے، اسلام مخالف لوگوں سے قتال کریں گے حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ ان کے زمانے میں تمام غیر اسلامی ادیان کو ختم کر دے گا اور اللہ تعالیٰ ان کے زمانے میں مسیح گمراہی دروغ گو دجال کو ہلاک کرے گا۔ ان کے زمانے میں روئے زمین پر امن قائم ہو جائے گا حتیٰ کہ کالا ناگ اونٹوں کے ساتھ، چیتے گائے کے ساتھ اور بھیڑیے بکریوں کے ساتھ چریں گے اور بچے سانیوں کے ساتھ کھیلیں گے۔ کوئی کسی کو نقصان نہیں پہنچائے گا اور جس قدر اللہ تعالیٰ چاہے گا وہ زمین پر رہیں گے، پھر وفات پا جائیں گے اور مسلمان ان کی نماز جنازہ پڑھیں گے۔“
سنن أبي داود، الملاحم، باب خروج الدجال، حديث: 4324 ، والمصنف لابن أبي شيبة: 499/7 ، حدیث : 37515 واللفظ له
➑ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا تقوم الساعة حتى تنزل الروم بالأعماق أو بدابق فيخرج إليهم جيش من المدينة من خيار أهل الأرض يومئذ فإذا تصافوا قالت الروم خلوا بيننا وبين الذين سبوا منا نقاتلهم فيقول المسلمون لا والله لا نخلي بينكم وبين إخواننا فيقاتلونهم فينهزم ثلث لا يتوب الله عليهم أبدا ويقتل ثلثهم أفضل الشهداء عند الله ويفتح الثلث لا يفتنون أبدا فيفتتحون قسطنطينية فبينما هم يقتسمون الغنائم قد علقوا سيوفهم بالزيتون إذ صاح فيهم الشيطان إن المسيح قد خلفكم فى أهليكم فيخرجون وذلك باطل فإذا جاءوا الشام خرج فبيناهم يعدون للقتال يسوون الصفوف إذ أقيمت الصلاة فينزل عيسى ابن مريم فأمهم فإذا رآه عدو الله ذاب كما يذوب الملح فى الماء فلو تركه لانذاب حتى يهلك ولكن يقتله الله بيده فيريهم دمه فى حربته
”قیامت قائم نہیں ہوگی حتیٰ کہ رومی لشکر (شام کے علاقے حلب کے قریب) اعماق یا دابق پر پڑاؤ ڈالے گا تو ان سے مقابلے کے لیے روئے زمین میں اس دور کے بہترین افراد پر مشتمل ایک لشکر مدینے سے روانہ ہوگا۔ جب دونوں لشکر صف بندی کر لیں گے تو رومی کہیں گے: ہمارے اور ان لوگوں کے درمیان سے ہٹ جاؤ جنہوں نے ہمارے ساتھیوں کو قیدی بنا لیا تھا۔ ہم ان سے قتال کریں گے تو مسلمان کہیں گے، اللہ کی قسم! ایسے نہیں ہوگا، ہم اپنے بھائیوں سے کبھی الگ نہیں ہوں گے، چنانچہ وہ ان سے لڑیں گے تو ان میں سے ایک تہائی بھاگ جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ کبھی بھی ان کی توبہ قبول نہیں فرمائے گا۔ ان میں سے ایک تہائی شہید ہو جائیں گے، وہ اللہ کے ہاں بہترین شہداء ہوں گے، اور تہائی کامیاب ہوں گے، وہ کبھی فتنے سے دوچار نہیں ہوں گے، پس وہ قسطنطنیہ فتح کریں گے۔ وہ آپس میں مال غنیمت تقسیم کر رہے ہوں گے جبکہ انہوں نے اپنی تلواریں زیتون کے درخت سے لٹکائی ہوں گی کہ شیطان انہیں بلند آواز میں کہے گا: بے شک مسیح (دجال) تمہارے پیچھے تمہارے اہل و عیال میں آ پہنچا، پس وہ وہاں سے روانہ ہوں گے، حالانکہ یہ خبر باطل ہوگی، پس جب وہ ملک شام پہنچیں گے تو پھر وہ نکلے گا، اسی اثنا میں کہ وہ قتال کے لیے تیاری کر رہے ہوں گے اور صفیں درست کر رہے ہوں گے تو ناگہاں نماز کے لیے اقامت کہی جائے گی تو عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام کا نزول ہوگا۔ وہ ان کی امامت کرائیں گے، پس جب اللہ کا دشمن ان کو دیکھے گا تو وہ اس طرح پگھل جائے گا جس طرح نمک پانی میں پگھل کر حل ہو جاتا ہے، پس اگر وہ (عیسیٰ علیہ السلام) اس کو ویسے بھی چھوڑ دیں تو وہ خود بخود گل کر ہلاک ہو جائے گا لیکن اللہ تعالیٰ ان کے ہاتھوں اسے ہلاک کرے گا، پس وہ اس کا خون انہیں اپنے نیزے میں دکھائیں گے۔“
صحيح مسلم، الفتن، باب في فتح قسطنطينية ، حديث: 2897
➒ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے ابو القاسم الصادق المصدوق صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:
يخرج أعور الدجال مسيح الضلالة قبل المشرق فى زمن اختلاف من الناس وفرقة فيبلغ ما شاء الله أن يبلغ من الأرض فى أربعين يوما الله أعلم ما مقدارها فيلقى المؤمنون شدة شديدة ثم ينزل عيسى ابن مريم من السماء فيؤم الناس فإذا رفع رأسه من ركعته قال سمع الله لمن حمده قتل الله المسيح الدجال وظهر المسلمون فأحلف أن رسول الله صلى الله عليه وسلم أبا القاسم الصادق المصدوق قال إنه لحق وأما أنه قريب فكل ما هو آت فهو قريب
”کانا دجال مسیح گمراہی لوگوں کے اختلاف و افتراق کے دور میں مشرق کی طرف سے نکلے گا اور وہ چالیس روز میں، جس قدر اللہ چاہے گا، زمین کے حصے کو فتح کرے گا اور اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ اس کی مقدار کتنی ہوگی۔ مومنوں کو بہت تکلیف کا سامنا کرنا پڑے گا، پھر عیسیٰ ابن مریم آسمان سے نازل ہوں گے، جبکہ لوگ (نماز کے لیے) کھڑے ہوں گے (اور لوگوں کو نماز پڑھائیں گے) جب وہ رکوع سے سر اٹھائیں گے تو سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ کہنے کے ساتھ یہ الفاظ ”اللہ تعالیٰ مسیح دجال کو ہلاک کرے، اور مومن غالب آ جائیں۔“ کہیں گے۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے قسم اٹھائی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے، جو صادق و مصدوق ہیں، فرمایا: ”بے شک یہ حق ہے۔ بے شک وہ قریب ہے، پس ہر وہ چیز جو آنے والی ہے وہ قریب ہے۔“
صحيح ابن حبان : 286/8 ، حدیث: 6773 ، ومجمع الزوائد: 349/7، حدیث : 12543 و اللفظ له
➓ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
