مضمون کے اہم نکات
عشرہ ذوالحجہ کے فضائل و اعمال
اللہ رب العزت ہر چیز کے تنہا خالق اور منفرد مالک ہیں، اپنی مخلوق میں سے جس کو چاہتے ہیں، دوسروں پر فضیلت عطا فرماتے ہیں۔ بعض انسانوں کو دوسرے سے اعلیٰ ٹھہرایا، بعض مقامات کو دوسری جگہوں سے افضل قرار دیا اور بعض زمانوں اور اوقات کو دوسرے زمانوں اور اوقات پر فوقیت اور برتری عطا فرمائی۔
اسی سنت الہیہ کا ایک مظہر یہ ہے، کہ اللہ مالک الملک نے ماہ ذوالحجہ کے ابتدائی دس دنوں کو سارے سال کے دوسرے دنوں کے مقابلے میں اعلیٰ، افضل، بالا اور برتر قرار دیا۔ ذیل میں توفیق الہی سے ان دنوں کے متعلق تین پہلوؤں سے گفتگو کی جارہی ہے:
⟐ عشرہ ذوالحجہ کے فضائل
⟐عشرہ ذوالحجہ کے اعمال
⟐عشرہ ذوالحجہ میں اعمال حج
عشرہ ذوالحجہ کے فضائل
قرآن وسنت میں ان دس دنوں کی شان و عظمت کے متعدد دلائل و شواہد ہیں۔ مولائے کریم کی توفیق سے ان میں سے چھ دلیلیں ذیل میں پیش کی جارہی ہیں:
❀ سورۃ الفجر میں ہے:
﴿وَالْفَجْرِ . وَلَيَالٍ عَشْرٍ .﴾
قسم ہے فجر اور دس راتوں کی۔
(89-الفجر:1۔2)
امام بغوی نے تحریر کیا ہے، کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، کہ ﴿وَلَيَالٍ عَشْرٍ﴾ سے مراد ذوالحجہ کے ابتدائی دس دن ہیں اور یہی قول مجاہد، قتادہ، ضحاک، سدی اور کلبی کا ہے۔
ملاحظہ ہو: تفسير البغوي 481/4 ؛ نیز ملاحظہ ہو: زاد المسير 103/9
اور بلا شک و شبہ اللہ تعالیٰ کا ان دنوں کی قسم کھانا ان کی شان و عظمت پر دلالت کرتا ہے۔
❀ ان دس دنوں کے ساتھ حج کے مہینوں کا اختتام ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿الْحَجُّ أَشْهُرٌ مَّعْلُومَاتٌ﴾
حج کے مہینے معلوم ہیں۔
(2-البقرة:197)
حافظ ابن رجب نے لکھا ہے: ذوالحجہ کے دس دنوں کے فضائل میں سے ایک بات یہ بھی ہے، کہ وہ معلوم مہینوں کا آخری حصہ ہیں اور وہ مہینے حج کے ہیں، جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿الْحَجُّ أَشْهُرٌ مَّعْلُومَاتٌ﴾ اور وہ شوال، ذوالقعدہ اور ذوالحجہ کے دس دن ہیں۔
لطائف المعارف فيما لمواسم العام من الوظائف ص 471.
❀ اللہ تعالیٰ نے ان دس دنوں میں اپنے ذکر کرنے کا خصوصی طور پر تذکرہ فرمایا۔ ارشاد ربانی ہے:
﴿وَيَذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ فِي أَيَّامٍ مَّعْلُومَاتٍ﴾
اور معلوم دنوں میں اللہ تعالیٰ کا نام یاد کریں۔
(22-الحج:28)
امام بخاری نے ذکر کیا ہے، کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان فرمایا، کہ ان معلوم دنوں سے مراد عشرہ ذوالحجہ کے دس دن ہیں۔
ملاحظہ ہو: صحيح البخاري، كتاب العيدين، باب فضل العمل في أيام التشريق، 457/2 .
