بخار جہنم کے جوش سے ہوتا ہے؟ پانی سے علاج والی حدیث کی وضاحت

فونٹ سائز:
یہ اقتباس فضیلتہ الشیخ عبدالسلام رُستمی کی کتاب انکار حدیث سے انکار قرآن تک سے ماخوذ ہے۔

حدیث 32: بخار جہنم کے جوش (پھونک) سے ہوتا ہے

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”بخار جہنم کے جوش سے پیدا ہوتا ہے، لہذا تم اسے پانی سے ٹھنڈا کرو۔“
صحيح البخاري، بدء الخلق، باب صفة النار وأنها مخلوقة، حدیث: 3263 ، و مقام حدیث، ص: 334
یہ حدیث دراصل ایمان بالغیب سے تعلق رکھتی ہے جیسا کہ موسم کی تبدیلی کے حوالے سے بحث میں یہ بات گزر چکی ہے۔ بعض علماء اس حدیث کو تشبیہ پر محمول کرتے ہیں، یعنی بخار کی گرمی درد و آلام میں جہنم کی گرمی کی طرح ہے۔ لیکن اس بارے میں درست رائے یہ ہے کہ بخار ایک ایسی حرارت ہے جو جسم میں موجود مراکز اللہ بیر کا جراثیم سے متاثر ہونے کی صورت میں پیدا ہوتی ہے، اور یہ حرارت جہنم سے ہے، یعنی اللہ تعالیٰ نے جہنم سے گرمی کا تھوڑا سا حصہ نکالا ہے اور اسے زمین میں بکھیر دیا ہے۔ جب کسی انسان میں اس حرارت کے لگنے کے اسباب پائے جائیں تو اللہ تعالیٰ اسے یہ حرارت لگا دیتا ہے۔ تو حدیث میں حرارت کے اصل منشا اور بنیاد کو بیان کیا گیا ہے۔ عصر حاضر کے اطباء بھی حدیث میں بیان کردہ طریقہ علاج کو تجویز کرتے ہیں، یعنی ان کے نزدیک پانی سے اس کا علاج کرنا تو اب بھی مؤثر طریقہ علاج ہے۔ ٹھنڈا پانی ڈالنے یا برف کی پٹیاں لگانے سے درجہ حرارت میں کمی آتی ہے اور بخار جلد اتر جاتا ہے۔ یہاں اگر غور کیا جائے تو یہ علاج بذریعہ وحی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا گیا جبکہ ڈاکٹر حضرات بہت سے تجربات سے گزر کر اسے مانتے ہیں۔ لہذا یہ صداقت نبوت اور حدیث کی حجیت پر بہت بڑی دلیل ہے۔