يوشك أن ينزل فيكم ابن مريم إماما مقسطا فيصلي الصلوات الخمس ويجمع الجمع ويزيد فى الحلال
”قریب ہے کہ ابن مریم (علیہما السلام) انصاف پسند امام حکمران کی حیثیت سے تشریف لائیں گے، پانچوں نمازیں پڑھیں گے، جمعہ پڑھیں گے اور حلال چیزوں میں اضافہ کریں گے۔“
حدیث کے راوی ابو اشعث نے کہا: ابو ہریرہ! اللہ کی قسم! میرا خیال ہے وہ صرف عورتوں کے معاملے میں حلال چیزوں میں اضافہ کریں گے، تو انہوں (ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ) نے میری (اشعث کی) طرف دیکھا اور مسکرا دیے پھر فرمایا: تم نے یقیناً درست کہا۔
مسند الشاميين: 317/1، حدیث: 558
❀ کیسان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:
ينزل عيسى ابن مريم عند المنارة البيضاء شرقي دمشق
”عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام دمشق کے مشرقی سفید منارے پر اتریں گے۔“
المعجم الكبير للطبراني: 196/19 ، و تاريخ دمشق:169,168/1
❀ عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک آدمی ان کے پاس آیا اور اس نے کہا: یہ حدیث کیا ہے جو آپ بیان کرتے ہیں؟ آپ کہتے ہیں: فلاں فلاں وقت قیامت قائم ہوگی تو انہوں نے کہا: اللہ پاک ہے، یا کہا: اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، یا اسی طرح کا کوئی کلمہ کہا۔ میں نے ارادہ کیا کہ میں کبھی کسی کو کوئی چیز بیان نہیں کروں گا۔ میں نے تو بس یہی کہا تھا: تم تھوڑی مدت بعد ایک امر عظیم دیکھو گے۔ بیت اللہ کو جلا دیا جائے گا، اور ایسے ہوگا، ایسے ہوگا، پھر کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
يخرج الدجال فى أمتي فيمكث أربعين لا أدري أربعين يوما أو أربعين شهرا أو أربعين عاما فيبعث الله عيسى ابن مريم كأنه عروة ابن مسعود فيطلبه فيهلكه ثم يمكث الناس سبع سنين ليس بين اثنين عداوة ثم يرسل الله ريحا باردة من قبل الشام فلا يبقى على وجه الأرض أحد فى قلبه مثقال ذرة من خير أو إيمان إلا قبضته
”دجال میری امت میں نکلے گا اور وہ چالیس تک قیام کرے گا۔ میں نہیں جانتا، چالیس دن، یا چالیس ماہ یا چالیس سال، پھر اللہ تعالیٰ عیسیٰ ابن مریم کو بھیجے گا گویا کہ وہ عروہ بن مسعود کی طرح ہوں گے۔ وہ اسے تلاش کریں گے اور اسے ہلاک کریں گے، پھر لوگ سات سال اس حال میں رہیں گے کہ کسی دو کے درمیان کوئی عداوت نہیں ہوگی، پھر اللہ شام کی طرف سے ٹھنڈی ہوا چلائے گا تو روئے زمین پر کوئی ایسا شخص باقی نہیں رہے گا جس کے دل میں ذرہ برابر خیر یا ذرہ برابر ایمان ہو گا اور (جس کے دل میں خیر یا ایمان ہوگا) یہ ہوا اس کی روح قبض کر لے گی۔“
صحيح مسلم، الفتن، باب في خروج الدجال ، حديث: 2940
❀ مجمع بن جاریہ رضی اللہ عنہ نے بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:
يقتل ابن مريم الدجال بباب لد
”ابن مریم (علیہ السلام) دجال کو باب لد پر قتل کریں گے۔“
جامع الترمذي، الفتن، باب ما جاء في قتل ، حديث: 2244
❀ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے تو میں رو رہی تھی، آپ نے فرمایا:
ما يبكيك فقلت يا رسول الله ذكرت الدجال قال فلا تبكي فإن يخرج وأنا حي أكفيكموه وإن أمت فإن ربكم ليس بأعور وإنه يخرج معه يهود أصبهان فيسير حتى ينزل بضاحية المدينة ولها يومئذ سبعة أبواب على كل ملكان فيخرج إليه شرار أهلها فينطلق حتى يأتى لدا فينزل عيسى ابن مريم فيقتله ثم يمكث عيسى فى الأرض أربعين سنة أو قريبا من أربعين سنة إماما عادلا وحكما مقسطا
”آپ کس وجہ سے رو رہی ہیں؟ میں نے کہا: اللہ کے رسول! مجھے (فتنہ) دجال یاد آ گیا تھا۔ آپ نے فرمایا: ”آپ نہ روئیں، اگر وہ میری زندگی میں نکل آیا تو میں تم سب کی طرف سے اس سے کافی ہو جاؤں گا، اور اگر میں فوت ہو گیا تو تمہارا رب کانہیں، اور یقیناً وہ دجال نکلے گا تو اصبہان کے یہودی اس کے ساتھ ہوں گے۔ وہ (پوری دنیا کا چکر لگائے گا حتیٰ کہ مدینہ کے ایک طرف پڑاؤ ڈالے گا۔ اس وقت مدینہ کے سات دروازے ہوں گے، ہر دروازے پر دو فرشتے ہوں گے۔ وہاں کے شریر لوگ نکل کر اس کی طرف چلے جائیں گے، پھر وہ وہاں سے روانہ ہو گا حتیٰ کہ لد پہنچ جائے گا، تو عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام کا نزول ہوگا اور وہ اسے قتل کریں گے، پھر عیسیٰ علیہ السلام چالیس سال یا تقریباً چالیس سال عادل امام اور منصف حاکم کی حیثیت سے زمین پر رہیں گے۔“
المصنف لابن أبي شيبة : 490/7 ، حدیث : 37463، ومسند أحمد : 75/6
❀ نواس بن سمعان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ایک روز صبح کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دجال کا ذکر کیا تو آپ نے اس دوران میں آواز کو پست کیا اور بلند کیا، حتیٰ کہ ہم نے سمجھا کہ شاید وہ (دجال) کھجور کے درختوں میں آ گیا ہے۔ جب شام کے وقت ہم آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے اس کے اثرات ہم پر محسوس کیے تو آپ نے فرمایا: تمہیں کیا ہوا؟ ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ نے صبح دجال کا ذکر کیا تو آپ نے اس دوران میں آواز کو پست کیا اور بلند کیا حتیٰ کہ ہم نے سمجھا کہ وہ کھجوروں کے جھنڈ میں آ گیا ہے، آپ نے فرمایا:
