کتاب الأدب
احسان اور اس کے متعلق احکامات
① سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ثلاث من كن فيه نشر اللہ عليه كنفه وأدخله الجنة: رفق بالضعيف، والشفقة على الوالدين، والإحسان إلى المملوك
”جس شخص میں تین چیزیں ہوں اللہ اس پر اپنی رحمت عام کر دیتا ہے اور اسے جنت میں داخل فرمائے گا۔ ضعیف و ناتواں کے ساتھ اچھا سلوک، والدین کے ساتھ شفقت اور مملوک کے ساتھ احسان۔“
الترمذی، صفة القيامة، حدیث 2494، اس کی سند میں عبد اللہ بن ابراہیم جس پر احادیث گھڑنے کا محدثین نے حکم لگایا ہے، علامہ البانی رحمہ اللہ نے اسے موضوع قرار دیا ہے، دیکھیں: سلسلة الأحاديث الضعيفة 92۔
② سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا يكن أحدكم إمعة، يقول: أنا مع الناس، إن أحسن الناس أحسنت، وإن أساءوا أساءت، ولٰكن وطنوا أنفسكم، إن أحسن الناس أن تحسنوا، وإن أساءوا أن لا تظلموا
”تم میں سے کوئی ایسا نہ ہو جس کی اپنی کوئی رائے نہ ہو وہ کہے: میں تو لوگوں کے ساتھ ہوں اگر لوگ اچھا سلوک کریں گے تو میں بھی اچھا سلوک کروں گا اور اگر وہ برا کریں گے تو میں بھی برا کروں گا۔ لیکن تم اپنے آپ کو اس چیز سے مانوس کر لو کہ اگر لوگ اچھا سلوک کریں گے تو تم اچھا سلوک کرو گے اور اگر وہ برا سلوک کریں گے تو تم ظلم نہیں کرو گے۔“
الترمذی، کتاب البر والصلة، حدیث 2007 اور اس کے الفاظ یہ ہیں: "تم ایسے نہ ہو جاؤ کہ تمہاری اپنی کوئی رائے نہ ہو تم کہو اگر لوگ اچھا سلوک کریں گے تو ہم بھی اچھا سلوک کریں گے، اگر وہ ظلم کریں گے تو ہم بھی ظلم کریں گے، بلکہ تم اپنے آپ کو اس چیز سے مانوس کرو کہ اگر لوگوں نے اچھا سلوک کیا تو تم بھی اچھا سلوک کرو گے اور اگر انہوں نے برا سلوک کیا تو تم ظلم نہیں کرو گے”۔
مہمان کی عزت و تکریم کرنے کے متعلق احکامات
① سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من كان يؤمن باللہ واليوم الآخر فليكرم ضيفه، ومن كان يؤمن باللہ واليوم الآخر فليصل رحمه، ومن كان يؤمن باللہ واليوم الآخر فليقل خيرا أو ليصمت
”جو شخص اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہے اسے چاہیے کہ اپنے مہمان کی عزت کرے، جو شخص اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہے اسے چاہیے کہ صلہ رحمی کرے اور جو شخص اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہے اسے چاہیے کہ اچھی بات کرے یا پھر خاموش رہے۔“
بخاری، کتاب الأدب 6018، مسلم، کتاب الإیمان، حدیث 47/74۔
② سیدنا ابو شریح خویلد بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:
من كان يؤمن باللہ واليوم الآخر فليكرم ضيفه جائزته
”جو شخص اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہے اسے چاہیے کہ وہ اپنے مہمان کے جائزئے کی تکریم کرے۔“
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! اس کا جائزہ کیا ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
يومه وليلته، والضيافة ثلاثة أيام، فما كان وراء ذٰلك فهو صدقة
”ایک دن اور رات اس کی خوب خاطر تواضع کرو اور ضیافت تین دن تک ہے اور جو اس کے بعد ہے وہ صدقہ ہے۔“
بخاری، کتاب الأدب، حدیث 6135، مسلم، کتاب اللقطة، حدیث 48/14، 1352/3۔
مظلوم کی مدد کرنا
① سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انصار کے کچھ لوگوں کے پاس سے گزرے جو کہ راستے میں بیٹھے ہوئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إن كنتم لا بد فاعلين فردوا السلام، وأعينوا المظلوم، واهدوا السبيل
”اگر تم نے ضرور ہی بیٹھنا ہے تو پھر سلام کا جواب دو، مظلوم کی مدد کرو اور راستے کی رہنمائی کرو۔“
مسند احمد 4/ 345۔
مسلمان بھائی کی مدد و خیر خواہی کرنا
① سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من نفس عن مؤمن كربة من كرب الدنيا نفس اللہ عنه كربة من كرب يوم القيامة، ومن يسر على معسر يسر اللہ عليه فى الدنيا والآخرة، ومن ستر مسلما ستره اللہ فى الدنيا والآخرة، واللہ فى عون العبد ما كان العبد فى عون أخيه، ومن سلك طريقا يلتمس فيه علما سهل اللہ له طريقا إلى الجنة
”جو شخص کسی مومن سے دنیا کی کوئی تکلیف دور کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی تکلیف دور فرمائے گا۔ جو شخص کسی تنگ دست پر آسانی کا معاملہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس پر دنیا و آخرت میں آسانی فرمائے گا۔ جو شخص کسی مسلمان کی ستر پوشی کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ دنیا و آخرت میں اس کی ستر پوشی فرمائے گا۔ جب تک بندہ اپنے بھائی کی مدد کرنے میں لگا رہتا ہے تو اللہ تعالیٰ بندے کی مدد کرتا رہتا ہے اور جو شخص علم حاصل کرنے کے لیے نکلتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت کا راستہ آسان فرما دیتا ہے۔“
مسلم، کتاب الذکر والدعاء والتوبة والاستغفار، حدیث 38-2699۔