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما، حضرات ائمہ حسن، عطاء، عکرمہ، مجاہد، قتادہ اور شافعی نے بھی اس آیت کریمہ کی یہی تفسیر بیان کی ہے۔
ملاحظہ ہو : زاد المسير 425/5
ذکر الہی تو ہر روز بندوں پر لازم ہے، لیکن مولائے کریم کا اپنی یاد کے لیے کچھ دنوں کا خصوصی طور پر ذکر فرمانا، یقیناً ان دنوں کی رفعت اور عظمت کو اجاگر کرتا ہے۔
❀ ان دس دنوں میں کیا جانے والا اچھا کام اللہ تعالیٰ کو سال کے باقی دنوں میں کیے ہوئے نیک اعمال سے زیادہ پیارا ہے۔ حضرات ائمہ ابو داؤد، ترمذی اور ابن ماجہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت بیان کی ہے، کہ انہوں نے کہا، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”ما من أيام العمل الصالح فيها أحب إلى الله من هذه الأيام العشر.“
قالوا: يا رسول الله! ولا الجهاد فى سبيل الله ؟
قال: ولا الجهاد فى سبيل الله.
قال: إلا رجل خرج بنفسه وماله، فلم يرجع من ذلك بشيء
کسی بھی دن میں [کیا ہوا] اچھا کام اللہ تعالیٰ کو ان دس دنوں میں [کیے جانے والے نیک ] اعمال سے زیادہ پیارا نہیں۔
انہوں( صحابہ) نے عرض کیا: یا رسول اللہ! (دوسرے دنوں میں کیا ہوا) جہاد فی سبیل اللہ بھی نہیں؟
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(دوسرے دنوں میں کیا ہوا) جہاد فی سبیل اللہ بھی نہیں۔“
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، مگر وہ شخص جو اپنی جان و مال کے ساتھ (راہ جہاد میں) نکلے اور کچھ واپس لے کر نہ آئے۔ (یعنی اپنی جان و مال اسی راہ میں قربان کر دے)۔
سنن أبي داود، كتاب الصيام، باب في صوم العشر، رقم الحديث 2434، 74/7 وجامع الترمذي، أبواب الصوم، باب ما جاء في العمل في أيام العشر، 158/2 . (ط : دار الكتاب العربي) وسنن ابن ماجه، أبواب ما جاء في الصيام، باب صيام العشر، رقم الحديث 1731، 317/1 الفاظ حدیث سنن ابی داؤد کے ہیں۔ شیخ البانی نے اسے (صحیح) قرار دیا ہے۔ (ملاحظہ ہو: صحيح سنن أبي داود 462/2؛ وصحيح سنن الترمذي 229/1؛ و صحيح سنن ابن ماجه 289/1).
حافظ ابن رجب نے اس کی شرح میں تحریر کیا ہے: جب ان دس دنوں میں کیا ہوا اچھا کام بارگاہ الہی میں سال کے باقی سارے دنوں میں کیسے ہوئے نیک اعمال سے زیادہ فضیلت والا اور محبوب ہے، تو ان دونوں کی کم درجہ کی نیکی، دوسرے دنوں کی بلند درجہ والی نیکی سے افضل ہوگی، اسی لیے جب حضرات صحابہ رضی اللہ عنہم نے دریافت کیا، کہ کیا سال کے بقیہ دنوں میں کیا ہوا جہاد بھی دربار رب العالمین میں ان دنوں کے عمل سے زیادہ عظمت والا اور عزیز نہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب میں فرمایا: نہیں۔
لطائف المعارف 458-459
حافظ ابن حجر نے عشرہ ذوالحجہ کی فضیلت کا سبب بیان کرتے ہوئے لکھا ہے:
والذي يظهر أن السبب فى امتيار عشر ذي الحجة لمكان يتماع أمهات العبادة فيه ، وهى الصلاة ، والصيام، والصدقة والحج، ولا يتأتى ذلك فى غيره
عشرہ ذوالحجہ کی امتیازی شان کا سبب یہ معلوم ہوتا ہے، کہ ان دنوں میں بنیادی عبادات، جو کہ نماز، روزہ، صدقہ اور حج ہیں، وہ سب اکٹھی ہو جاتی ہیں اور وہ ان کے علاوہ کسی اور دن میں جمع نہیں ہوتیں۔