غير الدجال أخوفني عليكم إن يخرج وأنا فيكم فأنا حجيجه دونكم وإن يخرج ولست فيكم فامرؤ حجيج نفسه والله خليفتي على كل مسلم إنه شاب قطط عينه طافئة كأني أشبهه بعبد العزى بن قطن فمن أدركه منكم فليقرأ عليه فواتح سورة الكهف إنه خارج خلة بين الشام والعراق فعاث يمينا وعاث شمالا يا عباد الله فاثبتوا قلنا يا رسول الله وما لبثه فى الأرض قال أربعون يوما يوم كسنة ويوم كشهر ويوم كجمعة وسائر أيامه كأيامكم قلنا يا رسول الله فذلك اليوم الذى كسنة أتكفينا فيه صلاة يوم قال لا اقدروا له قدره قلنا يا رسول الله وما إسراعه فى الأرض قال كالغيث استدبرته الريح فيأتي على القوم فيدعوهم فيؤمنون به ويستجيبون له فيأمر السماء فتمطر والأرض فتنبت فتروح عليهم سارحتهم أطول ما كانت ذرى وأسبغه ضروعا وأمده خواصر ثم يأتى القوم فيدعوهم فيردون عليه قوله فينصرف عنهم فيصبحون ممحلين ليس بأيديهم شيء من أموالهم ويمر بالخربة فيقول لها أخرجي كنوزك فتتبعه كنوزها كيعاسيب النحل ثم يدعو رجلا ممتلئا شبابا فيضربه بالسيف فيقطعه جزلتين رمية الغرض ثم يدعوه فيقبل ويتهلل وجهه ويضحك فبينما هو كذلك إذ بعث الله المسيح ابن مريم فينزل عند المنارة البيضاء شرقي دمشق بين مهرودتين واضعا كفيه على أجنحة ملكين إذا طأطأ رأسه قطر وإذا رفعه تحدر منه جمان كاللؤلؤ فلا يحل لكافر يجد ريح نفسه إلا مات ونفسه ينتهي حيث ينتهي طرفه فيطلبه حتى يدركه بباب لد فيقتله ثم يأتى عيسى ابن مريم قوم قد عصمهم الله منه فيمسح عن وجوههم ويحدثهم بدرجاتهم فى الجنة فبينما هو كذلك إذ أوحى الله إلى عيسى إني قد أخرجت عبادا لي لا يدان لأحد بقتالهم فحرز عبادي إلى الطور ويبعث الله يأجوج ومأجوج وهم من كل حدب ينسلون فيمر أوائلهم على بحيرة طبرية فيشربون ما فيها ويمر آخرهم فيقولون لقد كان بهذه مرة ماء ويحصر نبي الله عيسى وأصحابه حتى يكون رأس الثور لأحدهم خيرا من مائة دينار لأحدكم اليوم فيرغب نبي الله عيسى وأصحابه فيرسل الله عليهم النغف فى رقابهم فيصبحون فرسى كموت نفس واحدة ثم يهبط نبي الله عيسى وأصحابه إلى الأرض فلا يجدون فى الأرض موضع شبر إلا ملأه زهمهم ونتنهم فيرغب نبي الله عيسى وأصحابه إلى الله فيرسل الله طيرا كأعناق البخت فتحملهم فتطرحهم حيث شاء الله ثم يرسل الله مطرا لا يكن منه بيت مدر ولا وبر فيغسل الأرض حتى يتركها كالزلقة ثم يقال للأرض أنبتي ثمرتك وردي بركتك فيومئذ تأكل العصابة من الرمانة ويستظلون بقحفها ويبارك فى الرسل حتى إن اللقحة من الإبل لتكفي الفئام من الناس واللقحة من البقر لتكفي القبيلة من الناس واللقحة من الغنم لتكفي الفخذ من الناس فبيناهم كذلك إذ بعث الله ريحا طيبة فتأخذهم تحت آباطهم فتقبض روح كل مؤمن وكل مسلم ويبقى شرار الناس يتهارجون فيها تهارج الحمر فعليهم تقوم الساعة
”مجھے تمہارے بارے میں دجال کے علاوہ اور چیزوں کا زیادہ اندیشہ ہے۔ اگر وہ میری موجودگی میں نکل آیا تو میں تمہیں اس سے بچاؤں گا اور اگر وہ اس حال میں نکلا کہ میں تم میں موجود نہ ہوں تو پھر ہر شخص اپنا بچاؤ کرے گا۔ ہر مسلمان کے بارے میں اللہ میرا جانشین اور نگہبان ہے۔ وہ (دجال) ایسا نوجوان ہو گا کہ اس کے بال گھونگریالے ہوں گے۔ اس کی آنکھ ابھری ہوئی ہوگی، گویا کہ میں اسے عبد العزیٰ بن قطن سے تشبیہ دیتا ہوں، پس تم میں سے جو شخص اسے پائے تو وہ سورۂ الکہف کا ابتدائی حصہ اس پر پڑھے۔ وہ شام اور عراق کے درمیان والی راہ سے نکلے گا اور دائیں بائیں خرابی پیدا کرے گا۔ اللہ کے بندو! ثابت قدم رہنا۔“ ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! وہ زمین پر کتنی مدت رہے گا؟ آپ نے فرمایا: ”چالیس روز جن میں سے ایک دن ایک سال کے برابر، ایک دن مہینے کے برابر، ایک دن ہفتے کے برابر اور اس کے باقی ایام تمہارے ایام کی طرح ہوں گے۔“ ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! وہ دن جو سال کی طرح ہوگا تو کیا اس میں ایک دن کی نمازیں ہمارے لیے کافی ہوں گی؟ آپ نے فرمایا: نہیں! تم اندازے کے مطابق اس کا اندازہ کر لینا۔“ ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اس کی زمین میں رفتار کیا ہو گی؟ آپ نے فرمایا: ”بارش کی طرح جسے ہوا پیچھے سے اُڑاتی ہو۔ وہ کسی قوم کے پاس آئے گا اور انہیں دعوت دے گا تو وہ اس پر ایمان لے آئیں گے، اس کی بات قبول کریں گے۔ وہ آسمان کو حکم دے گا تو وہ بارش برسائے گا، زمین کو حکم دے گا تو وہ نباتات اُگائے گی۔ ان کے مویشی چر کر ان کے پاس آئیں گے تو ان کے کوہان پہلے سے لمبے، تھن کشادہ (بھرے ہوئے) اور کوکھ نکلے ہوئے ہوں گے، پھر وہ ایک اور قوم کے پاس آئے گا اور انہیں دعوت دے گا لیکن وہ اس کی دعوت قبول نہیں کریں گے۔ وہ ان کے پاس سے جائے گا تو ان پر خشک سالی اور قحط سالی آ جائے گی، ان کے ہاتھ مال سے خالی ہو جائیں گے۔ وہ ویران جگہ سے گزرے گا تو اسے کہے گا: اپنا خزانہ نکال دو تو اس کے خزانے اس کے پیچھے چل پڑیں گے جیسے شہد کی مکھیاں چلتی ہیں، پھر وہ ایک بھر پور نوجوان شخص کو بلائے گا اور اسے تلوار مار کر دو ٹکڑے کر دے گا جس طرح کسی کو باندھ کر نشانہ بازی کی جاتی ہے، پھر اس کو بلائے گا تو وہ اس کے سامنے اس حالت میں آئے گا کہ اس کا چہرہ دمکتا ہوگا اور وہ مسکرا رہا ہو گا۔ اسی اثنا میں اللہ تعالیٰ مسیح ابن مریم علیہما السلام کو بھیجے گا، آپ دمشق کے مشرقی سفید منارے پر اتریں گے، آپ نے زرد رنگ کا جوڑا زیب تن کیا ہوگا اور دو فرشتوں کے پروں پر اپنے دونوں ہاتھ رکھے ہوں گے۔ جب سر جھکائیں گے تو پسینہ ٹپکے گا اور جب سر اٹھائیں گے تو موتیوں کی طرح بوندیں ٹپکیں گی۔ جو کافر آپ کے سانس کی بھاپ پائے گا تو وہ اسے پاتے ہی ہلاک ہو جائے گا اور حد نظر تک وہ بھاپ جائے گی۔ آپ اس (دجال) کو تلاش کریں گے حتیٰ کہ باب لد پر اسے پائیں گے تو اسے قتل کر دیں گے، پھر عیسیٰ علیہ السلام ایسی قوم کے پاس آئیں گے جسے اللہ نے دجال سے بچا لیا ہو گا۔ آپ ان کے چہروں پر شفقت سے ہاتھ پھیریں گے اور جنت میں ان کے درجات کے متعلق بتائیں گے۔ اسی اثنا میں اللہ عیسیٰ علیہ السلام کی طرف وحی بھیجے گا کہ میں نے اپنے کچھ ایسے بندے نکالے ہیں کہ ان سے لڑنے کی کوئی طاقت نہیں رکھتا، لہذا آپ میرے بندوں کو طور کی طرف لے جائیں۔ اللہ یاجوج و ماجوج کو بھیجے گا اور وہ ہر اونچی جگہ سے نکل پڑیں گے۔ ان میں سے پہلے لوگ بحیرہ طبریہ سے گزریں گے، وہاں کا سارا پانی پی لیں گے۔ جب ان کے پچھلے لوگ گزریں گے تو وہ کہیں گے کہ کبھی اس میں پانی بھی تھا۔ اللہ کے نبی عیسیٰ علیہ السلام اور ان کے ساتھیوں کا محاصرہ کر لیا جائے گا حتیٰ کہ ان کے ہاں بیل کا سر سو دینار سے افضل ہوگا، پھر اللہ کے نبی عیسیٰ علیہ السلام اور ان کے ساتھی دعا کریں گے تو اللہ ان (یاجوج ماجوج) کی گردنوں میں کیڑے چھوڑ دے گا تو وہ صبح تک سارے اس طرح مر جائیں گے جس طرح ایک آدمی مرتا ہے۔ پھر اللہ کے نبی عیسیٰ علیہ السلام اور ان کے ساتھی زمین پر اتریں گے تو وہ زمین کی بالشت برابر ایسی جگہ نہیں پائیں گے جہاں ان کی گلی سڑی بد بودار لاشیں نہ ہوں، پھر اللہ کے نبی عیسیٰ علیہ السلام اور ان کے ساتھی اللہ کے حضور دعا کریں گے تو اللہ بختی اونٹوں
بختی نسل کے اونٹ خراسان سے آتے تھے۔ بخت نصر شاہ بابل نے عربی اونٹنی اور عجمی اونٹ کے ملاپ سے بچہ لے کر نسل چلائی جو اس کے نام سے منسوب ہوئی۔
کی گردنوں کی طرح کے پرندے بھیجے گا جو انہیں اٹھا کر وہاں پھینک آئیں گے جہاں اللہ چاہے گا، پھر اللہ تعالیٰ ایسی بارش نازل فرمائے گا کہ کوئی گھر اور کوئی خیمہ دھلے بغیر باقی نہیں رہے گا اور زمین حوض یا باغ کی طرح صاف ہو جائے گی، پھر زمین سے کہا جائے گا: اپنے پھل اگا اور اپنی برکات لوٹا دے۔ اس روز ایک جماعت ایک انار کھائے گی تو وہ اس کے چھلکے کے سائے تلے بیٹھے گی۔ دودھ میں برکت ڈال دی جائے گی حتیٰ کہ ایک دودھ دینے والی اونٹنی آدمیوں کے بڑے گروہ کے لیے کافی ہوگی۔ ایک دودھ دینے والی گائے ایک قبیلے کے لیے کافی ہو گی اور ایک دودھ دینے والی بکری لوگوں کے ایک خاندان کے لیے کافی ہوگی۔ وہ اس حالت میں ہوں گے کہ اللہ ایک پاکیزہ ہوا چلائے گا جو ان کی بغلوں کے نیچے لگے گی اور ہر مومن مسلمان کی روح قبض کر لے گی۔ صرف شریر لوگ باقی رہ جائیں گے اور وہ آپس میں گدھوں کی طرح بھڑیں گے، ایسے ہی لوگوں پر قیامت قائم ہوگی۔“
صحيح مسلم، الفتن، باب ذكر الدجال، حديث: 2937
❀ نواس بن سمعان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام دمشق کے مشرقی سفید منارے پر نازل ہوں گے اور دجال کو باب لد پر پا کر اسے قتل کر ڈالیں گے۔“
صحيح مسلم ،الفتن باب ذكر الدجال، حدیث : 2937 ، و سنن أبي داود الملاحم، باب خروج الدجال، حدیث : 4321 ، وصحيح ابن حبان : 288,278/8
❀ حذیفہ بن اسید غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے تو ہم باہم بحث کر رہے تھے۔ آپ نے فرمایا: ”تم کیا بحث کر رہے ہو؟“ انہوں نے عرض کیا: ہم قیامت کا تذکرہ کر رہے تھے۔ آپ نے فرمایا:
إنها لن تقوم حتى ترون قبلها عشر آيات فذكر الدخان والدجال والدابة وطلوع الشمس من مغربها ونزول عيسى ابن مريم ويأجوج ومأجوج وثلاثة خسوف خسف بالمشرق وخسف بالمغرب وخسف بجزيرة العرب وآخر ذلك نار تخرج من اليمن تطرد الناس إلى محشرهم
”قیامت قائم نہیں ہو گی حتیٰ کہ اس سے پہلے دس نشانیاں واقع نہ ہو جائیں۔ دھواں، دجال، چوپایہ، سورج کا مغرب سے طلوع ہونا، عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام کا نزول، یاجوج ماجوج کا نکلنا، زمین کا تین مرتبہ دھنسنا، مشرق میں دھنسنا، مغرب میں دھنسنا، جزیرہ عرب میں دھنسنا۔ آخر میں یمن سے آگ نکلے گی جو لوگوں کو ہانک کر ان کے اکٹھا ہونے کی جگہ (محشر) کی طرف لے جائے گی۔“
صحيح مسلم، الفتن، باب في الآيات التي تكون قبل الساعة، حديث: 2901
❀ حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
أنا أعلم بما مع الدجال منه نهران أحدهما نار تأجج فى عين من رآه والآخر ماء أبيض فإن أدركه منكم أحد فليغمض وليشرب من الذى يراه نارا فإنه ماء بارد وإياكم والآخر فإنه الفتنة واعلموا أنه مكتوب بين عينيه كافر يقرأه من يكتب ومن لا يكتب وأن إحدى عينيه ممسوحة عليها ظفرة أنه يطلع من آخر أمره على بطن الأردن على بيته أفيق وكل واحد يؤمن بالله واليوم الآخر ببطن الأردن وأنه يقتل من المسلمين ثلثا ويهزم ثلثا ويبقى ثلثا ويجن عليهم الليل فيقول بعض المؤمنين لبعض ما تنتظرون أن تلحقوا بإخوانكم فى مرضاة ربكم من كان عنده فضل طعام فليغد به على أخيه وصلوا حين ينفجر الفجر وعجلوا الصلاة ثم أقبلوا على عدوكم فلما قاموا يصلون نزل عيسى ابن مريم صلوات الله عليه إمامهم فصلى بهم فلما انصرف قال هكذا أفرجوا بيني وبين عدو الله وسلط الله عليهم المسلمين فيقتلونهم حتى أن الشجر والحجر لينادي يا عبد الله يا عبد الرحمن يا مسلم هذا يهودي فاقتله فينفيهم الله ويظهر المسلمون فيكسرون الصليب ويقتلون الخنزير ويضعون الجزية فبينماهم كذلك أخرج الله أهل يأجوج ومأجوج فيشرب أولهم البحيرة ويجيء آخرهم وقد استقوه فما يدعون فيه قطرة فيقولون ظهرنا على أعدائنا قد كان ههنا أثر ماء فيجيء نبي الله وأصحابه وراءه حتى يدخلوا مدينة من مدائن فلسطين يقال لها لد فيقولون ظهرنا على من فى الأرض فتعالوا نقاتل من فى السماء فيدعو الله نبيه عند ذلك فيبعث الله عليهم قرحة فى حلوقهم فلا يبقى منهم بشر فتؤذي ريحهم المسلمين فيدعو عيسى عليهم فيرسل الله عليهم ريحا فتقذفهم فى البحر أجمعين
