مضمون کے اہم نکات
معني الولاء
ولاء کا مطلب
"ولاء” کا مطلب ہے محبت، دوستی، قرابت، حمایت، نصرت اور ولایت وغیرہ [اَللّٰہُ وَلِیُّ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا ۙ یُخۡرِجُہُمۡ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَی النُّوۡرِ۬ؕ وَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡۤا اَوۡلِیٰٓـُٔہُمُ الطَّاغُوۡتُ ۙ یُخۡرِجُوۡنَہُمۡ مِّنَ النُّوۡرِ اِلَی الظُّلُمٰتِ ؕ] اللہ ایمان لانے والوں کا دوست ہے انہیں (کفر کے) اندھیروں سے نکال کر (اسلام کی) روشنی کی طرف لے آتا ہے اور جن لوگوں نے کفر کیا ہے ان کے دوست طاغوت ہیں وہ انہیں (اسلام کی) روشنی سے نکال کر اندھیروں کی طرف لے جاتے ہیں۔ (سورۃ البقرۃ:257)
❀ [وَ لَئِنِ اتَّبَعۡتَ اَہۡوَآءَہُمۡ بَعۡدَ مَا جَآءَکَ مِنَ الۡعِلۡمِ ۙ مَا لَکَ مِنَ اللّٰہِ مِنۡ وَّلِیٍّ وَّ لَا وَاقٍ] علم (وحی) آجانے کے بعد اگر آپ نے لوگوں کی خواہشات کی پیروی کی تو اللہ کے مقابلہ میں آپ کا کوئی مدد گار ہوگا نہ بچانے والا۔ (سورۃ الرعد:37)
❀ [وَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ لَمۡ یُہَاجِرُوۡا مَا لَکُمۡ مِّنۡ وَّلَایَتِہِمۡ مِّنۡ شَیۡءٍ حَتّٰی یُہَاجِرُوۡا ۚ] جو لوگ ایمان لائے لیکن ہجرت نہیں کی ان سے تمہارا ولایت (یعنی وراثت) کا کوئی تعلق نہیں حتی کہ وہ ہجرت کر کے (تمہارے پاس) آجائیں۔ (سورۃ الانفال:72)
من یستحق الولاء؟
ولاء کا مستحق کون ہے؟
اللہ، اللہ کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور تمام اہل ایمان ہی مسلمانوں کی محبت اور دوستی کے مستحق ہیں۔
[اِنَّمَا وَلِیُّکُمُ اللّٰہُ وَ رَسُوۡلُہٗ وَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا الَّذِیۡنَ یُقِیۡمُوۡنَ الصَّلٰوۃَ وَ یُؤۡتُوۡنَ الزَّکٰوۃَ وَ ہُمۡ رٰکِعُوۡنَ]،[وَ مَنۡ یَّتَوَلَّ اللّٰہَ وَ رَسُوۡلَہٗ وَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا فَاِنَّ حِزۡبَ اللّٰہِ ہُمُ الۡغٰلِبُوۡنَ]
بے شک تمہارے دوست تو بس اللہ، اللہ کا رسول اور وہ اہل ایمان ہیں جو نماز قائم کرتے ہیں، زکاۃ دیتے ہیں اور اللہ کے آگے جھکنے والے ہیں اور جو شخص اللہ، اس کے رسول اور اہلِ ایمان کو اپنا دوست بنا لے وہ یقین مانے کہ اللہ کا گروہ ہی غالب رہنے والا ہے۔ (سورۃ المائدۃ:55-56)
أہمیـــۃ الولاء
دوستی کی اہمیت
دوستی انسان کے دین کو بدل دیتی ہے۔
[عن ابی ہریرۃ رضی اللٰه عنہ قال: قال رسول اللٰہ صلی اللٰه علیہ وسلم، ألرجل علٰی دین خلیلہٖ فلینظر احدکم من یخالل]
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آدمی اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے لہٰذا ہر آدمی کو سوچنا چاہئے کہ وہ کسے اپنا دوست بنا رہا ہے۔ [سنن الترمذی:2378]
اچھی یا بری دوستی انسان کے عقائد اور اعمال پر اثرانداز ہوتی ہے۔
[عن أبي موسى رضي الله عنه، عن النبي صلى الله عليه وسلم، قال: مثل الجليس الصالح، والسوء، كحامل المسك، ونافخ الكير، فحامل المسك إما أن يحذيك، وإما أن تبتاع منه، وإما أن تجد منه ريحا طيبة، ونافخ الكير إما أن يحرق ثيابك، وإما أن تجد ريحا خبيثة]
سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نیک اور برے دوست کی مثال ایسی ہے جیسے مشک فروش اور بھٹی میں پھونک مارنے والا۔ مشک فروش (سے دوستی کرو گے تو وہ تمہیں) مشک کا ہدیہ دے گا یا تم خود اس سے مشک خرید لو گے اگر وہ ہدیہ نہ دے اور تم خود بھی نہ خریدو (تب بھی اس کے پاس بیٹھنے سے کم از کم) عمدہ خوشبو سے ہی لطف اندوز ہوتے رہوگے (اگر لوہار کے پاس بھٹی پرجا کر بیٹھو گے) بھٹی میں پھونک مارنے والا آگ کے چنگارے اڑا کر تمہارے کپڑے جلائے گا اگر کپڑے نہ جلے تو بھٹی کا دھواں تو ضرور ہی ناک میں دم کرے گا۔ [صحیح البخاری:5534]
دوستی انسان کے انجام پر بھی اثر انداز ہوتی ہے۔
[عن انس رضي اللٰه عنه قال: قال رسول اللٰہ صلی اللٰه علیہ وسلم، أنت مع من أحببت]
سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (قیامت کے روز) تُو اسی کے ساتھ ہوگا جس سے تُو نے محبت کی۔ [صحیح المسلم:2639]
قیامت کے روز صرف نیک لوگوں کی دوستی کام آئے گی۔
[اَلۡاَخِلَّآءُ یَوۡمَئِذٍۭ بَعۡضُہُمۡ لِبَعۡضٍ عَدُوٌّ اِلَّا الۡمُتَّقِیۡنَ]
قیامت کے روز متقین کے علاوہ سارے دوست ایک دوسرے کے دشمن بن جائیں گے۔ (سورۃ الزخرف:67)
اہل ایمان کو صرف مومن اور متقی لوگوں سے دوستی کرنی چاہئے۔
[عن أبي سعيد، أنه سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: لا تصاحب إلا مؤمنا، ولا يأكل طعامك إلا تقي]
سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: مومن کے علاوہ کسی اور کو اپنا دوست نہ بناؤ اورتمہارا کھانا صرف متقی آدمی کو کھانا چاہئے۔ [سنن الترمذی:2395]
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے برے دوست سے پناہ مانگنے کی تعلیم دی ہے۔
[عن عقبة بن عامر قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «اللهم إني أعوذ بك من يوم السوء، ومن ليلة السوء، ومن ساعة السوء، ومن صاحب السوء، ومن جار السوء في دار المقامة]
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا مانگا کرتے تھے، یا اللہ! میں اپنے گھر میں برے شب و روز، بری گھڑی، برے دوست اور برے ہمسائے سے تیری پناہ چاہتاہوں۔ [المعجم الكبير للطبراني: ج17 ص294 الرقم:810]