فتح الباري 460/2
❀ عشرہ ذوالحجہ کے فضائل میں سے ایک بات یہ بھی ہے، کہ ان میں سے نواں دن یوم عرفہ ہے اور یہ وہی دن ہے، جس میں اللہ تعالیٰ نے دین اسلام کو مکمل فرمایا اور اہل اسلام پر اپنی نعمت کو پورا فرمایا۔
امام بخاری نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے، کہ ایک یہودی شخص نے ان سے کہا:
”يا أمير المؤمنين آية فى كتابكم تقرؤونها، لو علينا معشر اليهود نزلت لاتخذنا ذلك اليوم عيدا.“
اے امیر المومنین! تمہاری کتاب میں ایک آیت ہے، جس کو تم پڑھتے ہو، اگر ہم یہودیوں پر وہ نازل ہوتی تو ہم اس کے یوم نزول کو عید بنا لیتے۔
انہوں نے دریافت کیا: أى آية؟ کون سی آیت؟
اس نے کہا: ﴿الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا﴾
آج کے دن میں نے تمہارے لیے تمہارا دین کامل کر دیا اور اپنی نعمت تم پر پوری کر دی اور تمہارے لیے اسلام کو بطور دین پسند کر لیا۔
(5-المائدة:3)
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
”قد عرفنا ذلك اليوم والمكان الذى نزلت فيه على النبى صلی اللہ علیہ وسلم وهو قائم بعرفة، يوم جمعة.“
جس دن اور جس جگہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر وہ آیت نازل ہوئی، ہم اس سے آگاہ ہیں۔ جمعہ کا دن تھا اور آپ عرفات میں کھڑے تھے۔
صحيح البخاري، كتاب الإيمان، باب زيادة الإيمان ونقصانه، رقم الحديث 105/1،45
اور یہ وہ عظیم دن ہے، کہ اس میں اللہ تعالیٰ سال کے سارے دنوں میں سے ہر دن کے مقابلے میں زیادہ تعداد میں لوگوں کو جہنم کی آگ سے آزادی عطا فرماتے ہیں۔ امام مسلم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت نقل کی ہے، کہ انہوں نے بیان کیا، کہ یقیناً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”ما من يوم أكثر من أن يعتق الله فيه عبدا من النار من يوم عرفة.“
کوئی دن ایسا نہیں، کہ اس میں اللہ تعالیٰ عرفات کے دن سے زیادہ لوگوں کو جہنم کی آگ سے آزاد کرتے ہوں۔
صحیح مسلم، کتاب الحج، باب في فضل الحج والعمرة ويوم عرفة، جزء من رقم الحديث 436 – (1348)،983/2
❀ عشرہ ذوالحجہ کے فضائل میں سے ایک بات یہ بھی ہے، کہ اس کا آخری اور دسواں دن یوم النحر [قربانی کا دن] ہے، جس کے بارے میں رسول کریم نے فرمایا:
”أفضل الأيام عند الله يوم النحر ويوم القر.“
بارگاہ الہی میں سب سے فضیلت والے دن یوم النحر اور یوم القر .
گیارہ ذوالحجہ کو ”یوم القر“ کہتے ہیں ، کہ حجاج اس دن منی میں ٹھہرتے ہیں ۔ (ملاحظہ ہو: النهاية في غريب الحديث والأثر، مادة قرر ، 37/4). ہیں۔
المسند 350/4 (ط : المكتب الاسلامي)؛ والإحسان إلى تقريب صحيح ابن حبان، كتاب الصلاة، باب العيدين، ذكر البيان بأن من أفضل الأيام يوم النحر وتاليه، رقم الحديث 2811، 51/7 والمستدرك 221/4، عن عبد اللہ بن قرط ؓ. امام حاکم نے اسے صحیح قرار دیا ہے اور حافظ ذہبی نے ان سے موافقت کی ہے۔ (ملاحظہ ہو:المستدرك 221/4 والتلخيص 221/4). شیخ شعیب ارنا ذوط نے اس کی سند کو صحیح قرار دیا ہے۔ (ملاحظہ ہو : هامش الإحسان 51/7).