”میں جانتا ہوں کہ دجال کے ہمراہ کیا ہو گا۔ اس کے ساتھ دو نہریں ہوں گی۔ ان میں سے ایک دیکھنے والے کو شعلوں والی آگ کی طرح گرم دکھائی دے گی جبکہ دوسری سفید پانی والی ہوگی۔ اگر تم میں سے کوئی اس (دجال) کو پالے تو وہ اس نہر سے آنکھیں بند کر کے پانی پی لے جس کو وہ آگ سمجھتا ہو کیونکہ وہ ٹھنڈا پانی ہے جبکہ دوسری (نہر) فتنہ ہے۔ جان لو کہ اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان کافر لکھا ہوا ہو گا اور ہر پڑھا لکھا اور ان پڑھ اسے پڑھ لے گا اور اس کی ایک آنکھ نہیں ہوگی۔ اس پر ناخنہ ہوگا (ایک بیماری جس میں آنکھ پر ناک کی طرح جھلی آجاتی ہے) وہ آخری مرتبہ اردن کے درمیانی حصے میں پہنچے گا جس کا نام افیق ہے۔ اردن کے درمیانی حصے کا ہر شخص جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو گا (وہ جہاد کرے گا) اور وہ ایک تہائی حصے کو شہید کر دے گا، تہائی حصہ بھاگ جائے گا اور تہائی حصہ ثابت قدم رہے گا۔ ان پر رات چھا جائے گی تو بعض مومن آپس میں کہیں گے: تم اپنے رب کی رضا میں اپنے بھائیوں سے ملنے میں کس چیز کا انتظار کر رہے ہو، لہذا جس شخص کے پاس زائد کھانا ہو تو وہ اپنے بھائی کو دے دے اور صبح ہوتے ہی جلد نماز پڑھو، پھر اپنے دشمن پر توجہ کرو۔ جب وہ نماز کے لیے کھڑے ہوں گے تو عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام ان کے سامنے اتریں گے تو وہ انہیں نماز پڑھائیں گے۔ جب نماز سے فارغ ہوں گے تو فرمائیں گے: اسی طرح میرے اور اللہ کے دشمن کے درمیان کشادگی لاؤ۔ اور اللہ مسلمانوں کو ان پر مسلط کر دے گا، پس وہ انہیں قتل کریں گے حتیٰ کہ شجر و حجر آواز دیں گے: اللہ کے بندے! رحمن کے بندے! اے مسلمان! یہ یہودی ہے اسے قتل کرو، چنانچہ اللہ انہیں ختم کر دے گا۔ مسلمان غالب آ جائیں گے۔ وہ صلیب توڑیں گے، خنزیر کو قتل کریں گے اور جزیہ ختم کریں گے۔ وہ اسی حال میں ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ یاجوج ماجوج کو نکالے گا۔ ان کا پہلا گروہ پورا بحیرہ (طبریہ) پی جائے گا۔ جب پچھلا گروہ آئے گا تو وہ پانی طلب کریں گے لیکن انہوں نے قطرہ تک نہ چھوڑا ہوگا تو وہ کہیں گے: ہم اپنے دشمنوں پر غالب آگئے۔ یہاں پانی کا نشان تھا۔ اللہ کے نبی عیسیٰ علیہ السلام آئیں گے اور آپ کے ساتھی آپ کے پیچھے ہوں گے حتیٰ کہ وہ (یاجوج ماجوج) فلسطین کے کسی شہر میں داخل ہو جائیں گے، جسے لد کہا جاتا ہے، تو وہ کہیں گے: ہم اہل زمین پر غالب آگئے، آؤ ہم آسمان والوں سے لڑیں اللہ کے نبی اس وقت اللہ سے دعا کریں گے تو اللہ تعالیٰ ان کی گردنوں پر پھوڑا نکالے گا تو ان میں سے کوئی بشر باقی نہیں رہے گا۔ ان کی بد بودار ہوا مسلمانوں کو اذیت پہنچائے گی۔ عیسیٰ علیہ السلام ان کے لیے بددعا کریں گے تو اللہ تعالیٰ ان پر ہوا چلائے گا جو ان سب کو سمندر میں پھینک دے گی۔“
المستدرك للحاكم: 4/491، حديث: 8507
❀ حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
يخرج الدجال عدو الله معه جنود من اليهود وأصناف الناس معه جنة ونار ورجال يقتلهم ثم يحييهم معه جبل من تريد ونهر من ماء وإني سأنعت لكم نعتا أنه يخرج ممسوح العين فى جبهته مكتوب كافر يقرأ كل من يحسن الكتاب ومن لا يحسن فجنته نار وناره جنة وهو المسيح الكذاب يتبعه من نساء اليهود ثلاث عشر ألف امرأة فرحمه الله رجلا منع سفيته أن تتبعه والقوة عليه يومئذ بالقرآن فإن شأنه بلاء شديد يبعث الله شياطين مشارق الأرض ومغاربها فيقولون له استعن بنا على ما شئت فيقول لهم انطلقوا فأخبروا الناس أني ربهم وأني قد جئتهم بجنتي وناري فتنطلق الشياطين فيدخل على الرجل أكثر من مائة شياطين فيتمثلون له بصورة والده وولده وإخوته ومواليه ورفيقه فيقولون يا فلان أتعرفنا فيقول لهم الرجل نعم هذا أبى وهذه أمي وهذه أختي وهذا أخي ويقول الرجل ما نبأكم فيقولون بل أنت بل أنت فأخبرنا ما نبأك يقول الرجل إنا قد أخبرنا أن عدو الله الدجال قد خرج فيقول له الشياطين مهلا لا تقل هذا فإنه ربكم يريد القضاء فيكم هذه جنته قد جاء بها وناره ومعه الأنهار والطعام فلا طعام إلا ما كان فيه قبله إلا ما شاء الله فيقول الرجل كذبتم ما أنتم إلا شياطين وهو الكذاب قد بلغنا أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قد حدث حديثكم وحذرنا وأنبأنا به فلا مرحبا بكم أنتم الشياطين وهو عدو الله وليسوقن الله عيسى ابن مريم حتى يقتله فيخسأوا فينقلبوا خائبين ثم قال رسول الله صلى الله عليه وسلم إنما أحدثكم هذا لتعقلوه وتفقهوه وتعوه واعملوا عليه وحدثوا به من خلفكم فليحدث الآخر الآخر فإن فتنته أشد الفتن
