قناعت اوراللہ پر توکل کرنے والے کا ثواب قرآن و حدیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ ابو حمزہ عبدالخالق صدیقی کی کتاب صحیح فضائل اعمال سے ماخوذ ہے۔

بمشکل گزارہ کرنے والے قناعت پسند شخص کا ثواب جو اللہ تعالیٰ پر توکل و بھروسہ کرتے ہوئے کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلاتا

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿لِلْفُقَرَاءِ الَّذِينَ أُحْصِرُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ لَا يَسْتَطِيعُونَ ضَرْبًا فِي الْأَرْضِ يَحْسَبُهُمُ الْجَاهِلُ أَغْنِيَاءَ مِنَ التَّعَفُّفِ تَعْرِفُهُم بِسِيمَاهُمْ لَا يَسْأَلُونَ النَّاسَ إِلْحَافًا ۗ وَمَا تُنفِقُوا مِنْ خَيْرٍ فَإِنَّ اللَّهَ بِهِ عَلِيمٌ﴾
”صدقہ ان فقراء کے لیے ہے جو اللہ کی راہ میں بند ہو گئے، زمین میں (طلب رزق کے لیے ) چل پھر نہیں سکتے، نا واقف لوگ ان کے سوال نہ کرنے کی وجہ سے انہیں مال دار سمجھتے ہیں، آپ انہیں ان کے چہروں سے پہچان لیں گے، وہ لوگوں سے سوال کرنے میں الحاح سے کام نہیں لیتے، اور تم جو بھی کوئی اچھی چیز (اللہ کی راہ میں) خرچ کرو گے تو اللہ بے شک اسے جانتا ہے۔“
(2-البقرة:273)
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
قد أفلح من أسلم ورزق كفافا وقنعه الله بما آتاه
” وہ شخص کامیاب ہے جس نے اسلام قبول کر لیا، گزارے کے مطابق اسے روزی مل گئی اور اللہ تعالیٰ نے اس پر اسے قناعت پسند بنا دیا۔“
صحیح مسلم، كتاب الزكاة، باب فى الكفاف والقناعة، رقم: 1054۔
سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا : ” اے ابوذر! کیا تم سمجھتے ہو کہ مال و دولت کی فراوانی دولت مندی ہے۔ میں نے عرض کیا، یا رسول اللہ ! ہاں ! آپ نے فرمایا: کیا خیال ہے مال و دولت کا کم ہونا فقیری ہے۔ میں نے کہا یا رسول اللہ ! ایسے ہی ہے۔ آپ نے فرمایا: اصل دولت مندی تو دل کا غنی ہونا ہے اور اصل فقیری دل کی فقیری ہے۔“
صحیح ابن حبان (الاحسان) : 2/ 27 ۔ ابن حبان نے اسے ”صحیح“ کہا ہے۔