عشرہ ذوالحجہ کے اعمال
رب رحمن و رحیم کی طرف سے عشرہ ذوالحجہ اہل ایمان کے لیے اجر وثواب حاصل کرنے کا عظیم الشان اور سنہری موقع ہے، کہ ان دنوں کی معمولی درجہ کی نیکی بھی دوسرے دنوں کی اعلیٰ درجہ کی نیکیوں سے افضل ہے۔ اس لیے اللہ والے ان دنوں میں زیادہ سے زیادہ نیکیاں کر کے زاد آخرت جمع کرنے کی شدید جد و جہد کرتے تھے۔ امام دارمی نے حضرت سعید بن جبیر کے متعلق نقل کیا ہے:
”كان سعيد بن جبير إذا دخل أيام العشر اجتهد اجتهادا حتى ما يكاد يقدر عليه.“
جب عشرہ ذوالحجہ داخل ہو جاتا، تو سعید بن جبیر رحمہ اللہ تاحد استطاعت شدید عبادت کرتے۔
سنن الدارمي، باب فضل العمل في العشر، جزء من الرواية 1781، 357/1.
ان ایام میں کچھ اعمال کرنے کا احادیث شریفہ میں خصوصی طور پر ذکر آیا ہے اور وہ اعمال درج ذیل ہیں:
◈ کثرت سے تہلیل، تکبیر اور تحمید کہنا:
امام احمد نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت نقل کی ہے، کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”ما من أيام أعظم عند الله ولا أحب إليه من العمل فيهن، من هذه الأيام العشر، فأكثروا فيهن من التهليل والتكبير والتحميد.“
کوئی دن بارگاہ الہی میں ان دس دنوں سے زیادہ عظمت والا نہیں اور نہ ہی کسی دن کا (اچھا) عمل اللہ تعالیٰ کو ان دس دنوں کے عمل سے زیادہ محبوب ہے، پس تم ان دس دنوں میں کثرت سے لا إله إلا الله، الله أكبر اور الحمد لله کہو۔
المسند، رقم الحديث 224/7،5446 شیخ احمد شاکر نے اس کی سند کو صحیح قرار دیا ہے۔ ملاحظہ ہو: هامش المسند (224/7).
سلف صالحین اس بات کا بہت اہتمام کرتے۔ امام بخاری نے بیان کیا ہے:
وكان ابن عمر وأبو هريرة رضي الله عنه يخرجان إلى السوق فى أيام العشر يكبران ، ويكبر الناس بتكبيرهما ، وكبر محمد بن على رحمهما الله تعالى خلف النافلة
ان دس دنوں میں ابن عمر اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہما تکبیر پکارتے ہوئے بازار نکلتے، اور لوگ بھی ان کے ساتھ تکبیر کہنا شروع کر دیتے اور محمد بن علی رحمہ اللہ ( محمد بن علی رحمہما اللہ تعالی) ان سے مراد حضرت ابو جعفر رحمہ اللہ تعالی ہیں۔ ملاحظہ ہو: فتح الباري 458/2 نفلی نماز کے بعد تکبیر کہتے۔
صحيح البخاري، كتاب العيدين، باب فضل العمل في أيام التشريق، 457/2
◈ نو ذوالحجہ کا روزہ رکھنا:
امام مسلم نے حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے، کہ:
سئل عن صوم يوم عرفة؟
فقال: يكفر السنة الماضية والباقية .