”اللہ کا دشمن دجال یہودیوں کے لشکر اور مختلف لوگوں کے ساتھ نکلے گا۔ اس کے ساتھ جنت اور آگ ہوگی۔ وہ آدمیوں کو قتل کرے گا، پھر انہیں زندہ کرے گا۔ اس کے ساتھ ثرید (شوربے میں روٹیاں بھگو کر تیار کیے ہوئے کھانے) کا پہاڑ ہوگا اور پانی کی نہر ہوگی۔ میں ابھی تمہیں اس کا تعارف کراتا ہوں کہ وہ نکلے گا تو اس کی ایک آنکھ نہیں ہوگی۔ اس کی پیشانی پر کافر لکھا ہو گا۔ ہر پڑھا لکھا اور ان پڑھ اسے پڑھ لے گا۔ اس کی جنت آگ ہوگی اور اس کی آگ جنت ہوگی۔ وہ مسیح کذاب ہوگا۔ تیرہ ہزار یہودی عورتیں اس کی پیروی کریں گی۔ اللہ اس شخص پر رحم فرمائے جس نے اپنی اہلیہ کو اس کی اتباع سے روکا۔ اس روز قرآن کی قوت سے اس پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ اس کی حالت یہ ہے کہ وہ ایک بہت سخت آزمائش ہے۔ اللہ زمین کے مشارق و مغارب کے شیاطین بھیجے گا تو وہ اسے کہیں گے: جس کے خلاف چاہو ہم سے مدد طلب کرو تو وہ انہیں کہے گا: پس تم جاؤ اور لوگوں سے کہو کہ میں ان کا رب ہوں اور میں ان کے پاس اپنی جنت اور جہنم لے کر آیا ہوں، پس شیاطین روانہ ہو جائیں گے تو ایک آدمی کے پاس سو سے زیادہ شیاطین جائیں گے۔ وہ اس کے سامنے اس کے والد، اس کے بیٹے، اس کے بھائیوں، اس کے غلاموں اور اس کے ساتھیوں کی صورت میں پیش ہوں گے۔ وہ کہیں گے: اے فلاں! کیا تم ہمیں پہچانتے ہو؟ وہ انہیں کہے گا ہاں یہ میرے والد ہیں، یہ میری والدہ ہیں، یہ میری بہن اور یہ میرے بھائی ہیں، وہ آدمی پوچھے گا تمہاری کیا خبر ہے؟ تو وہ کہیں گے، بلکہ تیری کیا خبر ہے، بلکہ تیری کیا خبر ہے؟ پس تم ہمیں بتاؤ تمہاری کیا خبر ہے؟ وہ آدمی کہے گا: ہمیں بتایا گیا ہے کہ اللہ کا دشمن دجال نکل چکا ہے، تو شیاطین اسے کہیں گے ٹھہرو، یہ نہ کہو کیونکہ وہ تو تمہارا رب ہے۔ وہ تمہارے درمیان فیصلہ کرنا چاہتا ہے۔ یہ اس کی جنت ہے جسے وہ ساتھ لے کر آیا ہے اور یہ اس کی جہنم ہے۔ اور اس کے ساتھ نہریں ہیں، خوراک ہے، پس کھانا وہی ہے جو کسی نے پہلے سے جمع کیا ہوا ہے مگر یہ کہ جو اللہ چاہے تو وہ آدمی کہے گا: تم جھوٹ کہہ رہے ہو، تم تو محض شیاطین ہو اور وہ کذاب ہے۔ ہمیں یہ بات پہنچ چکی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہارے حالات بتائے اور ہمیں اس سے ڈرایا اور انہوں نے اس کے متعلق بھی ہمیں بتایا۔ پس تمہارے لیے کوئی خوش آمدید نہیں۔ تم شیاطین ہو اور وہ اللہ کا دشمن ہے۔ اللہ تعالیٰ عیسیٰ علیہ السلام کو ضرور بھیجے گا حتیٰ کہ وہ اسے قتل کریں گے، پس وہ ناکام ہو جائیں گے اور ناکام و نامراد واپس لوٹیں گے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں یہ تمہیں اس لیے بیان کر رہا ہوں کہ تم اسے یاد کرو، اسے سمجھو، اسے محفوظ رکھو، اس پر عمل کرو اور اپنے بعد میں آنے والوں کو اسے بیان کرو، پس ہر ایک دوسرے کو یہ حدیث ضرور بیان کرے کیونکہ اس کا فتنہ سب سے شدید فتنہ ہے۔“
الفتن للمروزي، ص: 368-369
❀ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا:
يكون بين المسلمين وبين الروم هدنة فى حديث طويل وفي آخره ويفتح الله القسطنطينية على يد أقوام هم أولياء الله يرفع الله عنهم الموت والمرض والسقم حتى ينزل عليهم عيسى ابن مريم فيقاتلون معه الدجال
”مسلمانوں اور رومیوں کے مابین مصالحت کا معاہدہ ہوگا یہ ایک طویل حدیث ہے۔ اس کے آخر میں ہے۔ اللہ ایسے لوگوں کے ہاتھوں قسطنطنیہ کو فتح کرے گا جو اللہ کے دوست ہوں گے۔ اللہ ان سے موت، مرض اور تکلیف کو اٹھا لے گا حتیٰ کہ عیسیٰ ابن مریم نازل ہوں گے تو وہ ان (عیسیٰ علیہ السلام) کے ساتھ مل کر دجال سے قتال کریں گے۔“
الفتن للمروزي، ص : 296-299
❀ تعلبہ بن عباد سے روایت ہے کہ وہ ایک روز سمرہ رضی اللہ عنہ کے خطبہ میں حاضر تھے تو انہوں نے خطبہ کے آخر پر کہا۔
کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا تقوم الساعة حتى يخرج ثلاثون كذابا آخرهم الأعور الدجال ممسوح العين اليسرى كأنها عين أبى يحيى لشيخ من الأنصار وأنه متى خرج فإنه يزعم أنه الله فمن آمن به وصدقه واتبعه فليس ينفعه صالح من عمل سلف ومن كفر وكذبه فليس يعاقب بشيء من عمله سلف وأنه سيظهر على الأرض كلها إلا الحرم وبيت المقدس وأنه يحصر المؤمنين فى بيت المقدس فيتزلزلون زلزالا شديدا فيصبح فيهم عيسى ابن مريم فيهزمه الله وجنوده حتى إن أجرم الحائط وأصل الشجر لينادي يا مؤمن هذا كافر يستتر بي فتعال أقتله
”قیامت قائم نہیں ہوگی حتیٰ کہ تیس کذاب نکلیں گے۔ سب سے آخر میں کانا دجال آئے گا۔ اس کی بائیں آنکھ مسخ شدہ ہوگی گویا کہ وہ انصار کے بزرگ آدمی ابو یحییٰ کی آنکھ کی طرح ہوگی اور جب وہ نکلے گا تو وہ زعم رکھے گا کہ وہ اللہ ہے۔ جو شخص اس پر ایمان لائے، اس کی تصدیق کرے اور اس کی اتباع کرے تو اس کے سابقہ صالح اعمال اس کے کچھ بھی کام نہیں آئیں گے اور جس نے اس کا انکار کیا اور اس کی تکذیب کی تو اس کے سابقہ اعمال پر اسے سزا نہیں دی جائے گی۔ دجال حرم اور بیت المقدس کے علاوہ پوری سر زمین پر غالب آ جائے گا اور وہ مومنوں کو بیت المقدس میں محصور کرے گا تو وہ سخت مصیبت سے دوچار ہوں گے اور ہلائے جائیں گے تو ایک روز صبح کے وقت عیسیٰ ابن مریم ان میں تشریف لائیں گے تو اللہ اس دجال اور اس کے لشکر کو شکست سے دوچار کر دے گا حتیٰ کہ ہر دیوار کی بنیاد اور درخت کا تنا آواز دے گا: اے مومن! یہ کافر میرے پیچھے چھپا ہوا ہے، لہذا آؤ اور اسے قتل کرو۔“
الفتن للمروزي، ص: 296-299؛ المستدرك للحاكم: 1/330-331، حديث: 1230
❀ جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:
