مضمون کے اہم نکات
حکم الولاء للٰہ سبحانہٗ و تعالٰی
اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے ساتھ محبت کا حکم
اللہ تعالیٰ کے ساتھ ایسی محبت کرنا اہل ایمان پر فرض ہے جو باقی تمام محبتوں پر غالب ہو۔
❀ [وَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَشَدُّ حُبًّا لِّلّٰہِ ؕ]
اور جو لوگ ایمان لائے ہیں وہ اللہ تعالیٰ سے سب سے بڑھ کر محبت کرتے ہیں۔ (سورۃ البقرۃ:165)
❀ [قُلۡ اِنۡ کَانَ اٰبَآؤُکُمۡ وَ اَبۡنَآؤُکُمۡ وَ اِخۡوَانُکُمۡ وَ اَزۡوَاجُکُمۡ وَ عَشِیۡرَتُکُمۡ وَ اَمۡوَالُۨ اقۡتَرَفۡتُمُوۡہَا وَ تِجَارَۃٌ تَخۡشَوۡنَ کَسَادَہَا وَ مَسٰکِنُ تَرۡضَوۡنَہَاۤ اَحَبَّ اِلَیۡکُمۡ مِّنَ اللّٰہِ وَ رَسُوۡلِہٖ وَ جِہَادٍ فِیۡ سَبِیۡلِہٖ فَتَرَبَّصُوۡا حَتّٰی یَاۡتِیَ اللّٰہُ بِاَمۡرِہٖ ؕ وَ اللّٰہُ لَا یَہۡدِی الۡقَوۡمَ الۡفٰسِقِیۡنَ]
اے نبی! کہہ دو، اگر تمہارے باپ، تمہارے بیٹے، تمہارے بھائی، تمہاری بیویاں، تمہارے عزیز و اقارب، تمہارے وہ مال جو تم نے کمائے ہیں، تمہاری تجارت جس کے مندا پڑنے کا تمہیں ڈر ہے اور تمہارے پسندیدہ گھر، تمہیں اللہ اس کے رسول اوراللہ کی راہ میں جہاد سے زیادہ محبوب ہیں تو پھر انتظار کرو یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ آجائے (اور یاد رکھو) اللہ تعالیٰ ایسے فاسقوں کی راہنمائی نہیں فرماتا۔ (سورۃ التوبہ:24)
وضاحت:
فیصلہ سے مراد اللہ تعالیٰ کا عذاب ہے جو کسی بھی شکل میں آسکتا ہے۔ مثلاً ظالم۔ ملحد اور بے دین حکمرانوں کا مسلط ہو جانا یا کفار کا غلبہ ہوجانا۔ دونوں اللہ تعالیٰ کے عذاب کی صورتیں ہیں۔
❀ [عن أنس، عن النبي صلى الله عليه وسلم، قال: ثلاث من كن فيه وجد بهن حلاوة الإيمان، من كان الله ورسوله أحب إليه مما سواهما، وأن يحب المرء لا يحبه إلا لله، وأن يكره أن يعود في الكفر بعد أن أنقذه الله منه، كما يكره أن يقذف في النار]
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین باتیں ایسی ہیں کہ جس شخص میں ہوں گی وہ ان کی وجہ سے ایمان کی ٹھیک ٹھیک حلاوت محسوس کرے گا۔ ① اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ دنیا کی ہر چیز سے زیادہ محبت کرنا۔ ② کسی دوسرے آدمی سے صرف اللہ کے لئے محبت کرنا۔ ③ جس کفر سے اللہ تعالیٰ نے اسے بچایا ہے اس میں واپس پلٹنا اسے اتنا ہی برا لگے جتنا آگ میں جانا بر الگتا ہے۔ [صحیح المسلم:43]
نیک لوگوں کو اللہ تعالیٰ سے ہی دوستی کرنی چاہئے۔
❀ [اِنَّ وَلِیَِّۧ اللّٰہُ الَّذِیۡ نَزَّلَ الۡکِتٰبَ ۫ۖ وَ ہُوَ یَتَوَلَّی الصّٰلِحِیۡنَ]
(اے نبی!کہو) بے شک میرا دوست اور مددگار تو وہ ہے جس نے یہ کتاب نازل فرمائی ہے اور وہ تمام نیک لوگوں کا دوست اور مددگار ہے۔ (سورۃ الاعراف:196)
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اللہ تعالیٰ سے محبت
❀ [عن عبد الله بن مسعود رضی اللہ عنہ يحدث عن النبي صلى الله عليه وسلم، أنه قال: لو كنت متخذا خليلا لاتخذت أبا بكر خليلا، ولكنه أخي وصاحبي، وقد اتخذ الله عز وجل صاحبكم خليلا]
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر میں کسی کو (اللہ کے سوا) اپنا دوست بنانے والا ہوتا تو ابوبکر رضی اللہ عنہ کو اپنا دوست بناتا لیکن وہ میرے بھائی ہیں اور صحابی ہیں اور تمہارے صاحب (یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم) کو اللہ تعالیٰ نے اپنا دوست بنایا ہے۔ [صحیح المسلم:2383]
حصولِ محبت الٰہی کے لئے درج ذیل دعامانگنی چاہئے۔
❀ [عن أبي الدرداء، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: كان من دعاء داود يقول: اللهم إني أسألك حبك وحب من يحبك والعمل الذي يبلغني حبك، اللهم اجعل حبك أحب إلي من نفسي وأهلي ومن الماء البارد]
سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سیدنا داؤد علیہ السلام کی دعاؤں میں سے ایک دعا یہ ہے، یا اللہ! میں آپ سے آپ کی محبت کا سوال کرتا ہوں اور جو آپ سے محبت کرتا ہے اس کی محبت کا سوال کرتا ہوں اور ایسے عمل (کی توفیق) کا سوال کرتا ہوں جس سے مجھے آپ کی محبت نصیب ہو۔ یااللہ! مجھے اپنی محبت میری جان، میرے مال، میرے اہل و عیال اور ٹھنڈے پانی سے بھی زیادہ محبوب بنا دے۔ [سنن الترمذی:3490]