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے یوم عرفہ (نو ذوالحجہ) کے روزے کے متعلق سوال کیا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
” گزشتہ اور آئندہ سال کے گناہ دور کر دیتا ہے۔“
صحيح مسلم، کتاب الصيام، باب استحباب صيام ثلاثة أيام من كل شهر، وصوم يوم عرفة جزء من رقم الحديث 197 – (1162)، 819/2
رسول کریم خود بھی اس دن روزہ رکھا کرتے تھے۔ امام ابوداؤد اور امام نسائی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک زوجہ محترمہ رضی اللہ عنہا سے روایت نقل کی ہے، کہ انہوں نے کہا:
”كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصوم تسع ذي الحجة، ويوم عاشوراء، وثلاثة أيام من كل شهر.“
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نو ذوالحجہ، یوم عاشوراء (دس محرم) اور ہر ماہ میں سے تین دن روزہ رکھتے تھے۔
سنن أبي داود، كتاب الصيام، باب في صوم العشر، جزء من رقم الحديث 2434، 73/7 وسنن النسائي، كتاب الصيام، كيف يصوم ثلاثة أيام من كل شهر؟ 220/4 – 221. الفاظ حدیث سنن ابی داؤد کے ہیں۔ شیخ البانی نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ (ملاحظہ ہو: صحیح سنن ابی داؤد 462/2 ، وصحيح سنن النسائي (508/2).
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر میدان عرفات میں اس دن کا روزہ نہیں رکھا۔ امام بخاری نے حضرت ام فضل بنت حارث رضی اللہ عنہا سے روایت نقل کی ہے، کہ:
أن ناسا اختلفوا عندها يوم عرفة فى صوم النبى صلى الله عليه وسلم فقال بعضهم : هو صائم، وقال بعضهم: ليس بصائم فأرسلت إليه بقدح لبن ، وهو واقف على بعيره فشربه
یقیناً کچھ لوگوں نے ان کے سامنے عرفہ کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں اختلاف کیا۔ کچھ نے کہا، کہ: وہ روزے سے ہیں اور کچھ نے کہا کہ: ان کا روزہ نہیں ہے۔
صحيح البخاري، كتاب الحج، باب الوقوف على الدابة بعرفة، رقم الحديث 1661، 513/3
پس میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دودھ کا ایک پیالہ بھیجا اور تب آپ اپنے اونٹ پر تھے، تو آپ نے اس کو پی لیا۔
حضرات خلفائے ثلاثہ اور ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بھی حج کے موقع پر اس دن کا روزہ نہ رکھا۔ امام ترمذی اور امام عبد الرزاق نے ابی نجیح سے روایت کی ہے، کہ عرفہ کے روزے کے متعلق حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سوال کیا گیا، تو انہوں نے فرمایا:
”حججت مع النبى صلی اللہ علیہ وسلم فلم يصمه، ومع أبى بكر صلی اللہ علیہ وسلم فلم يصمه، ومع عمر فلم يصمه، ومع عثمان رضی اللہ عنہ فلم يصمه، وأنا لا أصومه، ولا أمر به، ولا أنهى عنه.“
میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کیا، آپ نے( اس دن کا) روزہ نہ رکھا، ابو بکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھی (میں نے حج کیا)، انہوں نے یہ روزہ نہ رکھا، عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھی (حج کیا)، انہوں نے بھی یہ روزہ نہ رکھا، عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھی (حج کیا)، انہوں نے بھی یہ روزہ نہ رکھا، اور میں بھی (حج کے موقع پر) یہ روزہ نہیں رکھتا، اور( حج میں) اس کے رکھنے کا حکم نہیں دیتا اور روکتا بھی نہیں۔
جامع الترمذي، أبواب الصوم، باب ما جاء في كراهية صوم يوم عرفة بعرفة، 56/2 (ط : دار الكتاب العربي بيروت) والمصنف كتاب الصيام، باب صيام يوم عرفة، رقم الحديث 7829 ، 4 / 285. الفاظ حدیث جامع الترمذی کے ہیں، اور شیخ البانی نے اسے [صحيح الإسناد] قرار دیا ہے۔ (ملاحظہ ہو: صحيح سنن الترمذي 228/1).
تنبیہ:
ایک حدیث میں یہ بھی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عرفات کے مقام پر یوم عرفہ ذوالحجہ کا روزہ رکھنے سے منع فرمایا، لیکن یہ حدیث ضعیف ہونے کی بنا پر قابل احتجاج نہیں۔
تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: سلسلة الأحاديث الضعيفة، رقم الحديث 397/1،404.