لا تزال طائفة من أمتي يقاتلون على الحق ظاهرين إلى يوم القيامة قال فينزل عيسى ابن مريم فيقول أميرهم تعال صل لنا فيقول لا إن بعضكم على بعض أمراء تكرمة الله هذه الأمة
”میری امت کا ایک گروہ حق کی خاطر لڑتا رہے گا، وہ قیامت تک غالب رہیں گے۔ فرمایا: ”عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے تو ان کا امیر انہیں کہے گا: تشریف لائیں اور ہمیں نماز پڑھائیں تو وہ فرمائیں گے: نہیں، بے شک تم میں سے بعض، بعض پر امیر ہیں، اللہ نے اس امت کو عزت بخشی ہے۔“
صحيح مسلم، الإيمان، باب نزول عيسى ابن مريم عليهما السلام، حديث: 156
مدینہ منورہ میں ابن صائد نامی ایک یہودی بچہ تھا جس میں دجال کی بعض علامتیں پائی جاتی تھیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خدشہ تھا کہ کہیں یہی دجال نہ ہو تو آپ اپنے خدشے کی تصدیق کے لیے متعدد دفعہ اس کے گھر تشریف لے گئے اور آپ کے ساتھ دیگر صحابہ بھی تھے۔ اس موقع پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے آپ سے اجازت طلب کی کہ میں اسے قتل کر دوں تو حضرت جابر رضی اللہ عنہ ایک لمبی حدیث میں ان تمام واقعات کی تفصیل بیان فرماتے ہوئے کہتے ہیں کہ جواب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إن يكن هو فلست صاحبه إنما صاحبه عيسى ابن مريم عليه الصلاة والسلام وإن لا يكن هو فليس لك أن تقتل رجلا من أهل العهد
”اگر یہ وہی دجال ہے تو پھر آپ اسے قتل کرنے والے نہیں، اس کام کے لیے عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام مامور ہیں اور اگر یہ وہ نہیں تو پھر آپ کو کسی ذمی شخص کو قتل کرنے کا حق حاصل نہیں۔“
(مسند أحمد: 3/368)
❀ جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
يخرج الدجال فى خفقة من الدين وإدبار من العلم فله أربعون ليلة يسيحها فى الأرض اليوم منها كالسنة واليوم منها كالشهر واليوم منها كالجمعة ثم سائر أيامه كأيامكم هذه وله حمار يركبه عرض ما بين أذنيه أربعون ذراعا فيقول للناس أنا ربكم وهو أعور وإن ربكم ليس بأعور مكتوب بين عينيه كافر ك ف ر مهجاة يقرؤه كل مؤمن كاتب وغير كاتب يرد كل ماء ومنهل إلا المدينة ومكة حرمهما الله عليه وقامت الملائكة بأبوابها ومعه جبال من خبز والناس فى جهد إلا من تبعه ومعه نهران أنا أعلم بهما منه نهر يقول الجنة ونهر يقول النار فمن أدخل الذى يسميه الجنة فهو النار ومن أدخل الذى يسميه النار فهو الجنة قال ويبعث الله معه شياطين تكلم الناس ومعه فتنة عظيمة يأمر السماء فتمطر فيما يرى الناس ويقتل نفسا ثم يحييها فيما يرى الناس لا يسلط على غيرها من الناس ويقول أيها الناس هل يفعل مثل هذا إلا الرب عز وجل قال فيفر المسلمون إلى جبل الدخان بالشام فيأتيهم فيحاصرهم فيشتد حصارهم ويجهدهم جهدا شديدا ثم ينزل عيسى ابن مريم فينادي من السحر فيقول يا أيها الناس ما يمنعكم أن تخرجوا إلى الكذاب الخبيث فيقولون هذا رجل جني فينطلقون فإذا هم بعيسى ابن مريم فتقام الصلاة فيقال له تقدم يا روح الله فيقول ليتقدم إمامكم فليصل بكم فإذا صلى صلاة الصبح خرجوا إليه قال فحين يرى الكذاب ينماث كما ينماث الملح فى الماء فيمشي إليه فيقتله حتى أن الشجرة والحجر ينادي يا روح الله هذا يهودي فلا يترك ممن كان يتبعه أحدا إلا قتله
”دجال اس حال میں ظاہر ہوگا کہ دین کمزور ہوگا اور علم بھی گیا گزرا ہوگا۔ اسے چالیس راتوں کی مہلت ملے گی، اس مہلت و مدت کا پہلا دن سال کی طرح، دوسرا دن مہینے کی طرح، تیسرا دن ہفتے کی طرح ہوگا اور پھر باقی ایام تمہارے ان ایام کی طرح ہوں گے۔ اس کا ایک گدھا ہوگا جس پر وہ سواری کرے گا۔ اس کے دو کانوں کے مابین چالیس ہاتھ کا فاصلہ ہوگا۔ وہ لوگوں سے کہے گا: میں تمہارا رب ہوں جبکہ وہ کانا ہوگا۔ اور تمہارا رب کانہیں ہے۔ اس دجال کی آنکھوں کے مابین کافر لکھا ہوگا اور اس کے الگ الگ ک، ف، ر ہجے لکھے ہوں گے۔ ہر پڑھا لکھا اور ان پڑھ مومن اسے پڑھ لے گا اور وہ مکہ و مدینہ کے سوا ہر پانی اور گھاٹ پر آئے گا۔ اللہ نے مکہ اور مدینہ اس پر حرام قرار دے دیا ہے اور ان دونوں شہروں کے دروازوں پر فرشتے کھڑے ہوں گے۔ اس کے ساتھ روٹیوں کا پہاڑ ہوگا۔ اس کے پیروکاروں کے سوا باقی لوگ مشقت اور تکلیف میں ہوں گے۔ اس کے ساتھ دو نہریں ہوں گی، ان نہروں کے بارے میں اس کی نسبت میں زیادہ جانتا ہوں۔ وہ ایک نہر کے بارے میں کہے گا کہ یہ جنت ہے اور ایک کے بارے میں کہے گا کہ یہ آگ ہے، پس جو شخص اس نہر میں داخل کیا گیا جسے وہ جنت کہتا ہوگا وہ حقیقت میں آگ ہوگی اور جو اس نہر میں داخل کیا گیا جس کو وہ آگ کہتا ہوگا تو وہ حقیقت میں جنت ہوگی، فرمایا: اللہ شیاطین کو بھیجے گا وہ لوگوں سے باتیں کریں گے۔ اس کے ساتھ ایک بڑا فتنہ یہ ہوگا کہ وہ آسمان کو حکم دے گا تو وہ لوگوں کی ظاہری نظر کے حساب سے بارش برسائے گا۔ وہ کسی نفس کو قتل کرے گا، پھر اسے زندہ کرے گا، اور یہ بھی ظاہری نظروں میں ہوگا (اس کے علاوہ وہ لوگوں پر مسلط نہیں کیا جائے گا۔) وہ لوگوں سے کہے گا: لوگو! کیا رب کے سوا کوئی اور اس طرح کے کام کر سکتا ہے۔ فرمایا: مسلمان شام میں جبل دخان کی طرف بھاگ جائیں گے۔ دجال بھی ان کے پاس پہنچ جائے گا اور ان کا سخت قسم کا محاصرہ کرے گا۔ وہ ان پر بہت سختی کرے گا، پھر عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے تو وہ سحری کے وقت آواز دے کر کہیں گے: لوگو! کذاب خبیث دجال کی طرف نکلنے میں تمہیں کون سی چیز مانع ہے؟ تو وہ مسلمان کہیں گے: یہ تو کوئی جن ہے۔ لوگ (آواز کی طرف) چلیں گے تو وہاں عیسیٰ علیہ السلام ہوں گے۔ نماز کے لیے اقامت کہی جائے گی اور ان سے عرض کی جائے گی: روح اللہ! آگے تشریف لائیں، تو وہ فرمائیں گے تمہارا امام ہی آگے آئے اور تمہیں نماز پڑھائے، پس جب وہ نماز صبح پڑھ لیں گے تو وہ اس دجال کی طرف روانہ ہوں گے۔ فرمایا: جب وہ کذاب عیسیٰ علیہ السلام کو دیکھے گا تو وہ اس طرح گھل جائے گا جس طرح نمک پانی میں گھل جاتا ہے، پس وہ اس کی طرف جائیں گے اور اسے قتل کریں گے، حتیٰ کہ شجر و حجر آواز دیں گے: روح اللہ! یہ یہودی ہے، پس وہ اس کے تمام پیروکاروں کو قتل کر دیں گے کسی ایک کو بھی نہیں چھوڑیں گے۔“
مسند أحمد: 3/367-368
ابن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے فرمان:
وَإِنَّهُ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَةِ فَلَا تَمْتَرُنَّ بِهَا
”بے شک وہ قیامت کی ایک علامت ہیں، پس تم اس کے بارے میں شک نہ کرو۔“
(43-الزخرف:61)
کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا:
نزول عيسى ابن مريم من قبل يوم القيامة
”(اس علامت سے مراد) قیامت سے پہلے عیسیٰ علیہ السلام کا نزول ہے۔“
صحيح ابن حبان: 15/228، حديث: 6817 و 6778
❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام ثوبان رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا:
عصابتان من أمتي أحرزهما الله من النار عصابة تغزو الهند وعصابة تكون مع عيسى ابن مريم عليه السلام
”میری امت کی دو جماعتیں ہیں جنہیں اللہ نے آگ سے بچا لیا ہے۔ ایک جماعت وہ ہے جو ہندوستان سے جہاد کرے گی اور دوسری جماعت وہ ہے جو عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام کے ساتھ ہوگی۔“
مسند أحمد: 5/278
❀ عبد اللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ما أهبط الله إلى الأرض منذ خلق الله آدم إلى أن تقوم الساعة فتنة أعظم من فتنة الدجال وقد قلت فيه قولا لم يقله أحد قبلي إنه آدم جعد ممسوح عين اليسار على عينه ظفرة غليظة وإنه يبرئ الأكمه والأبرص ويقول أنا ربكم فمن قال ربي الله فلا فتنة عليه ومن قال أنت ربي فقد افتتن يلبث فيكم ما شاء الله ثم ينزل عيسى ابن مريم مصدقا لمحمد وعلى ملته إماما مهديا وحكما عدلا فيقتل الدجال
”اللہ نے جب سے آدم علیہ السلام کو پیدا کیا ہے اس وقت سے لے کر قیام قیامت تک دجال سے بڑھ کر کوئی فتنہ آسمان سے زمین کی طرف نہیں اتارا۔ میں نے اس کے بارے میں ایسی بات کی ہے جو مجھ سے پہلے کسی نے نہیں کی۔ وہ گندمی رنگ، گھونگریالے بالوں والا ہے اور اس کی بائیں آنکھ مسخ شدہ ہے۔ اس کی آنکھ پر موٹے ناخنہ کی بیماری ہے۔ بے شک وہ مادر زاد اندھے اور برص کے مریض کو صحیح کر دے گا۔ وہ کہے گا: میں تمہارا رب ہوں۔ جس نے کہا: میرا رب اللہ ہے تو اس کے لیے کوئی فتنہ نہیں اور جس نے کہا: تو میرا رب ہے تو وہ فتنے کا شکار ہو گیا۔ وہ تم میں اس قدر رہے گا جتنا اللہ چاہے گا، پھر عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام نازل ہوں گے، وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق کرنے والے اور ان کی ملت پر ہوں گے۔ وہ امام و راہنما اور عادل حاکم بن کر نازل ہوں گے اور دجال کو قتل کریں گے۔“
المعجم الأوسط للطبراني: 5/293، حديث: 4577
❀ اوس بن اوس رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا:
ينزل عيسى ابن مريم عند المنارة البيضاء شرقي دمشق
”عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام دمشق کے مشرقی سفید منارے کے پاس نازل ہوں گے۔“
المعجم الكبير للطبراني: 1/217، حديث: 590؛ وتاريخ دمشق: 1/168
❀ عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا تزال طائفة من أمتي على الحق ظاهرين على من ناواهم حتى يأتى أمر الله تبارك وتعالى وينزل عيسى ابن مريم عليهما السلام
”میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ حق پر قائم رہے گا اور جو ان سے دشمنی رکھے گا اس پر غالب رہے گا حتیٰ کہ اللہ کا حکم آ جائے گا اور عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام نازل ہو جائیں گے۔“
مسند أحمد: 4/429
یہ وہ احادیث تھیں جو نزول عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق بیان کی گئی ہیں جو قابل استدلال، صحیح، حسن مقبول مرفوع، متصل حدیثیں ہیں۔ یہ حدیثیں درج ذیل صحابہ کرام رضي اللہ عنہم سے مروی ہیں:
ابو ہریرہ، کیسان، عبد اللہ بن عمرو، مجمع بن جاریہ، عائشہ، نواس بن سمعان، حذیفہ بن اسید الغفاری، حذیفہ بن یمان، عبد اللہ بن مسعود، سمرہ بن جندب، جابر بن عبد اللہ، عبد اللہ بن عباس، عبد اللہ بن مغفل، اوس بن اوس، ثوبان، عمران بن حصین رضي اللہ عنہم۔
ان حدیثوں کے علاوہ ان صحابہ سے اس معنی کی اور بھی احادیث مروی ہیں، نیز ان کے علاوہ دیگر صحابہ سے بھی اس معنی کی احادیث مروی ہیں لیکن ہم نے انہیں پر اکتفا کیا ہے۔ اصول حدیث کی بنا پر یہ روایات لفظاً اور معناً متواتر ہیں کیونکہ پھر انہی صحابہ کرام رضي اللہ عنہم سے سینکڑوں تابعین اور پھر اتباع تابعین نے یہ روایات نقل کی ہیں۔ اگر ایک حدیث صحیح ہو تو اثبات اور عمل کے لیے وہ ایک ہی کافی ہوتی ہے لیکن جب صحابہ کرام رضي اللہ عنہم کی اتنی کثیر تعداد اسے روایت کرے تو پھر کوئی عقل مند شخص اس حدیث کو رد نہیں کر سکتا۔