◈ دس ذوالحجہ کو قربانی کرنا:
عشرہ ذوالحجہ کے آخری دن کا نام (یوم النحر) قربانی کا دن ہے۔
اور اس دن قربانی کرنا بہت بڑے اجر و ثواب والا عمل ہے۔
قربانی کی اہمیت کے بارے میں تفصیلی گفتگو کتاب ہذا کے صفحات 23۔ 29 میں ملاحظہ کیجئے۔
تنبیہ:
قربانی کرنے والے ہلال ذوالحجہ کے بعد سے قربانی کرنے تک اپنے بالوں اور ناخنوں کو نہ چھیڑیں۔
اس بارے میں تفصیل کتاب ہذا کے صفحات 29۔32 میں گزر چکی ہے۔
عشرہ ذوالحجہ میں اعمال حج
ان دس دنوں میں کچھ اعمال صرف حجاج کے کرنے کے ہیں، توفیق الہی سے ذیل میں ان اعمال کا اختصار کے ساتھ ذکر کیا جارہا ہے:
◈ آٹھ ذوالحجہ کو منی روانہ ہونا:
حج کے اعمال پانچ یا چھ دنوں میں ادا کیے جاتے ہیں۔ ان اعمال کی ابتدا آٹھ ذوالحجہ سے ہوتی ہے۔ اس دن کو (یوم الترویہ) اونٹوں کو پانی پلانے کا دن کہتے ہیں، کہ اس دن سفر حج کی تیاری کے لیے اونٹوں کو پانی پلایا جاتا تھا۔ امام مسلم نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے، کہ انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حجۃ الوداع کا ذکر کرتے ہوئے بیان فرمایا:
”فلما كان يوم التروية توجهوا إلى منى.“
جب یوم الترویہ 8 ذوالحجہ آیا، تو وہ منی کی طرف روانہ ہوئے۔
صحيح مسلم، کتاب الحج، باب حجة النبيﷺ ، جزء من الرواية 147۔ (1218)، 889/2.
◈ نو ذوالحجہ کو وقوف عرفات کرنا:
نو ذوالحجہ کو میدان عرفات میں نماز ظہر سے غروب آفتاب تک ٹھہرنا حج کا رکن اعظم ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”الحج عرفة.“
حج تو( وقوف) عرفات ہے۔
حضرات ائمہ ابو داؤد، ترمذی، نسائی اور ابن ماجہ نے حضرت عبد الرحمن بن یعمر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے اس حدیث کو روایت کیا ہے۔ (ملاحظہ ہو : صحيح سنن أبي داود 367/1؛ وصحيح سنن الترمذي 265/1، وصحيح سنن النسائى 633/2 ، وصحيح سنن ابن ماجه 173/2)؛ البتہ سنن ابی داؤد کے الفاظ [ الحج الحج يوم عرفة] ہیں۔
اس موقع کی ہوئی دعاؤں کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”خير الدعاء دعاء يوم عرفة.“
بہترین دعا یوم عرفہ کی دعا ہے۔
جامع الترمذي، أحاديث شتى من أبواب الدعوات، باب، جزء من رقم الحديث 3819 عن عبد الله بن عمرو رضى الله عنهما، 33/10. شیخ البانی نے اسے حسن قرار دیا ہے۔ (ملاحظہ ہو: صحیح سنن الترمذي 184/3).
◈ دس ذوالحجہ کے اعمال حج:
حضرات حجاج نو ذوالحجہ کا دن عرفات میں گزار کر، اور اس کے بعد رات مزدلفہ میں بسر کر کے دس ذوالحجہ کو منی میں پہنچتے ہیں اور چار کام کرتے ہیں:
● جمرہ عقبہ کو سات کنکریاں مارتے ہیں۔
●حج تمتع اور حج قران والے قربانی کرتے ہیں۔
●حجامت کرواتے ہیں۔
●طواف زیارت کرتے ہیں۔ حج تمتع والے صفا اور مروہ کی سعی بھی کرتے ہیں۔
حج قران کرنے والے جن لوگوں نے طواف قدوم کے ساتھ سعی نہ کی ہو، وہ سعی بھی کرتے ہیں۔
نوٹ: مذکورہ بالا دنوں کے اعمال حج کے لیے مزید معلومات جاننے کے لیے حج و عمرے کے متعلق تالیف کردہ کتابوں کا مطالعہ کیا جائے۔
حرف آخر
رب علیم و حکیم کا دل کی اتھاہ گہرائیوں سے شکر گزار ہوں، کہ انہوں نے بندہ ناتواں کو قربانی کی اہمیت اور مسائل کے متعلق اس کتاب کے ترتیب دینے کی توفیق سے نوازا۔ فله الحمد عدد ما خلق فى السماء، وعدد ما خلق فى الأرض، وعدد ما خلق بين ذلك، وعدد ما هو خالق اور اب انہی ہی سے اس حقیر اور معمولی کوشش کی قبولیت کی عاجزانہ التجا ہے۔ إنه سميع مجيب
خلاصہ کتاب:
اس میں بیان کردہ باتوں کا خلاصہ یہ ہے:
قربانی خلیل الرحمن حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے، ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنی اور مسلمانوں کی سنت بھی قرار دیا ہے۔ ہر ذی استطاعت مسلمان گھرانہ قربانی کرے۔
قربانی کرنے والا شخص ہلال ذوالحجہ کے بعد اپنے ناخنوں اور بالوں کو نہ چھیڑے۔ حج کرنے والے اور مسافر لوگ بھی قربانی کریں۔ زندہ لوگ میت کو اپنی قربانی میں شریک کر سکتے ہیں اور ایسی قربانی کا گوشت خود بھی کھا سکتے ہیں، دوسروں کو بھی کھلائیں، میت کی طرف سے مستقل قربانی کرنے کے بارے میں علمائے امت کی دو رائیں ہیں۔ دو دانت والے جانور کی قربانی دینا افضل ہے، البتہ دو دانت سے کم عمر والے بھیڑ کے بچے کی قربانی کرنا بھی جائز ہے، دو دانت سے کم عمر کے جانور کی قربانی کی اجازت صرف دنبے، مینڈھے اور بھیڑ کے بچوں کے ساتھ مخصوص ہے، بھیڑ کے دو دانت سے کم عمر والے بچے جس کی قربانی کی اجازت ہے کی عمر جمہور علماء کے نزدیک ایک سال ہونی چاہیے، خصی اور غیر خصی دونوں قسم کے جانوروں کی قربانی کرنا سنت سے ثابت ہے، قربانی کا وقت چار دن ہے، جو کہ نماز عید کے بعد سے شروع ہوکر تیرہ ذوالحجہ کے غروب آفتاب تک ہے۔ ان دنوں میں رات کو قربانی کرنا بھی درست ہے، البتہ مسکینوں کو محروم کرنے کی غرض سے رات کو قربانی کرنا ناپسندیدہ ہے۔ نماز عید سے پہلے ذبح کیا گیا جانور قربانی شمار نہ ہوگا۔ قربانی کرنے والے کا اپنا جانور خود ذبح کرنا، ذبح میں کسی دوسرے شخص سے تعاون حاصل کرنا، یا کسی دوسرے شخص سے اپنا جانور ذبح کروانا، یہ سب صورتیں سنت سے ثابت ہیں، عورتیں بھی اپنی قربانی خود ذبح کر سکتی ہیں۔ سب اہل خانہ کی طرف سے ایک بکری بطور قربانی ذبح کرنا کافی ہے، البتہ حصول ثواب کی غرض سے ایک سے زیادہ جانوروں کی قربانی دینا بھی ثابت ہے۔ گائے کی قربانی میں سات افراد شریک ہو سکتے ہیں، اونٹ کی قربانی میں شرکت کے سلسلے میں ایک رائے کے مطابق عام حالات میں حج اور عید الاضحی کے موقعوں پر سات سات افراد شریک ہوں، البتہ اونٹ کی قیمت دس بکریوں کی قیمت کے برابر ہونے کی صورت میں اس میں دس افراد شریک ہو سکتے ہیں، دوسری رائے کے مطابق حج کے موقع پر ذبح شدہ اونٹ میں سات، اور قربانی کی خاطر ذبح کردہ اونٹ میں دس افراد شریک ہو سکتے ہیں۔ قربانی کو احسن طریقے سے ذبح کرنا چاہیے، بسم الله والله أكبر پڑھ کر ذبح کیا جائے اور جس کی طرف سے ذبح کیا جائے اس کا نام لیا جائے۔ اونٹ کو کھڑا کر کے بایاں پاؤں باندھ کر ذبح کیا جائے۔ ذبح شدہ جانور کے پیٹ سے نکلنے والے مردہ بچے کا کھانا جائز ہے، کیونکہ اس کی ماں کا ذبح کرنا اس کے ذبح کرنے سے کفایت کرتا ہے، البتہ زندہ نکلنے والے بچے کا ذبح کرنا لازمی ہے۔ قربانی کے جانور کا گوشت کھانا کھلانا، مسکینوں کو دینا، ذخیرہ کرنا سب صورتیں جائز ہیں، اپنی قربانی کے گوشت میں سے کھانا بعض علماء کے نزدیک واجب ہے، البتہ جمہور علماء کے نزدیک مستحب ہے، قربانی کے گوشت کی تقسیم کے متعلق بعض علماء نے تین برابر حصوں میں اور بعض نے دو برابر حصوں میں تقسیم کا ذکر کیا ہے اور بعض علماء کی رائے میں تقسیم میں ایسی کوئی پابندی نہیں اور یہی بات راجح ہے، قصاب کو قربانی کے جانور کی کوئی چیز بطور اجرت دینا جائز نہیں، ایسے جانوروں کی قربانی کرنا درست نہیں، جو واضح طور پر یک چشم، بیمار، لنگڑے یا اس قدر بوڑھے ہو چکے ہوں، کہ ان کی ہڈیوں میں گودا باقی نہ رہا ہو یا جن کے کان آگے یا پیچھے سے کٹ کر لٹک گئے ہوں یا جن کے کان لمبائی یا عرض میں کٹے ہوں۔
ماہ ذوالحجہ کے ابتدائی دس دن بڑی شان و عظمت والے ہیں، ان دس دنوں کے اعمال میں سے کثرت سے تہلیل، تکبیر، تحمید کہنا، حاجی حضرات کے علاوہ دیگر لوگوں کا نو تاریخ کا روزہ رکھنا، اور دس ذوالحجہ کو قربانی کرنا ہے۔
حج کرنے والے حضرات آٹھ ذوالحجہ کو منی روانہ ہوتے ہیں اور نو ذوالحجہ کو عرفات میں نماز ظہر سے غروب آفتاب تک ٹھہرتے ہیں اور دس تاریخ کو جمرہ عقبہ کو کنکریاں مارتے، حجامت بنواتے اور طواف زیارت کرتے ہیں، البتہ حج تمتع اور حج قران کرنے والے کنکریاں مارنے کے بعد حج کی قربانی بھی کرتے ہیں۔
اپیل:
مسلمانان عالم سے اپیل ہے، کہ عید الاضحیٰ کے مبارک موقع پر قربانی کا اہتمام کریں اور ذوالحجہ کے پہلے دس دنوں میں زیادہ سے زیادہ نیک اعمال کریں۔
قربانی اور عشرہ ذوالحجہ کے بارے میں کتاب وسنت میں بیان کردہ مسائل کو سیکھیں، اور دوسروں کو سکھلائیں، خود انہیں سمجھیں، اور دوسروں کو سمجھانے کی کوشش کریں، خود ان پر عمل کریں اور دوسرے لوگوں کو دعوت عمل دیں۔ کتاب وسنت میں بیان کردہ مسائل کے سیکھنے، سکھلانے، سمجھنے، سمجھانے، ان پر عمل کرنے اور دوسروں کو عمل کی دعوت دینے ہی میں ہم سب کی دنیا و آخرت میں سعادت مندی، خوش نصیبی اور کامیابی و کامرانی ہے۔ اللہ رب العالمین ہم سب کو کتاب وسنت کے مطابق زندگی بسر کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ إنه سميع مجيب
وصلى الله تعالى على نبينا محمد وعلى آله وأصحابه وأتباعه وبارك وسلم وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين